Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
69 - 160
مسئلہ ۱۲۱ : ازناتھ دوارہ     ریاست اودے پور ملک میواڑ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کو قطع رحم اپنی اولاد سے رکھنا اس کی بیماری میں اس کی عیادت ونان نفقہ کی خبر وعلاج ومعالجہ کی تدبیر نہ کرنا اور بعدمرجانے کے سامان تجہیزوتکفین میں شریک نہ ہونا اور کفن وغیرہ غیرشخص کا اﷲ نام دینا حتی المقدور اپنے پاس ہوتے ہوئے یہ برتاؤ اپنی اولاد سے کرنا، ایسے شخص کے واسطے کیاحکم ہے چونکہ یہ شخص علم فقہ وحدیث سے بھی واقفیت رکھتے ہیں اور پندو وعظ کو بھی لوگوں کوکہاکرتے ہیں مگراپنا عمل خلاف شرع آتاہے یسے شخص کے واسطےکیاحکم ہے؟  اس کاجواب باصواب مع حدیث فقہ وآیت کلام کے تحریرفرمائیں خداتعالٰی آپ کو اجرعظیم عطافرجائے گا۔
الجواب : اگر اس کا نفقہ شرعاً باپ پرلازم تھا مثلاً نابالغ بچہ یالڑکی جس کی شادی نہ ہوئی یا جوان لڑکا کہ کچھ کمانے پرقادرنہیں اس کونفقہ نہ دیا توسخت شدیدگناہ میں مبتلاہے، اور اگرشرعاً اس کانفقہ باپ پر نہ تھا مثلاً لڑکی کہ شوہر والی یاجوان لڑکا کمائی پرقادرہے تواسے نفقہ نہ دینے میں کچھ گناہ نہیں اور علاج ودوا تو کسی پرواجب نہیں خود اپنی واجب نہیں اور اولاد اگرعقوق کرے اور بازنہ آئے یامعاذاﷲ بدمذہب ہوجائے اور باپ اسے چھوڑدے تویہ قطع رحم اس کی اولاد کی طرف سے ہے باپ کی طرف سے نہیں، وبال اولاد پر ہے۔ سیدنا عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما نے ایک لفظ کے سبب اپنے ایک صاحبزادے سے عمربھرکلام نہ فرمایا، حضرت مولوی معنوی قدس سرہ شریف کے ایک صاحبزادے نے حضرت شمس تبریز قدس سرہ العزیز کی شان میں گستاخی کی، ان کے مرنے پرمولوی بیٹے کے جنازے میں شریک نہ ہوئے۔ ہاں اگر اولاد کاقصور نہیں توباپ پرقطع رحم کاوبال عظیم ہے، کفن نہ دینے کی وہی دوصورتیں ہیں جونفقہ میں تھیں، اگر اس کانفقہ باپ پرتھا اور اس نے کفن نہ دیاگناہگار ہوا اور نہ تھا توکفن نہ دینے کا کچھ الزام نہیں۔
مسئلہ ۱۲۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی چہدہ کی بیوی کو اس کے خسر نے روک رکھاہے اور باوجودتمام اہل محلہ کے کہنے پر اور خداورسول کاواسطہ دینے پربھی روانہ نہیں کرتا اور تمام اہل محلہ نے اس امرکابھی اطمینان دلایا کہ تیری بیٹی کو اگرکسی قسم کی تکلیف ہوگی تواہل محلہ ذمہ دار ہیں۔ پس جو شخص اہل محلہ کے کہنے کو اور خداورسول کاواسطہ دینے کو نہ مانے اس کے بارے میں شریعت نبوی کاکیاحکم ہے آیا اس سے تمامی کامیل جول جائزہے یاناجائز؟ صاف ارشاد فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب : سائل کوئی وجہ نہیں لکھتا کہ اس نے کیوں روک رکھا، اگرواقع میں اس کی کوئی وجہ شرع ہوتو اس پرکچھ الزام نہیں، نہ محلہ والوں کی ضمانت ماننا اسے ضرور، اور  واسطہ ان باتوں میں ہوتاہے جن میں ضررنہ ہو اور دوسرے کی ضرر کی بات پرواسطہ دیاجائے تو وہ واسطہ دینے والا گنہگارہوتاہے، ہاں اگرکوئی وجہ شرعی روکنے کی نہیں ہے محض بلاوجہ روکا تووہ روکناہی ظلم، پھروہ واسطہ نہ ماننا دوسراظلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۳ : ازشہر محلہ گلاب نگر مسئولہ خدابخش صاحب رضوی صندوق ساز ۲۸رجب ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص زید کو تکلیف دیتا رہتا ہے اور تکلیف دینے پر آمادہ ہے ہرطریق سے تعویذ یاجادو وگیرہا سے، اور زید اب تک خاموش ہے اور سب تکالیف سہہ رہاہے، ایک دوشخص سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اب جان لینے پرآمادہ ہے، قصہ یہ ہے کہ زیدکامکان ہے وہ یہ کہتاہے کہ مکان مجھ کو مل جائے اور اس کی دلی منشایہی ہے۔ زیدکاذاتی مکان ہے بلاوجہ مانگتاہے اب زیدمتحمل نہیں ہوسکا اب زید بھی یہ چاہتاہے کہ میں ہرطریق سے اس کو تکلیف رساہوں شریعت کہاں تک حکم دیتی ہے؟
الجواب : ایذارسانی کے ارادے پرایذا نہیں دے سکتا اپنے بچاؤ کی تدبیرکرسکتاہے جب تک کہ اس کا عزم ایسانہ ثابت ہو کہ بے ایذادئے اپنابچاؤ نہ ہوسکے گا تو اس وقت صرف اتنی بات جس میں اپنابچاؤ ہوسکے کرسکتاہے اور جوایذا اس نے پہنچائی ہے اس کاعوض اتناہی لے سکتاہے اس سے زیادہ کرے تو اس کا ظلم ہوگا اور اگرصبر کرے تو بہت بہتر ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
مسئلہ ۱۲۴ :  ۲۰محرالحرام ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں، زید اور عمرو نے مال بشراکت خریدکیا پھرزید نے عمرو سے کہا تم اس کو لو یامجھے دو۔ زید نے نفع دے کرلے لیا، عمرو سے۔ عمرونے پھرکہازید سے، تم نے بدعہدی کی یعنی شرکت نہیں کی۔ آیا یہ بدعہدی ہے یانہیں؟
الجواب : جبکہ عمروخودقطع شرکت پرراضی ہوگیا اور نفع لےکر مال دے دیا توزید کے ذمہ کوئی الزام بدعہدی کا نہیں بلکہ جوشخص کسی سے ایک امرکاوعدہ کرے اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو اور اس وجہ سے اس امر کو ترک کرے تو اس پربھی خلاف وعدہ کاالزام نہیں، 

حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔ رواہ ابویعلٰی۱؎ مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ بدعہدی نہیں کہ آدمی (کسی شخص سے) وعہد کرے اور نیت اسے پورا کرنے کی ہو اور پورا نہ کرسکے، بلکہ بدعہدی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اسے پوراکرنے کاسرے سے ارادہ ہی نہ ہو۔(ابویعلٰی نے اپنی مسند میں سندحسن کے ساتھ زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ ع عن زیدبن ارقم    حدیث ۶۸۷۱    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۳ /۳۴۷)
مسئلہ ۱۲۵ :  ازشہرکہنہ مرسلہ برکت اﷲ خاں صاحب    ۲۱ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان متین اس مسئلہ میں کہ زید کے حقیت تعدادی ۳بسوہ جس کی قیمت تخمیناً دوہزارروپے کے تھی بعوض مبلغ دوسوبیس روپیہ بابت قرضہ بقال خود ذمہ زیدتھا نیلام ہوئی چونکہ بکرایک زبردست اور متمول تھا اس نے بلااطلاع زید کے نیلام حسب قاعدہ انگریزی خریدلیا زید کو بسبب خوف آبروقوت مقابلہ نہ تھی اور بکر نے بزعم زبردستی بجز اس قبضے کے جواز روئے نیلام حاصل ہواتھا اور کوئی کارروائی مثل داخل خارج وغیرہ نہ کرائی اس لئے نام زید کا کاغذات انگریزی میں بد ستورہے، پس اس صورت میں زید کو اپنے قبضہ کی چارہ جوئی بمقتضائے مصلحت ازروئے دروغ گوئی کہ جس سے زید کو اپناحق پانے کی قوی امیدہے یانہیں؟ دوسرے یہ کہ زید کو زر نیلام اس وقت بکر کو دیناچاہئے یاجوکچھ بکر نے اس وقت اس جائداد سے تحصیل کیاہے اس میں محسوب ہوناچاہئے، بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : اپنا حق مردہ زندہ کرنے کے لئے پہلوداربات کہنا کہ جس کا ظاہر دروغ ہو اور  واقعی میں اس کے سچے معنے مراد ہوں اگرچہ سننے والا کچھ سمجھے بلاشبہہ باتفاق علمائے دین جائز اور احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے جبکہ وہ حق بے اس طریقے کے ملنامیسرنہ ہو، ورنہ یہ بھی جائزنہیں، پہلوداربات یوں کہ مثلاً ظالم نے ظلماً اس کی کسی چیز  پرقبضہ مخالفانہ اس مدت تک رکھا جس کے باعث انگریزی قانون میں تمادی عارض ہوکر حق ناحق ہوجاتاہے مگرمخالف کے پاس اپنے قبضہ کاکاغذی ثبوت نہیں اس کے بیان پررکھاگیا، اگریہ اقرارکئے دیتاہے کہ واقعی مثلاً بارہ برس سے میراقبضہ نہیں تو حق جاتا اور ظالم فتح پاتا ہے، لہٰذا یوں کہنے کی اجازت ہے کہ ہاں میراقبضہ رہاہے یعنی زمانہ گزشتہ میں، اور زیادہ تصریح چاہی جائے تویوں کہہ سکتاہے کہ ''آج تک میراقبضہ چلاآیا'' اورنیت میں لفظ ''آیا''' کو کلمہ استفہام لے جیسے کہتے ہیں آیا یہ بات حق ہے یعنی کیایہ بات حق ہے، تو استفہام انکاری کے طور پر اس کلمے کا یہ مطلب ہوا کہ کیا آج تک میراقبضہ چلایعنی ایسانہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکر مخالف کاقبضہ چلا یعنی ایسا نہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکرمخالف کاقبضہ ہوگیا، یایوں کہے ''کل تک برابرمیراقبضہ رہا آج کاحال نہیں معلوم کہ کچہری کیاحکم دے''۔ اور لفظ ''کل'' سے زمانہ قریب مراد لے جیسے نوجوان لڑکے کوکہتے ہیں کل کابچہ، حالانکہ اس کی عمربیس بائیس سال کی ہے، اس معنی پرقیامت کو ''روزفردا''کہتے ہیں کل آنے والی ہے یعنی بہت نزدیک ہے۔ یامخالف کے قبضے کی نسبت سوال ہوتوکہے ''اس کاقبضہ کبھی نہ تھا'' یا''کبھی نہ ہوا'' اور مراد یہ ہے کہ کبھی وہ وقت بھی تھا کہ اس کا قبضہ نہ تھا۔ زیادہ تصریح درکارہو تو کہے ''اس کاقبضہ اصلاً کسی وقت ایک آن کو نہ ہوا نہ ہے'' اور معنی یہ لے کہ حقیقی قبضہ ہرشے پراﷲ عزوجل کاہے دوسرے کا قبضہ ہونہیں سکتا، غرض جو شخص تصرفات الفاظ ومعانی سے آگاہ ہے سَوپہلے نکال سکتاہے ، مگر ان کاجواز بھی صرف اسی حالت میں ہے جب یہ واقعی مظلوم ہے اور بغیر ایسی پہلوداربات کے ظلم سے نجات نہیں مل سکتی ورنہ اوپر مذکورہواکہ یہ بھی ہرگزجائزنہیں۔ اب رہی یہ صورت کہ جہاں پہلودار بات سے بھی کام نہ چلے وہاں صریح کذب بھی دفع ظلم واحیائے حق کے لئے جائزہے اس بارے میں کلمات علماء مختلف ہیں، بہت روایات سے اجازت نکلتی ہے اور بہت اکابر نے منع کی تصریح فرمائی ہے حتی الوسع احتیاط اس سے اجتناب میں ہے اور شاید قول فیصل یہ ہو کہ اس ظلم کی شدت اور کذب کی مصیبت کو عقل سلیم ودین قویم کی میزان میں تولے جدھر کاپلہ غالب پائے اس سے احتراز کرے مثلاً اس کا ذریعہ رزق تمام وکمال کسی ظالم نے چھین لیا اب اگر نہ لے تو یہ اور اس کے اہل وعیال سب فاقے مریں، اور وہ بےکذب صریح نہیں مل سکتا تو اس ناقابل برداشت ظلم اشد کے دفع کو امیدہے کہ غلط بات کہہ دینے کی اجازت ہو اور اگر کسی مالدار شخص کے سَو دوسو روپے کسی نے دبالئے تو اس کے لئے صریح جھوٹ کی اجازت اسے نہ ہونی چاہئے کہ جھوٹ کافساد زیادہے اور اتنے ظلم کاتحمل اس مالدار پر ایساگراں نہیں، حدیث سے ثابت اور فقہ کاقاعدہ مقررہ بلکہ عقل ونقل کاضابطہ کلیہ ہے کہ
من ابتلی ببلیتین اختار اھونھما ۱؎ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی۔
جوشخص دوبلاؤں میں گرفتار ہو ان میں جو آسان ہے اسے اختیار کرے (یہ وہ کچھ ہے جومیرے پاس تھا اور حق کاپوراپورا علم تومیرے رب ہی کے پاس ہے۔ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظاء     الفن الاول     القاعدۃ الخامسۃ     ادارۃ القرآن کراچی     ۱ /۱۲۳)
Flag Counter