Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
50 - 160
قال ویشیر الی ھذا المعنی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ''فمن اعدی الاول''ای ان کنتم ترون ان السبب فی ذٰلک العدوی لاغیرفمن اعدی الاول،  اقول:  اوّلاً بون بیّن بین ان یعتقدوا العلل موثرۃ فی العدوی وان یعتقدوا العدوی ھی الموثرۃ وحدھا والثابت عنھم ذٰلک لاھذا وقد وقع مثل ھذا للمناوی فی التیسیر فقال ھو من الاجوبۃ المسکتۃ اذ لو جلبت الادواء بعضھا بعضا لزم فقد الدواء الاول لفقد الجالب ۱؎ اھ وانت تعلم انہ غیر لازم اصلا مالم یقولوا بالسبب عند سلب الجلب ولیس ھذا زعمھم ولالازم زعمھم والرجیح الفصیح فی تفسیر الحدیث ماقدمت والیہ جنح الامام الطحاوی کما علمت ذکرہ بلسان المتکلم الامام العینی فی شرح البخاری فقال ای من اجرب البعیر الاول یعنی ممن سری الیہ الجرب فان قلت من بعیر اٰخر یلزم التسلسل وان قلت بسبب اٰخر فعلیک بیانہ وان قلت ان الذی فعلہ فی الاول ھوالذی فعلہ فی الثانی ثبت المدعی وھو ان الذی فعل فی الجمیع ذٰلک ھواﷲ الخالق القادر علی کل شیئ وھذا جواب من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غایۃ البلاغۃ والرشاقۃ ۱؎ اھ
علامہ موصوف نے فرمایا اور اسی معنی کی طرف حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد فمن اعدی الاوّل یعنی پہلے آدمی تک کس سے مرض پہنچا یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس میں سبب مرض تعدیہ ہے تو پہلے مریض تک کیسے تعدیہ ہوا،  اقول:  اولاً (میں اولاً کہتاہوں) دونوں میں فرق ظاہر اور واضح ہے وہ یہ کہ تعدیہ میں علل کے مؤثر ہونے کا اعتقاد رکھیں اور صرف تعدیہ ہی کو مؤثر سمجھیں، پس ان سے پہلی شق ثابت ہے نہ کہ دوسری۔ اسی کی مثل علامہ مناوی سے تیسیر میں مذکورہوا ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ یہ مسکت جوابات میں سے ہے اس لئے کہ اگر امراض میں ایک دوسرے سے کشید ہو توپھر پہلے مریض کا مرض مفقود ہوجاناچاہئے اس لئے کہ اس کے لئے کوئی جالب نہیں اھ تم جانتے ہو کہ یہ قطعاً لازم نہیں آتا جب تک وہ سلب جلب کے علاوہ کسی سبب کا قول نہ کریں حالانکہ ان کا یہ خیال (زعم) نہیں اور نہ ان کے زعم سے یہ لازم آتا ہے لہٰذاصحیح، راجح قول وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کردیاہے اور امام طحاوی اسی طرف مائل ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، امام عینی نے شرح بخاری میں متکلم کی زبان میں ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا یعنی پہلے اونٹ کو کس طرح خارش ہوئی، اگر تم کہو کہ دوسرے اونٹ سے، تو تسلسل لازم آئے گا، اگرتم کہو کہ کسی دوسرے سبب سے مرض منتقل ہوا تو اس کابیان تمہارے ذمّے ہے، اگر تم یہ کہو کہ جس نے پہلے کومرض لگایا اسی نے دوسرے کو بھی مرض میں مبتلا کیا، تو پھر اس صورت میں ہمارا دعوٰی ثابت ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ جو سب میں یہ کچھ کرتاہے وہی اﷲ تعالٰی ہے جوخالق ہے ہرچیزپرقادرہے۔ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ جواب انتہائی درجہ بلیغ اور خوب صورت انداز میں سناگیااھ
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب الطب والرقی باب الفال الطیرۃ  الفصل الاول  مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۸/ ۳۴۳)

(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر         تحت حدیث فمن اعدی الاول       مکتبۃ الامام الشافعی الریاض     ۲/ ۱۷۳)
اقول:  کل کلامہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کذٰلک کیف وقداوتی جوامع الکلم ولاحاجۃ فی تفسیر الی ماذکرتم من الشق الثانی فانہ اذا اعترف انہ لیس بالعدوی بل بسبب اٰخر فقد انقطع لثبوت ان للمرض سببا اٰخر فلیکن الثانی ایضا بذٰلک السبب فلم تثبت العدوی لعدم الدلیل علی الدعوی و اقول:  ثانیا علٰی کل فای اشارۃ فی من اعدی الاول الی اثبات العدوی عادۃ لاتاثیرا ،اقول:
(میں کہتاہوں) حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاہرکلام اسی طرح فصیح وبلیغ اور جامع ہے، اور یہ کیونکر نہ ہو جبکہ آپ کو جوامع الکلم یعنی جامع کلمات سے نوازاگیا۔ اور تفسیر میں تمہاری بیان کردہ دوسری شق کی کوئی ضرورت اور حاجت نہیں کیونکہ جب اعتراف ہوگیا کہ یہ اثر عدوٰی سے نہیں بلکہ کسی دوسرے سبب سے ہے توپھربات ہی ختم ہوگئی اس ثبوت کی وجہ سے کہ مرض کاکوئی دوسراسبب ہے تو پھرہوسکتاہے کہ دوسرے مریض کو بھی اسی سبب سے مرض لاحق ہوگیاہو، نتیجہ یہ کہ اس صورت میں تعدیہ مرض (مجذومی) ثابت نہ ہوا کیونکہ اس دعوٰی پرکوئی دلیل موجود نہیں۔ و اقول:  ثانیاً (اور میں ثانیاً کہتاہوں کہ) ہرتقدیر پرمتن اعدی الاول میں کونسااشارہ ہے کہ تعدیہ بطورتاثیر توثابت نہیں ہاں البتہ بطور عادت ثابت ہے۔
 (۱؎ عمدۃ القاری     کتاب الطب     باب لاہامۃ     ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت     ۲۱/ ۲۸۸)
قال وبین بقولہ فرمن المجذوم وبقولہ فرمن المجذوم وبقولہ لایوردن ذوعاھۃ علی مصح ان مداناۃ ذٰلک سبب العلۃ فلیتقہ اتقائہ من الجدار المائل والسفینۃ المعیوبۃ ۱؎  اقول:  فاذن کان یجب التباعد عنہ علی الخواص والعوام وینافیہ ماثبت من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفعل الخلفاء الراشدین وحدیث کل مع صاحب البلاء،
علامہ موصوف نے فرمایا حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے ارشاد ''جذامی سے دوربھاگو'' اورا پنے ارشاد ''مصیبت بیماری والے کسی صحتمند تندرست آدمی کے پاس نہ جائیں'' میں بیان فرمایا کہ اس کا قرب سبب مرض ہے لہٰذا اس سے اس طرح بچے جیسے گرنے والی دیوار اورٹوٹ پھوٹی کشتی سے بچتاہے  اقول:  (میں کہتا ہوں کہ) پھر تو اس سے عوام وخواص سب کو دور رہناچاہئے حالانکہ یہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے فعل کے منافی اور خلاف ہے اور حدیث کل مع صاحب البلاء(صاحب مصیبت کے ساتھ کھانا کھاؤ) کے خلاف ہے۔
قال وقد رد الفرقۃ الاولی علی الثانیۃ فی استدلالھم بالحدیثین ان النھی فیھما انما جاء شفقا علی مباشرۃ احد الامرین فتصیبہ علۃ فی نفسہ اوعاھۃ فی ابلہ فیعتقد ان العدوٰی حق اھ قلت وقد اختارہ العسقلانی فی شرح النخبۃ وبسطنا الکلام معہ فی شرح الشرح ومجملہ انہ یرد علیہ اجتنابہ علیہ الصلٰوۃ والسلام عن المجذوم عند ارادۃ المبایعۃ ۱؎  اقول: قدمرفیہ من الوجوہ مایکفی ویشفی ولایثبت معہا اجتنابہ صلی اﷲ تعالٰی وسلم عنہ بالمعنی الذی رقم، علی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ربما کان یتنزل من مرتبتہ لیستن بہ،
علامہ موصوف نے فرمایا پہلے فرقہ نے دوسرے فرقہ پر دوحدیثوں کے حوالے سے ان کے استدلال کرنے پررَد کیاہے کہ دونوں میں نہی اس شفقت پرمبنی ہے کہ کہیں دو باتوں میں سے ایک سے مباشرت ہوجائے کہ وہ خود بیمار ہوجائے یا اس کے اونٹوں پر کوئی آفت آجائے پھر اس کا یہ اعتقاد ہوجائے کہ تعدیہ مرض حق ہےاھ چنانچہ ابن حجرعسقلانی نے اسے شرح النخبہ میں اختیارکیاہے اور ہم نے شرح الشرح میں پوری تفصیل سے اس بارے میں کلام کیاہے۔ اس کامحمل بیان یہ ہے کہ ان پر یہ اشکال واردہوتاہے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے اس جذامی سے ارادہ بیعت کے وقت اجتناب فرمایا  اقول:  (میں کہتاہوں کہ) اس میں اتنی وجوہات بیان ہوئیں کہ جوکافی وشافی ہیں لہٰذا ان کی موجودگی میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کا اس جذامی سے اجتناب اس معنی میں ثابت نہیں جو تحریرکیاگیا، علاوہ ازیں یہ بات ملحوظ رہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی اپنے مقام رفیع سے تنزل فرماکر کوئی ایسا رویہ بھی اختیار فرماتے ہیں کہ اس سے آپ کی سنت قائم ہو اور اس کی اقتداء کی جائے۔
(۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب الطب والرقی     باب الفال والطیرۃ    الفصل الاول         مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳)
قال مع ان منصب النبوۃ بعید من ان یوردلحسم مادۃ ظن العدوٰی کلاما یکون مادۃ لظنھا ایضا، فان الامر بالتجنب اظھر فی فتح مادۃ ظن ان العدوی لھا تاثیر بالطبع۲؎  اقول:  اولا قدقدمنا فی تقریر کلام النفاۃ السراۃ مایرشدک الی الجواب الم تر ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد نفی العدوی جھارا واعلن بہ مرارا  وقطع عرقہ بقولہ فمن اعدی الاول وقولہ فمن اجرب الاول وقولہ ذٰلکم القدر وقد بلغہ تبلیغا واضحا معروفا عند الکل حتی تواتر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وشاع وذاع ملأ الاسماع والبقاع فایّ مثار لھذا الظن بعد کل ھذا الشدد الشن بیدانہ اذقد ازیدت ھذہ الوسوسۃ من قلوب المؤمنین بقیت خشیۃ انھم لانتفاء ھذا التوھم یخالطون المبتلین ولایتحامونھم وفیھم ضعفاء الیقین بل ھم الاکثرون والشیطان یجری من الانسان مجری الدم وکان امراﷲ قدرا مقدورا فان اصاب احدا شیئ یلقی العدو فی قلبہ ان ھذا للعدوی فیفر ھذا بدینہ اشد مما کان یفرلولم یعلم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدنفاھا، فحملتہ رحمتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من رؤف بالمومنین رحیم ان نھاھم عن المخالطۃ اذ بدونھا ان حدث شیئ والعیاذ باﷲ تعالٰی لایحدث فساد اعتقاد و اذا کان الامر فی ھذا الباب کما وصفنا لک فھل کان لسد ھذا الباب طریق غیرھذا الطریق الانیق الذی سلکہ الحکیم الرحیم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واذا کان الامر بالتجنب عندکم شفقا علی ابدانھم فما لکم لاتجیزونہ شفقا علی ایمانھم علیک بالانصاب،
علامہ موصوف نے فرمایا اس کے باوجود منصب نبوت سے بعید ہے کہ وہ ظن عدوٰی کے مادہ کوقطع کرنے کے لئے ایسا کلام فرمائیں جوخود ظن عدوٰی کے لئے مادہ بن جائے کیونکہ عدوٰی سے بچنے کاحکم دینا خود مادہ ظن کے انکشاف کوزیادہ کرتاہے کہ عدوٰی کے لئے طبعی تاثیر ہے  اقول:  (میں کہتاہوں) اوّلاً بیشک ہم نے نفی کرنے والے افتخار کرنے والے اکابرین کی تقریر کلام میں جو کچھ بیان کیاہے وہ تمہارے لئے جواب کی راہنمائی اور نشان دہی کرتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی عدوٰی برسرعام (کھلم کھلا) فرمائی اورمتعددبار اس کا اعلان فرمایا اور اپنے ان ارشادات سے اعدی الاول، فمن اجرب الاوّل، ذلکم القدر(یعنی پہلے میں کیسے تعدیہ مرض ہوا، پہلے کو کس نے خارش لگائی، یہ تقدیرکی باتیں ہیں) اس کی جڑکاٹ دی اور اس کی ایسی تبلیغ فرمائی جو سب کے ہاں مشہورومعروف ہے یہاں تک کہ یہ مسئلہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ ٖو سلم سے تواتر (تسلسل) کی حد تک پہنچ گیا ہے او رلوگوں میں پھیلا اور شائع ہوا، اس کی خوب اور بار بار سماعت ہوئی پھر اس شدت بندش کے بعداس گمان کے لئے کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے بغیر اس کے کہ جب اہل ایمان کے دلوں سے اس وسوسے کا ازالہ کردیا گیا تو یہ خدشہ باقی رہ گیا کہ وہ اس انتفائے وہم کے باعث مصیبت زدہ لوگوں سے اختلاط (میل جول) رکھنے لگیں گے اور ان سے احتراز نہ کریں گے حالانکہ ان میں ضعیف الاعتقاد لوگ کثرت سے ہیں(اور حال یہ ہے) شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح چلتا ہے۔اﷲ تعالٰی کاحکم ہوکررہتاہے لہٰذا اگر کسی کو کوئی مصیبت پہنچ گئی تو یہ دشمن (شیطان) اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے گا کہ یہ سب کچھ متعدی اثرات کانتیجہ ہے یعنی تعدیہ مرض اس کا سبب بنا تو یہ شخص اپنے دین سے زیادہ دور ہوجائے گا بنسبت مصیبت زدہ سے دورہونے کے۔ اگر اسے یہ علم نہ ہوا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس عدوٰی کی نفی فرمائی ہے، اس لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جومومنوں کے لئے رؤوف اوررحیم ہیں کی رحمت اس سبب سے ہوئی کہ لوگوں کو مریضوں کے ساتھ اختلاط سے منع فرمایا کیونکہ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو فسادِا عتقاد نہ ہو اور جب اس باب میں معاملہ یہ ہے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے بیان کردیا تو اس باب کو بند کرنے کے لئے کوئی اور پسندیدہ اور خوبصورت طریقہ ہے جو حکیم ورحیم نے وضع فرماکر لوگوں کے لئے پیش کیا ہو۔ جب تمہارے نزدیک الگ رہنے کاحکم شفقت علی الاجسام کی بدولت ہے تو پھر تمہیں کیا ہوگیاہے کہ لوگوں کے ایمان پر رحم کھاتے ہوئے اسے کیوں جائزنہیں قراردیتے ہو، پس انصاف تمہارے ہاتھ ہے۔
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ  کتاب الطب والرقی  باب الفال والطیرۃ الفصل الاول    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳)
Flag Counter