فائدہ : امام احمدمسند اور ابن سعد طبقات میں ابوعسیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندصحیح روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتانی جبرئیل بالحمی والطاعون فامسکت الحمی بالمدینۃ وارسلت الطاعون الی الشام فالطاعون شھادۃ لامتی ورحمۃ لھم ورجس علی الکافرین۲؎۔
میرے پاس جبرئیل امی علیہ الصلٰوۃ والتسلیم بخار اور طاعون لے کرحاضرہوئے میں نے بخار مدینہ طیبہ میں رہنے دیا اور طاعون ملک شام کو بھیج دیا، تو طاعون میری امت کے لئے شہادت ورحمت اور کافروں پرعذاب ونقمت ہے۔
(۲؎ مسندامام احمد عن ابی عسیب رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۸۱)
صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کومعلوم تھا کہ طاعون کو ملک شام کاحکم ہوا ہے اور بلادشام فتح کرنے تھے لہٰذا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ جو لشکرملک شام کو روانہ فرماتے اس سے دونوں باتوں پریکساں بیعت وعہدوپیمان لیتے، ایک یہ کہ دشمنوں کے نیزوں سے نہ بھاگنا، دوسرے یہ کہ طاعون سے نہ بھاگنا،
امام مسدد استاذ امام بخاری ومسلم اپنی مسند میں ابوالسفر سے روایت کرتے ہیں :
قال کان ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا بعث الی الشام بایعھم علی الطعن والطاعون ۱؎۔
ابوالسفر نے کہا حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب کوئی لشکر ملک شام روانہ فرماتے تو ان سے یہ بیعت (عہدوپیمان) لیتے کہ ایک تودشمن کے نیزوں سے نہ بھاگنا دوسرے مقام طاعون سے نہ بھاگنا۔(ت)(۱؎ )
یہاں سے خوب ثابت وظاہر ہوا کہ مسلمانوں کو فرار عن الطاعون کی ترغیب دینے والا ان کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہے اور طبیبوں ڈاکٹروں کاا س میں صبرواستقلال سے منع کرنا خیر وصلاح کے خلاف باطل راہ ہے، اﷲ عزوجل نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سارے جہاں کے لئے رحمت بناکربھیجا اور مسلمانوں پربالتخصیص رؤف رحیم بنایا اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے ارحم امتی بامتی ابوبکر۲؎(میری امت میں میری امت کے ساتھ سب سے بڑے مہربان ابوبکرصدیق (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) ہیں۔ت) حدیث میں آیا یعنی جو رأفت ورحمت میری امت کے حال پر ابوبکر کو ہے اتنی تمام امت میں کسی کو نہیں،
(۲؎ مسندامام احمد عن انس رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۸۱)
اگرطاعون سے بھاگنے میں بھلائی اور ٹھہرنے میں برائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ اپنی امت پرماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں کیوں ٹھہرنے کی ترغیب دیتے اور بھاگنے سے اس قدر تاکید شدید کے ساتھ منع فرماتے اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ تمام امت میں سب سے بڑھ کر خیرخواہ امت ہیں کیوں اس سے نہ بھاگنے کاعہدوپیمان لیتے، معلوم ہوا کہ طاعون سے بھاگنے کی ترغیب دینے والے ہی حقیقۃً امت کے بدخواہ اور الٹی مت سمجھانے والے ہیں والعیاذباﷲ تعالٰی، جیسے کوئی بدعقل بے تمیز کج فہم عورت پڑھنے کی محنت استاذ کی شدت دیکھ کر اپنے بچے کو مکتب سے بھاگ آنے کی ترغیب دے وہ اپنے خیال باطل میں اسے محبت سمجھتی ہے حالانکہ صریح دشمنی ہے ع
دوستی بیخرداں دشمنی ست
(بیوقوفوں کی دوستی درحقیقت دشمنی ہوتی ہے۔ت)
بدنصیب وہ بچہ کہ اس کے کہنے میں آجائے اور مہربان باپ کی تاکید وتہدید خیال میں نہ لائے بلکہ انصافاً یہ حالت اس مثال سے بھی بدترہے مکتب میں پڑھنے کی محنت سبھی پرہوتی ہے اور شدت بھی غالب واکثری ہے اور جہاں طاعون پھوٹے وہاں سب یااکثر کامبتلاہونا کچھ ضرورنہیں بلکہ باذنہ تعالٰی محفوظ ہی رہنے والوں کا شمار زائدہوتاہے ولہذا آگ اور زلزلے پر اس کاقیاس باطل
ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۳؎
(لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاک میں نہ پڑو۔ت
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۱۹۵))
کے نیچے سمجھنامحض وسوسہ ہے کہ ان میں ہلاک غالب ہے جیساکہ کلام حضرت شیخ محقق قدس سرہ، سے گزرا او رسچا ہلاک تو یہ ہے کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد اقدس کو کہ عین رحمت وخیرخواہی امت ہے معاذاﷲ مضرّت رساں خیال کیاجائے اور اس کے مقابل طبیبوں اور ڈاکٹروں کی بات کو اپنے لئے نافع سمجھاجائے۔ ع
ببیں کہ از کہ بریدی وبا کہ پیوستی
(دیکھو توسہی کہ تم نے کس سے رشتہ کاٹا اور کس سے رشتہ جوڑا اور ملایا۔ت)
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
(کسی کی کوئی طاقت اور قوت نہیں مگر اﷲ تعالٰی کی عطاء وبخشش سے ہے جوبلندمرتبہ اورعظیم الشان ہے۔ت) ولہٰذا سلف صالح کاداب یہی رہا کہ طاعون میں صبرواستقلال سے کام لیتے۔
امام ابوعمربن عبدالبرفرماتے ہیں :
لم یبلغنی عن احد من حملۃ العلم انہ فر منہ الا ماذکر المداینی ان علی بن زید بن جدعان ھرب منہ الی السیالۃ فکان یجمع کل جمعۃ ویرجع اذا جمع صاحوابہ فرمن الطاعون فطعن فمات بالسیالہ۱؎۔
یعنی مجھے کسی کی نسبت یہ روایت نہ پہنچی کہ وہ طاعون سے بھاگا ہو مگر وہ جومدائنی نے ذکرکیا کہ علی بن زید بن جدعان طاعون میں شہرسے بھاگ کر سیالہ کوچلے گئے تھے ہرجمعہ کو شہرمیں آکرنمازپڑھتے اور پلٹ جاتے جب پلٹتے لوگ شورمچاتے طاعون سے بھاگا ہے آخرسیالہ میں طاعون ہی میں مبتلا ہوکرمرے۔
(۱؎ التمہید لابن عبدالبر عبداﷲ بن عامربن ربیعۃ رقم ۱ المکتبۃ القدوسیہ لاہور ۶ /۱۵۔۲۱۴)
یہ علی بن زید کچھ ایسے مستند علما سے نہ تھے امام سفیان بن عیینہ وامام حماد بن زید وامام احمدبن حنبل وامام یحیٰی بن معین وامام بخاری وامام ابوحاتم وامام ابن خزیمہ وامام عجلی وامام دارقطنی وغیرھم عامہ ائمہ جرح وتعدیل نے ان کی تضعیف کی، اور مذہب کے بھی کچھ ٹھیک نہ تھے، عجلی نے کہا شیعی تھا بلکہ امام یزید بن زریع سے مروی ہوا رافضی تھا، پھر اس کایہ فعل زمانہ سلامت عقل وصحت حواس کابھی نہ تھا، آخر عمرمیں عقل صحیح نہ رہی تھی،
امام شعبہ بن الحجاج نے فرمایا :
حدثنا علی قبل ان یختلط۲؎
(ہم سے علی بن زید نے زمانہ اختلاط عقل سے پہلے بیان کیاہے۔ت)
(۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ علی بن زید ۵۸۴۴ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۲۷)
فسوی نے کہا: اختلط فی کبرہ۳؎
(اس کو بڑھاپے میں اختلاط ہوگیاتھا۔ت)
(۳؎میزان الاعتدال ترجمہ علی بن زید ۵۸۴۴ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۲۸)
پھرہرجمعہ کو نماز کے لئے شہریعنی بصرہ میں آنا اور نمازپڑھ کر پلٹ جانادلیل واضح ہے کہ سیالہ کوئی ایسی ہی قریب جگہ بصرہ سے تھی علی بن زید کا انتقال ۱۳۱ھ میں ہے وہ زمانہ تابعین کاتھا، توثابت ہواکہ مضافات شہرمیں چلاجانا بھی اسی فرار حرام میں داخل ہے جس پریہ شخص تمام شہر میں مطعون وانگشت نماہوا ہرجمعہ کو اس کے پلٹتے وقت اہل شہر میں کہ تابعین وتبع تابعین ہی تھے غل پڑجاتا کہ وہ طاعون سے بھاگا۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔