مسئلہ ۹۴ : ازریاست بھوپال ۱۳۰۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بھوپال میں کچھ فرانسیسی کفار رہتے ہیں، بعض اہل اسلام بے تکلف ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں یہ فعل شرعاً کیساہے اور یہ مسلمان اگر منع کئے سے نہ مانیں اور باقی مسلمان اس وجہ سے ان کے ساتھ کھانے سے احتراز کریں توبجاہے یابے جا؟بیّنواتوجروا(بیان کروتاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب : بیشک کفار سے ایسی مخالطت اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ ہونے سے بہت ضرور احتراز کرناچاہئے خصوصاً جہاں اسلام ضعیف ہوشرع مطہر سے بہت دلائل اس پرقائم جن کے بعض کہ اس وقت کی نظرمیں ذہن فقیر میں مستحضرہوئے مذکورہوتے ہیں :
اوّل قال اﷲ عزوجل :
وامّا ینسینّک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظّٰلمینo۱؎۔
اور اگرشیطان تجھے بھلادے تویاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
اور کافر سے بڑھ کر ظالم کون ہے۔
قال اﷲ جل جلالہ :
فمن اظلم ممن کذب علی اﷲ وکذب بالصدق اذ جاءہ الیس فی جھنم مثوی للکٰفرین o۱؎۔
اس سے بڑھ کر ظالم جس نے خداپرجھوٹ باندھا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا کیانہیں ہے دوزخ میں کافروں کاٹھکانا۔ جب کافر حددرجہ کاظالم ہو اورظالم کے پاس بیٹھنے سے منع فرمایا تو شیروشکر وہمکاسہ ہونا تو اور بدترہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳۹ /۳۲)
دوم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من جامع المشرک وسکن معہ فانہ مثلہ۔ رواہ ابوداؤد۲؎ عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد حسن وعلقہ عنہ الترمذی۔
جومشرک سے یکجاہو اور اس کے ساتھ رہے وہ اسی مشرک کی مانند ہے۔(امام ابوداؤد نے سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے سندحسن کے ساتھ اسے روایت کیا۔ لیکن امام ترمذی نے ابوداؤد کے حوالے سے اسے معلق ذکرکیا۔ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ بارض الشرک آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹)
سوم فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
انا برئ من کل مسلم مع مشرک لاترٰی نارا ھما، اوردہ فی النھایۃ قلت والحدیث نحوہ عندابی داؤد۳؎ والترمذی بسند رجالہ ثقات۔
میں بیزارہوں اس مسلمان سے جومشرکوں کے ساتھ ہو مسلمان اورکافر کی آگ آمنے سامنے نہ ہوناچاہئے یعنی دوری لازم ہے (علامہ ابن اثیر نہایہ میں اسے لائے ہیں، میں کہتاہوں اسی جیسی حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ایسی سند سے مذکورہےکہ جس کے تمام راوی مستندہیں۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب النہی عن قتل من اعتصم بالسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۵۶)
چہارم فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
لاتصاحب الامؤمنا ولایاکل طعامک الا تقی۔ رواہ احمدوابوداؤد ۱؎ والترمذی وابن حبان والحاکم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسانید صحاح۔
صحبت نہ رکھ مگرایمان والوں سے اور تیرا کھانانہ کھائیں مگرپرہیزگار (امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے صحیح سندوں کے ساتھ اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل عن ابی سعیدخدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳ /۳۸)
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۸)
(جامع الترمذی ابواب الزھد امین کمپنی دہلی ۲ /۶۲)
پنجم فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم :
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسک ونافخ الکیر فحامل المسک اما ان یحذیک واما ان تبتاع منہ واما ان تجد منہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اما ان یحرق ثیابک اما ان تجد منہ ریحا خبیثۃ۔ رواہ الشیخان۲؎ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
نیک ہم نشین اور بدجلیس کی مثال یوں ہے جیسے ایک کے پاس مشک ہے اور دوسرا دھونکنی دھونک رہاہے مشک والا یا تو تجھے مشک ویسے ہی دے گا یاتو اس سے مول لے گا، اور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتو اس سے بدبوپائے گا۔(بخاری ومسلم نے ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الذبائح باب المسک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۰)
(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب استحباب مجالسۃ الصالحین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۰)
انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیر ان لم یصبک من سوادہ اصابک من دخانہ۔ رواہ ابوداؤد۳؎ والنسائی۔ یعنی بدوں کی صحبت ایسی ہے جیسے لوہار کی بھٹی کہ کپڑے کالے نہ ہوئے تو دھواں جب بھی پہنچے گا(ابوداؤد اورنسائی نے اسے روایت کیا۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۸)
حاصل یہ ہے کہ اشرار کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان اُٹھاتاہے۔
ششم حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ایاک وقرین السوء فانک بہ تعرف۔ رواہ ابن عساکر۱؎ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بُرے مصاحب سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچاناجائے گا (ابن عساکر نے حضرت انس بن مالک کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت) یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں۔
(۱؎تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ العنزی الجرجانی الفقیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۲)
ہفتم فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
اعتبروا الصاحب بالصاحب۔ رواہ ابن عدی۲؎ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ آدمی کو اس کے ہمنشین پرقیاس کرو(ابن عدی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود کی سند سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ عد عن ابن مسعود حدیث ۳۰۷۳۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۸۹)
ہشتم حدیث میں ہے سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
منکران تقدیر کے پاس نہ بیٹھو، نہ انہیں اپنے پاس بٹھاؤ نہ ان سے سلام کلام کی ابتدا کرو(امام احمد، ابوداؤد اور حاکم نے اسے روایت کیاہے۔ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی ذراری المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۳)
(سنن امام احمد بن حنبل ترجمہ عمربن خطاب رضی اﷲ عنہ دارالفکربیروت ۱ /۳۰)