Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
66 - 160
الجواب : موالات ومجرد معاملہ میں زمین وآسمان کافرق ہے دنیوی معاملت جس سے دین پرضرر نہ ہو سوا مرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں ذمی تومعاملت میں مثل مسلم ہے لھم مالنا وعلیھم ماعلینا(ان کے لئے ہے جوکچھ ہمارے لئے ہے، اور ان پروہی کچھ لازم ہے جوکچھ ہم پر لازم ہے۔ت) اور غیرذمی سے بھی خرید، فروخت، اجارہ، استجار، ہبہ، استیہاب بشروطہاجائز، خریدنا مطلقاً ہرمال کاہرمسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچناہرجائز چیزکاجس میں اعانت حرب یا  اہانت اسلام نہ ہو، اسے نوکررکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو اس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلا نہ ہو ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینایا اس کاکام کرنا بمصلت شرعی سے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو اس کاہدیہ قبول کرنا جس سے دین پراعتراض نہ ہو حتی کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہٖ حلال ہے وہ صلح کی طرف جھکیں تومصالحت کرنامگروہ صلح کہ حلال حرام کرے یاحرام کوحلال، یونہی ایک حد تک معاہدہ وموادعت کرنابھی اور جوجائز عہدکرلیا اس کی وفا فرض ہے اور عذر حرام الٰی غیرذٰلک من الاحکام (اور اس کے علاوہ باقی احکام۔ت)
درمختارمیں ہے :
  والمرتدۃ تحبس ابدا ولاتجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل ۱؎اھ  قلت وھوالعلۃ فانھا تبقی ولاتفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا فالامتناع القتل۔
 (اسلام سے پھرجانے والی) مرتد عورت ہمیشہ قید وبند میں رکھی جائے۔ پس اس کے ساتھ نشست برخاست نہ کی جائے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائے لیکن وہ قتل نہ کی جائےاھ  میں کہتاہوں یہی وہ علت ہے جوہمیشہ باقی رہتی ہے کبھی ختم نہیں ہوتی، پس ہمارے زمانے اور ہمارے شہروں میں یہی علت مرتد مرد کوبھی شامل ہے اس لئے کہ اسے قتل نہیں کیاجاسکتا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الجہاد    باب المرتد     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۳۶۰)
محیط میں ہے :
اذا اراد الخروج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امیرا لایخاف علیہ منہ وکانوا قوماً یوفون بالعھد یعرفون بذلک ولہ فی ذلک منفعۃ فلاباس بان یعصیھما۱؎۔
جب دشمن کے ملک میں اجازت نامہ لے کر پُرامن طورپرکاروبار کرنے کے لئے جائے پھراگر امیرایسا ہوکرجانے والے کو اس سے کوئی خوف وخطرہ نہ ہو اور وہ لوگ بھی وعدہ پورا کرتے ہوں بلکہ ایفائے عہد میں مشہور ومعروف ہوں، اور اس جانے اور سفرکرنے میں اس کاذاتی فائدہ بھی ہو تو اس کے جانے میں کچھ مضائقہ اور حرج نہیں۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ   کتاب السیر   الباب الاول    نورنی کتب خانہ پشاور    ۲ /۱۸۹)
ہندیہ میں ہے  :
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذٰلک منہ و کذٰلک اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ۲؎۔
جب کوئی مسلمان دارِحرب میں امان لےکر تجارت کے لئے داخل ہوتو اسے اس سفر سے نہ روکاجائے اور یہی حکم ہے جب کوئی شخص بحری بیڑے میں سامان لادکر ان کی طرف جاناچاہے (تو اسے بھی اس سفر سے نہ روکاجائے)۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب السیر   الباب السادس   نورنی کتب خانہ پشاور     ۲ /۲۳۳)
اسی میں ہے :
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ماشاء الاالکراع والسلاح فان کان خُمرا من باریسم او ثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیھم ولاباس بادخال الصفر والشبھۃ الیھم لان ھذا لایستعمل للسلاح۳؎۔
امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگرکوئی مسلمان اہل عرب کی طرف جوکچھ اٹھاکر لے جاناچاہے تو اس میں کچھ حرج نہیں مگر یہ کہ گھوڑے اور ہتھیار(نہ لے جائے) پھراگرخالص ریشم یاسنہری باریک کپڑے ہوں تو انہیں وہاں جانے میں کچھ حرج نہیں نیز سونا، پیتل اور ان جیسی اشیاء کے وہاں لے جانے میں کچھ مضائقہ نہیں،ا س لئے کہ اشیاء مذکورہ ہتھیاروں کے لئے استعمال نہیں کی جاتیں۔(ت)
 (۳؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب السیر   الباب السادس   نورانی کتب خانہ پشاور     ۲ /۲۳۳)
اسی میں ہے:
لایمنع من ادخال البغال والحمیر والثور والبعیر۴؎۔
خچر، گدھے، بیل اور اونٹ وغیرہ لے جانے سے نہ روکاجائے۔(ت)
(۴؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب السیر   الباب السادس   نورنی کتب خانہ پشاور  ۲ /۲۳۳)
فتاوٰی امام طاہر بخاری میں ہے :
مسلم آجر نفسہ من مجوسی لاباس بہ۱؎۔
اگرکوئی مسلمان کسی آتش پرست کی نوکری کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
(۱؎ خلاصۃ القاری   کتاب الاجارات     الفصل العاشر  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۴۹)
ہدایہ میں ہے :
من ارسل اجیرالہ مجوسیا اوخادماً فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم واکلہ۲؎۔
اگر کسی نے اپنا آتش پرست مزدوریاخادم بھیجا پھر اس نے گوشت خریدا(پوچھنے پر) اس نے کہا میں نے یہ یہودی یاعیسائی یامسلمان سے خریدارہے (تو اسے سچاسمجھ کر) وہ گوشت کھایاجائے گا(ت)
 (۲؎ الہدایۃ   کتاب الکراھیۃ    فصل فی الاکل والشرب    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۵۱)
درمختارمیں ہے :
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم۳؎۔
اہل ذمہ  پرحکم دینے میں کافر کے فیصلہ کی تقلید اوراتباع کرناجائزہے، چنانچہ علامہ زیلعی نے بحث تحکیم میں اس کو بیان فرمایاہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار   کتاب القضاء  مطبع مجبتائی دہلی     ۲ /۷۱)
محیط میں ہے:
قال محمد مایبعثہ ملک العدو من الھدیۃ ان امیرجیش المسلمین او الی الامام الاکبر وھو مع الجیش فانہ لاباس بقبولھا یصیر فیئاً للمسلمین وکذٰلک اذا اھدی ملکھم الی قائد من قوّاد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا۴؎۔
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا دشمن کابادشاہ اسلامی لشکر کے امیریا امیراکبر کوجوکچھ تحفہ وہدیہ بھیجے جبکہ وہ لشکرمیں ہو تو اس کو قبول کرنے میں کچھ حرج نہیں، اور وہ اہل اسلام کے لئے مال غنیمت ہوجائے گا، یونہی ان کا بادشاہ مسلمانوں کے کسی ایسے قائد کو ہدیہ بھیجے کہ جس میں قوت وزورہو(تو اس کو لینے میں بھی کوئی حرج نہیں) اور اگر وہ مسلمانوں کے کسی بڑے فرد کو ہدیہ پیش کرے کہ جس میں قوت دفاع نہ تووہ پھر اس کے لئے مختص ہوگا۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب السیر   الباب السادس الفصل الثالث  نورانی کتب خانہ پشاور  ۲ /۲۳۶)
اسی میں ہے :
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملک العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذلک لوان امیرالثغور اھدی الی ملک العدوھدیۃ واھدی ملک العدو الیہ ھدیۃ۱؎ ۔
اگراسلامی فوج دارحرب میں داخل ہو، پھر ان کا امیردشمن کے حکمران کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔ اور اسی طرح اگرامیرسرحد اسلامی دشمن کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور دشمن کابادشاہ اسلامی امیر کوکوئی تحفہ وہدیہ پیش کرے(تو دونوں صورتوں میں کچھ مضائقہ نہیں)،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب السیر         الباب السادس الفاصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۲۳۶)
وقال اﷲ تعالٰی والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب من قبلکم اذا اٰتیتموھن اجورھن۲؎ وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا وقال تعالٰی وان جنحواللسلم فاجنح لھا۳؎ وقال تعالٰی الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدافاتمواالیھم عھدھم الٰی مدتھم ان اﷲ یحب المتقین۴؎ وقال تعالٰی واوفوابالعھد ان العھد کان مسئولا۵؎ وعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الصلح جائز بین المسلمین الاصلحا احل حراما او حرم حلالا۶؎ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتغدروا  ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا اور مسلمان پارساعورتیں، اور ان لوگوں کی پارسا عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب عطاہوئی(یعنی اہل کتاب یہودی اور عیسائی) جب تم انہیں ان کے مہر اداکردو(توپھر ان دونوں سے عقد نکاح کرنا جائز ہے) اور اس کی پوری تحقیق ہمارے فتاوٰی میں مذکورہے۔ اور اﷲ تعالٰی نے ارشادفرمایا : اگر وہ صلح کے لئے جھک جائیں توپھر تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا : مگروہ شرک کرنے والے کہ جن سے تم نے معاہدہ کیاپھر انہوں نے تم سے کوئی کمی نہ کی اورتم پر کسی کو غلبہ نہ دیا۔ پھر ان سے ان کی طے شدہ مدت تک ان سے کیاہوا وعدہ پوراکرو بیشک اﷲ تعالٰی ڈرنے والوں کوپسند کرتاہے۔ اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا : (لوگو!) وعدہ پوراکرو اس لئے کہ وعدے کے بارے میں (اﷲ تعالٰی کے ہاں) بازپرس ہوگی اورحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ صلح مسلمانوں کے درمیان جائزہے، مگروہ صلح جوحرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرائے(ایسی جائزنہیں) اور حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : (لوگو!) دھوکہ بازی نہ کیاکرو۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم    ۵/ ۵)	(۳؎ القرآن الکریم    ۸/ ۶۱)

(۴؎ القرآن الکریم    ۹ /۴)	(۵؎ القرآن الکریم    ۱۷/ ۳۴)

(۶؎ المعجم الکبیر   حدیث ۳۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۷ /۲۲)

 (۱؎ مسنداحمد بن حنبل     عن بریدۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت ۸ /۳۵۸)
وہ الحاق واخذ امداد اگرنہ کسی امرخلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجر، تو اس کے جواز میں کلام نہیں۔ ورنہ ضرورناجائز وحرام ہوگا۔ مگر یہ عدم جواز اس شرط یالازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریم، مطلق معاملت جس کے لئے شرع میں اصلاً اصل نہیں اور خود ان مانعین کی طرز عمل ان کے کذب دعوٰی پرشاہد، ریل، تار، ڈاک سے تمتع کیا معاملت نہیں۔ فرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال لینا ہے اور ان کے استعمال میں دینا، عجب کہ مقاطعت میں مال دیناحلال اور لیناحرام، اس کاجواب یہ دیاجاتاہے کہ ریل تارڈاک ہمارے ہی ملک میں ہمارے ہی روپے سے بنے ہیں، سبحٰن اﷲ! امداد تعلیم کا روپیہ کیا انگلستان سے آتاہے وہ بھی یہیں کاہے توحاصل وہی ٹھہرا کہ مقاطعت میں اپنے مال سے نفع پہنچانا مشروع اور خود لیناممنوع۔ اس الٹی عقل کا کیاعلاج۔ مگر اس قوم سے کیاشکایت جس نے نہ صرف شریعت بلکہ نفس اسلام کو پلٹ دیا۔ مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامہ وانقیاد فرض کیا۔ خوشنودی ہنود کے لئے شعاراسلام بند اور شعار کفرکاماتھوں پرعَلم بلند۔ مشرکین کی جے پکارنا ان کی حمد کے نعرے مارنا انہیں اپنی اس حاجت دینی میں جسے نہ صرف فرض بلکہ مدارایمان ٹھہراتے ہیں یہاں تک کہ اس میں شریک نہ ہونے والوں پرحکم کفرلگاتے ہیں اپنامال وہادی بنانا مسجد میں مشرک کو لے جاکر مسلمانوں سے اونچا کھڑاکرکے واعظ مسلمین ٹھہرانا مشرک کی ٹکّٹکی کندھوں پراُٹھاکر مرگھٹ میں لے جانا مسجد کو اس کاماتم گاہ بنانا اس کیلئے دعائے مغفرت ونمازجنازہ کے اشتہارلگانا وغیرہ وغیرہ ناگفتہ بہ افعال موجب کفرومورث ضلال، یہاں تک کہ صاف لکھ دیاکہ اگر اپنے ہندوبھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلوگے، صاف لکھ دیا کہ ہم ایسامذہب بنانے کی فکر میں ہیں جوہندو ومسلم کا امتیاز اٹھادے گا اور سنگم پریاگ کومقدس علامت ٹھہرادے گا صاف لکھ دیا کہ ہم نے قرآن وحدیث کی تمام عمربت پرستی نثارکردی یہ ہے موالات، یہ ہے حرام، یہ ہیں کفریات، یہ ہے
ضلال تام فسبحٰن مقلب القلوب والابصار ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ الواحد القھار
 (پاک ہے دلوں اور آنکھوں کاپھیرنے والا، گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت کسی میں نہیں بجز اس کے کہ اﷲ تعالٰی یکتا اور سب سے زبردست، مددفرمائے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter