نہم حدیث میں ہے سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابہ واصہار اوسیاتی قوم لیسبّونھم وینتقصونھم فلاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم۔ رواہ ابن حبان والعقیلی۱؎ واللفظ لہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے مجھے پسندفرمایا اور میرے لئے اصحاب واصہار پسند کئے، اور قریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں براکہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی، تم اُن کے پاس مت بیٹھنا، نہ ان کے ساتھ پانی پینا، نہ کھاناکھانا، نہ شادی بیاہت کرنا(ابن حبان اور عُقَیلی نے اسے روایت کیاہے، اور عقیلی کے الفاظ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے یہی ہیں۔ت)
جب اہل بیت او رصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے بُرا کہنے والوں کے لئے یہ حکم ہیں تو اہل کفر اورعیاذاً باﷲخدا ورسول کی جناب میں صریح گستاخیاں کرنے والوں کی نسبت کس قدر سخت حکم چاہئے۔
دہم حدیث میں ہے سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
تقربوا الی اﷲ ببغض اھل المعاصی و القوھم بوجوہ مکفھرۃ التمسوا رضا اﷲ بسخطھم وتقربوا الی اﷲ بالتباعد عنھم۔ رواہ ابن شاھین فی الافراد۲؎ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲتعالٰی کی طرف تقرب کرو اہل معاصی کے بغض سے اور اُن سے ترش روئی کے ساتھ ملو او ر اﷲ تعالٰی کی رضامندی اُن کی خفگی میں ڈھونڈو او ر اﷲ کی نزدیکی اُن کی دوری سے چاہو۔(ابن شاہین نے کتاب الافراد میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ت)
(۲؎کنزالعمال بحولہ ابن شاہین حدیث ۵۵۱۱ و ۵۵۸۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ /۶۷،۸۱)
کافروں سے بڑھ کر اہل معاصی کون ہے جو سراپا معصیت ہیں اور ان کے پاس حسنہ کا نام ہونامحال۔
یازدہم تجربہ شاہد کہ ساتھ کھانا مورث محبت و وداد ہوتاہے او رکفار کی موالات سم قاتل ہے،
قال اﷲ تعالٰی :
ومن یتولھم منکم فانہ منھم۳؎۔
جو تم میں اُن سے دوستی رکھے گا انہیں میں سے شمار کیاجائے گا۔
(۳؎ القرآن الکریم ۵ /۵۱)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
المرء مع من احب۔ رواہ احمد والبخاری۴؎۔ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی عن انس والشیخان عن ابن مسعود ، احمد و مسلم عن جابر والترمذی عن صفوان بن عسال وابوداؤد نحوہ عن ابی ذر وفی الباب عن علی وابی ھریرۃ و ابی موسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہے، یعنی حشرمیں۔ (احمد، بخاری، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔ نیز بخاری اور مسلم نے عبداﷲ ابن مسعود سے، مسنداحمد اور مسلم نے حضرت جابر سے، اور ترمذی نے حضرت صفوان بن عسال کے حوالے سے روایت کیاہے۔ ابوداؤداور اس جیسے دوسرے محدثین نے حضرت ابوذر سے روایت کی، اور اس باب میں جناب علی، ابوہریرہ اور ابوموسٰی اشعری سے روایت ہے، اﷲ تعالٰی سب سے راضی ہو۔ت)
(۴؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب علامۃ الحب فی اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۱)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
ثلث احلف علیھن وعد منھا لایحب رجل قوما الاجعلہ اﷲ معھم۔ رواہ احمد والنسائی ۱؎ والحاکم والبیھقی عن ام المومنین الصدیقۃ والطبرانی فی الکبیر وابویعلٰی عن ابن مسعود وایضا فی الکبیر عن ابی امامۃ وفی الاوسط والصغیر عن امیرالمومنین علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم باسانیدجیاد۔
میں قسم کھاکرفرماتاہوں کہ جوشخص کسی قوم سے دوستی کرے گا اﷲ تعالٰی اسے انہیں کاساتھی بنائے گا(مسنداحمد، نسائی حاکم اور امام بیہقی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے اور امام طبرانی نے کبیرمیں، اور ابویعلٰی نے عبداﷲ ابن مسعود سے، نیزکبیر میں حضرت ابوامامہ او راوسط اورصغیر میں امیرالمومنین حضرت علی کرم وجہہ سے جیدسندوں کے ساتھ اس کوروایت کیاہے۔ اﷲ تعالٰی سب سے راضی ہو۔ت)
(۱؎ مسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۱۴۵)
ابوقرصافہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دوازدہم بیشک یہ حرکت مسلمانوں کے لئے موجب نفرت ہوگی اور بلاوجہ شرعی مسلمانوں کومتنفر کرناجائزنہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بشّروا ولاتنفّروا۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری۱؎ ومسلم والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
دل خوش کرنے والی بات کہو او رنفرت نہ دلاؤ (ائمہ مثلاً امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت انس کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔ اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶)
سیزدہم اقل درجہ اتنا تو ہے کہ یہ بات سننے والوں کے کانوں کوخوش نہ آئے گی اور ایسے فعل سے شرع میں ممانعت ہے، حدیث میں آیا سیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ایاک ومایسوء الاذن۔ رواہ احمد۲؎ عن ابی الغادیۃ والطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات والعسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ والخطیب فی المؤتلف عن ام الغادیۃ وابونعیم فی المعرفۃ عن حبیب بن الحارث رضی اﷲ تعالٰی عنھم وعبداﷲ بن احمد فی الزوئد عن العاص بن عمر و الغفاری مرسلا۔
بچ اس بات سے جو کان کو بری لگے(امام احمد نے ابوالغادیہ سے اور طبرانی نے الکبیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اور العسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے المعرفۃ میں اور خطیب نے المؤتلف میں ام الغادیہ سے، ابونیم نے المعرفۃ میں حبیب بن حارث سے (اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) عبداﷲ بن احمد نے زوائد میں عاص بن عمروغفاری سے بغیر کسی سند کے روایت کیاہے (العکرۃ، اس لفظ کی صحیح سمجھ میں آئی)۔(ت)
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل ترجمہ ابوالغاویۃ دارالفکربیروت ۴/ ۷۶)
چہاردہم مسلمانوں کے آگے معذرت کی طرف محتاج کرے گی اور عاقل کاکام نہیں کہ ایسی بات کامرتکب ہو، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاک وکل امریعتذرمنہ۔ رواہ ایضاً الدیلمی۳؎ بسند حسن عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قلت فی الباب عن سعد بن ابی وقاص وعن ابی ایوب وعن جابر بن عبداﷲ وعن ابن عمروعن سعد بن عمارۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم کما فصلناہ فی کمال الاکمال۔
اس بات سے بچ جس میں عذر کرنے کی حاجت پڑے۔ (دیلمی نے سندحسن کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ میں کہتاہوں اس باب میں سعدبن ابی وقاص، ابوایوب، جابر بن عبداﷲ، عبداﷲ بن عمراور سعد بن عمارہ (اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) سے روایات موجود ہیں جیسا کہ ہم نے کمال الاکمال میں اس کو مفصل بیان کیاہے۔ت)
(۳؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۷۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۳۱)
(اتحاف السادۃ المتقین الفصل الثانی فی ٭مراتب الناس دارالفکربیروت ۱۰/۲۵۱)
پانزدہم صحبت قطعاً مؤثر ہے اور طبیعتیں سراقہ اور قلوب متقلب، والعیاذباﷲ رب العالمین۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انما سمی القلب من تقلبہ انما مثل القلب مثل ریشۃ بالفلاۃ تعلقت فی اصل شجرۃ تقلبھا الریاح ظھر البطن، رواہ الطبرانی ۱؎ فی الکبیر بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھو عندابن ماجۃ بسند جیّد مختصراً۔
دل کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کرتاہے، دل کی کہاوت ایسی ہے جیسے جنگل میں کسی پیڑ کی جڑ سے ایک پَرلپٹاہے کہ ہوائیں اسے پلٹی دے رہی ہیں کبھی سیدھا کبھی اُلٹا (امام طبرانی نے الکبیر میں سند حسن کے ساتھ اس کو حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے اور ابن ماجہ میں عمدہ سند کے ساتھ مختصراً موجود ہے۔ت)