Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
64 - 160
مسئلہ ۹۹ : ازجادوپور تھانہ بھوجی پورہ تحصیل وضلع بریلی     مسئولہ شمشاد علی صاحب  ۱۲رجب ۱۳۲۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ جس میں ہمیشہ سے گاؤ کشی ہوتی آئی اس سال اس کے ہنود نے مسلمانوں سے نزاع کیا اس گاؤں میں بازار ہوتاتھا وہ لوگوں کوورغلاکردوسرے گاؤ ں اٹھوادیا کہ ان لوگوں کانفع جاتارہے، ہندوتو ہندوؤں کے کہنے سے چلے ہی گئے بعض مسلمان بھی انہیں کے شریک ہوئے ان سے کہا بھی گیا کہ جس طرح ہنود نے اپنا بازار الگ کرلیاہے تم بھی الگ بازار مسلمانوں کاکرو اور اس میں شریک ہو اور ہندوؤں کی شرکت نہ کرو مگر وہ نہیں مانتے، ا س صورت میں ایسے لوگوں کے لئے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : افسوس ہے ان مسلمانوں پر جومسلمانوں کی مخالفت میں ہندوؤں کاساتھ دیں اور ان کی جماعت بڑھائیں ان کانفع چاہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں خصوصاً وہ بی ایسی بات میں جس کی بنامذہبی کام پرہوان کوتوبہ کرناچاہئے ورنہ اندیشہ کریں کہ اسی حالت میں موت آگئی توحشربھی ہندوؤں ہی کے ساتھ ہوگا۔
حدیث میں ہے  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ۱؎ وفی لفظ لاتساکنوا المشرکین ولاتجامعوھم فمن ساکنھم اوجامعھم فھو مثلھم  ۱؎  رواہ بالاول ابوداؤد عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن وبالاٰخرالترمذی عنہ تعلیقا۔
جوکوئی کسی شرک کرنے والے کے ساتھ جمع ہو اور اس کے ساتھ رہناسہنا اختیار کرے تو وہ مسلمان بھی اسی کی طرح ہے۔ اور بعض روایات میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: شرک کرنے والوں کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ اجتماع رکھو  پھر جو کوئی ان کے ساتھ سکونت اختیارکرے یا ان کے ساتھ جمع ہو تو وہ ان ہی کی طرح ہے۔ پہلی حدیث کو امام ابوداؤد نے سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالٰی عنہ کے حوالے سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے جبکہ دوسری حدیث کو امام ترمذی نے اسی مذکور صحابی سے بطور تعلیق روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الجہاد     باب فی الاقامۃ ارض الشرک     آفتا ب عالم پریس لاہور  ۲ /۲۹)

(۱؎ جامع الترمذی    ابواب السیر     باب ماجاء فی کراھیۃ المقام الخ     امین کمپنی دہلی     ۱ /۱۹۴)
دوسری حدیث ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من کثر سواد قوم فھو منھم۲؎۔
جوکسی گروہ کی جماعت بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
 (۲؎ الفردوس بماثور الخطاب     حدیث ۵۶۲۱            دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۵۱۹)

(کنزالعمال     حدیث ۲۴۷۳۵     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۲۲)
تیسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  :
من اعان علی خصومۃ بغیر حق لم یزل فی سخط اﷲ حتی ینزع ۔ رواہ ابن ماجۃ۳؎ والحاکم عن عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنھمابسندحسن۔
جو کسی جھگڑے میں ناحق والوں کومدد دے ہمیشہ خدا کے غضب میں رہے جب تک اس سے باز آئے (ابن ماجہ اور حاکم نے عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے بسندحسن اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۳؎ سنن ابن ماجہ   کتاب الاحکام   باب من ادعی مالیس لہ الخ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۹)

(المستدرک للحاکم     کتاب الاحکام    دارالفکر بیروت     ۴ /۹۹)
چوتھی حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من مات علی شیئ بعثہ اﷲ علیہ۔ رواہ احمد۴؎ والحاکم عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲتعالٰی عنھما بسند حسن واﷲ تعالٰی اعلم ۔
جو جس حال میں مرے گا اﷲ تعالٰی اسی حال پر اسے اٹھائے گا(امام احمدوحاکم نے جابر بن عبداﷲ  رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے بسند حسن اس کو روایت کیاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴؎ مسندامام احمد بن حنبل     عن جابر رضی اﷲ عنہ     دارالکتب الاسلامی بیروت     ۳ /۳۱۴)

(المستدرک للحاکم     کتاب الرقاق     دارالفکر بیروت    ۴ /۳۱۳)
مسئلہ ۱۰۰ :  ازموضع سرنیاں مسئولہ امیرعلی صاحب ۱۱جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدچندبار اہل ہنود کی برات میں شریک ہوا ہے اور اہرایک غمی شادی میں شریک ہوتاہے اب زید کے یہاں شادی ہے بہت ہنود شامل برات ہوں گے اور زید کے یہاں عورات ڈھول بجائیں گی اور ناچ بھی برات میں ہوگا توزیدکے لئے کیاحکم ہے اورسائل کو کھانے میں شریک ہوناچاہئے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔

دیگرعمردریافت کرتاہے اہل ہنود مزدوری میں لیا  اس کو مزدوری خوراک دینا جو کہ رسم مزدوری کی ہے۔

دیگرعمردریافت کرتاہے کہ میرے کھیت کے پاس ہنود کاکھیت ہے اور اکثر ایسابھی ہے ایک کھیت کے درمیان ایک کھیت ہے اور کام کاشتکاری میں بضرورت کسی کام کے کچھ کہنا پڑتاہے اور بغیرضرورت کے نہیں۔

دیگرکسی ہنود سے کوئی میل کھانے سے نکلتاہوتو انسیت پیداکرے یانہیں؟ فقط۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب : اس صورت میں ظاہر ہے کہ زید فاسق فاجر ہے، سائل اگر اس پرایسا دباؤرکھتاہے کہ اسے روک سے گا توضرور شریک ہوکر روکے، اور اگر اسے اتناعزیز ہےکہ اس کاشریک نہ ہونا اسے گوارا نہ ہوگا اوراس کی شرکت کی غرض سے وہ ناجائزباتیں اُٹھادے گا توسائل پرلازم ہے کہ شرکت سے صاف انکارکردے جب تک وہ ان ناپاکیوں سے بازنہ رہے، اور اگریہ دونوں باتیں نہیں توسائل اگرقوم کاپیشوا ہے توہرگزہرگز شریک نہ ہو، اور اگرعوام میں سے ہے اور وہ حرام جلسہ جلسہ طعام کے مکان میں کھانے والوں کے سامنے ہوگا جب بھی ہرگز نہ جائے، اور اگرحرام جلسہ الگ ہے اور کھانے کامکان الگ تواختیارہے اور بہتریہی ہے کہ کوئی مسلمان شریک نہ ہو۔ ہندو کومزدوری میں لینا اور مزدوری کی خوراک دیناجائزہے۔ ضرورت کے سبب کوئی بات ہندو سے کرلینے میں حرج نہیں جبکہ وہ بات خود ایک جائزامرہو۔ دلی انس کسی کافر سے کرناحرام ہے، اور ظاہر میل جس میں نہ کافر کی تعظیم ہو نہ مسلمان کی ذلت نہ کوئی طریقہ ناجائز برتاجائے کسی جائزکام کے سبب ہندو سے کرلینے میں حرج نہیں، بلاضرورت اس سے بھی بچے کہ آپس میں راہ ورسم بڑھ کراکثر ناجائزباتوں تک پہنچاکرتے ہیں،
ومن ارتع حول الحمٰی اوشک ان یقع فیہ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو شخص کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چرائے تو ہوسکتاہے کہ اس کے اندر گھسے اورچلاجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب البیوع    باب الحلال بین والحرام بین     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۷۵)

(صحیح مسلم         کتاب المساقات     باب اخذ الحلال وترک الشبہات  قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۸)
مسئلہ ۱۰۱ :  ازلکھنو احاطہ محمدخاں متصل دکان ظہوربخش مسئولہ حضرت مولانا سیدمحمد میاں صاحب دامت برکاتہم بروزشنبہ ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ ھ

کافرمرتد مبتدع بدمذہب کوفاسق معلن یا اس کو جس کا ان جیسا ہونا قائل کے نزدیک مترود ہوکوئی رشتہ مثل باپ دادا نانا بھائی بیٹا وغیرہ خود اپنا کہنا یا کسی اور مسلم کاکہناحالانکہ ان کو کافر مرتد وغیرہ جیسے ہیں ویسے ہی مانع یہ کیسا ہے یا ایسے لوگوں کو ابتداءً سلام کہنا  یا ان سے بخندہ پیشانی پیش آنا ہنسنا بولنا ایسی دوستی رکھنا جیسے دنیادار ہنسنے بولنے کھیلنے کی رکھتے ہیں اور اسی سلسلہ میں انہیں تحائف روانہ کرنا یا ان کی ایسی تعظیم کرنا کہ وہ آئیں توکھڑے ہوگئے تحریراً یاتقریراً انہیں عنایت فرمایاکرم فرمایا مشفق مہربان یاجناب صاحب لکھنا یا اسی طرح کے اور برتاؤ ان سے برتنا جیسے آج کل شائع ہیں کثرت سے خصوصاً ایسوں میں کے دنیاوی با اثر لوگوں سے، خلاصہ کلام یہ کہ ایسے لوگوں سے ایسابرتاؤ جس سے وہ خوش ہوں یا اس میں اپنی تعظیم جانیں اگرچہ فاعل کی نیت اس خوش یاتعظیم کی ہو یانہ ہو جبکہ مذہبی نقطہ نظر سے انہیں ان کے لائق قبیح ہی سمجھیں جائز ہیں یا ناجائز؟ ناجائز تو کس درجہ کی؟ غرض کہاں تک اس حد تک نہیں پہنچتیں کہ فاعل پربھی خود ان کی طرح حکم کفریابدعت وغیرہ عائد ہو، اور اگریہ باتیں کسی دینی یادنیاوی غرض کے لئے کریں توکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : ان لوگوں کو بے ضرورت ومجبوری ابتدا بسلام حرام اور بلاوجہ شرعی ان سے مخالطت اور ظاہری ملاطفت بھی حرام، قرآن عظیم میں قعودمعہم سے نہی صریح موجود، اور حدیث میں ان سے بخندہ پیشانی ملنے پرقلب سے نورایمان نکل جانے کی وعید، افعال تعظیمی مثل قیام تو اور سخت تر ہیں تویوہیں کلمات مدح،
حدیث میں ہے :
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ عرش الرحمٰن۱؎۔
جب کسی فاسق (مرتکب گناہ کبیرہ) کی تعریف کی جائے تو  اﷲ تعالٰی غضبناک  ہوجاتاہے  اور اس کی اس حرکت سے عرش رحمان لرز جاتاہے (ت)
 (۱؎شعب الایمان     حدیث ۴۸۸۶    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۲۳۰)
دوسری حدیث میں ہے ان میں فاسق کاحکم آسان ہے مطلقا حرج نہیں اور مصالح دینیہ پرنظر کی جائے گی اور مرتد مبتدع داعیہ سے بالکل ممانعت اور ضروریات شرعیہ ہرجگہ مستثنٰی فان الضرورات تبیح المحظورات(اس لئے کہ ضرورتیں ممنوع کاموں کومباح کردیتی ہیں۔ت) رشتہ بتانے میں مطلقاً حرج نہیں جیسے عمربن الخطاب وعلی بن ابی طالب مع ان الخطاب واباطالب لم یسلما(حضرت عمرخطاب کے بیٹے اور حضرت علی ابوطالب کے فرزند حالانکہ خطاب اور ابوطالب دونوں مسلمان نہ تھے۔ت) ان کے ساتھ جوبرتاؤ قولاً فعلاً ممنوع ہے بے ضرورت ان کامرتکب عاصی ہے ان کامثل نہیں جب تک ان کے کفروبدعت وفسق کو اچھایاجائزنہ جانے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter