Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
54 - 160
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالٰی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :
ضابطہ در وباء ہمیں ست کہ درانجاکہ ہست نباید رفت وازانجاکہ باشد نباید گریخت اگرچہ گریختن دربعض مواضع مثل خانہ کہ دروے زلزلہ شدہ یاآتش گرفتہ یانشستن در زیردیوارے کم خم شدہ نزد غلبہ ظن بہلاک آمدہ است امادرباب طاعون جزصبر نیامدہ مگرگریختن تجویزنیافتہ وقیاس ایں برآں مردود وفاسد است کہ آنہا از قبیل اسباب عادیہ اند وایں از اسباب وہمی وبرہر تقدیرگریختن ازانجاجائزنیست وہیچ جا وارد نشدہ وہرکہ بگریز وعاصی ومرتکب کبیرہ ومردودست نسأل اﷲ العافیۃ۴؎۔
وباء میں قاعدہ کلیہ یہ ہےکہ جہاں ہو (یعنی جہاں وباء پھوٹ پڑے) وہاں نہ جائے اور جس جگہ بندہ موجود ہو اور وہاں وباء کی صورت بن جائے تو وہاں سے نہ بھاگے اگرچہ بعض مقامات مثلاً وہ گھر جوزلزلے کاشکار ہورہاہو یاجس میں آگ لگ گئی ہو یاگرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہو تو ان تمام مقامات سے ہلاکت کے غالب گمان وامکان کے پیش نظر بھاگ جانے کی اجازت ہے۔ لیکن طاعون کے باب میں سوائے صبر کےکچھ نہیں کرناچاہئے، لہٰذا وہاں سے بھاگنے کی تجویز نہیں دی گئی۔ پس اس کو اس پرقیاس کرنامردود اورفاسد ہے کہ وہ اسباب عادیہ کے قبیل سے ہے اور یہ اسباب توہم سے ہے بہرحال اس جگہ سے بھاگناجائزنہیں اور یہ کسی جگہ وارد نہیں ہوا، لہٰذا جوکوئی (اس سے) بھاگے توگناہگار ہوگا اور مرتکب کبیرہ اور مردود ہوگا۔ ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت چاہتے ہیں۔(ت)
 (۴؎ اشعۃ المعات شرح المشکوٰۃ     کتاب الجنائز     باب عیادۃ المریض     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ /۶۳۹)
شرح مشکوٰۃ علامہ طیبی میں زیرحدیث مذکور ہے :
شبہ بہ ای  بالفرار  من الزحف فی ارتکاب  الکبیرۃ  ۱؎۔
جنگ سے بھاگ جانے کے ساتھ طاعون سے بھاگ جانے کو تشبیہ ارتکاب کبیرہ کی وجہ دی گئی(ت)
(۱؎ شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الجنائز   عیادۃ المریض     ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۲۲)
شرح مؤطا میں ہے :
قال ابن خزیمۃ انہ من الکبائر التی یعاقب اﷲ تعالٰی علیھا ان لم یعف۲؎۔ محدث ابن خزیمہ نے فرمایا : طاعون سے بھاگ جانا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ جن پر اﷲ تعالٰی عذاب دیتاہے جبکہ وہ معاف نہ فرمائے۔(ت)
(۲؎ شرح الزرقانی مؤطا الامام مالک     باب ماجاء فی الطاعون     تحت حدیث ۱۷۲۲    دارالمعرفۃ بیروت     ۴ /۲۴۲)
صغیرہ پراصرار اسے کبیرہ کردیتاہے اور کبیرہ پر اصرار اور سخت ترکبیرہ۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاصغیرۃ مع الاصرار۔ رواہ فی مسند۳؎ الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
کوئی گناہ اصرار کے بعد صغیرہ نہیں رہتا (محدث دیلمی نے مسندالفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس  رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۳؎ الفردوس بمأثور الخطاب         حدیث ۷۹۴۴    عن ابن عباس دارالکتب العلمیہ بیروت     ۵ /۱۹۹)
فرار کی ترغیب دینے والا فرارکرنے والے سے اشد وبال میں ہے نفس گناہ میں احکام الٰہیہ سے معارضہ ومخالفت کی وہ شان نہیں جوبرعکس حکم شرع نہی عن المعروف وامربالمنکر میں ہے۔

 اﷲ عزوجل فرماتاہے :
المنٰفقون والمنٰفقٰت بعض یامرون بالمنکر وینھون عن المعروف۴؎ الی قولہ عزوجل والمؤمنون والمؤمنات بعضھم اولیاء بعض یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر۱؎۔
منافق مرد اور منافق عوتیں آپس میں ایک ہیں برائی کاحکم دیتے اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں دینی بات پر ایک دوسرے کے مددگار ہیں بھلائی کاحکم دیتے اوربرائی سے روکتے ہیں۔
 (۴؎ القرآن الکریم         ۹ /۶۷)	(۱؎ القرآن الکریم     ۹ /۷۱)
گنہگار اپنی جان کوگرفتار عذاب کرتاہے اور گناہ کی ترغیب دینے والا خود عذاب میں پڑا اور دوسرے کو بھی عذاب میں ڈالناچاہتاہے جتنے اس کی بات پرچلتے ہیں سب کاوبال اُن سب پر اور اُن کے برابر اس اکیلے پرہوتاہے،
 رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من اتبعہ لاینقص ذٰلک م اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من اتبعہ لاینقص ذٰلک من اٰثامھم شیئا۔ رواہ الائمۃ احمد۲؎ والستۃ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جوسیدھے راستے کی طرف بلائے جتنے اس کی پیروی کریں سب کے برابرثواب پائے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو، اور جوگمراہی کی طرف بلائے جتنے اس کے کہے پرچلیں سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو(ائمہ کرام مثلاً امام احمد نے اور بخاری کے علاوہ ائمہ ستہ (مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور نسائی ) نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
 (۲؎ مسنداحمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۹۷)

(صحیح مسلم         کتاب العلم     باب من سنّ سنۃ حسنۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/۳۴۱)

(سنن ابی داؤد         کتاب السنۃ ۲ /۲۷۹ و جامع الترمذی     ابواب العلم     ۲ /۹۲)

(سنن ابن ماجہ         باب من سنّ سنۃ الخ     ص۹۱)
اور جب طاعون سے فرارکبیرہ ہے تو لوگوں کو اس کی ترغیب دینی سخت ترکبیرہ، اور دونوں فاسق ہیں، اور غالباً اعلان بھی نقد وقت اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی۔

 غنیہ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون۳؎۔
اگرلوگ فاسق کو (امامت کے لئے) آگے کریں تو سب گناہگار ہوں گے۔(ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلّی     فصل فی الامامۃ وفیہا مباحث     سہیل اکیڈمی لاہور     ص۵۱۳)
ردالمحتار میں ہے :
فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال بل مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لماذکرنا ۱؎۔
اس لئے کہ اس کو امامت کے لئے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پرشرعاً اس کی توہین وتذلیل واجب ہے لہٰذا وہ بدعتی کی طرح ہے ہرحال میں اس کی امامت مکروہ ہے بلکہ شرح منیہ میں یہ بیان کیاگیاکہ اس کے آگے کرنے میں جو کراہت ہے وہ کراہت تحریمی ہے اس وجہ سے جوہم نے بیان کردی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الصلٰوۃ     باب الامامۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت  ۱ /۳۷۶)
طاعون سے فرار کو جو احسن سمجھتاہے اگرجاہل ہے اور اسے معلوم نہیں کہ احادیث صحیحہ اس کی تحریم میں وارد ہیں اسے تفہیم کی جائے اور اگردانستہ حدیثوں کا انکار کرتاہے تو صریح گمراہ ہے۔

 شرح موطاللعلامۃ الزرقانی میں زیرحدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ دربارہ طاعون ہے :
فیہ دلیل قوی علی وجوب العمل بخبر الواحد لانہ کان بمحضر جمع عظیم من الصحابۃ فلم یقولوا لعبدالرحمٰن انت واحد وانما یجب قبول خبرالکافۃ، مااضل من قال بھذا واﷲ تعالٰی یقول ان جاءکم فاسق بنبا فتبیّنوا وقرئ فتثبتوا فلوکان العدل اذاجاء بنبأ تثبت فی خبرہ ولم ینفذ لاستوی مع الفاسق وھذا خلاف القراٰن ام نجعل المتقین کالفجار قالہ ابن عبدالبر۲؎۔
اس میں قوی دلیل ہے کہ خبرواحد پرعمل کرنا واجب ہے (کیونکہ عبدالرحمن ابن عوف کاحدیث طاعون بیان فرمانا) صحابہ کرام کی ایک عظیم جماعت کی موجودگی میں تھا، پھر کسی نے حضرت عبدالرحمن سے یہ نہیں کہا کہ تم ایک اکیلے بیان کررہے ہو(لہٰذا تمہارے اکیلے پن کے باعث تمہاری بات پراعتماد نہیں کیاجاسکتا) لہٰذا پوری جماعت کی خبرقبول کرنا واجب اور ضروری ہے، پس جس کسی نے یہ کہا وہ کس قدر بھٹک گیا، اور اﷲ تعالٰی ارشاد فرماتاہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبرلائے تو خوب تحقیق کرلیاکرو، اور یوں بھی پڑھاگیا فتثبتوا یعنی ثابت قدم اور مضبوط ہوجایاکرو(یعنی اس کی خبر میں توقف کیاکرو تاکہ پتہ چل جائے) پھر اگر کوئی عادل خبرلائے تو تو اس خبر میں ثابت قدم رہے لیکن اس کی خبر نافذ نہ ہو تو وہ فاسق (غیرمعتبر) کے ساتھ برابرہوجائے گا حالانکہ یہ بات نص قرآن کے خلاف ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے : ''کیاہم پرہیزگاروں کوفاجروں کے برابر کردیں گے؟'' چنانچہ علامہ ابن عبدالبرنے یہی فرمایاہے۔(ت)
 (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک   باب ماجاء فی الطاعون     دارالمعرفۃ بیروت     ۴ /۲۳۸)
Flag Counter