مسئلہ ۱۴۸ و ۱۴۹ : ازقصبہ حسن پور ضلع مرادآباد تحصیل چنور مرسلہ اشرف علی خاں ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک شخص کاایک عورت ناکتخذا سے یعنی بلانکاحی کنواری عورت سے باہمی محبت تھی کوئی تعلق ناجائزنہ تھا، پھر ا س کانکاح ایک دوسرے مرد سے ہوگیا، بعد نکاح کے پہلے شخص نے اس عورت سے زناکیا، اس کے شوہر کومعلوم نہ ہوا، کچھ مدت کے بعد زناکرنے والے شخص نے اس کے شوہر سے اس طرح معافی چاہی کہ میں نے جوکچھ تمہارا گناہ کیا ہے اس کو معاف کرو یاجو کچھ کہاسناہے معاف کرو۔ اس نے کہا کہ معاف کیا۔ پھر وہ عورت مرگئی۔ اب آپ یہ فرمائیے گا کہ آیا یہ معافی جو اوپرتحریر ہے کافی ہے یانہیں؟ اور اگرناکافی ہے تو کس طرح معافی لیناچاہئے تاکہ یہ گناہ عظیم اﷲ تعالٰی معاف کردے۔
(۲) وہ کون کون سے گناہ ہیں جو اﷲ اس وقت معاف کرے گا پیشتر اس کابندہ جس کے ساتھ گناہ ہواہے معاف کرے جیسا کہ شوہر والی عورت کازنا۔
الجواب
(۱) یوں کہنا کہ ''جوکہاسنا ہے معاف کرو'' اصلاً کافی نہیں کہ زنا کہے سنے میں داخل نہیں اور یوں کہنا کہ ''میں نے جوتیراگناہ کیاہے معاف کردے'' یہ اگر ایسی تعمیموں کے ساتھ کہاکہ زناکوبھی شامل ہوا اور اس نے اسی عموم کے طور پر معاف کیا تو معاف ہوگیا اور اگر اتنی ہی گول مجمل لفظ تھے جس سے اس کا ذہن ایسی بڑی بات کی طرف نہ جاسکے ہلکی باتیں مثلاً برابھلاکہنا غیبت کرنا یاکچھ مال وبالینا ان کی طرف ذہن جائے تو یہ معافی انہیں باتوں کے لئے خاص رہے گی اور قول اظہر پر زنا کو شامل نہ ہوگی لہٰذا اسے اس سے یوں کہناچاہئے کہ دنیامیں ایک مرد دوسرے کا جس جس قسم کاگناہ کرسکتا ہے جسم یاجان یامال یا آبرو وغیرہ وغیرہ کے متعلق ان سب میں چھوٹے سے چھوٹا یابڑے سے بڑا جوکچھ بھی مجھ سے تمہارے حق میں واقع ہوا سب لوجہ اﷲ معاف کردو، اور اس تعمیم کو خوب اس کے ذہن میں کردے اور اس کے بعد وہ صاف معاف کرے تو امید واثق ہے کہ ان شاء اﷲ تعالٰی معاف ہوجائے۔
(۲) تمام حقوق العباد ایسے ہی ہیں کہ جب تک صاحب حق معاف نہ کرے معافی نہ ہوگی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ : ازڈاکخانہ چیگانگ محلہ میدنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمدعمر ۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص نے ایک غیرعورت سے زناکیا او ر اسی عورت کاوالدین اور برادران اور خورداران وغیرہم موجود ہیں اب وہ شخص زناکار اس زانیہ عورت سے معافی لیناچاہتاہے آیا فقط اس زانیہ سے معافی لیناچاہئے یاوالدین اور برادران اور خورداران سے بھی معافی لیناضروری ہے اور اگرحقوق العباد معاف ہو تو حقوق اﷲ معاف ہوگایانہیں؟ یاتوبہ استغفار سے ہوگا؟
الجواب : حقوق اﷲ معاف ہونے کی دوصورتیں ہیں :
اوّل توبہ، قال اﷲ تعالٰی :
ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیئات۱؎۔
وہی (اﷲتعالٰی)ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اور گناہ معاف کرتاہے (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۲ /۲۵ )
دوم عفوالٰہی، قال اﷲ تعالٰی :
فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشائ۲؎۔
اﷲ تعالٰی جس کو چاہے معاف فرمادے، اور جس کوچاہے سزادے۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۸۴)
وقال اﷲ تعالٰی :
ان اﷲ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھو الغفورالرحیم۳؎ ط
یقینا اﷲ تعالٰی سب گناہ بخش دیتاہے کیونکہ وہی گناہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۳۹ /۵۳)
اور حقوق العباد معاف ہونے کی بھی دوصورتیں ہیں :
(۱) جوقابل اداہے اداکرنا ورنہ ان سے معافی چاہنا، صحیح بخاری شریف میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کانت لہ مظلمۃ لاخیہ من عرضہ اوشیئ فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لایکون دینار ولادرھم ان کان لہ عمل صالح اخذ منہ بقدر مظلمۃ وان لم یکن لہ حسنات اخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ۔۱؎۔
جس کے ذمہ اپنے بھائی کاآبرو وغیرہ کسی بات کامظلمہ ہو اسے لازم ہے کہ یہیں اس سے معافی چاہ لے قبل اس وقت کے آنے کے کہ وہاں نہ روپیہ ہوگا نہ اشرفی، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی توبقدر اس کے حق کے اس سے لے کر اسے دی جائیں گی ورنہ اس کے گناہ اس پر رکھے جائیں گے۔
(۱؎ صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب من کانت لہ مظلمۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱)
(۲) دوسرا طریقہ یہ کہ صاحب حق بلامعاوضہ لئے معاف کردے،قال تعالٰی :
فاعفوا واصفحوا۲؎۔
تم دوسروں کو معاف کردو اور ان سے درگزرکرو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۱۰۹)
وقال تعالٰی :
الاتحبون ان یغفراﷲ لکم۳؎۔
کیا تم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ اﷲ تعالٰی تمہیں بخش دے۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم ۲۴ /۲۲)
اور بعض طرق جامعہ جن سے
حقوق اﷲ وحقوق العباد باذن اﷲ تعالٰی
سب معاف ہوجاتے جن کی تفصیل ہم نے تعلیقات ردالمحتار میں ذکرکی۔
منھا شھادۃ البحر، ومنھا قتل الصبر ومنھا الحج المبرور وغیرذٰلک۔
ان میں سے دریائی شہادت ہے ان میں سے روک کرنشانہ سے مارڈالنا ہے، اور اُن میں سے حج مقبول، اور اسی نوع کے دوسرے کام ہیں۔(ت)
عورت اگرمعاذاﷲ زانیہ ہے یعنی زنا اس کی رضا سے ہوا تو اس میں اس کاکچھ حق نہیں تو اس سے معافی کی حاجت کیابلکہ خوداوروں کے حق میں گرفتار ہے جبکہ شوہر یامحارم رکھتی ہو زنا کی اطلاع شوہریااولیائے زن کو پہنچ گئی توبلاشبہہ ان سے معافی مانگناضرورہے بے اُن کے معاف کئے معاف نہ ہوگا اور اگر اطلاع نہ پہنچی تو اب بھی ان کاحق متعلق ہوایانہیں، دربارہ غیبت علماء نے تصریح فرمائی کہ متعلق نہ ہوگا اور اس وقت ان سے معافی مانگنے کی حاجت نہیں صرف توبہ واستغفار کافی ہے،
شرح فقہ اکبر میں ہے :
قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی قد تکلم الناس فی توبۃ المغتابین ھل تجوز من غیر ان یستحل من صاحبہ قال بعضھم لایجوز وھو عندنا علی وجہین احدھما ان کان ذٰلک القول قدبلغ الی الذی اغتابہ فتوبتہ ان یستحل منہ وان لم یبلغ الیہ فلیستغفراﷲ سبحٰنہ ویضمر ان لایعود الی مثلہ۱؎۔
فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا لوگوں نے غیبت کرنے والوں کی توبہ کے بارے میں اختلاف کیاہے، کیا جس کی غیبت کی اس سے معاف کرائے بغیرتوبہ کرنی جائزہے یانہیں؟ بعض نے فرمایا کہ جائزنہیں۔ اور اس کی ہمارے نزدیک دوصورتیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی اس کو غیبت کی اطلاع ہوگئی توپھر توبہ کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس سے معاف کرائے اور اگر اسے اطلاع نہیں ہوئی تو اس صورت میں صرف اﷲ تعالٰی سے معافی مانگے اور اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ پھرایسا کبھی نہ کرے گا۔(ت)
(۱؎ منح الروض الازھر شرح فقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ مصطفی البابی مصر ص۱۵۹)
درمختارمیں ہے :
اذا لم تبلغہ یکفیہ الندم۲؎۔
اگرغیبت کی اطلاع (جس کی غیبت کی گئی) اس کو نہ ہو تو پھر صرف ندامت کافی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)
اوردربارہ زنا اس کی کوئی تصریح نظر سے نہ گزری، ظاہراً یہاں بھی یہی حکم ہوناچاہئے۔
وقدجاء فی الحدیث الغیبۃ اشد من الزناء۳؎۔
حدیث شریف میں آیاہے کہ غیبت زنا(بدکاری) سے بھی بدترگناہ ہے۔(ت)
(۳؎ شعب الایمان حدیث ۶۷۴۱ و ۶۷۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۳۰۶)
مگر ازاں جاکہ اس بارے میں کوئی تصریح نظر سے نہ گزری معافی چاہنا مناسب معلوم ہوتاہے کہ اگر اس نے معاف کردیا تواطمینان کافی ہے مگر طلب معافی میں نہ توصاف تصریح زناہوکہ شاید اس کے بعد معافی نہ ہوبلکہ ممکن کہ اس سے فتنہ پیداہو اور نہ اتنی ہی اجمالی پرقناعت کی جائے کہ مجھے اپنے سب حق معاف کردے کہ اس میں عنداﷲ اُتنے ہی حقوق معاف ہوں گے جہاں تک اس کا خیال پہنچے لہٰذا تعمیم عام کے الفاظ ہونا چاہئیں جوہرقسم گناہ کویقینا عام بھی ہوجائیں اور وہ تصریح خاص باعث فتنہ بھی نہ ہومثلاً چھوٹے سے چھوٹا بڑے سے بڑا جوگناہ ایک مرد دوسرے کاکرسکتاہے جان مال عزت آبرو ہرشَے کے متعلق اس میں سے جوتیرا میں نے گناہ کیاہو سب مجھے معاف کردے۔
شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی النوازل رجل لہ علی آخر دین وھو لایعلم بجمیع ذٰلک فقال لہ المدیون ابرأنی ممالک علیّ فقال الدائن ابرأتک قال نصیر، لایبرأ الاعن مقدار مایتوھم ای یظن انہ علیہ وقال محمد بن سلمۃ یبرأ عن الکل قال الفقیہ ابواللیث حکم القضاء ماقالہ محمد بن سلمۃ وحکم الاٰخرۃ ماقالہ نصیر وفی القنیۃ من علیہ حقوق فاستحل صاحبہا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل بعذران علم انہ لوفصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقا، وفی الخلاصۃ رجل قال الآخر حللنی من کل حق ھو لک فأبرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکماً بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد لایبرأ وعند ابی یوسف یبرأ وعلیہ الفتوی اھ و فیہ انہ خلاف ما اختارہ ابواللیث و لعل قولہ مبنی علی التقوٰی۱؎۔
نوازل میں ہے ایک شخص کادوسرا مقروض ہو اور وہ اس کی پوری تفصیل نہ جانتاہوتومقروض نے قرضخواہ سے کہا جو کچھ بھی تیرامیرے ذمے ہے اس سے میری برأت کردے، اس پر قرض خواہ نے کہا میں نے تیری براءت کردی ۔ امام نصیر نے فرمایا اس کی صرف اتنی ہی مقدار سے برأت ہوجائے گی کہ جتنی مقدار کافرقرضخواہ کو وہم ہوا ہوکہ اس قدرقرض مقروض پرہے لیکن محمد بن سلمہ نے فرمایا کہ سب سے اس کی برأت ہوجائے گی۔ فقیہ ابواللیث نے فرمایا قضاء میں تووہی حکم ہے جوکچھ محمد بن سلمہ نے فرمایالیکن آخرت کاحکم وہ ہے جو کچھ امام نصیر نے فرمایا۔ اور قنیہ میں ہے اگرکسی پرحقوق ہوں اور اس نے صاحب حقوق سے معاف کردینے کی درخواست کی لیکن اُن کی (اس کے آگے) کچھ تفصیل نہ بیان کیا، اور صاحب حقوق نے انہیں معاف کردیا اس عذر سے کہ وہ جانتاہے کہ اگر ان کی اس کے سامنے تفصیل پیش کی جاتی تو وہ لامحالہ معاف کردیتا تو اس صورت میں وہ معاف ہوجائیں گے ورنہ بصورت دیگر وہ معاف نہ ہوں گے۔ بعض نے فرمایا کہ یہ اچھی تفصیل ہے۔ اگرچہ یہ بھی مروی ہے کہ وہ حقوق مطلقاً معاف ہوجائیں گے۔ خلاصہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا کہ تیرا جوبھی میرے ذمّے حق ہے وہ مجھے معاف کردے یعنی میرے لئے حلال کردے، تو اس نے برأت کردی،اگرصاحب حق اُن تمام حقوق کا علم رکھتا ہے توپھر معاف کرانے والا حکماً بالاتفاق بری ہوجائے گا۔ رہامعاملہ دیانت تو اس میں امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیک بری الذمہ نہ ہوگا لیکن قاضی امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک بری الذمہ ہوجائے گا، اور اسی پرفتوٰی ہے اھ ۔ اور اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ صورت اس کے مخالف ہے جو فقیہ ابواللیث سمرقندی نے اختیارکیا، شاید فقیہ موصوف کاقول تقوٰی پرمبنٰی ہو۔(ت)
بالجملہ امرمشکل جوسچے دل سے مولٰی عزوجل کی طرف رجوع لاتاہے اس کاکرم ضرور اسے قبول فرماتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
(۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ مصطفی البابی مصر ص۱۵۹)