صحبت صالح تراصالح کند صحبت طالح تراطالح کند۲؎
دورشواز اختلاط یارِبد یارِبد بدتر ازمارِ بد۳؎
مارِ بد تنہا ہمیں برجاں زند یارِ بد برجان وبر ایماں زند۴؎
(اچھے آدمی کی مجلس تجھے اچھاکردے گی، اور بُرے کی مجلس تجھےبرا بنادے گی
جب تک ہوسکے برے ساتھی سے دور رہ کیونکہ براساتھی برے سانپ سے بھی براہے
کیونکہ براسانپ صرف جان کوڈستاہے جبکہ براساتھی جان وایمان دونوں پرضرب لگاتاہے۔ت)
(اور اﷲ تعالٰی کی پناہ، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیرحاصل نہیں ہوتی۔ت)
بالجملہ بلاضرورت شرعیہ اس امرکامرتکب نہ ہوگا مگردین میں مداہن یاعقل سے مبائن، سبحان اﷲ کتنے شرم کی بات ہے کہ آدمی کے ماں باپ کواگرکوئی گالی دے اس کی صورت دیکھنےکو روادار نہ رہے اورخدا ورسول کوبراکہنے والوں کوایسایارِغار بنائے انّا ﷲ وانا الیہ راجعون(بیشک ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین۔ رواہ احمدوالبخاری ۱؎ ومسلم ونسائی وابن ماجۃ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور ماں باپ اورتمام آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔ (امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷)
دلائل کثیرہیں اور گوش شنواکو اسی قدرکافی، پھرجونہ مانے سنگدل ہے اور کافر آگ، آگ کاساتھ جوپتھردے گا وہ خود اتناگرم ہوجائے گا کہ آدمی کو اس سے بچناچاہئے، پس اگراہل اسلام ان لوگوں سے احترازکریں کچھ بے جانہ کریں گے۔
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
(اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس شرف وبزرگی والے کاعلم زیادہ تام اور زیادہ پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۹۵ : ازگلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سیدمحمد یوسف علی شعبان ۱۳۱۲ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم سلامت بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ شیعہ کے ساتھ برتاؤ کرناجائزہے یانہیں؟
۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : رافضی وغیرہ بدمذہبوں میں جس کی بدعت حدکفر تک پہنچی ہو وہ تومرتد ہے اس کے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافرذمی کے مانند بھی برتاؤ جائزنہیں، مسلمانوں پرلازم ہے کہ اُٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہا تمام معاملات میں اسے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں اور جس کی بدعت اس حد تک نہ ہو اس سے بھی دوستی محبت تو مطلقاً نہ کریں۔
قال اﷲ تعالٰی ومن یتولھم منکم فانہ منھم ۱؎۔
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا تو وہ یقینا انہی میں سے ہوگا(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵ /۵۱ )
اور بے ضرورت ومجبوری محض کے خالی میل جول بھی نہ رکھیں کہ بدمذہب کی محبت آگ ہے اور صحبت ناگ اور دونوں سے پوری لاگ۔
رب عزوجل فرماتاہے :
وانما ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمین۲؎۔
اگرتجھے شیطان بھلاڈالے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
جاہل کو ان کی صحبت سے یوں ا جتناب ضرورہے کہ اس پراثربد کاذیادہ اندیشہ ہے اور عام مقتدا، یوں بچے کہ جہال اسے دیکھ کو خود بھی اس بلا میں نہ پڑیں بلکہ عجب نہیں کہ اسے ان سے ملتادیکھ کر ان کے مذہب کی شناعت ان کی نظروں میں ہلکی ہوجائے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشر الابقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین یدی الناس ولوکان رجل لایعرف یداریہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیراثم فلاباس بہ کذا فی الملتقط۳؎۔
مشہور پیشواکے لئے ایسے شخص سے میل جول رکھنا جواہل باطل اور اہل شر میں سے ہو مکروہ ہے مگر ضرورت کی حد تک جائزہے (یہ ممانعت اس لئے ہے کہ) کہ لوگوں میں اس کاچرچا ہوجائے گا(جس کے بُرے اثرات مرتب ہوں گے) اور اگر غیرمعروف شخص ان میں محض اپنے دفاع اور ظلم سے بچاؤ کے لئے گھومے پھرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ الملتقط میں یونہی مذکورہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶)
ابن حبان عقیلی انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابا واصھارا وسیأتی قوم لیسبونھم وینتقصونھم فلاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم۱؎۔
بیشک اﷲ عزوجل نے مجھے چن لیا اور میرے لئے یار اور خسرال کے رشتہ دار پسندفرمائے اور عنقریب کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں براکہیں گے اور ان کی شان گھٹائیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ پانی پینانہ کھاناکھانا نہ شادی بیاہت کرنا(ت) ۔ یہ حدیث نص صریح ہے، اﷲ تعالٰی مسلمانوں کو توفیق عمل بخشے۔ آمین! واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶ : ازموضع نگریا کلاں ضلع بریلی مرسلہ وزیرخاں دوم صفر ۱۳۲۱ھ
زید نے بیان کیاکہ میں سیدہوں اور سنت جماعت ہوں اور عید کی نمازبھی زیدنے پڑھائی بعد کومعلوم ہوا کہ زید رافضی ہے اور نمازہاتھ چھوڑ کرپڑھتاہے اور وضوبھی رافضیوں کاکرتاہے ایسی حالت میں سنت جماعت کے واسطے زید کی امامت جائزہے یانہیں؟ اور کھانا کھانازید کے یہاں کا سنت جماعت کوجائزہے یانہیں؟ لڑکوں کے واسطے تعلیم زید کی جائزہے یانہیں؟ زید بیان کرتاہے کہ میں قرآن شریف گیارہ میں پڑھاسکتاہوں فاتحہ گیارہویں شریف کی زید سے دلاناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : رافضی کے پیچھے نمازمحض باطل ہے، ہوتی ہی نہیں، فرض سرپر ویساہی رہے گا اور گناہ علاوہ،رافضی کی امامت ایسی ہی ہے جیسی کسی ہندویایہودی کی امامت۔ آج کل کے رافضی عموماً مرتد ہیں ان کے یہاں کاکھانا یاان کے ساتھ کھانایا ان سے کسی قسم کامیل جول رکھنا گناہ ہے سب عذاب کے مستحق ہوں گے اور بچوں اس سے پڑھوانا سخت حرام اورنری گمراہی ہے۔ مسلمانوں پرفرض ہے کہ رافضی کوجداکردیں رافضی سے گیارہویں شریف کی فاتحہ دلاناسخت حماقت ہے اور ایک یہی کیاکسی قسم کی فاتحہ رافضی سے ہرگزنہ دلائی جائے کہ فاتحہ ثواب پہنچانے کے لئے ہے اور رافضی کے پڑھنے سے ثواب نہیں پہنچتا کیونکہ روافض انکارضروریات دین کے باعث مرتد ہیں، پھریہ بھی اس وقت ہے کہ فاتحہ میں رافضی کچھ قرآن پڑھے مگرسنیوں کے لئے فاتحہ میں رافضی سے بھی امیدنہیں خداجانے کیاکچھ ناپاک کلمے بکے گا ان کاثواب پہنچے گا یا اورعذاب ہوگا۔ اﷲ تعالٰی سنیوں کی آنکھیں کھولے اور انہیں توفیق دے کہ گمراہوں سے دور رہیں،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صاف حکم فرمایا ہے کہ
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۱؎
بدمذہبوں سے دوررہو اور ان کو اپنے سے دورکروکہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں،
وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین۲؎۔
اورتجھے شیطان بھلادے تویادآنے پرپاس نہ بیٹھ ظالم لوگوں کے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۷ /۶۷)
اوربدمذہب لوگ خصوصاً رافضیوں کے یہاں تقیہ بہت ہے یہ بہت اپنے مذہب کوچھپاتے ہیں ان کی بات پرہرگزاعتبار نہ کرناچاہئے جہاں نفع نقصان کچھ نہ ہو وہاں سنی بن جانا ان کاادنٰی شعبدہ ہے توجہاں دوپیسے کانفع ہووہاں سنی بنتے ہوئے انہیں کیالگتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷ : ازقصبہ ٹسوا موضع فریدپور مرسلہ مہدی حسن صاحب
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں اہل سنت وجماعت کو سادات اہل تشیعہ کے یہاں کی علاوہ نیازآٹھویں تاریخ حضرت عباس علمدار کے نیازحسین کی مثلاً شربت وملیدہ و روٹی ولنگروتبرک مجلس کااہلسنت وجماعت صاحبان کرلیناجائزہے یانہیں؟
الجواب: حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس قوم کی نسبت فرماتے ہیں :
لاتجالسوھم ولاتوأکلوھم ولاتشاربوھم۳؎۔
ان کے پاس نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ کھانانہ کھاؤ اور ان کے ساتھ پانی نہ پیو۔
لہٰذا ان کی مجالس میں جانا مطلقاً حرام کہ وہ قرآن مجید کی توہین کرتے ہیں اور اسے ناقص جانتے ہیں اور اُن کے یہاں سے شربت، ملیدہ، لنگر کوئی چیز نہ لی جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۸ : ازقصبہ ٹسوا موضع فریدپور مرسلہ مہدی حسن صاحب
کیاارشاد فرماتے ہیں علمائے دین اہل سنت وجماعت اس شخص کی نسبت کہ جو شخص سادات اہل تشیعہ کے یہاں کی نیازحسین علیہ السلام کے لینے سے لوگوں کومنع کرے اور کہے یہ نیازحرام ہے۔
بیّنواتوجروا۔
الجواب: مندرجہ بالا سوال کے جواب سے معلوم ہوگیا کہ منع کرنے والا ٹھیک منع کرتاہے اور اس کامنع کرنابیجانہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم