| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
تیسرالماعون للسکن فی الطاعون(۱۳۲۵ھ) (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط
مسئلہ ۸۵ تا ۹۳ : ازقصبہ نگرام ضلع لکھنو مرسلہ مولوی محمدنفیس صاحب ولد جناب محمد ادریس صاحب ۶صفر۱۳۲۵ھ علمائے شریعت محمدیہ کا مسائل ذیل میں کیاحکم ہے : (۱) طاعون کے خوف سے مقام خوف سے فرارکرنا کیساہے؟ (۲) درصورت جوازفرار، حدیث فرار عن الطاعون (جوبخاری میں عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے) کے کیامعنی ہوں گے؟ (۳) درصورت عدم جواز، فرار عن الطاعون کس درجے کی معصیت ہے، کبیرہ یاصغیرہ؟ (۴)گناہ کبیرہ یاصغیرہ پراصرار کرنے والا شرعاً کیساہے؟ (۵) طاعون سے جان کے خوف سے فرار کرنے والے یافرار کی ترغیب دینے والے کے پیچھے نمازپڑھنا کیساہے؟ (۶) درصورت عدم جواز فرار عن الطاعون، سے فرارکرنے والا اور ترغیب دینے والا ایک درجہ میں معصیت کے مرتکب ہوں گے یاکم زیادہ؟ (۷) مسمّی ناقل، طاعون سے فرار کو بمقابلہئ حدیث حرمت فرار عن الطاعون، جائزہی نہیں بلکہ بلادلیل شرعی احسن سمجھتاہے شرعاً وہ کیساہے؟ (۸)بمقابلہ حدیث صحیح کے کسی صحابی کا قول یا فعل جومخالف حدیث صحیح کے ہو کیا اصول احکام شریعت کے اعتبار سے قابل تقلید یاعمل ہوگا، قولی حدیث کے مقابلہ میں کیاصحابی کے فعل کو ترجیح دی جائے گی؟ (۹)بخیال حفظ صحت بخوف طاعون طاعونی آبادی سے فرار کرکے اسی کے مضافات میں یعنی آبادی سے کم وبیش ایک میل کے ایسے فاصلے پرچلاجانا جوآبادی کے اکثر ضروریات کوپوری کرتا ہو جس کو فنا کہتے ہیں کیاداخل فرارعن الطاعون ہوگا جس کی ممانعت وحرمت حدیث عبدالرحمن بن عوف سے جوبخاری جلد رابع باب مایذکر فی الطاعون میں مروی ثابت ہے، اگر یہ خروج داخل فرار عن الطاعون ہوگا تو کیوں، جبکہ بخاری جلد رابع باب اجرالصابر فی الطاعون میں حضرت عائشہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ اگر کسی کے گاؤں میں طاعون ہو اور وہ اپنے شہرمیں استقلال سے ٹھہرارہے تو اس کو اجرشہید کاہوگا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمن بن عوف کی حدیث میں شہرطاعون سے فرار کی ممانعت ہے نہ یہ کہ شہر طاعون کے اندرخروج نہ کیاجائے کیونکہ اگر شہر کے اندربھی خروج کی ممانعت ہوتی تو حدیث عائشہ میں صرف استقلال فی البلد سے اجرشہادت نہ ہوتا بلکہ استقلال فی البیت سے ہوتا، اور فنا میں نمازجمعہ کی اجازت سے معلوم ہوتا ہے کہ فنائے شہربھی شہرہے پس شہرمیں خروج کرنا کیونکر داخل فرارہوگا کیونکہ بدلیل اجازت جمعہ درفنائے شہر شہر ثابت ہوچکاہے اور فحوائے حدیث عائشہ سے شہر کے اندرخروج کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی اور اگر یہ خروج میں داخل نہ ہوگا تو کیوں؟ جبکہ مسافر کو موضع اقامت کی عمارات سے نکلنے پرفوراً قصرواجب ہوجاتاہے جیسا کہ کتب فقہ سے ثابت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ شہر کااطلاق محض عمارات پرہوتاہے نہ کہ فنائے عمارات پر، اور اس صورت میں حدیث عائشہ کایہ مفہوم ہوگا کہ شہر کی عمارات سے خروج نہ کیاجائے۔ پس احد الامرین کے اختیارکرنے سے دوسرے کا کیاجواب ہوگا، حدیث عائشہ کاصحیح مفہوم کیاہوگا، صورت اول یا آخر، ہرایک سوال کا جواب نمبروار مدلل ومفصل مع حوالہ کتب عنایت فرمائیے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم الحمدﷲ الذی حمدہ للنجاۃ من البلایاخیر ماعون ÷ وافضل الصلٰوۃ والسلام علی من جعلت شھادۃ امتہ فی الطعن والطاعون÷ وعلٰی اٰلہ وصحبہ الذین ھم لاماناتھم وعھدھم راعون÷ فلایفرون اذا لاقوا وھم فی اعلاء کلمۃ اﷲ ساعون÷ وﷲ ورسولہ طواعون، الی المعروف داعون÷ وعن المنکر مناعون÷
اﷲتعالٰی کے بابرکت نام سے شروع جونہایت رحم کرنے وبے حدمہربان ہے، تمام خوبیاں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں کہ جس کی تعریف مصائب سے چھڑانے کے لئے زیادہ مفیدہے۔ افضل درودوسلام اس ہستی پر کہ جس کی امت کی گواہی (بطورسند) طعن اور طاعون میں رکھی گئی اور اس کی تمام آل اور تمام صحابہ پرجواپنی امانتوں اور عہد کی رعایت کرنے والے ہیں اور وہ بھاگتے نہیں جبکہ دشمن سے ان کا آمنا سامنا ہو اور وہ اﷲ کے کلمے کو بلند کرنے میں کوشاں رہتے ہیں اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول کے بہت فرمانبردار ہیں اور بھلائی کی دعوت دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہیں۔(ت)
طاعون سے فرار گناہ کبیرہ ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الفار من الطاعون کالفار من الزحف۔ رواہ الامام احمد۱؎ بسند حسن والترمذی وقال حسن غریب وابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما والبزار والطبرانی وعبدبن حمید عن جابر بن عبداﷲ واحمد بسند صحیح وابن سعد وابویعلٰی والطبرانی فی الکبیر وفی الاوسط وابونعیم فی فوائد ابی بکربن خلاد عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسے جہاد میں کافروں کے مقابلے سے بھاگ جانے والا۔ (امام احمد نے سندحسن سے اور امام ترمذی نے اس کو روایت کیااور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحاح میں اس کو روایت کیاہے۔ بزار، طبرانی اور عبد بن حمیدنے حضرت جابر بن عبداﷲ کے حوالے سے، نیز امام احمد نے سندحسن سے، ابن سعد، ابویعلٰی اور طبرانی نے الکبیر اور الاوسط میں اور ابونعیم نے ابوبکر بن خلاد کے فوائد میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ مسندامام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۸۲،۱۴۵،۲۵۵) (الزواجر عن اقتراف الکبائر الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمأتہ دارالفکر بیروت ۲ /۸۸۔۲۸۷)
اور اﷲ عزوجل جہاد میں کفّار کوپیٹھ دے کربھاگنے والے کی نسبت فرماتا ہے :
فقد باء بغضب من اﷲ وماوٰہ جہنم وبئس المصیر o۱؎
وہ بیشک اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جائے بازگشت ہے۔
(۱؎القرآن الکریم ۸ /۱۶)
امام ابن حجر مکی زواجر عن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں :
الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلثمائۃ الفرار من الطاعون ۲؎۔
تین سوکبیرہ گناہوں کے بعد ننانوے نمبر پرطاعون سے بھاگنا کبیرہ گناہ ہے۔(ت)
(۲؎ الزواجر لابن حجر مکی الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲ /۲۸۵)
اسی میں بعد ذکرحدیث مذکور بتخریج ترمذی وابن حبان وغیرہما فرمایا :
القصد بھٰذا التشبیہ انما ھو زجرالفار والتغلیظ علیہ حتی ینزجرولایتم ذٰلک الا ان کان کبیرۃ کالفرار من الزحف۔۳؎
اس تشبیہ سے مقصود طاعون سے بھاگنے والے کی سرزنش اور اس پرسختی کرناہے تاکہ وہ اس سے باز آجائے، اور یہ بات اس کے کبیرہ گناہ ہونے کے بغیرپوری نہیں ہوسکتی جیسے جنگ سے بھاگنا۔(ت)
(۳؎الزواجر لابن حجر مکی الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲ /۲۸۸)