| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اسی طرح حدیقہ ندیہ میں نقل فرمایا اور مقرر رکھا، اور جب مطمح نظرفرار عن الطاعون ہے نہ کہ عن البلد تو یہ بحث کہ فنائے شہر بھی مثل جمعہ اس حکم میں داخل ہے یامثل سفرخارج محض طاعون سے بھاگنے کے لئے جو نقل وحرکت ہو سب زیرنہی ہے اگرچہ مضافات خواہ فناخواہ شہر کی شہرمیں۔ رابعاً نظرکیجئے توخود یہی حدیث فیمکث فی بلدہ (پھر وہ اپنے شہر میں ٹھہرارہے۔ت) محلات شہر ہی میں تجویز فرار سے صریح ابافرمارہی ہے اس میں فقط اتناہی نہ فرمایا کہ شہرمیں رہے بلکہ صاف ارشاد ہوا :
یمکث فی بلدہ صابرا محتسبا یعلم انہ لایصیبہ الا ماکتب اﷲ لہ ۱؎۔
وہ اپنے شہر میں اﷲ تعالٰی سے اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی کچھ پہنچے گا جو اﷲ تعالٰی نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہے، صبرکادامن تھامے ہوئے ٹھہرارہے(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۴)
اپنے شہرمیں تین وصفوں کے ساتھ ٹھہرے : اول صبرواستقلال، دوم تسلیم وتفویض ورضا بالقضاء پرطلب ثواب، سوم یہ سچا اعتقاد کہ بے تقدیرالٰہی کوئی بلانہیں پہنچ سکتی۔ اب اس کے حال کو اندازہ کیجئے جس کے شہر کے ایک کنارے میں طاعون واقع ہو اور وہ اس کے خوف سے گھرچھوڑ کر دوسرے کنارے کو بھاگ گیا کیا اسے ثابت قدم وصابر ومستقل وراضی بالقضاء کہاجائے گا، وہ ایساہوتا توکیوں بھاگتا، شہرمیں اس کا قیام صبر و رضا کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ کنارئہ شہرہنوز محفوظ ہے کل اگر یہاں بھی طاعون آیا تو اسے یہاں سے بھی بھاگتے دیکھ لینا، اگراب بیرون شہر جاکرپڑا اور وہاں بھی وباپہنچی تومضافات کوبھی چھوڑ کردوسری ہی بستی میں دم لے گا پھرصابراً محتسباً کہاں صادق آیا۔ خامساً سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرار عن الطاعون کو جس کامماثل فرمایا یعنی جہاد سے بھاگنا اسی کے ملاحظہ سے معلوم ہوسکتاہے کہ شہرچھوڑ کر دوسرے شہر کو چلے جانے ہی پرفرار محصورنہیں کیا اگرامام مسلمانان بیرون شہر کفار سے جہاد کررہاہو اور کچھ لوگ مقابلہ سے بھاگ کراپنے گھروں میں جابیٹھیں توفرار نہ ہوگا ضرور ہوگا بلکہ گھروں میں جابیٹھنا درکنار اگرمعرکہ سے بھاگ کر اسی میدان کے کسی پہاڑ یاغار میں جاچھپے ضرورعار فرار نقدوقت ہوگی کہ میدان کارزار توہرطرح چھوڑا اور مقابلہ کفار سے منہ موڑا،
نص قرآنی اس پردلیل صریح ہے:
قال اﷲ عزوجل انّ الذین تولوامنکم یوم التقی الجمعٰن انما استزلھم الشیطٰن ببعض ماکسبوا ولقد عفا اﷲ عنھم ان اﷲ غفورحلیمo ۱؎ وقال جل من قائل ولقد عفاعنکم واﷲ ذو فضل علی المؤمنینo اذتصعدون ولاتلوون علی احد والرسول یدعوکم فی اخرٰکم فاثابکم غمّا بغم ۲؎ الآیۃ۔
اﷲ تعالٰی غالب اور بڑی ذات کا ارشاد ہے بیشک تم میں سے جن لوگوں نے دوجماعتوں کے (جنگ کیلئے) آمنے سامنے آجانے والے دن منہ پھیرا۔ ان کے بعض افعال کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلادیا بےشک اﷲ تعالٰی نے انہیں معاف کردیا کیونکہ اﷲ تعالٰی معاف فرمانے والا بردبارہے، اور اس نے ارشاد فرمایا جوکہنے والوں سے بڑی شان رکھتاہے، بے شک اﷲ تعالٰی نے تمہیں معاف فرمادیا اور اﷲ تعالٰی مومنوں پراحسان فرمانے والا ہے، اور یادکرو جب تم اوپرچڑھ رہے تھے اور پیچھے مُڑ کربھی نہ دیکھتے تھے اور رسول مکرم تمہیں آوازیں دے کربلارہے تھے پھرتمہیں غم پرغم نے آلیا الآیۃ(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۱۵۵ ) ( ۲؎ القرآن الکریم ۳ /۱۵۲)
معالم میں ہے :
قرأ ابوعبدالرحمٰن السلمی وقتادۃ تصعدون بفتح التاء والعین والقراءۃ المعروفۃ بضم التاء وکسرالعین والاصعاد السیر فی الارض والصعود الارتفاع علی الجبال والسطوح وکلیتا القراء تین صواب فقد کان یومئذ من المنھزمین مصعد وصاعد۳؎اھ باختصار۔
ابوعبدالرحمن سلمی اور قتادہ نے اس لفظ تصعدون کے حرف تاء اور عین کو زبر سے پڑھا ہے جبکہ مشہور قرأت تاء کی پیش اور عین کی زیر کے ساتھ ہے، پھر وہ اس طور پر ابواب مزید باب افعال سے ہونے کی وجہ سے ''اَلاِصْعَاد'' سے بناہے جس کے معنی ''زمین میں چلنا'' ہے جبکہ پہلے طور پرمجرد ہونے کی وجہ سے لفظ ''صعود'' سے بناہے جس کے معنی ''اوپرچڑھنا، بلندی پرجانا'' ہے خواہ چھتوں پرہویاپہاڑوں پر۔ اور دونوں قراتیں درست اور صحیح ہیں۔ پس اس دن کچھ شکست خوردہ لوگ منہ اٹھائے بھاگے جارہے تھے او رکچھ قریبی پہاڑی پرچڑھ رہے تھےاھ باختصار(ت)
(۳؎ معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ ولقد عفاعنکم الخ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱ /۴۳۴)
سادساً جن حکمتوں کی بناپر حکیم کریم رؤف رحیم علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والتسلیم نے طاعون سے فرارحرام فرمایا ان میں ایک حکمت یہ ہے کہ اگرتندرست بھاگ جائیں گے بیمار ضائع رہ جائیں گے ان کا کوئی تیماردار ہوگا نہ خبرگیراں، پھر جو مریں گے ان کی تجہیز وتکفین کون کرے گا، جس طرح خود آج کل ہمارے شہر اور گردونواح کے ہنود میں مشہور ہورہاہے کہ اولاد کو ماں باپ، ماں باپ کو اولاد نے چھوڑ کر اپناراستہ لیا بڑوں بڑوں کی لاشیں مزدوروں نے ٹھیلے پر ڈال کر جہنم پہنچائیں، اگر شرع مطہر مسلمانوں کو بھی بھاگنے کاحکم دیتی تومعاذاﷲ یہی بےبسی بیکسی ان کے مریضوں میتوں کو بھی گھیرتی جسے شرع قطعاً حرام فرماتی ہے۔
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے :
(لاتخرجوا فرارا منہ) فانہ فرارمن القدر ولئلا تضیع المرضی لعدم من یتعھدھم والموتٰی ممن یجھزھم ۱؎۔
(مقام طاعون سے بھاگ کرکہیں باہر نہ جاؤ) کیونکہ یہ تقدیرالٰہی سے بھاگنے کے مترادف ہے اور تاکہ بیمار ضائع نہ ہونے پائیں اس لئے کہ اس افراتفری کے باعث مریضوں کی نگہبانی اور حفاظت کے لئے کوئی نہیں ہوگا اور مرنے والوں کی تجہیزوتکفین اور تدفین کے لئے بھی کوئی نہ ہوگا۔(ت) اسی طرح زرقانی ۲ شرح علی مؤطا میں ہے۔ عینی ۳؎ شرح بخاری میں بھی اسے نقل کرکے مقرررکھا۔
(۱؎ ارشاد الساری شرح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۳۸۵) (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا امام مالک تحت حدیث ۱۷۲۱ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۴۰) (۳؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الانبیاء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۶/ ۵۹)
ظاہریہ ہے کہ علت جس طرح غیرشہر کو بھاگ جانے میں ہے یوہیں بیرون شہر جاپڑنے بلکہ محلہ مریضان چھوڑ کرمحلہ صحیحان میں جابسنے میں بھی، تو حق یہ کہ بہ نیت فرار مطلقا نقل وحرکت حرام ہے نیز یہ علت موجب ہے کہ نہ صرف طاعون بلکہ ہر وبا کا یہی حکم ہے اھ، ولہذا شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالٰی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰہ میں فرمایا :
انچہ دراحادیث مذکورشدہ وبرگریختن ازاں وبیرون رفتن ازشہرے کہ واقع شدہ اشد دراں نہی کردہ ووعیدنمودہ وتشبیہہ بفرار از زحف دادہ برصبربراں بشہادت حکم کردہ مراد وباوموت عام ومرض عام ست ومخصوص بانچہ اطبا تعیین نمودہ اندنیست ولہٰذا دراحادیث بہ لفظ وبا وموت عام مذکورشدہ واگرچہ بلفظ طاعون نیز واقع شدہ امامرادمعنی وباست وغلط کردہ کہ طاعون رابرمصطلح اطباء حمل کردہ ودرغیرآں فرار مباح داشتہ واگر فرضا برہمیں معنی محمول باشد فردے ازوبا خواہد بود نہ مخصوص بآں وایں قائل آں احادیث را کہ دروے لفظ وبا وموت عام واقع شدہ چہ خواہد گفت۔ نسأل اﷲ العافیۃ۱؎۔
جو کچھ حدیثوں میں ذکرکیاگیاکہ طاعون سے بھاگنا اور شہر سے باہر چلے جانا تو اس سے منع فرمایا گیا اور اس پر عذاب کی دھمکی دی گئی اور اسے جنگ سے بھاگنے کے مترادف قرار دیا گیا اور قدم جماکر وہیں ٹھہرے رہنے پر شھادت کا حکم سنایا گیا لہذا اس سے وبا اور عام موت کاذکرکیاگیا اگرچہ لفظ طاعون بھی وارد ہواہے لیکن اس میں بھی وبا کے معنی مراد ہیں۔ لہٰذا یہ غلطی ہوگئی کہ طاعون کو طبیبوں کی خصوصی اصطلاح پرقیاس کرلیاگیا اس لئے دوسری وبائی امراض سے بھاگنا مباح سمجھاگیا، اگربالفرض اسی معنی پر بھی کلام کومحمول کیاجائے تو پھر وہ ازقسم وبا ہوجائے گا نہ کہ اس معنی کے ساتھ مخصوص۔ لہٰذا یہ قائل ان حدیثوں کے متعلق کیاکہے گا کہ جن میں لفظ وبا اور موت عام کے الفاظ مذکورہوئے ہیں۔ ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کاسوال کرتے ہیں۔(ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات کتاب الجنائز باب عیادۃ المریض الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۸۔۶۳۷)