مسئلہ ۱۳۰ تا ۱۳۵ : ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ صاحبزادہ گرامی قدر مولوی سید محمد میاں صاحب زیدت برکاتہم ۳صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
کیاحکم ہے بروئے شرع مطہر مطابق مذہب حنفی مسائل ذیل میں:
(۱) وہ کچہریاں اور وہ حکام جو اپنے فیصلوں اور کاروائی متعلقہ مثل گواہی گواہان وغیرہ میں پابندی شریعت محمدیہ ملحوظ نہیں رکھتے بلکہ خود ساختہ قواعد پر عمل درآمد کرتے ہیں اگراتفاق سے کوئی امرشریعت حقہ کے مطابق ہوجائے یہ اور بات ہے ایسی کچہریوں اورایسے حکاموں کوبالخصوص جبکہ وہ کفار کی ہوں اور وہ حاکم بھی کفار سے ہو عدالت اور حاکم کوعادل یامنصف اور ان کارروائیوں کوفیصلوں کوعادلانہ اور منصفانہ کہنا آیا یہ شرعاً کفرہے یاکیا؟
(۲) بیان دعوی وجواب وامثالہا جن میں آج کل کے پیروکار وکلاقانونی اپنے حسب عادت ایسے الفاظ استعمال کرتے اور پھر ان کی تصدیق وتسلیم فریقین سے ایسے الفاظ سے کراتے ہیں کہ یہ عرضی دعوٰی وغیرہ ہم کو تسلیم اور ہمارے نزدیک اور علم میں کل مضمون مندرجہ عرضی دعوی ہذا صحیح ہے بلکہ بعض دفعہ لفظ لفظ صحیح کہلواتے لکھاتے ہیں اب بعض فریقین تو وہ ہیں جو ان الفاظ کی موجودگی پرمطلع پھر ان کو سن بھی لیاہو جب بھی توجہ ان کی نفس مطلب سے زائد ہونے کی وجہ سے ان پر کچھ لحاظ نہیں کرتے غافلانہ کبھی عرضی دعوی وغیرہ کوتسلیم کرتے ہیں بعض وہ ہیں جو ان الفاظ کوبراجانتے تسلیم نہیں کرتے ہیں مگر چونکہ اب عادت عام ہے لہٰذا لکھ وہ بھی دیتے ہیں کہ یہ سب عرضی دعوٰی وغیرہ ہم کو تسلیم ہے یا اور جیسے پیروکارکہتاہے ویسے بھی لکھ دیتے ہیں اب ان میں سے ہرہرکاکیاحکم ہے اگرفریق آخر الذکر لفظ سب بلکہ تاکیداً لفظ لفظ بھی تسلیم ہونالکھ دیں مگریہ نیت کرے کہ نفس بیان دعوٰی جو اس عرضی دعوی میں ہے وہ تسلیم ہے، نہ اس کے الفاظ قبیحہ نفس مطلب پر زائد تو کیاحکم ہے؟
(۳) بعض کاغذات ایسے ہوتے ہیں جن میں حکومت کی جانب سے یہ الفاظ لکھے ہوتے ہیں اور ان کی تصدیق وتسلیم منجانب حکومت چاہی جاتی ہے یافریقین کو اپنے اپنے کاموں میں ان کوجاری کرانے کی ضرورت پڑتی ہے جیسے سمن وغیرہ یاحاکم خود ایساجملہ کہلواتاہے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں ایسی حالت میں ان تصدیق کرنے والوں سمن اجرا کرنے والوں او ر ان الفاظ کہنے والوں کاکیاحکم ہے اور انہیں کیا زیباہے؟
(۴) پیروکار قانونی اپنی بحثوں میں حسب عادت خودبلااجازت صریح مؤکلان ایسے الفاظ استعال کرتے ہیں اور وہ بحث ہرپیروکار کے اپنے کے اپنے مؤکل کے حق میں حاکم کے یہاں مسلمہ مؤکل ہوتی ہے اور اگرمؤکل موجود ہوں تو اس پرساکت ہی رہتے ہیں تو اگر وہ دل سے ان الفاظ مخصوصہ کو نہ تسلیم کریں یا ان سے غافل رہیں لحاظ ہی نہ کریں اور اصل مطلب کی بحث کومانیں توپیروکار کے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے ان پر ان کے سکوت کی وجہ سے کوئی قباحت آتی ہے اگرہاں توپیروکار کہنے والے کے برابر یا کم زائد؟
(۵)انگریزی جوکچہری بنام منصفی ہےعام طور پر اس کو منصفی اور اس کے حاکم کو منصف کہتے ہیں اور اس سے مراد وہی مخصوص کچہری اور اس کاحاکم ہوتاہے انصاف کے اصل معنی سے نیت کاذہن یہ کہتے وقت خالی ہوتاہے اس صورت میں یہ اطلاق کیساہے؟
(۶)اگر لفظ عدالت سے صرف کچہری حکومت مراد لیاجائے اور عادل منصف سے صرف حاکم تو ان الفاظ کااطلاق کفار فجّار پرصحیح ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب
سلطنت اگرچہ اسلامیہ ہو اور حاکم مسلم بلکہ خود سلطان اسلام اور حکم خلاف ماانزل اﷲ کرے اسے عادل کہنے کو ائمہ نے کفربتایا۔
ہندیہ میں امام علم الہدٰی ابومنصور ماتریدی قدس سرہ، سے ہے :
من قال لسلطان زماننا عادل فقد کفر۱؎
جس نے اپنے زمانے کو سلطان کوعادل کہا اس نے کفرکیا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۸۱)
امام ممدوح اپنے وقت کے سلطان اسلام کی نسبت ایسافرمارہے ہیں ان کے وصال کو ۱۰۰۱ برس ہوئے، کاغذ دعوی کی تصدیق سے تصدیق مضمون مرادہوتی ہے اگرچہ یوہیں لکھاہو کہ لفظ لفظ صحیح ہے اس کامطلب بھی یہی ہوتاہے کہ اس کاکوئی ایجاب یاسلب خلاف واقع نہیں تقویت اطلاقات الفاظ کی طرف اصلاً نظرنہیں ہوتی نہ وہ کسی طرح اس سے مفہوم ہو تو خود ان پرکسی صورت میں کچھ الزام نہیں سوا اس کے کہ سکوت علی المنکر ہوا، وہ وقت قدرت وعدم فتنہ وجہل مرتکب و رجائے اجابت حرام والالا۔ شرط سوم کی مثال یہ ہے مثلاً داڑھی منڈانا، ہرمسلمان جانتاہے کہ شرعاً حرام ہے، تولازم نہیں کہ یہ داڑھی منڈے سے کہتے پھرئیے کہ یہ حرام ہے اسے چھوڑدے، ہاں جواپنے قابو کاہو اس سے کہنا ضرور ہے، یہی صورت تصدیق کاغذات واجراء میں ہے کہ وہاں بھی تصویب اطلاق لفظ نہ مراد نہ مفہوم اور قدرت علی التغیر معدوم، رہا ایساجملہ کہلوانا اس سے بھی وہ مضمون اداکرانا مقصود ہوتاہے نہ کہ نقل باللفظ تونقل بالمعنی میں وسعت عظیم جو باوصف قدرت تبدیل لفظ نہ کرے وہ ضرور مخالفت شرع کامرتکب ہے اور اس لفظ کے لائق حکم شرعی کامستوجب ومستحق ہوا، پیروکار بھ اصل ادائے مطالب میں اس کاوکیل ہے نہ کہ تعبیر اس سے بطور علم بے ارادہ اصل معنی وضع اول اخلاق اس جرم میں نہیں آسکتا جیسے جارعبدالعزی الفاظ محرمہ اپنے اصل معنی سے تجرید کرکے کسی معنی جائز پرمحمول بناکر بولنا بھی بلاضرورت ملجیہ حرام ہے کہ لفظ کااطلاق ہی حرام تھا وہ موجود ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶ : ازسہارنپور مدرسہ مخزن العلوم محلہ لکھی دروازہ مسئولہ محمداسحق ومحمودحسن ۲۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قاضی شہر ترک موالات پرباوجود فرض ہونے مسئلہ مذکورہ کے، عامل نہیں، آنریری مجسٹریٹ بھی ہے خلاف شرع انگریز قانون کے مطابق مقدمات فیصل کرتاہے مسلمانوں کی شکست پرموجودہ زمانے کی جنگ میں اعدائے اسلام کی خوشی کے جلسہ وجلوس میں شریک ہو، بارہ سال سے مجرد ہو باوجود استطاعت نکاح نہ کرے اور سود دیتاہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائزہے یانہیں؟ اور ایسی حالت میں اس کوقاضی شہرتسلیم کیاجائے یانہیں؟ اور اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : خلاف شرع مقدمہ فیصل کرناحرام ہے، قرآن عظیم میں اس کے لئے تین لفظ ارشاد ہوئے: فٰسقون، ظٰلمون، کٰفرون۔ اور معاذاﷲ شکست اسلام پراگر دل سے خوشی ہو کفرورنہ فسق، سوددینا اگرسچی ضرورت ومجبوری وناچاری سے ہے حرج نہیں ورنہ وہ بھی فسق ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سوددینے والے اور اس کاکاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر، اور فرمایا وہ سب برابرہیں۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷)
ایساشخص امام وقاضی بنانے کے لائق نہیں اگرچہ یہاں قاضی شہر نکاح خواں کوکہتے ہیں کہ اس میں اس کی تعظیم ہے، اور فاسق کی تعظیم منع۔
تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعًا۲؎۔
اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے(ت)
(۲؎ تبیین الحقاء باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۳۴)
رہابارہ برس سے مجرد ہونایہ کوئی ایسی وجہ نہیں جس پرجزماً مواخذہ کیاجائے۔ ترک موالات ہرکافر سے مطلقاً فرض ہے اور آج سے نہیں ہمیشہ سے فرض ہے یہودونصارٰی ومجوس کی طرح بلکہ ان سے بھی زائد ہنود سے بھی اتحادوموافقت حرام قطعی ہے اور مجرد معاملت جائزہ کسی کافراصلی سے اصلاً منع نہیں، اس کی تفصیل ہماری کتاب
المحجۃ المؤتمنۃ
(عہ) میں ہے۔ حکم شرعی کوالٹ دینا اور اسے حکم شرعی ٹھہرانا دوہراجرم اور سخت ابتداع فی الدین ہے
واﷲ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم۳؎
(اور اﷲ تعالٰی جس کو چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
عہ : کتاب الحجۃ المؤتمنہ فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۴صفحہ ۴۱۹ پرمرقوم ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۲۱۳)
مسئلہ۱۳۷ : ازیونادرعلاقہ پران ملک مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قاضی تارک نمازپنجگانہ رنڈیوں کواپنے گھرنچوائیں لوگوں کوجمع کرکے، گویا اعلان کے ساتھ بلواکے شریک معصیت کریں، کیاایسے کام کی اجازت ہے؟ اور ایسا شخص مسلمانوں کاقاضی ہوسکتاہے یانہیں؟ بیّنواتوجوا۔
الجواب : شرع مطہر میں ایسے ناپاک کام سخت حرام ہیں اور ایسافاسق فاجرمرتکب کبائرقاضی بنانے کے لائق نہیں، اسے قاضی بنانا حرام ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے:
فان فی تقدیمہ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا۔۱؎
چونکہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ شریعت میںلوگوں پراس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق باب فی الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ بولاق مصر ۱ /۱۳۴)