Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
65 - 160
مسئلہ ۱۰۲ : مرسلہ مصاحب علی طالب علم     ۱۴ صفرالمظفر۱۳۳۵ ھ

ایک شخص نے زناوشراب وسود وغیرہ گناہ کبیرہ کاارتکاب کیاہے اور نمازوروزہ وزکوٰہ وغیرہ افعال نیک بھی کرتاہے اور علماء ومشائخ سے محبت رکھتاہے تواگربہ سبب افعال نیک کے ایسے شخص سے محبت ودوستی ومیل جول رکھاجائے توان آیات اور احادیث کاخلاف لازم آتاہے جس میں فاسق سے بچنے اور دور رہنے اور بغض رکھنے کاحکم ہے اور اگربسبب افعال بد کے ایسے شخص سے پرہیزکیاجائے توان احادیث اور آیات کاخلاف لازم آتاہے جس میں مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور اچھابرتاؤ کرنے کاحکم ہے توایسے شخص سے کیسابرتاؤ کیاجائے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب  : دو وجہ سے محبت وبغض جمع ہوسکتے ہیں بلکہ فاسق سے بغض حقیقۃً اس کے فعل کی طرف راجح ہے، نہ ذات کی طرف۔ ایسے شخص سے برتاؤ میں طریقہ سلف مختلف رہا اس کامبنٰی اختلاف احوال  ہے جس فاسق کو یہ جانے کہ نرمی وایتلاف سے رو براہ ہوجائے گا وہاں یہی چاہئے جسے یہ جانے کہ شدت واعراض سے متاثر ہوکرافعال قبیحہ چھوڑدے گا وہاں یہی چاہئے اور جس سے کسی طرح امید نہ ہو اس سے مطلقاً احترازچاہئے خصوصاً دوشخصوں کو، ایک وہ جو اس کی صحبت بد سے متاثرہونے کا اندیشہ رکھے  دوسرا وہ کہ عالم ومقتداء ہوکہ اسے اس سے میل جول کرتاہوا دیکھ کرقلوب عوام سے فسق کی شناخت کم ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۳ : مرسلہ دوست خان فیلبان ریاست سکیت ضلع کانگڑہ  پنجاب ۲۲ ربیع الآخر۱۳۳۵ ھ

ایک قوم پہاڑ میں چنڈیل کہلاتی ہے اس میں ان کے بڑے مسلمانوں سے ملتے جلتے تھے مگر اب یہ لوگ نہ ملتے ہیں نہ مردہ کی تجہیزوتکفین میں مسلمانوں کو بلاتے ہیں بلکہ مثل ہنود کے داڑھی مونچھ منڈواتے ہیں، نہ کسی مسلمان سے سلام علیک لیتے ہیں نہ کبھی نماز روزہ ہوتاہے۔ اب بعض مسلمان ان سے ملتے ہیں، جو ان سے ملتے ہیں ان کے واسطے کیاحکم ہے؟فقط
الجواب : یہ لوگ اگر اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں اور پھرکفر کرتے ہیں تومرتد ہیں اوران سے ملناجلنا مسلمان کو حرام ہے، جو مسلمان ان سے ملتے ہیں مستحق عذاب ہیں، اور اگر یہ لوگ سرے سے ہندو ہیں مسلمان ہوکرکافر نہ ہوئے تو ان سے کسی دنیاکے لین دین خریدوفروخت میں اُتنا ملناجائز ہے جتناہندو  سے، اور اگر اس سے زائد ملیں اور اپنادوست ولی بنائیں توپھرمستحق عذاب ہیں بلکہ سخت تر، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴  : بخدمت شمس العلماء رأس الفقہاء اعنی جناب مولانا مولوی حاجی ومفتی اعلٰحضرت مدظلہ العالی! حضورکی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض ہے کہ اگر کوئی قادیانی مسجد کے خرچ کے واسطے روپیہ وغیرہ دے یاکسی طالب علم یا اور شخص کومکان پربلاکرکھاناکھلائے یابھیج دے، ان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے  یانہیں؟ یاوہ روپیہ مسجد میں لگانا کیساہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب :  نہ وہ روپے لئے جائیں، نہ کھاناکھایاجائے، اور اس کے یہاں جاکر کھاناسخت حرام ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵ : ازموضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ شیخ امیرعلی رضوی  ۲۹ ربیع الآخر۱۳۳۶ ھ

ایک پترول آبپاشی نہرپر وہابی ہے اور ایک ڈاکیا خط تقسیم کرنے والا بھی شیعہ ہے، ان شخصوں سے بات چیت کرناپڑتی ہے کبھی روٹی کابھی اتفاق اپنے مطلوب کی غرض سے ہوتاہے اور ان کو اپنا دشمن ہی سمجھاجاتاہے میل جول کچھ نہیں کیاجاتا ہے جہاں تک ممکن ہوتاہے بچتے ہیں اور کام کے وقت بات کرناضرور ہوتی ہے۔
الجواب  :  اگریہ امرواقعی ہے کہ قلب میں ان سے نفرت وعداوت واقعی ہے اور کوئی میل جول نہیں رکھا جاتا نہر یا خط  کے متعلق کوئی بات کبھی کرلی جاتی ہے یاکبھی روٹی دے دی جاتی ہے جس میں کوئی مصلحت صحیح خیال کی گئی ہو توحرج نہیں اور اﷲ دلوں کانورجانتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶ : ازبلرامپور ضلع گونڈہ محلہ پورنیا تالاب متصل یتیم خانہ مرسلہ نذر محمدآتشباز ۱۷صفر۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شراب خوروں اور چانڈبازوں او رغیرمقلدوں کی طرفداری کرنا اور ان کاساتھ دینابرابر نشست وبرخاست رکھناکیساہے، کچھ گناہ ہے یانہیں؟
الجواب : غیرمقلدوں کاساتھ اوران کی طرفداری کرناگمراہی وبددینی ہے اور شراب خوروں او رچانڈوبازوں کی طرف داری اگر ان کے اس گناہ میں ہے توسخت عظیم کبیرہ ورنہ بیجا وبد۔
قال اﷲ تعالٰی وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اگرتمہیں شیطان بھلادے توپھریاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم۶ /۶۸)
مسئلہ ۱۰۷ : ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ

وہابی غیرمقلد کے گھرشادی بیاہ کرنا، اس کے ساتھ نمازپڑھنا، اس کے گھرکھاناکیساہے؟ بیّنوارتوجروا۔q
الجواب : وہابی یاغیرمقلد سے میل جول مطلقاً حرام ہے اور اس کے ساتھ شادی بیاہ خالص زنا، حدیث میں فرمایا :
لاتواکلوھم ولاتشاربوھم ولاتجالسوھم ولاتصلومعھم  ولاتصلوعلیھم۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ ان کے ساتھ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو نہ ان کے جنازہ کی نمازپڑھو، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ کنزالعمال  حدیث ۳۲۵۲۹    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۱ /۵۴۰)
مسئلہ ۱۰۸ : موتی بازار لاہور  حاکم علی بی اے     ۲۵/اکتوبر۱۹۲۰ء
 (نقل خط) آقائے نامدار مؤید ملت طاہرہ مولانا وبالفضل اولٰنا جناب شاہ احمدرضاخاں صاحب دام ظلکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔
پشت ہذا پر کا فتوٰی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجاکرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقرنیازمند کے نام بواپسی ڈاک اگر ممکن ہوسکے یاکم ازکم دوسرے روز بھیج دیں انجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروزاتواربتاریخ ۳۱ اکتوبر۱۹۲۰ء  منعقد ہوناہے اس میں یہ پیش کرنا ہے، دیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کےکاموں میں روڑا اٹکانے کی ٹھان لی ہے، ﷲ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداﷲ ماجورہوں، نیازمند دعاگو ہے۔ 

حاکم علی بی اے 		موتی بازار لاہور

۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء

اﷲ تعالٰی نے ہمیں کافروں اور یہودونصارٰی کے ساتھ تولی سے منع فرمایاہے مگرابوالکلام زبردست تولی کے معنی معاملت اور ترک موالات کو ترک معاملت ''نان کو آپریشن'' قراردیتے ہیں اور یہ صریح زبردستی ہے جو اﷲ تعالٰی کے کلام پا ک کے ساتھ کی جارہی ہے۔ مذکور نے ۲۰اکتوبر ۱۹۲۰ء کی جنرل کونسل کی کمیٹی میں تشریف لاکر اطلاق یہ کردیاکہ جب تک اسلامیہ کالج لاہور کی سرکاری امدادبند نہ کی جائے اور یونیورسٹی سے اس کا قطع الحاق نہ کیاجائے تب تک انگریزوں سے ترک موالات نہیں ہوسکتی اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں کو فتوٰی دے دیا کہ اگرایسا نہ ہوتو کالج چھوڑدو، لہٰذا اس طرح سے کالج میں بے چینی پھیلادی کہ پھر پڑھائی کاسخت نقصان ہونا شروع ہوگیا، علامہ مذکور کایہ فتوٰی غلط ہے یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رہنے سے اور امداد لینے سے معاملت قائم رہتی ہے نہ کہ موالات جن کے معنی محبت کے ہیں نہ کہ کام کے جو کہ معاملت کے معنی ہں مذکور کی اس زبردستی سے اسلامیہ کالج تباہ ہو رہے ہیں مذکور مولوی محمودحسن صاحب مولوی عبدالحی صاحب تودیوبند خیالات کے ہیں زبردستی فتوٰی اپنے مدعا کے مطابق دیتے ہیں، لہٰذا میں فتوٰی دیتاہوں کہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق اور امدادلینا جائزہے میرے فتوٰی کی تصحیح ان اصحاب سے کرائیں جودیوبندی نہیں مثلاً مؤیدملت طاہر حضرت مولٰنا مولوی شاہ احمدرضاخاں صاحب قادری بریلوی علاقہ روہیل کھنڈ، اور مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ممالک مغربی وشمالی۔
Flag Counter