Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
67 - 160
ظلم وایذائے مسلم وہجران وقطع تعلق
مسئلہ ۱۰۹ :  ۹ربیع الآخر ۱۳۰۸ھ ازشہر کہنہ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے گھر کسی تقریب میں گائے ذبح کی اور عمرو نے باوجودیکہ مردمسلمان ہے گائے ذبح کرنےکو منع کیا اور جھگڑا کیایہاں تک کہ زید پرنالش کردی یہ فعل عمروکاموافق شرع شریف کے کیساہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجوب : شرعاً وہ مرتکب گناہ ہوا او رنہ صرف حق اﷲ بلکہ حق العبد میں بھی مبتلا اس پرفرض ہے کہ اﷲ تعالٰی سے توبہ کرے اور زید سے اپناقصورمعاف کرائے۔
عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاضرر ولاضرار فی الاسلام۱؎۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اسلام میں نہ کوئی دکھ ہے نہ دوسرے کو دکھ پہنچانا۔(ت)
 (۱؎ المعجم الاوسط   حدیث ۵۱۸۹   مکتبۃ المعارف ریاض     ۶ /۹۱)

(نصب الرایۃ   باب مایحدثہ الرجل فی الطریق     المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴ /۳۸۴)
سائل مظہرکہ وہ ایسی جگہ نہ تھی جہاں قانوناً گائے ذبح کرناجرم ہو بلکہ وہاں ہمیشہ سے قربانی ہوتی ہے تو اس صورت میں عمرو کی ممانعت ہرگز اس پرمحمول نہیں ہوسکتی کہ اپنے بھائی مسلمان کو حضرت قانونی سے بچانا چاہتاتھا بلکہ محض قصداً ایذاء واضرارتھا اورنالش کرنا اس پردلیل واضح کمالایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت) واﷲ تعالٰی علم ۔
مسئلہ ۱۱۰ : ۲۱صفر ۱۳۱۳ھ 

 کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سے محرم کے تخت بنانے میں چندہ کی شرکت کو کہاگیا دس دس آنے سب پر ڈالے تھے اس نے بھی دئیے مگر کہاہم اپنے ذمہ اس کی کرنہ باندھیں گے اگر چاہیں گے دیں گے اور جتنا چاہیں گے دیں گے، اس پرلوگوں نے اسے برادری سے نکال دیا اور حقہ پانی ڈال دیا اور کھچڑا جو حضرت امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیاز کا اس نے پکاکرمسلمانوں میں تقسیم کیا وہ لوگوں کو نہ لینے دیا اور کہایہ بھنگی کے یہاں کاہے، اس صورت میں شرع کاکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : صورت مذکورہ میں اس شخص کے ذمہ جوالزام برادری والوں نے قائم کیا شرع کی رو سے بالکل باطل ہے وہ اس الزام سے بری ہے بلکہ اس وجہ سے جو لوگ اسے چھوڑے اور برادری سے نکالتے ہیں وہ گنہگار ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتھاجروا ولاتدابروا ولاتباغضوا ولاتنافسوا وکونوا عباداﷲ اخوانا۱؎۔
لوگو! ایک دوسرے کو نہ چھوڑو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو اور نہ آپس میں بغض وکینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے پر فخرکرو(اور نہ مقابلہ کرنے کی کوشش کرو۔ اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔(ت)
 (۱؎ صحیح مسلم    کتاب البر والصلۃ     باب تحریم الظن الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۳۱۶)
دوسرا الزام ان لوگوں پریہ ہے کہ ایک فضول وبیجا کام میں شرکت سے انکارپریہ تشدّد کیا اور نیاز میں کہ مقبول ومحمود کام ہے رخنہ ڈالنا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۱ :  ازملک بنگالہ ضلع نواکھالی مرسلہ مولوی عبدالباری صاحب ۲۳شعبان ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ
(اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے آپ کاکیافرمان ہے۔ت) کہ ایک شخص مال یتیم زبردستی تمام اپنے صرف وخرچ میں لاتاہے اور بیچارہ یتیم حالانکہ اس کے پاس اور کچھ نہیں تھا سوائے اس جائداد کے جو اس شخص نے ظلماً لے لی دوسروں سے مانگ کرکھاتاہے اور بسراوقات کرتاہے اور وہ شخص حیلہ وحوالہ کرتاہے اور مشہورعلم داں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ حج بھی کیاہے، یہ اعمال اس کے ایسی حالت میں مقبول ہوں گے یانہیں ودیگرعبارات بھی؟ اور نیز اس شخص سے سلام کلام یعنی طریقہ اہل اسلام برتنا چاہئے یانہیں؟ قرآن پاک واحادیث صحیح مع سندبیان فرمائیے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : ایساشخص سخت ظالم، فاجر، مرتکب کبائر، مستحق عذاب نار وغضب جبّار ہے۔
قال اﷲ تعالٰی! ان الذین یاکلون اموال الیتامٰی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا ۱؎۔
بیشک جولوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں جائیں گے ۔
(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۰)
قبول عمل وعبادت ہرشخص کاحق سبحانہ، وتعالٰی کے اختیار ہے، ہاں اس ناپاک سے جوعبادت مال کرے گا ہرگزقبول نہ ہوگی۔ حدیث میں ہے:
ان اﷲ طیّب لایقبل الاالطیب۲؎۔
بیشک اﷲ تعالٰی پاک ہے او رپاک چیزہی قبول فرماتاہے۔(ت)
 (۲؎ سنن الکبرٰی للبیہقی     کتاب صلٰوۃ الاستسقاء     دارالمعرفۃ بیروت     ۳ /۳۴۶)
حج بھی اگر اسی روپے سے کیا تو مستحق مردود ہے۔ حدیث میں ہے : جوحرام مال سے حج کوجائے جب لبیک کہے فرشتہ اسے جواب دیتاہے:
لالبیک ولاسعدیک وحجّک مردود علیک حتی تردمافی یدیک۳؎۔
نہ تیری لبیک قبول، نہ خدمت قبول اور تیراحج تجھ پرمردود ہے یہاں تک کہ تویہ مال حرام جوتیرے پاس سے واپس دے۔
 (۳؎ اتحاف السادۃ المتقین   کتاب اسرارالحج   الباب الثالث     دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۴۳۱)

(کنزالعمال   حدیث ۱۱۸۹۱    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۵ /۲۴)

(العلل المتناہیۃ    حدیث فی الحج بمال حرام     حدیث ۹۳۰    دارنشرالکتب الاسلامیہ مصر    ۲ /۷۵)
ایسے شخص سے ابتدابسلام ناجائزوگناہ ہے۔درمختار میں ہے :
یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا ۱؎۔
جوکوئی اعلانیہ فاسق ہو اسے سلام دینا مکروہ ہے۔(ت)
 (۱؎درمختار  کتاب الحظروالاباحۃ  فصل فی البیع     مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱)
مسلمانوں کو ایسے شخص سے میل جول رکھنا، اس کے پاس موافقت کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا نہ چاہئے، کہیں اس کی آگ ان میں بھی سرایت نہ کرے۔
قال اﷲ تعالٰی : واما ینسینّک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظّٰلمین۲؎۔
اگرتجھے شیطان بھلادے تویادآئے پرپاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
(۲؎ القرآن الکریم     ۶/ ۶۸)
وقال تعالٰی : ولاتزکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۳؎۔
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں آگ چھوئے۔
والعیاذ باﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم
  (۳؎القرآن الکریم    ۱۱/ ۱۱۳)
مسئلہ ۱۱۲ : مسئولہ فرحت اﷲ صاحب ازبدایون  ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص معزز با وقعت ہے اور علم بھی رکھتاہے اور نیز روزہ نماز کابھی پابند ہے، اس کی نسبت چندمعزز اشخاص وایک ہندوحکام اعلٰی کے روبروجن کے نزدیک وہ شخص باوقعت سمجھاگیایہ لفظ ایک توہین کے ساتھ کہنا کہ یہ شخص قوم کا جولاہہ ہے یہ کہنا بروئے شرع شریف کیساہے؟ اور نیز ایساکہنے والا گنہگار ہے یانہیں؟ اگرہے تو کس درجہ کا گنہگارہے؟ جواب سے تشفی بخشئے۔بیّنواتوجوا۔
الجواب : اگر وہ شخص واقع میں قوم کاجولاہہ نہیں توکذب ہوا، افتراہوا، مسلمان کی ناحق ایذا ہوئی، کہنے والا متعدد کبائرکا مرتکب ہوا، حق العبد میں گرفتا اور مستحق عذاب نارہوا، اس پرفرض ہےکہ توبہ کرے اور اس شخص سے اپنی خطا کی معافی چاہے ورنہ طینۃالخبال میں روکاجائے گا حتی یاتی بنفاد ماقال یہاں تک کہ جوبات کہی اس کا ثبوت لائے : اور جبکہ بات خلاف واقع ہے تو اس کا ثبوت کہاں سے لائے گا، طینۃ الخبال اس آگ سے زیادہ گرم اور کھولتے ہوئے پیپ اور لہو کی نہرکانام ہے جودوزخیوں کے منہ سے لے کر جمع ہوگی والعیاذباﷲ تعالٰی (اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ت)، اور اگرواقع میں وہ شخص جولاہا تھا مگر اس کے اظہار میں اس و قت کوئی مصلحت شرعی نہ تھی صرف اس کی ایذا وتفضیح مقصود تھی جب بھی یہ شخص گنہگارہوا، توبہ کرنا اور اس سے معافی چاہنا اب بھی فرض  ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی۱؎ فی الکبیر عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس نے کسی مسلمان کوبلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی(طبرانی نے کبیرمیں اس کو حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
 (۱؎کنزالعمال     حدیث ۴۳۷۰۳     ۱۶ /۱۰    والمعجم الاوسط     حدیث ۳۶۳۲    ۴ /۳۷۳)
اور اگر اس کے اظہار میں کوئی مصلحت شرعی تھی اور بات واقعی تھی تو اس قائل پرکوئی الزام نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter