| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
علامہ موصوف نے فرمایا اس کی صحت پر جو کچھ ہم نے بیان کیا حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہ ارشاد دلالت کرتاہے کہ لوٹ جاؤ ہم نے تمہیں (زبانی) بیعت کرلیاہے، اور آپ کایہ ارشاد ''اﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے (میرے ساتھ) کھاؤ'' پس ان دوحدیثوں میں موافقت کی اس طریقہ کے سوا اورکوئی صورت نہیں (اور وہ یہ ہے کہ) پہلی حدیث میں اسباب ہلاکت سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی اور دوسری میں اسباب کوچھوڑ کر محض اﷲ تعالٰی پربھروسہ اورتوکل کرنے کاطریقہ سکھایاگیاہے وہ اﷲ تعالٰی کہ جس کی بزرگی بہت بڑی ہے اور اس کے بغیر کوئی اور معبودبرحق نہیں، اور وہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاایک خصوصی حال ہےاھ یعنی تورپشتی کاکلام مکمل ہوگیا۔ ملاعلی قاری نے فرمایا وہ ایک خوبصورت انتہائی تحقیقی کام جمع ہے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے اقول: (میں کہتاہوں) اﷲ تعالٰی تم پررحم فرمائے تم نے توکشادہ کوتنگ کرڈالا اور اس میں رکاوٹ ڈال دی بلاشبہہ ایسی جمع ظاہر اور واضح ہے جو صاف، شفاف، روشن اور چمکدار ہے او رہم نے پہلے ہی اس کی وجوہ ترجیح بیان کردی ہیں، رہی وہ جمع جس کایہاں ذکرکیاگیا تو اس میں وہ کچھ ہے جو ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیاکیونکہ اسباب ہلاکت سے بچنا سب لوگوں پرواجب ہے لہٰذا اس سے خواص مستثنٰی نہیں اور توکل ترک اسباب اور ان پر جرأت کرنانہیں اور نہ وہ حکمت کے خلاف ہے بلکہ اسباب کو دل سے نکال دینا اور فائدہ بخش چیز کو لینا اور ضرررساں امو رسے بچنا اور نگاہ کو صرف اﷲ تعالٰی جل وعلا (جومسبب الاسباب ہے) پر روک رکھنا اس کی قیود کو ملحوظ رکھنا توکل علی اﷲ ہے پھر ملاعلی قاری نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد گرامی ''مجذوم سے بھاگو'' کے ذیل میں فرمایا بلاشبہہ پہلے گزرچکاہے کہ یہ کمزوروں کے لئے رخصت ہے جبکہ قوی حضرات کے لئے اس کا چھوڑنا جائزہے اس بناپر کہ مرض جذام متعدی امراض میں سے ہے الخ اقول: (میں کہتاہوں) نفی اور اثبات کرنے والوں کے کلمات اس پرمتفق ہیں کہ بچنے اور پرہیزکرنے کا حکم ضعیف الاعتقاد لوگوں کے لئے ہے اور حدیث ''اﷲ تعالٰی پراعتماد وبھروسہ رکھتے ہوئے کھاؤ'' اور ''صاحب مصیبت کے ساتھ کھاؤ پیو'' ان دوحدیثوں اور ان جیسی دیگر حدیثوں کابیان کاملین کے لئے ہے۔ چنانچہ مقاصد حسنہ، تیسیر اور ان دو کے علاوہ دیگرکتب میں اس بات کی تصریح کردی گئی ہے او ریہ بھی نفی کرنے والوں کے قول کی صحت پر پہلی دلیل ہے کیونکہ عادی اسباب میں قوی اور ضعیف برابر اورمساوی ہوتے ہیں لہٰذا اثبات کرنے والوں کے قول سے یہ موافقت اور مطابقت واضح ہے کیونکہ ان کے نزدیک تودرحقیقت کسی مرض میں تعدیہ ہے ہی نہیں، ہاں البتہ اس بات کاخطرہ واندیشہ رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص تقدیرالٰہی کی بناپر مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے تعدیہ کا وہم ہوجائے گا۔ (رہا ان حضرات کامعاملہ) جو سچے مومن اور اپنے پروردگار پرکامل یقین وبھروسہ رکھتے ہیں تو ان سے اس قسم کا خوف اور خدشہ نہیں۔ اﷲ تعالٰی اپنے فضل ورحمت سے جو ان پرہے ہمیں بھی نوازے اور ان لوگوں میں شامل فرمائے،آمین!(ت)
عہ: کذا فی نسختی المرقاۃ وعلیہ فالضمیر لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اما کلام التورپشتی فھکذا بعد قولہ متارکۃ الاسباب یثبت بالاول التعرض للاسباب وھو سنۃ وبالثانی ترک الاسباب وھو حالۃاھ فالحالۃ بتاء التانیث لابھاء الضمیر۱۲منہ۔ میرے پاس جومرقاۃ کانسخہ ہے اس میں عبارت اسی طرح درج ہے پس اس کی بنا پر حالہ کی ضمیرحضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف لوٹتی ہے، رہاتورپشتی کاکلام تو وہ اس کے قول متارکۃ الاسباب کے بعد اس طرح ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس حدیث اول سے اسباب کا استعمال ثابت ہوا اور وہ سنت ہے جبکہ دوسری حدیث سے ترک اسباب کاثبوت ملا اور وہ ایک حالت ہے اھ، پس لفظ حالۃ صرف ''تا'' تانیث کے ساتھ ہے نہ کہ ''ہ'' ضمیر کے ساتھ ۱۲منہ۔ (ت)
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳) (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۵)
بالجملہ مذہب معتمد وصحیح ورجیح ونجیح یہ ہے کہ جذام، کھجلی، چیچک، طاعون وغیرہا اصلاً کوئی بیماری ایک کی دوسرے کو ہرگز ہرگز اُڑ کرنہیں لگتی، یہ محض اوہام بے اصل ہیں کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہوجاتا ہے کہ ارشاد ہوا ہے: انا عند ظن عبدی بی۱؎(میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے پاس ہوتاہوں۔ت) وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اسی کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑکرظاہرہوگئی۔
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۵)
فیض القدیر میں ہے:
بل الوھم وحدہ من اکبراسباب الاصابۃ۲؎۔
بلکہ اکیلا وہم، اسباب رسائی میں سے سب سے بڑاسبب ہے۔(ت)
(۲؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۷)
اس لئے اور نیزکراہت واذیت وخودبینی وتحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور نیز اس دوراندیشی سے کہ مبادا اسے کچھ پیداہو اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اُڑ کرلگ گئی اور اب معاذاﷲ اس امر کی حقانیت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باطل فرماچکے یہ اس مرض سے بھی بدترمرض ہوگا ان وجوہ سے شرع حکیم ورحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کوحکم استحبابی دیاہے کہ اس سے دور رہیں۔ اور کامل ایمان بندگان خدا کے لئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاک ہیں۔ خوب سمجھ لیاجائے کہ دور ہونے کاحکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذاﷲ بیماری اُڑ کر لگ جائے گی، اسے تو اﷲ ورسول رَد فرماچکے جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ اقول: (میں کہتاہوں) پھر ازانجاکہ یہ حکم ایک احتیاطی استحبابی ہے واجب نہیں، کماقدمنا عن النووی عن القاضی عن جمہور العلماء(جیسا کہ امام نووی بواسطہ قاضی عیاض ہم جمہور علماء کا قول پہلے بیان کرآئے ہیں۔ت) ہرگز کسی واجب شرعی کامعارضہ نہ کرے گا مثلاً معاذاﷲ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد واقارب وزوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دوربھاگیں اور اسے تنہاوضائع چھوڑدیں یہ ہرگز حلال نہیں بلکہ زوجہ ہرگز اسے ہمبستری سے بھی منع نہیں کرسکتی، ولہٰذا ہمارے شیخین مذہب امام اعظم وامام ابویوسف رضی اﷲتعالٰی عنہما کے نزدیک جذام شوہر سے عورت کو درخواست فسخ نکاح کااختیارنہیں، اور خداترس بندے تو ہربیکس بے یار کی اعانت اپنے ذمہ لازم سمجھتے ہیں۔ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ اﷲ فی من لیس لہ الا اﷲ۔ رواہ ابن عدی۱؎عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲ سے ڈرو اس کے بارے میں جس کاکوئی نہیں سوا اﷲ کے۔ (محدث ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن عدی عن ابی ہریرۃ حرف الہمزہ رشدین حدیث ۵۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۷۳)
لاجرم امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: اما الثانی (ای قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرّ من المجذوم) فظاھرہ غیرمراد للاتفاق علی اباحۃ القرب منہ ویثاب بخدمتہ وتمریضہ وعلی القیام بمصالحہ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(لیکن دوسری حدیث یعنی حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد '' مجذوم سے بھاگو'') تو اس کا ظاہرمراد نہیں، یعنی علماء کااتفاق ہے کہ مجذوم کے پاس اُٹھنا بیٹھنا مباح ہے اور اس کی خدمت گزاری وتیمارداری موجب ثواب۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ فتح القدیر باب العنین وغیرہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۱۳۳)
واذ خرجت المقالۃ فی صورۃ رسالۃ ناسب ان نسمھا الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی، والحمدﷲ علی ماانعم وعلم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیّدنا ومولانا محمّد واٰلہٖ وصحبہٖ وسلّم۔
اچانک مقالہ رسالہ کی شکل میں ظاہر ہوا لہٰذا مناسب ہے کہ ہم اس کانام الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی رکھیں(یعنی مصیبت زدہ کاحکم بیان کرنے میں بالکل واضح اور روشن حق) سب تعریف اس اﷲ تعالٰی کے لئے ہے جس نے انعام فرمایا اور علم سکھایا، درودوسلام ہو ہمارے آقاومولٰی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر اور اُن کی آل اور اصحاب پر۔(ت)
رسالہ الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی
ختم ہوا