مسئلہ ۱۱۳: ازلکھنؤ امین آباد مسئولہ سیدبرکت علی صاحب بریلوی شنبہ ۲۵شوال ۱۳۳۴ھ
کسی سید کوصحیح النسب سید نہ کہنا بلکہ اس کوناجائز پیشہ وروں (میراثی وغیرہ) سے مثال دیناکیساہے اور اس مثال دینے والے کے پیچھے نمازجائزہے یانہیں؟ اور سید کی بے توقیری کرنے والا گمراہ بدمذہب ہے یانہیں؟ فقط
الجواب : سنی سید کی بے توقیری سخت حرام ہے، صحیح حدیث میں ہے :
ستّۃ لعنتھم لعنھم اﷲ وکل نبی مجاب الزائد فی کتاب اﷲ والمکذب بقدراﷲ والمستحل من عترتی ماحرم اﷲ الحدیث۲؎۔
چھ شخص ہیں جن پرمیں نے لعنت کی اﷲ اُن پرلعنت کرے، اور نبی کی دعاقبول ہے ازانجملہ ایک وہ جوکتاب اﷲ میں اپنی طرف سے کچھ بڑھائے اور وہ جوخیروشر سب کچھ اﷲ کی تقدیر سے ہونے کاانکار کرے اور وہ جومیری اولاد سے اس چیز کو حلال رکھے جو اﷲ نے حرام کیا۔
(۲؎ سنن الترمذی کتاب القدر حدیث ۲۱۶۱ دارالفکر بیروت ۴ /۶۱)
اور ایک حدیث میں کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من لم یعرف حق عترتی فلاحدی ثلث امّا منافق وامّا ولدزانیۃ واما حملتہ امّہ علٰی غیر طھر ۱؎۔
جومیری اولاد کاحق نہ پہچانے وہ تین باتوں میں سے ایک سے خالی نہیں، یا تومنافق ہے یاحرام یاحیضی بچہ۔
(۱؎ کنزالعمال حدیث ۳۴۱۹۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۱۰۴)
مجمع الانہرمیں ہے :
من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی استخفافا فقد کفر۲؎۔
جو کسی عالم کو مولویا یاسید کومیرو اس کی تحقیر کے لئے کہے وہ کافرہے۔
(۲؎ مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب المرتدثم ان الفاظ الکفرانواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۹۵)
اور اس میں شک نہیں جوسید کی تحقیربوجہ سیادت کرے وہ مطلقاً کافرہے اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے ورنہ مکروہ، اور جوسید مشہورہو اگرچہ واقعیت معلوم نہ ہو اسے بلادلیل شرعی کہہ دینا کہ یہ صحیح النسب نہیں اگرشرائط قذف کاجامع ہے توصاف کبیرہ ہے اور ایساکہنے والا اسّی کوڑوں کاسزاوار، اور اس کے بعد اس کی گواہی ہمیشہ کو مردود، اور اگر شرط قذف نہ ہو توکم ازکم بلاوجہ شرعی ایذائے مسلم ہے اور بلاوجہ شرعی ایذائے مسلم حرام، قال اﷲ تعالٰی :
جولوگ ایماندار مردوں اورایماندارعورتوں بغیراس کے کہ انہوں نے (کوئی معیوب کام) کیاہو ان کادل دکھاتے ہیں توبیشک انہوں نے اپنے سرپربہتان باندھنے اور صریح گناہ کابوجھ اٹھالیا(ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۳۳ /۵۸)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اٰذٰی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ ۴؎۔
جس نے بلاوجہ شرعی سنی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی۔ والعیاذباﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۴ : قصبہ سادی آباد ضلع غازیپور مرسلہ شیخ محمدعلی حسین صاحب ۲۴ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایک شخص مغل خاں نام قوم نٹ کا مسلمان ہوا اور بعدمسلمان ہونے کے وہ نمازپڑھتاہے روزہ رکھتاہے کلام مجید کی تلاوت کرتاہے اس نے مسجدبنوائی ہے اس میں نمازپنجگانہ اداکرتاہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کے گھر کی عورتیں گودنا گودتی ہیں مگر اس نٹ نومسلم کو انکارہے کہ اب کچھ نہیں ہوتا ہے پس ایسے نومسلم کے ساتھ کھانا پینا اور اس کاجھوٹاکھانا اورپانی پیناشرعاً جائزہے یانہیں؟ اگرجائزہے توجولوگ ایسے نومسلم کے ساتھ کھانے والوں پرسختی کرتے ہیں ان کو ترک کرتے ہیں اور ان کافضیحتاکرتے ہیں وہ شرع شریف کا مقابلہ کرتے ہیں یانہیں؟ ایسے لوگوں کے بارے میں شرع کاکیاحکم ہے؟
الجواب : بدن گودوانا شرعاً حرام ہے، اور مسلمان پربدگمانی اس سے بڑھ کرحرام، جب وہ انکارکرتاہے اورکوئی ثبوت شرعی کافی نہ ہو تو محض بدگمانی کی بناء پر اسے ذلیل سمجھنا اور تقضیح کرناسخت حرام ہے، ہاں اگرثبوت شرعی سے ثابت کہ یہ فعل اس کے یہاں ہوتاہے تو اب دوصورتیں ہیں، یاتو وہ اس پرراضی نہیں منع کرتاہے بقدرضرورت بندوبست کرتاہے اور عورتیں نہیں مانتیں جب بھی اس پرالزام نہیں ، قال اﷲ تعالٰی لاتزر وازرۃ وزر اخری۱؎۔ کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ (وزن) نہیں اٹھائے گی۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۴)
اوراگریہ ثبوت شرعی ثابت ہوکہ وہ اس فعل شنیع پرراضی ہے توبلاشبہہ قابل ملامت ولائق ترک ہے کہ یہ نراگناہ نہیں ہے بلکہ اس میں معاذاﷲ بُوئے کفرآتی ہے کہ ابھی انہیں ناپاک عادتوں پرقائم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۵ : ازسوائی مادھوپور قصبہ سانگو ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
ولدالزنا کے ساتھ کھانا کھانا اور جبکہ وہ عالم ہوجائے تو اس کی امامت درست ہے یانہیں اور کیا اس کوحرامی کہاجائے گا؟
الجواب : اس کے ساتھ کھانا اور بشرط علم اس کے پیچھے نماز دونوں درست ہیں اور اسے اس طور پر حرامی کہنا کہ جس میں اسے ایذا ہوجائزنہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۶ : ازشہر عقب کوتوالی مسئولہ قیصرحسین ۷شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک تایا ہے اور ایک بہن ہے، زید کے تایا اور زید کے والد میں ہمیشہ رنج رہی یہاں تک کہ زید کے والد کاانتقال ہوگیا مگرزید کے والد اپنے بھائی سے ملے نہیں، زیداپنے والد کے مرنے کے بعد اپنے تایا سے اور اپنی ہمشیر سے ملتارہا، پھر زید کی والدہ کابھی انتقال ہوگیا، اس کے بعد زید کی بہن اور تایا کے درمیان سخت رنجش ہوگئی۔ اب زید کی بہن اپنے سگے بھائی زید سے یہکہتی ہے کہ تم اگر اپنے تایا سے ملوگے تومیں تم سے نہیں ملوں گی اگرتجھ سے ملنامنظور ہے تواپنے تایا سے مت ملو۔ اب زید کی شادی کاوقت آیا اور زیداپنی بہن کا ایک ہی بھائی ہے اگرزید اپنی بہن کاکہنا نہیں کرتا ہے توزید کی بہن کوانتہادرجہ کاصدمہ ہوتاہے۔ چونکہ اس کے والدین کاانتقال ہوچکاہے اوریہ ایک ہی اس کے بھائی ہے اور وہ اس کی شادی میں شریک نہیں ہوسکتی بوجہ تایا کی شرکت کے، ایسی حالت میں زید کو کیاکرناچاہئے یعنی زید کو اپنی بہن کاکہنا اور خوشی کرناچاہئے اوراپنی بہن کو شادی میں شریک کرناچاہئے یا اپنے تایاکو،اور اپنی بہن کو چھوڑنا چاہئے یا اپنے تایا کو، کیونکہ زیدبغیر اپنے تایا کو چھوڑے ہوئے اپنی بہن کادل خوش نہیں کرسکتا اور نہ اس کی بہن شادی میں شریک ہوسکتی ہے۔
الجواب : بہن اور چچادونوں ذی رحم محرم ہیں کسی سے قطع کرنا اس کوجائزنہیں اسے چاہئے اپنی بہن کو جس طرح ممکن ہو راضی کرے اگرچہ یوں کہ خفیہ اپنے چچا کو شادی میں شریک ہونے کی دعوت دے اور اپنی بہن سے کہہ دے کہ مجھے ہرطرح تیری خاطر منظور ہے نہ ان کوبلاؤں گا نہ شریک کروں گا اتنا تجھ سے چاہتاہوں کہ وہ اگر اپنے آپ آجائیں تو اس پرمجھ سے ناراض نہ ہو کیونکہ وہ تیرے اور میرے دونوں کے باپ کی جگہ ہیں غیرآدمی بے بلائے ہوئے آجائیں تو ان کونکالنا بے تہذیبی ہے نہ کہ باپ کو، غرض جھوٹے سچے فقرے ملاکر دونوں کو راضی کرسکے کرے اور اس پراجرپائے گا میں ان کو نہ بلاؤں گا۔ مراد یہ رکھے کہ مٰں خود ان کو بلانے نہ جاؤں گا اگرچہ آدمی یارقعہ بھیجوں، آپ چلے آنے سے یہ مراد رکھے کہ وہ اپنے پاؤں سے چلے آئیں نہ یہ کہ میں اٹھاکر لاؤں، غرض پہلوداربات کہے جھوٹے سچے فقرے سے مراد یہی ہے کہ اس کاظاہر جھوٹ اور مرادی معنی سچ۔
حدیث میں فرمایا :
ان فی المعاریض لمندوحۃ عن الکذب ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ بیشک اشاروں میں گفتگو کرنے میں سے جھوٹ سے آزادی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات باب المعاریض الخ دارصادر بیروت ۱۰ /۱۹۹)
مسئلہ ۱۱۷ تا ۱۲۰ : ازآگرہ سیدباڑھ عالم گنج مرسلہ تاج محمد صاحب ۱۱شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ زیدشخص تارک صوم وصلٰوۃ، غاصب، سخت جابروظالم زبردست قابویافتہ ہے وہ چاہے جس کامال جبراً خریدلیتاہے اور پورا روپیہ نہیں دیتاہے ہزارہا روپیہ لوگوں کاماررکھاہے عام لوگ نالاں ہیں اور سخت ظلم یہ ہے کہ جن بندگان خدا کو اپنی مرضی کے خلاف پاتاہے تو اپنے میل کے دس پانچ اشخاص جمع کرکے چاہے جس کاکاروبار بازار نکاح شادی برادری سے خارج کرکے سب بند کردیتاہے کہ جوباعث اشد ایذا رسانی وآبرو ریزی بدنامی تنگی گرسنگی ہتک حرمت کاہوتاہے چونکہ جس شخص کا جوپیشہ ہوتاہے وہ اپنے گزر اوقات اس پیشہ سے کرتاہے جب پیشہ بند ہوجاتاہے تو وہ مظلوم مع اپنے متعلقین کے فاقہ کشی کرکے تباہ وبرباد ہوجاتا ہے حالانکہ تمام برادری کے لوگ اس سے نالاں ہیں لیکن بخوف دم نہیں مارتے خاموش ہیں اس لئے کہ سوال یہ ہے کہ :
(۱) یہ کہ ایساشخص ظالم جابرجہول بحکم خدا ورسول عزوجل وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کس کس سزا کا سزاوارہے؟
(۲) یہ کہ جابرظالم کے مددگار انکہ جن کے زورظلم ظالم کرتاہے کس کس حکم کے لائق ہیں؟
(۳) دیگر اہل برادری ایمان داران کوظالم جابرکاناحق مانناچاہئے یا اس کاحکم بجرم زنا وشراب خوری وجبر و ظلم کے اس کو برادری اسلام سے خارج کرنا اور اس سے سلام میل جول خورد نوش لین دین ترک کرنا واجب تھا یاکیا اور اس کے ساتھی ومددگاران کو ظالم سے توبہ کرکے حقارت واجب ہے یاکیا؟
(۴) جولوگ فتوٰی سن کرعمل نہ کریں ضدوہٹ کریں مظلوم کی دادرسی نہ کریں حکم ظالم کو خداورسول پر ترجیح دیں ان کے واسطے کیاحکم ہے؟
الجواب
(۱) جس شخص میں امور مذکورہ سوال ہوں وہ مستحق عذاب نار وغضب جبار ولعنت پروردگار والعیاذباﷲ تعالٰی، وہ اﷲ ورسول کوایذادیتاہے اور اﷲ ورسول کا ایذا دینے والا فلاح نہیں پاتا۔اﷲ عزوجل فرماتاہے :
ان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنٰت ثمّ لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریق ۱؎۔
بیشک جن لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کوفتنے میں ڈالا پھرتوبہ نہ کی ان کے لئے جہنم کاعذاب ہے اور ان کے لئے آگ کاعذاب۔
(۱؎ القرآن الکریم ۸۵/ ۱۰)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اٰذٰی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقداٰذی اﷲ۲؎۔
جس نے ناحق کسی مسلمان کو ایذا دی بیشک اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کوایذا دی۔
(۲؎المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۳۷۳)
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین ۳؎۔
سنتاہے اﷲ کی لعنت ہے ظالموں پر۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۱ /۱۸)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ۴؎۔
ظلم اندھیریاں ہے قیامت کے دن۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۴؎ صحیح البخاری کتاب المظالم باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱)
(۲) ظلم کے مددگار ظالم ہین اور اس سے بڑھ کر عذاب وغضب ولعنت کے سزاوار۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے :
لاتعاونوا علی الاثم والعدوان۵؎۔
تم پرحرام ہےکہ گناہ اور حد سے بڑھنے میں ایک دوسرے کی مددکرو۔
(۵؎ القرآن الکریم ۶/ ۲)
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من مشی مع ظالم لیعینہ و ھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام رواہ الطبرانی۱؎فی المعجم الکبیر والضیاء فی صحیح المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جودیدہ ودانستہ کسی ظالم کے ساتھ اسے مدد دینے چلا وہ اسلام سے نکل گیا(اس کو طبرانی نے معجم کبیرمیں اور ضیاء نے صحیح المختارہ میں اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) ہاں مددگاروں پرفرض ہے کہ توبہ کریں اور اس کی مدد سے جداہوں، اﷲ عزوجل قرآن کریم میں کسی مسلمان کے ساتھ مسخرگی کرنے، اس پر طعن کرنے، اس کا برا لقب رکھنے سے منع کرکے فرماتاہے :
ومن لم یتب فاولٰئک ھم الظّٰلمون۲؎o
جو ان باتوں سے توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴۹ /۱۱)
ان باتوں کو افعال مذکورہ سوال سے کیانسبت، جو ان میں مدد سے توبہ نہ کریں کیسے سخت درجے کے ظالم ہوں گے، اہل برادری یاکسی مسلمان کو ظالم کاحکم اس کے ظلموں میں مانناجائزنہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی۳؎۔
اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔
(۳؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳ /۱۲۳)
اور ظالم بازنہ آئے تو مسلمانوں کوچاہئے اسے برادری سے نکال دیں اس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں کہ اس کی آگ انہیں بھی نہ پھونک دے۔ اور فرماتاہے اﷲ تبارک وتعالٰی :
واما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظّٰلمین۴؎۔
اگرتجھے شیطان بھلادے تویادآئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
(۴) جومظلوم کی دادرسی پرقادر ہو اور نہ کرے تو اس کے لئے ذلت کاعذاب ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اغتیب عندہ اخوہ المسلم فلم ینصرہ وھو لیستطیع نصرہ ادرکہ اﷲ تعالٰی فی الدنیا والاٰخرۃ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ و ابن عدی فی الکامل ۱؎عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس کے سامنے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور یہ اس کی مدد پرقادر ہو اور نہ کرے اﷲ تعالٰی اسے دنیاوآخرت دونوں میں ذلیل کرے گا۔ اس کو محدث ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ ذم الغیبۃ مع موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا حدیث ۱۰۸ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ ۲ /۱۰۰)
(الکامل لابن عدی ترجمہ ابان بن ابی عیاش دارالفکر بیروت ۱ /۳۷۷)
(المطالب العالیۃ باب الزجر عن الاستطاعۃ فی غرض العلم حدیث ۲۷۰۶ عباس احمدالبانی مکۃ المکرمۃ ۳ /۲)
جب اس سے کہا جائے اﷲ سے ڈر تو اسے گناہ کی ضد چڑھے ایسے کو جہنم کافی ہے او رکیابراٹھکانا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰۶)
ابلیس کی پیروی سے حکم خدا و رسول پرنہ چلنا اور ظالم کے حکم پرچلنا گناہ ہے کبیرہ ہے استحقاق جہنم ہے مگر کوئی مسلمان کیسا ہی فاسق فاجر ہو یہ خیال نہیں کرتا کہ اﷲ ورسول کے حکم پر اس کے حکم کو ترجیح ہے ایسا سمجھے توآپ ہی کافرہے۔والعیاذباﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم