Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
55 - 160
جس امر میں رائے واجتہاد کودخل نہ ہو اس میں قول صحابی دلیل قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے ورنہ جس حدیث کی مخالفت کی اگر اس کے راوی خود یہ صحابی ہیں اور مخالفت صرف ظاہر نص کی ہے مثلا عام کی تخصیص یامطلق کی تقیید تویہ اثر صحابی اس حدیث مرفوع کی تفسیر ٹھہرے گا اور اسے اسی خلاف ظاہرپرمحمول سمجھاجائے گا اور مخالفت مفسر کی ہے تو صریح دلیل ہے کہ وہ حدیث منسوخ ہوچکی صحابی کو اس کاناسخ معلوم تھا، اور اگر یہ خود اس کے راوی نہیں تویہ معاملہ اگر اس قابل نہ تھا کہ ان صحابی پرمخفی رہتا تو ان کی مخالفت اس روایت مرفوعہ کے قبول میں شبہہ ڈالے گی ورنہ حدیث ہی مرجح ہے جیسا کہ غیرصحابہ کے قول وفعل پرمطلقاً جب تک حد اجماع تک نہ پہنچے۔

مسلم الثبوت میں ہے :
روی الصحابی وحمل ظاھرا علی غیرہ کتخصیص العام فالحنفیۃ علی ماحمل لان ترک الظاھر بلاموجب حرام فلایترکہ الابدلیل قطعا ولوترک نصاً مفسرا تعین علمہ بالناسخ فیجب اتباعہ وان عمل بخلاف خبرہ غیرہ فان کان صحابیا فالحنفیۃ ان کان ممایحتمل الخفاء لایضر او لا فیقدح وان کان غیر صحابی ولواکثر الامۃ فالعمل بالخبر ۱؎اھ  مختصراً۔
اگر خود صحابی نے روایت کی اور حدیث کے ظاہر کو غیرظاہر پرحمل کیا جیسے عام کی تخصیص، تو اس صورت میں حنفیہ کی رائے وہی ہے جس پر اس نے حدیث کو حمل کیاہے کیونکہ ظاہر کوبغیرکسی سبب چھوڑدینا حرام ہے لہٰذا بغیر کسی قطعی دلیل کے وہ اسے نہیں چھوڑتا۔ اگر کسی نص مفسر کو چھوڑ دے (تو اس کامفہوم یہ ہوگا) کہ حدیث اس کے نزدیک منسوخ ہے اور اس کے علم میں اس کا ناسخ متعین ہے تو اس کی اتباع ضروری ہے اور اگر اس نے کسی دوسرے کی روایت کے خلاف عمل کیا۔ اگر یہ خود صحابی ہیں تو اگرمعاملہ خفاء کا احتمال رکھتاہے تو اول کچھ مضرہی نہیں کہ قدح پیداکرے گا اور اگر یہ صحابی نہیں اگرچہ اکثرافراد امت ہوں، تو پھر عمل صرف حدیث پر ہوگا  اھ مختصراً۔(ت)
(۱؎ مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ    مسئلہ وی الصحابی المجمل   مطبع انصاری دہلی ص۹۷۔۱۹۶)
اُسی میں ہے :
الرازی منا والبردعی والبزدوی والسرخسی واتباعھم قول الصحابی فیما یمکن فیہ الرأی ملحق بالسنۃ لغیرہ لابمثلہ ونفاہ الکرخی و جماعۃ وفیما لایدرک بالرأی فعند اصحابنا اتفاق فلہ حکم الرفع۱؎اھ ملتقطا۔
ہم میں سے رازی، بردعی، بزدوی، سرخسی اور  ان کے تابعین (موافقین) فرماتے ہیں کسی صحابی کا قول اگر ایسے معاملہ میں ہو جس میں رائے ممکن ہو تو وہ دوسروں کے لئے سنت سے ملحق ہے نہ کہ خود اس کے لئے، لیکن امام کرخی اور ایک گروہ نے اس کی نفی کی، اور اگر کسی معاملہ کا ادراک رائے کے ساتھ نہ ہوسکے تو اس پرہمارے اصحاب کااتفاق ہے یہ کہ وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہےاھ ملتقطاً(ت)
 (۱؎ مسلم الثبوت     الاصل الثانی السنۃ     مسئلہ قول الصحابی فیمایمکن فیہ الرأی   انصاری دہلی     ص۰۸۔۲۰۷)
یہ اجمالی کلام ہے اور نظرمجتہد کے لئے ہے اورحدیث طاعون اسی قبیل سے ہے جس کا بعض بلکہ اکثرصحابہ پربھی مخفی رہناجائے عجب نہ تھا جیسا کہ حدیث صحیحین سے ثابت ہے کہ جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو راہ شام میں خبرملی کہ وہاں طاعون ہے صحابہ کرام میں پہلے مہاجرین عظام پھرانصار کرام پھرمشائخ قریش مہاجرین فتح مکہ کو بلاکر مشورے لئے سب نے اپنی اپنی رائے ظاہر کی مگر کسی کو اس بارے میں ارشاد اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معلوم نہ تھا، نہ خود امیرالمومنین کے علم میں تھا یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ اس وقت اپنے کسی کام کو تشریف لے گئے تھے انہوں نے آکر ارشاد والابیان کیا اور اسی پر عمل کیاگیا ۲ ؎۔
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الطب     باب مایذکرفی الطاعون    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۵۳)

(صحیح مسلم         کتاب السلام     باب الطاعون والطیرۃ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۲۸)
یونہی صحیحین کی حدیث سے ثابت کہ سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ احدالعشرۃ المبشرہ کو یہ ارشاد اقدس کہ جب دوسری جگہ طاعون ہونا سنو  وہاں نہ جاؤ  اور جب تمہارے یہاں پیداہو تو وہاں سے نہ بھاگو، معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے محبوب ابن المحبوب اور سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے سامنے کے بچے ہیں انہیں یہ حدیث سنائی بلکہ صحیحین سے یہ بھی ثابت کہ سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان سے سوال کرکے اس کا علم حاصل فرمایا۔
فقد اخرجا عن عامر بن سعدبن ابی وقاص عن ابیہ انہ سمعہ یسأل اسامۃ بن زید ماذاسمعت من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الطاعون رجز ارسل علی بن اسرائیل اوعلی من کان قبلکم فاذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذ وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرار منہ۱؎۔
بخاری ومسلم نے عامر بن سعد عن ابیہ سے تخریج فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے خود سنا کہ وہ حضرات اسامہ بن زید سے پوچھ رہے تھے کہ آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق کیا سنا، یہ کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا ان سے پہلے لوگوں پربھیجاگیا لہٰذا جب تم اس کے بارے میں سنو کہ فلاں زمین میں پھیل گیا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جس جگہ تم مقیم ہو وہاں طاعون پیداہوجائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نہ جاؤ اور (جگہ قیام) نہ چھوڑو۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری کتاب الانبیائ     باب منہ         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۹۴)

(صحیح مسلم      کتاب السلام     باب الطاعن والطیرۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۲۸)
اور اس کے بعد خود اسے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : ای یرسل ارسالا ثقۃ بروایۃ اسامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ یعنی ارسال فرماتے ہوئے حضرت اسامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت پراعتماد کرتے ہوئے(ت)
صحیح مسلم شریف میں بعد ذکرحدیث اسامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے :
وحدثنیہ وھب بن بقیۃ فذکر بسندہ عن ابراھیم بن سعد بن مالک عن ابیہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بنحوحدیثھم۲؎۔
مجھ سے وہب بن بقیہ نے بیان کیاپھر اس نے اپنی سند سے ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی (اور سند یہ ہے) ابراہیم بن سعد بن مالک کے حوالہ سے اس نے اپنے والدگرامی سعد بن مالک کے حوالہ سے انہوں نے خود حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت فرمائی۔(ت)
 (۲؎صحیح مسلم      کتاب السلام     باب الطاعن والطیرۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲ /۲۲۸)
تو دو ایک صحابہ سے جو اس کا خلاف مروی ہوا اطلاع حدیث سے پہلے تھا جیسے عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ طاعون سے بہت خوب کرتے لوگوں کومتفرق ہوجانے کی رائے دی معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہ
اعلم الناس بالحلال والحرام  وامام العلماء یوم القیام (جو سب لوگوں سے زیادہ حلال وحرام کو جاننے والے ہیں اور قیامت کے دن علمائے کرام کے امام ہوں گے۔ت) ہیں ان کا رَدّ شدید کیا اور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث بیان کی اور شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاتب وحی نے نہایت شدت سے رَد کیا اور فرار عن الطاعون سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کامنع فرمانا روایت کیا ، عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فوراً رجوع فرمائی اور ان کی تصدیق کی۔
Flag Counter