Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
57 - 160
مسند ابویعلٰی کے لفظ یوں ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
وخزۃ تصیب امتی من اعدائھم من الجن کغدۃ الابل من اقام علیھا کان مرا بطا ومن اصیب بہ کان شھیدا والفار منہ کالفار من الزحف ۱؎۔
طاعون ایک کونچاہے کہ میری امت کو ان کے دشمن جنوں کی طرف سے پہنچے گا جیسے اونٹ کی گلـٹی، جو مسلمان اس پرصبرکئے ٹھہرا رہے وہ ان میں سے ہو  جو راہ خدا میں سرحد کفار پربلاد اسلام کی حفاظت کے لئے اقامت کرتے ہیں اور جومسلمان اس میں مرے وہ شہید ہوا اور جو اس سے بھاگے وہ کافروں کوپیٹھ دے کربھاگنے والے کی مانند ہو۔
 (۱؎ الترغیب والترھیب     الترھیب من ان یموت الانسان الاسنان الخ     حدیث ۲۵     مصطفی البابی مصر ۲  /۳۳۸)

(مجمع الزوائد   کتاب الجنائز    باب فی الطاعون والثابت     دارالکتب بیروت     ۲ /۳۱۵)
معجم اوسط کی روایت یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الطاعون شھادۃ لامتی و وخز اعدائکم من الجن، غدۃ کغدۃ البعیر تخرج فی الاباط والمراق من مات فیہ مات شھیدا ومن اقام فیہ کان کالمرابط فی سبیل اﷲ ومن فرمنہ کان کالفار من الزحف۲؎۔
طاعون میری امت کے لئے شہادت ہے اور وہ تمہارے دشمن جنوں کاکونچاہے اونٹ کے غدود کی طرح گلٹی ہے کہ بغلوں اور نرم جگہوں میں نکلتی ہے جو اس میں مرے شہید مرے اور جو ٹھہرے وہ راہ خدا میں سرحدکفار پر بانتظار جہاداقامت کرنے والے کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ جائے جہاد سے بھاگ جانے کے مثل ہو۔
 (۲؎ المعجم الاوسط    حدیث ۵۵۲۷    مکتبۃ المعارف الریاض     ۶ /۲۴۹)

(کنزالعمال بحوالہ طس    حدیث ۲۸۴۳۷        مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۱۰ /۸۷ و۸۸)

(جامع الصغیر بحوالہ طس       حدیث ۵۳۳۳        دار الکتب العلمیہ  بیروت     ۲ / ۳۲۹)
اقول : (میں کہتاہوں) اولا ان تمام الفاظ حدیث میں صرف طاعون سے بھاگنے  پر وعیدشدید اور صبرکئے ٹھہرے رہنے کی ترغیب وتاکید ہے، شہریامحلے یاحوالی شہر وغیرہ کی کچھ قیدنہیں، تو جونقل وحرکت طاعون سے بھاگنے کے لئے ہوگی اگرچہ شہرہی کے محلوں میں وہ بلاشبہہ اس وعید وتہدید کے نیچے داخل ہے۔ 

ثانیاً حدیث ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی صحیح بخاری شریف، مسند امام احمد رحمہ اﷲ تعالٰی میں بسندصحیح برشرط بخاری ومسلم برجال بخاری جلد ششم آخر ص۲۵۱ واول ۲۵۲ میں یوں ہے :
حدثنا عبدالصمد ثنا داؤد یعنی ابن ابی الفرات ثنا عبداﷲ بن بریدۃ (عہ) عن یحیی بن یعمر عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انھا قالت سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الطاعون فاخبرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالٰی علی من یشاء فجعلہ رحمۃ للمؤمنین، فلیس من رجل یقع الطاعون فیمکث فی بیتہ صابراً محتسباً یعلم انہ لایصیبہ الاما کتب اﷲ لہ الا کان لہ مثل اجر الشھید ۱؎۔
(ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا(اس نے کہا) ہم سے داؤد ابن ابی الفرات نے بیان کیا (اس نے کہا) ہم سے عبداﷲ بن ابی بریدہ نے بیان کیا اس نے یحیٰی بن یعمر سے اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایامیں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا۔ت) تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب تھا کہ اﷲ تعالٰی جس پر چاہتابھیجتا اور اس امت کے لئے اسے رحمت کردیاہے تو جو شخص زمانہ طاعون میں اپنے گھر میں صبرکئے طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو خدا نے لکھ دیا ہے اس کے لئے شہید کا ثواب ہے۔
عہ :  وقع ھٰھنا فی نسخۃ المسند المطبوعۃ ابن ابی بریدہ والصواب ابن بریدۃ کما ذکرنا ۱۲منہ ۔ مسند احمد کے مطبوعہ نسخہ میں ابن ابی بریدہ لکھاہے مگردرست ابن بریدہ ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے ۱۲منہ(ت)
 (۱؎مسندامام احمد بن حنبل     عن عائشہ رضی اﷲ عنہا    المکتب الاسلامی بیروت     ۶ /۵۲۔۲۵۱)
اس حدیث صحیح میں خاص اپنے گھر میں ٹھہرے رہنے کی تصریح ہے۔

ثالثاً ذراغورکیجئے تو اس حدیث اور حدیث بخاری میں اصلاً اختلاف نہیں، 

صحیح بخاری کتاب الطب کے لفظ یہ ہیں :
لیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا ۲؎۔
کوئی ایسا بندہ نہیں کہ طاعون واقع ہو اور وہ اپنے شہرمیں صبر کے ساتھ ٹھہرارہے(ت)
(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الطب  باب اجرالصابرین فی الطاعون    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۵۳)
اور ذکربنی اسرائیل میں :
لیس من احد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا محتسبا۳؎۔
کوئی ایساشخص نہیں کہ طاعون واقع ہو پھر وہ اپنے شہرمیں صبر کرتے ہوئے ثواب کی خاطر ٹھہرا رہے۔(ت)
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب الانبیاء     باب حدیث الغار    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۹۴)
اور بداہۃً معلوم ہے کہ مطلقاً روئے زمین میں سے کسی جگہ وقوع طاعون مراد نہیں تو حدیث بخاری میں فی بلدہ اور حدیث احمد میں فی بیتہ برسبیل تنازع یمکث ویقع دونوں سے متعلق ہیں امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں :
قولہ فی بلدہ مماتنازع الفعلان فیہ اعنی قولہ یقع وقولہ فیمکث ۱؎۔
ان کاارشاد ''فی بلدہ'' اس میں تنازع فعلین (یعنی یمکث اور یقع جو دو فعل ہیں) ان کافی بلدہ جارمجرور میں تنازع ہے اس ہرایک چاہتاہے کہ وہ میرے ساتھ متعلق ہو۔(ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    کتاب الطب    باب اجرالصابرین فی الطاعون     ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت  ۲۱ /۲۶)
تودونوں روایتوں کامطلب یہ ہوا کہ جس کے شہر میں طاعون واقع ہو وہ شہر سے نہ بھاگے اور جس کے خود گھر میں واقع ہو وہ اپنے گھر سے نہ بھاگے اور حاصل اسی طرف رجوع کرگیا کہ طاعون سے نہ بھاگے، شہریاگھر سے بھاگنا لذاتہٖ ممنوع نہیں، اگرکوئی ظالم جبّارشہر میں ظلماً اس کی گرفتاری کوآیا اور یہ اس سے بچنے کو شہر سے بھاگ گیا ہرگز مواخذہ نہیں اگرچہ زمانہ طاعون ہی کا ہو کہ یہ بھاگنا طاعون سے نہ تھا بلکہ ظلم ظالم سے، اور اﷲ عزوجل نیت کوجانتاہے،
ولہٰذا حدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ارشاد ہوا :
  اذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فرارا منہ۲؎۔
جب کسی جگہ طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو توطاعون سے بھاگ کرکہیں باہر دوسری جگہ نہ جاؤ۔(ت)نہ کہ منہا(یعنی جائے طاعون سے۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری      کتاب الطب       باب مایذکر فی الطاعون         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۵۳)
اور حدیث اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہماروایت تامہ شیخین میں اس کے مثل اور روایت مسلم میں یوں آئی :
فلاتخرجوا فرارا منہ ۳؎۔
جائے طاعون سے باہر نہ جاؤ اس سے بھاگتے ہوئے (ت)
 (۳؎ صحیح مسلم     کتاب السلام    باب الطاعون والطیرۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۲۸)
لاجرم شرح صحیح مسلم میں ہے :
اتفقوا علٰی جوازالخروج بشغل وغرض غیر الفرار ودلیلہ صریح الاحادیث۴؎۔
اہل علم کا اس پر اتفاق ہے، بھاگنے کے علاوہ کسی دوسرے شغل اور غرض کے لئے مقام طاعون سے باہر نکلنا جائزہے اور اس کے ثبوت میں صریح احادیث ہیں۔(ت)
 (۴؎ شرح مسلم للنووی   کتاب السلام    باب الطاعون والطیرۃ         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۲۹)
Flag Counter