Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
72 - 160
حسن سلوک وحقوق العباد

ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین
مسئلہ ۱۳۸ : ازاٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظم کلکٹری اٹاوہ ۲ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں، اکثرعورات طوائف اپنے باغ کی پیداواری میں سے کبھی کبھی کچھ ترکاری یاپودینہ یااورپھلوں میں سے اور کبھی شیرینی گلگلے کھچڑا وغیرہ بطورہدیہ وتحفہ کے بھیجاکرتی ہیں ان کالینا عام مسلمانوں کویا اس کے طبیب معالج کوشرعاً یاحکم رکھتاہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : رنڈیوں کے مال پانچ قسم ہیں :

ایک وہ چیز جو انہیں کسی فعل حرام مثلاً زنایاغنا یارقص کی اجرت یاآشنائی کی رشوت میں دی گئی یہ نقد ہو یاجنس مطلقاً حرام، اور حکم مغصوبہ میں ہے کہ وہ خود اس کی مالک نہیں ہوتیں
کمانص علیہ فی الھندیۃ ودرالمختار وغیرھما
 (جیسا کہ فتاوٰی ہندیہ او ردرمختار وغیرہ میں صراحتاً فرمایاگیاہے۔ت)
دوسرے وہ چیز جوانہوں نے اس جنس حرام سے حاصل کی مثلاً کسی نے اجرت یارشوت مذکورہ میں کچھ تھان گلبدن کے دئیے رنڈی نے انہیں بیچ کرروپیہ حاصل کیا اُن تھانوں سے ناچ وغیرہ خریدکیا یہ بھی مطلقاً حرام ہے
فان الحرام اذاکان البدل ایضا
 (کیونکہ جب حرام کابدل ہو تووہ بدل بھی حرام ہے۔ت)
تیسرے وہ چیز جوانہوں نے اسی نقد حرام کے بدلے یوں حاصل کی کہ اس کے نقد پرعقد واقع ہوا اور وہی اداکیا مثلاً جوروپیہ رنڈی کورشوت یا اجرت میں ملا یارشوت واجرت میں ملے ہوئے مثلاً تھانوں کو بیچ کرحاصل کیا اس نے بائع کو وہی روپیہ دکھاکر کہا کہ اس کے عوض شیرینی یاگیہوں یاگوشت یافلاں شیئ کی تخم یادرخت کی قلم دے دے یاروپیہ ا س کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز دے اس نے دیں اس نے وہی زرِ حرام ثمن دے دیا اس صورت میں بھی جو کچھ حاصل کیا مذہب صحیح پرسب حرام وغصب ہے،
وقول من قال بحلہ لعدم تعلق العقد بینہ بل مثلہ لعدم تعینہ وان کان قیاسا لکنہ خلاف الاستحسان کما افادہ فی الفتح۔
اور جس نے اس کے حال ہونے کی بات کی اس لئے کہ عین شئی کے ساتھ عقد متعلق نہیں بلکہ مثل غیرمتعین کے ساتھ متعلق ہے اگرچہ قیاس کا تقاضایہی ہے لیکن خلاف استحسان ہونے کی وجہ سے حرام ہے جیسا کہ فتح القدیر میں (محقق ابن ہمام نے) اس کاافادہ دیا(ت)
چوتھی وہ چیز کہ نقد حرام سے خریدی مگر عقد وادا دونوں مال حرام پرجمع نہ ہوئے مثلاً زرِ حرام کہ خود اُجرت ورشوت میں ملایا ایسی جنس جوپائی تھی اسے بیچ کر حاصل کیا وہ روپیہ دکھاکر اس کے عوض دے دے جب اس نے دی ثمن میں حلال روپیہ دیاوہ حرام روپیہ الگ کرلیا یہاں عقد حرام پرہوا مگرادا اس سے ادانہ ہوئی یابغیرروپیہ دکھائے یا اس کی طرف اشارہ کئے یوہیں کہا کہ ایک روپیہ کی فلاں شَے دے اس نے دی اب ثمن میں زرحرام دیا کہ یہاں ادا تو اس سے ہوئی مگرعقد اس پرواقع نہ ہوا تھا اس صورت میں علماء مختلف ہیں بہت سے علماء اسے بھی حرام مطلق بتاتے ہیں،
فان الفساد اذاکان لعدم الملک عمل فیما یتعین وما لایتعین اصلا وبدلا علی الاطلاق۔
کیونکہ فساد جب عدم ملکیت کی وجہ سے ہوتو پھر متعین، غیرمتعین۔ اصل اوربدل سب میں علی الاطلاق کرتاہے(ت)

اور بہت سے علماء نے امام کرخی رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پرفتوٰی کیا کہ یوں جوچیز مول لے وہ حرام نہیں، نقد حرام کی خباثت اس کے بدل میں جبھی آتی ہے کہ عقد وادا دونوں اس پر مجتمع ہوں۔
تنویرالابصار میں ہے :
بہ یفتی ومثلہ فی الذخیرۃ وغیرھا کما فی جامع الرموز وعلیہ مشت المتون المعتمدۃ النقایۃ والاصلاح والغرر۔
اسی قول کے مطابق فتوٰی دیاگیا اور اسی کی مثل ذخیرہ وغیرہ میں ہے جیسا کہ جامع الرموز میں ہے تمام متون معتبرہ کی یہی روش ہے مثلاً النقایہ، الاصلاح اور الغرر وغیرہ(ت)

پانچویں مال مثلاً رنڈی نے کسی سے قرض لیا یا اسے گانے ناچنے زناوغیرہ محرمات کی اجرت اور آشنائی کی رشوت سے جدا کسی نے ویسے ہی کچھ انعام دیاہبہ کیا یاسینے پرونے وغیرہا افعال جائزہ کی اُجرت میں لیا کہ یہ سب حلال ہے او اس سے جوکچھ حاصل کیاجائے گا وہ بھی حلال ہے،
فی فتاوی الامام قاضی خان الرجل اذا کان معربا مغنینان ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح وان کان یاخذہ علٰی شرط ذو المال علٰی صاحبہ ان کان یعرفہ وان لم یعرفہ یتصدق بہ ۱؎ اھ  وتفصیل القول فی الحظرمن فتاوٰنا۔
فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ اگرکوئی آدمی کسی مرد گویّا کوبغیرشرط کے کچھ دے دے یاگویّا اس شرط پرلے لے کہ بصورت تعارف اور پہچان کے وہ مال وصول کردہ اصل مالک کوواپس کردے گا اورمالک کاپتا نہ لگ سکنے کی صورت میں وہ مال صدقہ کردے گا اھ او ر اس قول کی تفصیل ہمارے فتاوٰی کی بحث حظرمیں موجودہے(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی تسلیم والتسلیم     مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۹۴)
پس اگرمعلوم ہو کہ یہ تحفہ جووہ لائی ہے اگلے تین مالوں سے ہے تو طبیب وغیرطبیب کسی کولیناجائزنہیں اور اگرمعلوم ہوکہ قسم پنجم سے ہے تو سب کولینا حلال اور قسم چہارم میں لے لے توگنہگارنہیں، یہ سب اس حال میں ہے کہ تحفہ کاحاصل اس لینے والے کو معلوم ہو کہ کس قسم کاہے اور بحال عدم علم جب کہ اس کااکثر مال وجہ حرام سے ہوکہ رنڈیوں میں غالب یہی ہے توبہت علماء اس کاتحفہ لینا مطلقاً حرام بتاتے ہیں جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حلال سے ہے مگراصل مذہب وقول صحیح ومعتمد یہ ہے کہ بحال ناواقفی لیناجائزہے جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حرام سے ہے،
محررمذہب سیدناامام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم، ذکرہ فی الھندیۃ۱؎ عن الظھیریۃ عن ابی اللیث عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔
جب تک ہم کسی چیز کوبعینہٖ حرام نہ جانیں تو وہ جائزہے، ہم اسی کواختیار کرتے ہیں، اور یہی قول حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کاہے۔ اس کو ہندیہ میں بحوالہ ظہیریہ اس نے ابواللیث سے اس نے امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے روایت کیا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثانی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵ /۳۴۲)
تاہم شک نہیں کہ اگرچہ فتوٰی جوازہے تقوٰی احتراز ہے،
وقد فصلنا القول فیہ فی فتاوٰنا
 (ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔(ت)
واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین حقیقی مادر اور سوتیلی ماں کے حق حقوق کے بارہ میں، حقیقی اور سوتیلی ماں میں اور ان کے حق میں کیافرق ہے؟ سوتیلی ماں کو مثل حقیقی والدہ کے سمجھناچاہئے یا حفظ مراتب میں دونوں کے کچھ فرق کرناچاہئے اور کس قدر؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : حقیقی ماں اور سوتیلی کے حقوق میں زمین آسمان کافرق ہے، حقیقی ماں بذات خود مستحق ہرگونہ خدمت وادب وتعظیم واطاعت کی ہے اور اسے ایذادینی معاذاﷲ ورسول کو ایذادینی ہے، اور سوتیلی ماں کا اپنا ذاتی کوئی حق نہیں جوکچھ ہے باپ کے ذریعہ سے ہے یعنی وہ بات نہ ہو جس میں باپ کوایذاء ہو کہ باپ کی ایذاء اﷲ ورسول کی ایذاء ہے
جل جلالہ، وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter