Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
70 - 160
درمختارمیں ہے :
  الکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ والمراد التعریض لان عین الکذب حرام قال وھو الحق قال تعالٰی   "قتل الخرّاصون"  الکل عن المجتبٰی وفی الوھبانیۃ قال؎

وللصلح جازالکذب اودفع ظالم

واھل لترضی  والقتال  لیظفروا ۱؎
جھوٹ حرام ہے او ریہی حق ہے البتہ اپنے حق کے اظہار اوراحیاء کے لئے یااپنی ذات کو ظلم ونقصان سے بچانے کے لئے جھوٹ سے کام لینا مباح ہے بشرطیکہ جھوٹ بصورت تعریض یعنی اشارہ کنایہ یاذومعانی الفاظ میں ہو اس لئے کہ صریح جھوٹ حرام ہے۔ اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے مارے جائیں اٹکل پچّو سے کام لینے والے۔ یہ سب ''المجتبٰی'' سے منقول ہے، اور وہبانیہ میں فرمایا: صلح یادفع ظلم کے لئے جھوٹ بولناجائزہے بیوی کی رضاجوئی کے لئے اور جنگ میں حوصلہ افزائی کے لئے بھی جھوٹ بولنا مباح ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ   فصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۵۴)
ردالمحتار میں ہے :
الکذب مباح لاحیاء حقہ کالشفیع یعلم بالبیع باللیل فاذا اصبح یشھد ویقول علمت الاٰن وکذا الصغیرۃ تبلغ فی اللیل و تختار نفسھا من الزوج وتقول رأیت الدم الاٰن واعلم ان الکذب قدیباح وقد یجب والضابط فیہ کما فی تبیین المحارم وغیرہ عن الاحیاء ان کل مقصود محمود یمکن التوصل الیہ بالصدق والکذب جمیعا فالکذب فیہ حرام وان امکن التوصل الیہ بالکذب وحدہ فمباح ان ابیح تحصیل ذٰلک المقصود و واجب ان وجب کما لو رأی معصوما اختفی من ظالم یرید قتلہ اوایذائہ فالکذب ھنا واجب وکذالوسألہ عن ودیعۃ یرید اخذھا یجب انکارھا ومھما کان لایتم مقصود حرب اواصلاح ذات البین اواستمالۃ قلب المجنی علیہ الابالکذب فیباخ ولو سألہ سلطان عن فاحشۃ وقعت منہ سرا کزنا اوشرب فلہ ان یقول مافعلتہ لان اظھارھا فاحشۃ اخری ولہ ایضا ان ینکر سراخیہ وینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب المفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب وان بالعکس اوشک حرم  وان تعلق بنفسہ استحب ان لایکذب وان تعلق بغیرہ لم تجزالمسامحۃ بحق غیرہ والحزم ترکہ حیث ابیح ۱؎۔
اپناحق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنامباح ہے جیسے شفعہ کرنے والے کو بیع کاعلم رات کوہوا تھا صبح کے وقت یہ گواہی دے کہ مجھے ابھی ابھی سودے کے بارے میں علم ہواہے، اسی طرح نابالغہ لڑکی رات کوبالغ ہوئی اور اس نے شوہر سے صبح یہ کہا کہ میں نے ابھی ابھی خون حیض دیکھا ہے، جان لیجئے کہ جھوٹ کبھی مباح اور کبھی واجب ہوتاہے اس میں ضابطہ جیسا کہ تبیین المحارم وغیرہ میں احیاء العلوم کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ہراچھا مطلوب کہ جس تک صدق وکذب دونوں سے رسائی ہوسکے تو اس صور ت میں جھوٹ بولناحرام ہے اور ہراچھا مطلوب جس تک رسائی صرف کذب سے ہوسکے توجھوٹ بولنا مباح  ہے جبکہ اس مطلوب کو حاصل کرنا مباح ہو اور اگر مطلوب حاصل کرنا واجب ہو تو  پھرجھوٹ بولنا واجب ہے جیسا کہ بے گناہ(معصوم) کودیکھے جو کسی  ایسے ظالم سے روپوش ہو رہاہے جو اسے مارڈالنے یا ایذا پہنچانے کا ارادہ رکھتاہو تو ایسی صورت میں (اس مظلوم کوبچانے کے لئے) جھوٹ بولنا اور یہ کہنا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا یا مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں، واجب ہے۔ اس طرح اگرکوئی ظالم کسی کی امانت کے متعلق پوچھے جس کے لینے کا وہ ارادہ رکھتاہو تو اس امانت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار اور انکارکردیناضروری یعنی واجب ہے حاصل یہ کہ جب کوئی مقصود ومطلوب بغیرجھوٹ کہے پورانہ ہو اس صورت میں جھوٹ بولنا مباح ہے خواہ اس کاتعلق جنگ سے ہو یا مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے سے ہو یا جس کا نقصان ہوا ہو  اس کی دلجوئی کے لئے ہو اوراگربادشاہ وقت اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے درپردہ سرزد ہواہو جیسے بدکاری۔ شراب نوشی وغیرہ تو اس کے لئے رواہ ہے کہ صاف کہہ دے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ اس کاظاہر کرنا دوسراگناہ ہے اور اس کے لئے یہ بھی جائزہے کہ کسی اور مسلمان بھائی کے بارے میں دریافت کئے پربھائی کابھید ظاہرکرنے سے انکارکر دے، اور مناسب ہے کہ آدمی جھوٹ کے فساد کاسچائی کے نتیجے سے تقابل کرے۔ اگرسچائی سے فساد کا اندیشہ ہو تو جھوٹ کہناحرام ہے اور اگر اس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہوتو جھوٹ نہ بولنامستحب ہے، اور اگرکسی دوسرے سے تعلق ہوتودوسرے کے حق میں چشم پوشی سے کام لینا یاصرف نظرکرنا جائزنہیں ہے اور ہوشیاری چشم پوشی نہ کرنے میں ہے کیونکہ یہ مباح ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۲۷۴)
مسئلہ ۱۲۶ : ازدولت پور   ضلع بلندشہر      مرسلہ شیرمحمدخاں صاحب     ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ

کسی امر کاوعدہ مستحکم حلف شرعی محمدیہ سے کرے اس کے خلاف کرنا کیساہے؟
الجواب : اگر وہ امرواجب وفرض تھا تو اس وعدہ کاخلاف کرناحرام وناجائزہے اور اگر وہ امرناجائزوحرام تھا جیسے کسی نے شراب پینے کابحلف مستحکم وعدہ بحلف کیا تو اس کاخلاف کرنا فرض وواجب ہے اور اگر وہ مباح امرتھا اور کوئی عذر پیش آیا تو خلاف وعدہ جائزہے اور بلاعذر ناپسندہے ہاں وعدہ کرتے وقت ہی دل میں تھا کہ پورا نہ کرے گا توایسا وعدہ کرنابھی حرام ہے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیّتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔ رواہ ابویعلٰی۱؎ فی مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کاارادہ یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے، لیکن خلاف ورزی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور نیت یہ ہے کہ وہ اسے  پورا نہ کرے گا۔ اس کو ابویعلٰی نے اپنی مسند میں زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بسندحسن اس کو روایت کیاہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت)
(۱؎ کنزالعمال     برمزع عن زید بن ارقم     حدیث ۶۸۷۱    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۳ /۳۴۷)
مسئلہ ۱۲۷ : خود جھوٹ بولنا اوردوسرے شخص کو مجبورکرکے جھوٹ بلواناکیساگناہے؟
الجواب : بلاضرورت شرعی جھوٹ بولنا اوربلوانا کبیرہ گناہ ہے،قال اﷲ تعالٰی قتل الخراصون۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔  اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:
مارے جائیں وہ لوگ جو اٹکل پچّو سے باتیں بنانے والے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۵۱ /۱۰)
مسئلہ ۱۲۸ : مسئولہ محمدقاسم کھوکھر ازدہامونکی تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ پنجاب بروزدوشنبہ بتاریخ ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ جو مقتدی اپنے امام کی نیک نامی کوگزند پہنچانے کی غرض سے بچشم حقارت عوام الناس میں اس کی توہین وہجوکرے حالانکہ اس کو سابقہ کئی دفعہ فہمائش بھی کی گئی ہے مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہیں آتاہے  ایسے شخص کے حق میں ازروئے شرع شریف بطورتنبیہ سوائے توبہ کے کچھ کفارہ لازم ہے اگرہے تو کیااور کس قدر۔ سابقہ ازیں اس شخص نے ایک شرعی معاملہ میں ناجائز امداد دینے پرکفارہ بھی اداکیاہواہے، جواب اس کا تفصیل مع اپنے دستخط ومہرثبت تحریرفرمادیں اﷲ تعالٰی آپ کو جزاء خیرعطافرمائے۔والسلام
الجواب : جوالزام  وہ امام پر رکھتاہے اگرجھوٹا ہے تومفتری اورسخت عذاب کامستحق صحیح حدیث میں ہے جوکسی مسلمان پرجھوٹا الزام رکھے وہ سخت بدبواور سخت گرم  پیپ جودوزخیوں کے بدن سے بہہ کر مثل دریا کے ہوجائے گا اس میں ڈالاجائے گا اور حکم دیاجائے گا کہ اسی میں رہ جب تک کہ اپنے کہے ہوئے کاثبوت نہ دے دے اور کہاں سے دے سکے گا جبکہ جھوٹی بات ہے اور اگرالزام سچاہے مگرامام میںوہ عیب خفیہ ہے جسے وہ چھپاتاہے اور ظاہرنہیں کرناچاہتا یہ اس پرمطلع ہوگیا اور اسے شائع کرتاہے توتین گناہوں کا مرتکب ہے اشاعت فاحشہ ایک اور امام کے پس پشت کہا تو غیبت جسے صحیح حدیث میں فرمایا : الغیبۃ اشدّ من الزنا۱؎۔ غیبت زنا سے سخت ترہے۔
 (۱؎ شعب الایمان     حدیث ۶۷۴۱     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۵ /۳۰۶)

(مجمع الزوائد   باب ماجاء فی الغیبۃ الخ         دارالکتب بیروت     ۸ /۹۱)
اور جوامام کے بر ردکہا تویہ ایذائے مسلم ہے اور صحیح حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی۲؎ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ کو ایذادی (طبرانی نے اوسط میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ المعجم الاوسط للطبرانی     حدیث ۳۶۳۳     مکتبہ المعارف ریاض     ۴ /۳۷۳)
اس پرتوبہ فرض ہے اور امام سے معافی چاہنا اور اسے راضی کرنا بھی کہ حق العبد ہے مگر سوا کوئی مالی کفارہ وغیرہ کچھ نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹ : ازضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب بھوساول ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ

زید ایک دوسرے کی غیبت کرے تو اس کوکیاکرناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : غیبت حرام ہے مگرمواضع استثناء میں، مثلاً فاسق کی غیبت اس کے فسق میں جائزہے،  حدیث میں فرمایا:
لاغیبۃ لفاسق۱؎
 (اگرفاسق کی غیبت کی جائے تو وہ غیبت نہیں۔ت)
 (۱؎ کشف الخفاء     حدیث ۳۰۸۰     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۲ /۳۳۴)
او ربدمذہب کی برائیاں بیان کرنا بہت ضرورہے حدیث میں ہے :
اترعوون عن ذکرالفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس۲؎
کیاتم بدکار کاذکرکرنے سے گھبراتے ہو تو پھرکب لوگ اسے پہچانیں گے، لہٰذابدکار میں جوکچھ نقائص اور خرابیاں ہیں انہیں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔(ت)
(۲؎ تاریخ بغداد     ترجمہ ۳۴۹     محمد بن احمد الرواطی         دارالکتاب العربی بیروت     ۱ /۳۸۲)

(نوادرالاصول للترمذی     الاصل السادس والستون والمائۃ        دارصادر بیروت     ص۲۱۳)
ہاں جس کی غیبت جائز نہیں وہ سخت کبیرہ، حدیث میں فرمایا : الغیبۃ اشد من الزنا۳؎(غیبت زنا کرنے سے بدترہے۔ت) اسے سمجھانا چاہئے توبہ لیناچاہئے، نہ مانے تو اسے چھوڑدیناچاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الادب باب حفظ اللسان والغیبۃالفصل الثالث      مجتبائی دہلی     ص۴۱۵)

(شعب الایمان     حدیث ۶۷۴۱ و ۶۷۴۲    دارالکتب العلمیہ بیروت     ۵ /۳۰۶)
Flag Counter