تنبیہ نبیہ : جس طرح طاعون سے بھاگنا حرام ہے اور اس کے لئے وہاں جانا بھی ناجائز وگناہ ہے، احادیث صریحہ میں دونوں سے ممانعت فرمائی، پہلے میں تقدیرالٰہی سے بھاگنا ہے تودوسرے میں بلائے الٰہی سے مقابلہ کرنا ہے اور اس کے لئے اظہارتوکل کاعذر محض سفاہت۔ توکل معارضہ اسباب کانام نہیں۔
امام اجل ابن دقیق العید رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں :
الاقدام علیہ تعرض للبلاء ولعلہ لایصبر علیہ وربما کان فیہ ضرب من الدعوی لمقام الصبر او التوکل فمنع ذٰلک لاغترار النفس ودعوٰھا مالاتثبت علیہ عند التحقیق ۱؎۔
اس پراقدام کرنا اپنے آپ کو مصیبت اوربلاء پر پیش کرناہے اور وہ اس پرصبرنہ کرسکے گا اور کبھی اس میں ایک قسم کی شان دعوٰی پیداہوجاتی ہے صبراور توکل کے مقام کی، پس اس لئے اس سے روک دیاگیا فریب نفس سے بچاؤ کی خاطر اور نفس کے دعووں سے بچاؤ کی خاطر کہ جس پردرحقیقت کوئی استقرار اور ثبات نہیں۔(ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی مؤطاالامام مالک باب ماجاء فی الطاعون تحت حدیث ۱۷۲۰ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۳۸)
اس قدر کی ممانعت میں ہرگز گنجائش سخن نہیں، اب رہا یہ کہ جب طاعون سے بھاگنے یا اس کے مقابلہ کی نیت نہ ہو تو شہر طاعونی سے نکلنا یادوسری جگہ سے اس میں جانا فی نفسہٖ کیساہے، اس میں ہمارے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ بجائے خود حرام نہیں مگر نظربہ پیش بینی یہاں دوسورتیں ہیں ایک یہ کہ انسان کامل الایمان ہے لن یصیبنا الاماکتب اﷲ لنا۲؎(ہمیں ہرگز کچھ نہیں پہنچ سکتا سوائے اس کے جو اﷲ تعالٰی نے ہمارے لئے لکھ دیاہے۔ت) کی بشاشت ونورانیت اس کے دل کے اندرسرایت کئے ہوئے ہے اگرطاعونی شہرمیں کسی کام کوجائے اور مبتلاہوجائے تو اسے یہ پشیمانی عارض نہ ہوگی کہ ناحق آیا کہ بلاء نے لے لیا یاکسی کام کو باہرجائے تو یہ خیال نہ کرے گا کہ خوب ہواکہ اس بلاسے نکل آیا،
(۲؎ القرآن الکریم ۹ /۵۱)
خلاصہ یہ کہ اس کا آناجانا بالکل ایساہو جیساطاعون نہ ہونے کے زمانہ میں ہوتاتو اسے خالص اجازت ہے اپنے کاموں کو آئے جائے جوچاہے کرے کہ نہ فی الحال نیت فاسدہ ہے نہ آئندہ فساد فکرکا اندیشہ ہے اور جوایسانہ ہواسے مکروہ ہے کہ اگرچہ فی الحال نیت فاسدہ نہیں کہ حکم حرمت ہومگرآئندہ فسادپیداہونے کا اندیشہ ہے لہٰذاکراہت ہے وہ حدیثیں جن میں خود شہرطاعونی سے نکلنے اور اس میں جانے کی ممانعت مروی ہوئی جیسے ایک روایت حدیث اسامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے الفاظ :
جب کسی سرزمین میں طاعون واقع ہوجائے تو وہاں نہ جاؤ اور اگرطاعون پھوٹ پڑنے والی جگہ تم موجود ہوتوپھر وہاں سے نہ نکلو۔ بخاری ومسلم نے اسے روایت کیاہے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکرفی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۳)
(صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸)
یاایک روایت حدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ :
اگرکسی جگہ طاعون کے ظاہر ہونے کے متعلق سنو تو پھروہاں ہرگز نہ جاؤ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے روایت کیاہے۔(ت)
(۲؎ المعجم الکبیر حدیث ۲۶۸ و ۲۷۲ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ۱/ ۱۳۰ و ۱۳۱)
یاحدیث عکرمہ بن خالد المخزومی عن ابیہ وعمہ عن جدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ : اذا وقع الطاعون فی ارض وانتم بھا فلا تخرجوا منھا وان کنتم بغیرھا فلاتقدموا علیھا رواہ احمد والطحاوی والطبرانی والبغوی وابن قانع۳؎۔
جب کسی خطہ زمین پرطاعون پھیل جائے اور تم پہلے سے وہاں اقامت پذیر ہو توپھر وہاں سے نہ نکلو، اور اگرتم کسی دوسری جگہ ہو تو مقام طاعون پر نہ جاؤ۔ امام احمد، طحاوی، طبرانی، بغوی اور ابن قانع نے اسے روایت کیاہے۔(ت)
(۳؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۵)
(المعجم الکبیر حدیث ۲۱ ۱۸ /۱۵ وکنزالعمال حدیث ۲۸۴۶۱ ۱۰ /۸۲ ومسنداحمدبن حنبل ۳ /۴۱۶)
یہ اگر اپنے اطلاق پررکھی جائیں یعنی نیت فرار ومقابلہ سے مقیدنہ کی جائیں بناء علی ماحقق الامام ابن الھمام ان المطلق لایحمل علی المقید وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الیہ ضرورۃ کما فی الفتح ۱؎۔ اس بناپر کہ شیخ محقق امام ابن ہمام نے یہ تحقیق فرمائی ہے کہ حکم مطلق کسی مقید پرمحمول نہیں کیاجائے گا اگرچہ حکم اور حادثہ ایک ہوں جب تک کہ کوئی ضرورت داعی نہ ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الظہار فصل فی الکفّارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۰۸)
تو ان کامحمل یہی صورت کراہت ہے جو ابھی مذکورہوئی اور اطلاق اس بناء پر کہ اکثرلوگ اسی قسم کے ہوتے ہیں اور احکام کی بناء کثیروغالب پرہے۔
درمختارمیں ہے :
اذا خرج من بلدۃ بھا الطاعون فان علم ان کل شیئ بقدر اﷲ تعالٰی فلابأس بان یخرج ویدخل وان کان عندہ انہ لوخرج نجا ولودخل ابتلی بہ کرہ لہ ذٰلک فلایدخل ولایخرج صیانۃ لاعتقادہ و علیہ حمل النھی فی الحدیث الشریف ۔ مجمع الفتاوٰی۲؎ اھ۔
جب کوئی کسی ایسے شہر سے نکلے جہاں طاعون پھیلاہوا ہو اگروہ جانتا اور پختہ یقین رکھتاہو کہ ہرچیز اﷲ تعالٰی کی قضاوقدر سے وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کی آمدورفت، دخول وخروج میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس کے خیال میں یہ ہو کہ اگریہاں سے باہرچلاگیا تو بچ جاؤں گا اور یہاں سے نہ نکلا تو مرض میں مبتلاہوجاؤں گا توایسے شخص کے لئے نقل وحرکت مکروہ ہے لہٰذا نہ مقام طاعون پرجائے اور نہ مقام طاعون سے نکلے اپنے اعتقاد کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے۔ پس اسی حدیث شریف کی نہی محمول ہےاھ۔(ت)
(۲؎ درمختار مسائل شتٰی قبیل کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۱)
اسی طرح فتاوٰی ظہیریہ میں ہے وتمام تحقیقہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار(اس کی پوری تحقیق ہم نے ردالمحتار (فتاوٰی شامی)کے حواشی پرچڑھادی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔