| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
ثانیاً یاسبحٰن اﷲ من این جاء ظن التاثیر بالطبع الیس قد نھی الشارع عن اقتحام اسباب الھلاک واسرع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حین مربھدف مائل فھل فیہ فتح باب ظن انھا تؤثر بذاتھا،
ثانیاً اے اﷲ پاک تاثیر طبعی کاگمان کہاں سے آگیا۔ کیاشارع نے اسباب ہلاکت میں گھسنے سے منع نہیں فرمایا، خود حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ایک گرنے والی دیوار کے پاس سے جلدی گزرے تو کیا اس میں بابِ ظن کھلتا ہے کہ تعدیہ مرض بالذات موثرہوتاہے۔
قال وعلٰی کل تقدیر فلادلالۃ اصلا علی نفی العدوی مبنیاً واﷲ تعالٰی اعلم ۱؎ اقول: اوّلاً ان لم یدل نفی الجنس والنکرۃ الداخلۃ فی خیرالنفی علی عموم النفی فماذا یدل بل لادلالۃ علی تخصیص النفی بکونھا بالطبع، واﷲ تعالٰی اعلم، وثانیا لم یظھر لی معنی قولہ علی کل تقدیر فان علی تقدیر تعمیم النفی الدلالۃ علیہ فی غایۃ الظہور فلیتأمل،
علامہ موصوف نے فرمایا بہرتقدیر عدوٰی کے سبب ہونے کی نفی پراصلاً کوئی دلالت نہیں اور اﷲ تعالٰی بخوبی سب کچھ جانتاہے۔ اقول: (میں کہتاہوں) اولاً اگرنفی جنس اور نکرہ جو محل نفی میں داخل ہے (اگریہ دونوں) عموم نفی پردلالت نہ کریں توپھرعموم نفی پرکون سی چیز دلالت کرے گی، بلکہ عدوٰی طبعی کی نفی کی تخصیص پرکوئی دلالت نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔ وثانیاً علامہ موصوف کے اس قول ''علٰی کل تقدیر'' کے معنی مجھ پر ظاہر اور واضح نہیں ہوئے، کیونکہ تعمیم نفی کی تقدیر پر تو اس معنی میں بہت واضح اور جلی دلالت موجود ہے پس غورکرو،
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳)
قال قال الشیخ التورپشتی واری القول الثانی اولی التاویلین لمافیہ من التوفیق بین الاحادیث الواردۃ فیہ ۱؎ اقول: اولا التوفیق حاصل علی القول الاول ایضا کما بینا ولعلہ لھذا عدل الطیبی عن ھذا التعلیل الی قولہ اری القول الثانی اولٰی لما فیہ من التوفیق بین الاحادیث والاصول الطبیۃ التی ورد الشرع باعتبارھا علی وجہ لایناقض اصول التوحید۲؎اھ، اقول: لاحاجۃ بنا الی تطبیق الشرع باصول الطب الفلسی بل نؤمن بالشرع ونجری نصوصہ علی ظواھرھا فان وافقھا الطب وغیرہ فذاک والارمینا المخالف بالجدار کائنا ماکان والحمدﷲ رب العٰلمین و اقول: ثانیا بل التوفیق علی القول الاول اظھر وازھر فان منصب النبوۃ اجل من ان یبالغ فی نفی امر حق ھٰذہ المبالغۃ ولایرشد الٰی اثباتہ الابامر محتمل غیر بین وثالثا بل حق التوفیق منحصر فیما اختارہ الجمہور لانہ لیس فیہ صرف شیئ من الاحادیث عن الظاھر و ارتکاب تخصیص من دون ملجیئ ظاھر،
موصوف نے فرمایا شیخ تورپشتی نے کہا میں دوسرے قول کو دو تاویلوں میں سے زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس کو اختیار کرنے سے احادیث واردہ فی الباب میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے اقول: اوّلاً (میں اوّلاً کہتاہوں کہ) قول اول پربھی دونوں میں موافقت موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اور شاید اسی وجہ سے علامہ طیبی نے اس تعلیل سے اس قول کی طرف عدول فرمایا کہ میں دوسرے قول کو زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس میں احادیث واردہ اور قواعد طبیّہ میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے کیونکہ علم طب کے اصول وقواعد کاشریعت نے ایسی وجہ پراعتبار کیاہے کہ وہ اصول توحید کے مناقض اورخلاف نہ ہوں اھ اقول: (میں کہتاہوں) شریعت اور طب فلسفی کے اصول وقواعد میں ہمیں مطابقت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم شریعت پرایمان رکھتے ہیں اور اس کے نصوص کوظاہر پرجاری کرتے ہیں پس اگر طب وغیرہ شرعی اصولوں کی موافقت کرے توٹھیک ہے ورنہ مخالف چیزخواہ کوئی بھی ہو اسے پھینک دیں گے، اور تمام خوبیاں خداکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے اقول: ثانیا (میں دوبارہ کہتاہوں) بلکہ قول اوّل پرموافقت ومطابقت زیادہ ظاہر اور روشن ہے اس لئے کہ مقام نبوت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ کسی امرحق کی نفی میں وہ اس قدرمبالغہ آمیزی کرے جبکہ اس کے اثبات میں صرف ایسے امر سے راہنمائی ہوسکتی ہو جو محتمل غیرواضح ہے۔ وثالثا (تیسری بات) بلکہ حق توفیق اس میں منحصر ہے کہ جس کوجمہور اہل علم نے اختیار فرمایا کیونکہ اس میں احادیث کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیرنا نہیں پڑتا اور اضطرار ظاہری کے بغیرارتکاب تخصیص نہیں کرناپڑتا۔
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳) (۲؎ شرح الطیبی لمشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۱۴)
قال ثم لان القول الاول یفضی الی تعطیل الاصول الطبیۃ ولم یرد الشرع بتعطیلھا بل ورد باثباتھا والعبرۃ بھا علی الوجہ الذی ذکرناہ۱؎ اقول: لانسلم ان الشرع سلم الطب بتفاصیلھا والافاضل الثلثۃ التورپشتی والطیبی والقاری ھم الناقلون کغیرھم ان الاطباء یعتقدون الاعداء فی الطاعون والوباء فلوصدقھم الشرع فی ذٰلک لم یامر بالثبات وعدم الخروج من حیث وقع لکونہ اذ ذاک القاء بالایدی الی التھلکۃ ولم یجعل الفارمنہ کالفار من الزحف بل کان کالفار من جدار یرید ان ینقض مع ان ھذا الامر متواتر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد وعد علیہ الاجرالعظیم فعلم ان مزعومھم ھذا باطل عندالشرع وانما نھی عن الدخول علیہ کما امر بالفرار من المجذوم لانہ عسی ان یدخل فیبتلی بالقدر فیقول اُعدیت اویقول لولاالدخول لما ابتلیت ومثل ''لو'' ھذہ تفتح عمل الشیطان والعیاذباﷲ تعالٰی،
علامہ موصوف نے فرمایا اس لئے کہ قول اول اصول طبیہ کے معطل کردینے تک پہنچادیتاہے حالانکہ شریعت میں ان کاتعطل وارد نہیں بلکہ ان کا اثبات وارد ہے ان کا اعتبار اس طریقے پر ہوسکتاہے جس کو ہم نے بیان کردیاہے اقول: (میں کہتاہوں) ہم یہ نہیں مانتے کہ شریعت نے علم طب کی تمام تفصیلات کوتسلیم کیاہے تین فضلاء تورپشتی طیبی اور ملاعلی قاری تو دوسروں کی طرح ناقل ہیں کہ اطباء طاعون اور وبا میں تعدیہ کااعتقاد رکھتے ہیں اگر شریعت اس بارے میں ان کی تصدیق کرتی تو پھرجہاں طاعون واقع ہوجائے، وہاں لوگوں کو ٹھہرنے اور کہیں باہرنہ جانے کاحکم نہ دیتی کیونکہ پھر تو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہوتا، اور طاعون سے بھاگنے والے کو جنگ سے بھاگنے والے کی طرح قرار نہ دیتی بلکہ وہ گرنے والی دیوار کے پاس سے بعجلت گزرنے کی طرح ہوتاباوجودیکہ یہ حکم آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر منقول ہے اور اس پراجرعظیم کاوعدہ فرمایاگیاہے، پس معلوم ہوا کہ شریعت میں ان کا یہ خیال باطل ہے لہٰذا جہاں طاعون پھوٹ پڑے وہاں اسی طرح جانا منع ہے جس طرح جذامی کے پاس جانا ممنوع ہے اور اس سے بھاگنے کاحکم ہے اس لئے کہ اگر وہاں جانے کی صورت میں بقضاء وقدر مبتلائے مصیبت ہوگیا تو کہنے لگے گا کہ مجھ پر تعدیہ مرض ہوگیا یایوں کہنے لگے گا کہ اگروہاں نہ جاتا تو مبتلائے مرض نہ ہوتا، اور یہ حرفِ ''لو'' شیطانی عمل کادروازہ کھولتاہے، اﷲ تعالٰی کی پناہ۔
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳)
قال ویدل علٰی صحۃ ماذکرنا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدبایعناک فارجع وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل ثقۃ باﷲ ولاسبیل الی التوفیق بین ھٰذین الحدیثین الامن ھذاالوجہ، بین بالاول التوقی من اسباب التلف، وبالثانی التوکل علی اﷲ جل جلالہ ولاالٰہ غیرہ فی متارکۃ الاسباب وھوحالہ(عہ) اھ(ای کلام التورپشتی قال القاری) ھو جمع حسن فی غایۃ التحقیق واﷲ ولی التوفیق۱؎ اقول: رحمک اﷲ لقد حجرت واسعا فقد بان وظھر جمع صاف شاف لمع وزھر وقدمنا وجوہ ترجیحہ وماذکر من الجمع ففیہ مافیہ کمااسلفنا، فان التوقی من اسباب التلف واجب علی الناس جمیعا لایستثنٰی من الخواص ولیس التوکل ترک الاسباب ولامضادۃ الحکمۃ ولاالاجتراء علیھا بل اخراج الاسباب عن القلب مع تعاطی النافع وتحاصی الضار وقصر النظر علی المسبب جل وعلا قیدھا وتوکل علی اﷲ، ثم قال القاری تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفرّ من المجذوم وقد تقدم ان ھذا رخصۃ للضعفاء وترکہ جائز للاقویاء بناء علی ان الجذام من الامراض المعدیۃ۱؎ الخ اقول: اری کلمات النافین والمثبتین جمیعا مطبقۃ علی ان الامر بالتوقی لضعفاء الیقین وحدیث کل ثقۃ باﷲ وکل مع صاحب البلاء وامثالھما للکاملین صرح بہ ایضا فی المقاصد الحسنۃ والتیسیر وغیرھما وھذا ایضا من اول دلیل علی صحۃ قول النفاۃ فان الاسباب العادیۃ یستوی فیھا الاقویاء والضعفاء فلایلتئم ھذا علی قول المثبتین اما علی قول النفاۃ واضح انہ لاعدوی حقیقۃ وانما الخشیۃ ان یتوھمھا من ابتلی بقدروھذا لایخشی منہ علی الذین اٰمنوا وعلی ربھم یتوکلّون جعلنا اﷲ تعالٰی منھم بفضل رحمتہ بھم اٰمین!