ثانیاً بے علم فتوی دینا حکم لگانا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
افتوابغیر علم فضلوا واضلوا۔ رواہ الائمۃ احمد۱؎ والبخاری ومسلم والترمذی وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
بے علم فتوی دیا تو آپ گمراہ ہوئے اوروں کوگمراہ کیا(ائمہ کرام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کوروایت کیا۔ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی ذھاب العلم امین کمپنی ۲/ ۹۰)
(صحیح مسلم کتاب العلم ۲/ ۳۴۰ و صحیح البخاری کتاب العلم ۱/ ۲۰)
(سنن ابن ماجہ باب اجتناب الرای والقیاس ص۶ ومسندامام احمدبن حنبل ۲/ ۱۶۲)
اوراگرذی علم ہے اوردانستہ تفسیرغلط کی غلط حکم لگایا تواشد واعظم کبائر کاارتکاب کیا کہ اﷲ عزوجل پربہتان اٹھایا شریعت مطہرہ پرافتراباندھا، اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا۲؎۔اس سے بڑھ کر ظالم کون جواﷲ عزوجل پرجھوٹ افتراکرے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۲۱)
اس شخص پرتوبہ تو ہرصورت میں فرض ہے، جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نمازسخت مکروہ ہے اور اسے امام بنانا گناہ،
اس لئے کہ وہ فاسق ہے (یعنی حدودشرعیہ سے تجاوزکرنے والا ہے) اور غنیہ شرح منیہ میں فتاوٰی حجہ سے دلیل لاتے ہوئے فرمایا اگرلوگ فاسق کوامامت کے لئے آگے کریں تو گنہگار ہوں گے۔(ت)
(۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
اوربرتقدیر علم کہ دانستہ اس کامرتکب ہوا تجدید اسلام ونکاح کابھی حکم ہے کہ جان بوجھ کر رب العزۃ عزجلالہ پرافترا کرنے کو اکثر علماء نے کفرٹھہرایا۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون باٰیت اﷲ۱؎۔
جھوٹ وہ گھڑتے ہیں جوآیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۰۵)
موضوعاتِ کبیر میں ہے:
ای الکذب علی اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فان الکذب علی غیرھما لایخرجہ عن الایمان باجماع اھل السنۃ والجماعۃ۔۲؎
اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول مکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے متعلق جھوٹ کہنا آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتا، اہلسنت کااس پر اتفاق ہے۔(ت)
(۲؎ الاسرار الموضوعۃ تحت حدیث ۹۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۹)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی الفتاوی الصغری من قال یعلم اﷲ انی فعلت ھذا وکان لم یفعل کفر ای لانہ کذب علی اﷲ تعالٰی۳؎۔
فتاوٰی صغرٰی میں ہے کہ جوشخص یہ کہے کہ اﷲ تعالٰی جانتاہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اس نے وہ کام نہ کیا ہو تو وہ کافرہوجاتا ہے، کیوں؟ اس لئے کہ اس نے اﷲ تعالٰی پرجھوٹ باندھا۔(ت)
(۳؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۹۱)
درمختارمیں ہے:
ھل یکفر بقولہ اﷲ یعلم اویعلم اﷲ انہ فعل کذا کاذبا قال الزاھدی الاکثر نعم، وقال الشمنی الاصح لا۴؎۔
کیا اپنے اس کہنے سے آدمی کافرہوجائے گا؟ اﷲ تعالٰی جانتا ہے یاجانتا ہے اﷲ تعالٰی۔جھوٹا ہونے کی حالت میں کہے کہ اس نے فلاں کام کیا ہے، زاہدی نے کہا اکثر اہل علم نے فرمایا کہ ہاں کافرہوجائے گا۔ علامہ شمنی نے کہا یہی زیادہ صحیح یہ ہے کہ کافر نہ ہوگا۔(ت)
(۴؎ درمختار کتاب الایمان مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۹۲)
ردالمحتار میں ہے:
ونقل فی نورالعین عن الفتاوٰی تصحیح الاول۱؎۔ نورالعین میں فتاوٰی سے پہلے قول کی تصحیح نقل کی گئی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۶)
اور شرع مطہر کو ایسا ویسا یعنی حقیر جاننے والا توقطعاً اجماعاً کافرمرتد زندیق ملحدہے ایسا کہ
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۲؎
جو اس کے کافرومستحق نار ہونے میں شک کرے وہ خود کافرہے،
(۲؎ درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶)
اسی طرح جوتفسیرجلالین شریف خواہ کسی کتاب دینی کی فی نفسہٖ نہ کسی امرخارج عارض کے باعث بلاشبہ و تاویل تحقیر کرے کافرہے مگرکلام مذکورفی السوال نہ تنقیص شرع مطہر میں صریح ہے نہ تحقیر۔ جلالین شریف میں نص کریمہ مذکورہ کے وہ معنی کہ اس قائل نے بتائے معانی مذکورہ تفاسیر کے منافی نہیں کہ ان کی تصحیح کو ان کاابطال ضرورہے بلکہ ایک معنی جداگانہ ہیں تو اس کے قول کایہی محمل نہیں کہ معانی ظاہرہ معاذاﷲ باطل ہیں حق وہ ہے جو اہل باطن ان کے خلاف جانتے ہیں بلکہ اس کا مطلب بننے کو اس قدرکافی کہ جو کچھ ان تفاسیر میں ہے یہ معانی ظاہرہ ہیں اور افادات قرآن عظیم انہیں میں محصور نہیں بلکہ ان کے سوا اور نکات انیقہ ولطائف دقیقہ بھی ہیں جنہیں اہل باطن جانتے ہیں اس میں نہ کوئی توہین ہوئی نہ تحقیربلکہ یہ حق ہے اگرچہ اس محل پر آیہ کریمہ کاایراد اور یہ ادعائے مرادباطل ہے تویہاں معاذاﷲ ثبوت کفرکاکوئی محل نہیں، `
شرح عقائد میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعدول عنھا الی معان یدعیھا الباطنیۃ لادعائھم ان النصوص لیست علی ظواھرھا بل لھامعان باطنیۃ لایعرفھا الا المعلّم وقصد ھم بذاک نفی الشریعۃ بالکلیۃ الحاد لکونہ تکذیب للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ واما ماذھب الیہ بعض المحققین من ان النصوص علی ظواھرھا ومع ذٰلک فیھا اشارات خفیۃ الٰی دقائق تنکشف علی ارباب السلوک یمکن التطبیق بینھا وبین الظواہر المرادۃ فھو من کمال الایمان ومحض العرفان ۱؎اھ باختصار۔
نصوص اپنے ظاہری معانی پرمحمول ہواکرتے ہیں لیکن ظاہری معانی سے انہیں ایسے معانی کی طرف پھیردینا کہ جن کافرقہ باطنیہ والے دعوی کرتے ہیں اس لئے کہ ان کا دعوٰی یہ ہے کہ نصوص اپنے ظواہر پرنہیں محمول ہوتے بلکہ ان کے لئے باطنی اور پوشیدہ معانی ہوتے ہیں اور انہیں صرف معلم جانتاہے اس سے ان کاپوری شریعت کی نفی کاارادہ کرنا کھلاالحاد (بے دینی) ہے اس لئے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ان احکام میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالبداہت معلوم ہوگیا ہے۔ رہی یہ بات کہ جس کی طرف بعض محققین گئے ہیں یعنی انہوں نے اسے اختیار کیاہے کہ نصوص اپنے ظاہرمعانی رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں باریک اور مخفی اشارات بھی پائے جاتے ہیں جو اربابِ سلوک پر منکشف ہوتے ہیں کہ ان میں اورظاہری مراد میں تطبیق ہوسکتی ہے تو یہ کمال ایمان اور خالص عرفان ہے اھ باختصار (ت)
(۱؎ شرح عقائد للنسفی مطبع شوکت اسلام قندھار افغانستان ص۱۱۹ و ۱۲۰)
اس بیان سے تمام مراتب سوال کاجواب ہوگیا۔ باقی رہایہ امر کہ فلاں شخص یا اشخاص خاص کا وجد حق ہے یاباطل، ہیہات اس کے ارادہ کی طرف راہ سخت دشوار والہ سرشار ومتصنع ریاکار میں حالت قلب کا تفاوت ہے اور اوساط صادقین متشبہین بالعاشقین واراذل فاسقین مرائین میں فرق اس سے بھی سخت باریک ودقیق ترکہ یہاں صرف نیت کاتغایر ہے اور نیت وقلب دونوں غیب ہیں اور مسلمان پربدگمانی حرام،
قال اﷲ تعالٰی ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کلّ اولٰئک کان عنہ مسئولا۲؎o
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کاتجھے علم نہیں بیشک کان آنکھ دل سب سے سوال ہوتاہے۔