Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
73 - 160
مسئلہ ۴۰ ۱و ۱ ۱۴: ازنجیب آباد ضلع بجنور     مسئولہ جناب احمد حسین خاں صاحب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

(۱) مرید کے پِیر پرکیاحقوق ہیں؟	(۲) پِیر کے مرید پرکیاکیا حقوق ہیں؟
الجواب

(۱) مرید کاپیرپرحق یہ ہے کہ اسے مثل اپنی اولاد کے جانے، جوبات بری دیکھے اس سے منع کرے، روکے، نیکیوں کی ترغیب دے۔ حاضروغائب اس کی خیرخواہی کرے، اپنی دعامیں اسے شریک کرے، اس کی طرف سے براہ نادانی جوگستاخی بے ادبی واقع ہو اس سے درگزرکرے، اس پراپنے نفس کے لئے ناراض نہ ہو، اس کی ہدایت کے لئے غصہ ظاہر کرے اور دل میں اس کی بھلائی کاخواستگار رہے، اس کے مال سے کچھ طلب نہ رہے، تابمقدور اس کی ہرمشکل میں مددگار رہے وغیرہ وغیرہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲) پیر کے حقوق مرید پر شمار سے افزوں ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہوکررہے، اس کی رضا کواﷲ کی رضا اس کی ناخوشی کو اﷲ کی ناخوشی جانے، اسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہترسمجھے، اگرکوئی نعمت بظاہر دوسرے سے ملے تو اسے بھی پیر ہی کی عطا اور اسی کی نظرتوجہ کاصدقہ جانے، مال اولاد جان سب اس پرتصدّق کرنے کوتیار  رہے، اس کی جوبات اپنی نظرمیں خلاف شرع بلکہ معاذاﷲ کبیرہ معلوم ہو اس پربھی نہ اعتراض کرے، نہ دل میں بدگمانی کوجگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہے، دوسرے کو اگر آسمان پر اُڑتا دیکھے جب پیر کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو سخت آگ جانے، ایک باپ سے دوسرا باپ نہ بنائے، اس کے حضور بات نہ کرے، ہنسنا توبڑی چیز ہے، اس کے سامنے آنکھ کان دل ہمہ تن اسی کی طرف مصروف رکھے، جو وہ پوچھے نہایت نرم آواز  سے  بکمال ادب بتاکر جلدخاموش  ہوجائے، اس کے کپڑوں، اس کے بیٹھنے کی جگہ، اس کی اولاد، اس کے مکان، اس کے محلہ، اس کے شہر کی تعظیم کرے۔ جو وہ حکم دے کیوں نہ کہے دیرنہ کرے، سب کاموں  پراسے تقدیم دے، اس کی غیبت میں بھی اس کے بیٹھنے کی جگہ نہ بیٹھے۔ اس کی موت کے بعد بھی اس کی زوجہ سے نکاح نہ کرے، روزانہ اگر وہ زندہ ہے اس کی سلامت وعافیت کی دعابکثرت کرتارہے، اوراگر انتقال ہوگیا تو روزانہ اس کے نام پرفاتحہ ودرود کاثواب پہنچائے۔ اس کے دوست کادوست، اس کے دشمن کادشمن  رہے۔ غرض اﷲ ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد اس کے علاقہ کوتمام جہان کے علاقہ پردل سے ترجیح دے اور اسی پرکاربند رہے وغیرہ وغیرہ۔ جب یہ ایساہوگا تو ہر وقت اﷲ عزوجل وسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وحضرات مشائخ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی مدد زندگی میں نزع میں قبرمیں حشرمیں میزان پر صراط پر حوض پر ہرجگہ اس کے ساتھ رہے گی۔ اس کا پیراگر خود کچھ نہیں تو اس کا پیرتو کچھ ہے یاپیر کا پیر یہاں تک کہ صاحب سلسلہ حضورپرنورغوث رضی اﷲ تعالٰی عنہ پھر یہ سلسلہ مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ اور ان سے سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ان سے اﷲ رب العٰلمین تک مسلسل چلاگیاہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ پیرچاروں شرائط بیعت کاجامع ہو، پھر اس کاحسن اعتقاد سب کچھ پھل لاسکتاہے
ان شاء اﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۲  :  ازخیرآباد     ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے قدیم مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی سیدفخرالحسن صاحب

تفصیل حقوق اﷲ وحقوق العباد کے دیکھنے کی خاص ضرورت درپیش ہے اگرکتب دینیہ میں سے کسی کتاب میں مفصلاً حقوق درج ہوں تو نام کتاب سے مع  پتہ باب وفصل مشکورفرمائی جائے ورنہ  ایسی کچھ ہدایت فرمائی جائے جس سے پورے طورپر تفصیل حقوق اﷲ وحقوق العبد کی دریافت ہوجائے۔
الجواب : حقوق اﷲ وحقوق العباد بیشمار ہیں بلکہ تمام شریعت مطہرہ بلکہ فقہین اکبرواصغرسب انہیں کی تفصیل میں ہیں تمام علوم دینیہ کاکوئی حکم ان سے باہرنہیں۔ فتاوٰی فقیر میں حقوق الوالدین وحقوق زوجین وحقوق اولاد کاقدرے بےان ہے، کتاب مستطاب احیاء العلوم شریف میں زیادہ تفصیل ہے جلد ثانی کتاب آداب الاخوۃ ملاحظہ ہو۔
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۳ تا ۱۴۴ : مستفسرہ محمد میاں  طالب علم بہاری بریلی محلہ سوداگران 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں :

(۱) والدین کاحق اولاد بالغ کو تنبیہ خیرواجب ہے یافرض؟		(۲) حق والدین اولادپر کس قدر ہے؟
الجواب

(۱) جوحکم فعل کاہے وہی اس پرآگاہی دینی ہے فرض پرفرض، واجب پہ واجب، سنت پہ سنت، مستحب پہ مستحب۔
مگربشرط بقدرت بقدرقدرت بامیدمنفعت، ورنہ :
علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (لوگو!) اپنی جانوں کی فکرکرو، لہٰذا تمہیں کچھ نقصان نہیں جوبھٹک گیا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲) اتناہی کہ اداناممکن ہے مگریہ کہ وہ مرجائیں اور یہ ان کو ازسرنوزندہ کرسکے توکرے کہ وہ اس کے وجود کاسبب ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵ /۱۰۵)
مسئلہ ۱۴۵ : ازشہر مدرسہ اہلسنّت وجماعت مسئولہ مولوی محمدافضل صاحب کابلی طالبعلم درجہ اول مدرسہ مذکور ۱۶ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ 

اگر شخصے بچہ کودراتعلیم علم دین نکرد بغیر انگریزی وناگری وعلم خدا و رسول رابچہ نمی داند کہ چہ امرست وچہ نہی الحال ایں چنیں پدررابرپسر حق ست یانہ؟ بیّنواتوجروا۔
  اگروالدنے اپنے بیٹے کو دین اسلام نہ سکھایا، لہٰذا وہ بچہ انگلش اورناگری کے بغیر اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول گرامی کے علم کونہیں جانتا کہ ان کاحکم اور نہی کیاہے؟  لہٰذا اب اس طرح کے والد کا اپنے بیٹے  پرکوئی حق ہے یانہیں؟ بیان فرماؤ اور اجرپاؤ۔(ت)
الجواب  :  پدراگردرحق پسر تقصیر کرد حقوق پدرذمہ پسر ساقط نتواں شد۔  واﷲ تعالٰی اعلم  اگروالد سے بیٹے کاحق اداکرنے میں کوتاہی اور قصورہوگیا(تو اس کے باوجود) وال کے حقوق بحال ہیں وہ بیٹے سے کبھی ساقط (اور معاف) نہیں ہوسکتے۔ اور اﷲ تعالٰی سب کچھ بخوبی جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴۶ و ۱۴۷ : مولوی نذیراحمدصاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی     ۲۷محرم الحرام ۱۳۳۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل  میں :

 (۱) بی بی کے حقوق شوہرپرکیاہیں؟	(۲) شوہر کے حقوق بی بی پرکیاہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب

(۱) نفقہ سکنی، مہرحسن معاشرت، نیک باتوں اور حیاء وحجاب کی تعلیم وتاکید اور اس کے خلاف سے منع التہدید،ہرجائزبات میں اس کی دل جوئی اور مردان خدا کی سنت پرعمل کی توفیق ہوتو ماورائے مناہی شرعیہ میں ، اس کی ایذا کاتحمل کمال خیرہے اگرچہ یہ حق زن نہیں۔

(۲) امورمتعلقہ زن شوی میں مطلقاً اس کی اطاعت کہ ان امور میں اس کی اطاعت والدین پربھی مقدم ہے، اس کے ناموس کی بشدت حفاظت، اس کے مال کی حفاظت، ہربات میں اس کی خیرخواہی، ہروقت امورجائز میں اس کی رضا کاطالب رہنا، اسے اپنا مولٰی جاننا، نام لے کرپکارنا، کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا، اور خداتوفیق دے توبجا سے بھی احتراز کرنا بے اس کی اجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والدین یاسال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں جانا وہ ناراض ہو تو اس کی انتہائی خوشامد کرکے اسے منانا اپناہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کرکہنا کہ یہ میراہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جوچاہو کرومگر راضی ہوجاؤ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter