| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اخرج ابن خزیمۃ فی صحیحہ عن عبدالرحمٰن بن غنم قال وقع الطاعون بالشام فقال عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان ھذا الطاعون رجس ففروا منہ فی الادویۃ والشعاب، فبلغ ذٰلک شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فغضب وقال کذب عمروبن العاص فقد صحبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعمرواضل من جمل اھلہ، ان ھذا الطاعون دعوۃ نبیکم ورحمۃ ربکم ووفاۃ الصالحین قبلکم۱؎ الحدیث ولفظ ابن عساکر عن عبدالرحمٰن بن غنم قال کان عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ حین احس بالطاعون فرق فرقاً شدیدا فقال یا ایھا الناس تبددوا فی ھذہ الشعاب وتفرقوا فانہ قد نزل بکم امرمن اﷲ تعالٰی لا اراہ الا رجزا اوالطوفان قال شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قد صحابنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و انت اضل من حمار اھلک قال عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ صدقت قال معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ لعمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کذبت لیس بالطوفان ولابالرجز ولکنھا رحمۃ ربکم ودعوۃ نبیکم وقبض الصالحین قبلکم۱؎ الحدیث ورواہ الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار من حدیث شعبۃ عن یزید بن حمیر قال سمعت شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یحدث عن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان الطاعون وقع بالشام فقال عمرو تفرقوا عنہ فانہ رجز فبلغ ذٰلک شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال قد صحبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فسمعتہ یقول انھا رحمۃ ربکم ودعوۃ نبیکم وموت الصالحین قبلکم فاجتمعوالہ ولاتفرقوا علیہ فقال عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ صدق ۲؎ وللحدیث طریق اخری عن شھر بن حوشب قال فیھا فقام شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال واﷲ لقد اسلمت وان امیرکم ھذا اضل من جمل اھلہ فانظروا مایقول قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا وقع بارض وانتم بھا فلاتھربوا فان الموت فی اعناقکم واذا کان بارض فلاتدخلوھا فانہ یحرق القلوب۱؎۔
ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبدالرحمن ابن غنم کے حوالے سے تخریج فرمائی، فرمایا ملک شام میں طاعون کامرض پھوٹ پڑا تو حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا(لوگو!) یہ طاعون اﷲ تعالٰی کاعذاب ہے لہٰذا اس سے بھاگ کر وادیوں اور پہاڑی گھاٹیوں میں چلے جاؤ، پھر شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو یہ اطلاع پہنچی تو غضبناک ہوئے اور فرمایا عمروبن عاص نے غلط کہا ہے کیونکہ میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہاہوں لیکن عمرو تو زیادہ بھٹکاہوا ہے اپنے گھر کے اونٹ سے، بلاشبہہ یہ طاعون تمہارے نبی کی دعوت ہے اورتمہارے پروردگار کی رحمت اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی وفات ہے(الحدیث) ابن عساکر حضرت عبدالرحمن بن غنم کے حوالے سے یوں کہتے ہیں اس نے فرمایا حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو جب طاعون محسوس ہوا تو وہ انتہائی خوفزدہ ہوئے اور فرمایا(لوگو!) ان گھاٹیوں میں الگ الگ اور منتشرہوجاؤ کیونکہ تم پر اﷲ تعالٰی کا امر(عذاب) نازل ہوگیاہے اور میں اس کو عذاب یاطوفان ہی خیال کرتاہوں، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ وقت گزاراہے تم تواپنے گھروالوں کے گدھے سے بھ زیادہ بھٹکے ہوئے ہو۔ حضرت عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا آپ نے سچ کہاہے۔ حضرت معاذرضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا آپ نے غلط کہا نہ یہ طوفان ہے اور نہ عذاب بلکہ یہ تمہارے پروردگار کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعاہے اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت ہے(الحدیث) امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں شعبہ کی حدیث یزیدبن حمیر کے حوالے سے روایت فرمائی، فرمایا میں نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے سنا کہ وہ حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بیان کرتے تھے، ملک شام میں طاعون واقع ہوا تو حضرت عمرو بن عاص نے لوگوں سے فرمایا کہ اس سے منتشرہوجاؤ اور بکھرجاؤ کیونکہ یہ عذاب ہے، جب شرحبیل بن حسنۃ تک یہ خبر پہنچی تو ارشادفرمایا میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت میں رہاہوں میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ وہ تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت ہے لہٰذا اس کے لئے جمع ہوجاؤ اور اس سے متفرق ومنتشرنہ ہو۔ اس پرحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ حدیث کے لئے ایک دوسرا طریق شہربن حوشب کے حوالے سے ہے چنانچہ اس میں فرمایا پھرشرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا خدا کی قسم میں اسلام لایا جبکہ تمہارا یہ امیر اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ بھٹکاہواہے پھر دیکھو وہ کیاکہتاہے۔ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا جب طاعون کسی جگہ واقع ہوجائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو کیونکہ موت تمہاری گردنوں میں لٹک رہی ہے، اور جب طاعون کہیں پھوٹ پڑے تووہاں نہ جاؤ کیوں وہ دلوں کو جلادیتاہے(ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن خزیمہ کر حدیث ۱۱۷۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۶۰۳) (۱؎ کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۱۱۷۵۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۶۔۶۰۵) (۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۵) (۱؎ کنزالعمال حدیث ۱۱۷۵۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۶۰۴)
بعض لوگ اسے امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف نسبت کردیتے ہیں مگرامیرالمومنین خود فرماتے ہیں کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ میں طاعون سے بھاگا، الٰہی! میں اس تہمت سے تیرے ہاں براءت کرتاہوں۔
امام اجل طحاوی روایت فرماتے ہیں :
عن زید بن اسلم عن ابیہ قال قال عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ اللّٰھم ان الناس زعموا انی فررت من الطاعون وانا ابرأ الیک من ذٰلک ھذا ۲؎ مختصر۔
اسلم کے بیٹے زیدنے اپنے والد اسلم سے روایت کی، اس نے کہا امیرالمومنین جناب عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : ''یااﷲ! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں طاعون سے بھاگاہوں، میں اس الزام سے تیری بارگاہ میں براءت کااعلان کرتاہوں''۔ یہ مختصر ہے۔(ت)
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی الطاعون الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۸)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے طاعون سے بھاگنا حرام فرمایا اس میں کوئی تخصیص شہروبیرون شہر کی نہیں، جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث امام احمدوامام الائمہ ابن خزیمہ کے یہاں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الفار من الطاعون کالفار من الزحف والصابر فیہ کالصابر فی الزحف ۱؎۔
طاعون سے بھاگنے والاایساہے جیسا جہاد میں کفار کے سامنے سے بھاگنے والا اور طاعون میں ٹھہرنے والا ایساہے جیسا جہاد میں صبرواستقلال کرنے والا۔
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل عن جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۳ /۲۵۔۳۲۴)
انہیں کی دوسری روایت میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الفار من الطاعون کالفار من الزحف ومن صبر فیہ کان لہ اجرشہید۲؎۔
طاعون سے بھاگنے والاجہاد سے بھاگنے والے کی طرح ہے اور جو اس میں صبر میں کئے رہے اس کے لئے شہید کاثواب ہے۔
(۲؎ مسند احمدبن حنبل عن جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۳ /۳۶۰)
ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی حدیث امام احمد کی مسند میں مثل پارہ اول حدیث جابر ہے اور ابن سعد کے یہاں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الفار من الطاعون کالفرار من الزحف۳؎۔
طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگ جانے کے مثل ہے۔
(۳؎ الدرالمنثور بحوالہ احمد وعبدبن حمید والبزار وابن خزیمہ عن جابر آیۃ الم ترالی الذین خرجوا عن دیارھم الخ ۱ /۳۱۲)
احمد کی دوسری روایت یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الطاعون غدۃ کغدۃ البعیر المقیم بھا کالشھید والفار منھا کالفار من الزحف۴؎۔
طاعون ایک گلٹی ہے جس طرح اونٹ کی وبامیں اس کے نکلتی ہے جو اس میں ٹھہرا رہے وہ شہید کے مثل ہے اور اس سے بھاگنے والاجہاد سے بھاگ جانے والے کی طرح ہے۔
(۴؎ مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۱۴۵)