Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
49 - 160
فقد یکون المعزوالی جمہور العلماء وجوب الجمع وتصحیح الحدیثین لاخصوص ھذا الجمع وربما یشیر الیہ انہ بعد ذکر ھذا الجمع لم یقل ان ھذا الذی ذکرناہ ھو الصواب الذی علیہ الجمہور بل فسرالمذکور بقولہ من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ولواراد خصوص الجمع لم تکن حاجۃ الی التفسیر اصلا لکون الاشارۃ متصلۃ بذٰلک الجمع من دون فصل فضلا عن یفسرہ بالاعم وحینئذ یکون قولہ ھذا احترازا عن الوجھین الاولین الذین قدمناھما ان احد الحدیثین غیرثابت لومنسوخ فیکون مثل مانقل ھو فیما بعد عن الامام القاضی عیاض انہ قال وقدذھب عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وغیرہ من السلف الی الاکل معہ و راوا ان الامر باجتنابہ منسوخ والصحیح الذی قالہ الاکثرون ویتعین المصیر الیہ انہ لانسخ بل یجب الجمع بین الحدیثین وحمل الامر باجتنابہ والفرار منہ علی الاستحباب والاحتیاط لاللوجوب واما الاکل معہ ففعلہ لبیان الجواز۱؎اھ، واذن یکون قولہ قالوا وطریق الجمع الخ علی ماھو المتعارف بین العلماء من نقل اقوال جمع، بلفظۃ قالوا الا ان مرجعہ جمہورالعلماء کیلا یخالف نقل الاکثرین عن الاکثرین منھم التورپشتی والقاری انفسھما واﷲ تعالٰی اعلم،
لہٰذا جمہور علماء کی طرف دو چیزیں منسوب ہیں ایک وجوب جمع اور دوسری چیزدوحدیثوں کی تصحیح نہ کہ اس جمع کا خصوص کبھی اس کی طرف اشارہ یہ چیز کرتی ہے کہ اس جمع کے ذکرکرنے کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ جس کو ہم نے ذکرکیاہے وہی صواب ہے کہ جس پر جمہوراہل علم قائم ہیں بلکہ مذکور کی اپنے قول ''دوحدیثوں کی تصحیح اور انہیں جمع کرنے'' سے تفسیر فرمائی۔ لہٰذا اگر خصوص جمع کاارادہ کرتے تو اس تفسیر کی بالکل ضرورت اور حاجت نہ تھی اس لئے کہ اشارہ اس جمع سے پیوستہ یاوابستہ تھا نہ کہ الگ وجدا، چہ جائیکہ اس اعم سے اس کی تفسیر کرتے پھر اس صورت میں موصوف کا قول ''ھذا'' پہلی دو وجوہات سے جن کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، احتراز ہے، ایک یہ کہ دونوں حدیثوں میں سے ایک ثابت نہیں یا وہ منسوخ ہے پھر یہ کلام اسی جیسا ہوگا کہ جس کو اس کے بعد امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور دوسرے اسلاف مریض کے ساتھ کھاناکھانے کے جواز کی طرف گئے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ''امربالاجتناب'' (ان سے الگ رہنے کاحکم) منسوخ ہے پس صحیح وہی ہے جو اکثر اہل علم نے فرمایا لہٰذا اس کی طرف رجوع متعین ہے کہ یہاں کوئی نسخ نہیں بلکہ دوحدیثوں کو جمع کرنا واجب (ضروری) ہے، لہٰذا ان سے الگ اور کنارہ کش رہنے کا امر اور ان سے بھاگنے کاحکم استحبابی اوراحتیاطی ہے ۔وجوبی نہیں۔
 (۱؎ شرح مسلم للنووی     بحوالہ قاضی عیاض     باب السلام         باب لاعدوٰی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۳۴۔۲۳۳)
ثم من الحجۃ لنا علیھم، اوّلاً ظاھرا لاحادیث المتواترۃ کما اعترفوا بہ ولامعدل عن ظاھرالابدلیل واین الدلیل وثانیاً ماقدمنا عن الامام الطحاوی ان لوکان ذٰلک من اسباب الہلاک العادیۃ لم یفعلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاالخلفاء الراشدون ولاامر بالاکل معھم تواضعاوایمانا فان مجانبتہ حینئذ ماموربہ شرعا لقولہ تعالٰی ولاتقتلوا انفسکم۲؎ وقولہ تعالٰی ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۳؎ وکان کالجدار المائل والسفینۃ المکسورۃ وقداعترف بہ ھٰؤلاء المثبتون للعدوی کما ستقف،
 رہایہ کہ ان کے ساتھ کھاناپینا، تو ایساکرنا بیان جواز کے لئے ہےاھ پھر تو موصوف کاقول قالوا وطریق الجمع الخ اس پرمبنی ہے کہ جو علماء کے درمیان متعارف ہے کہ وہ ایک جماعت کے اقوال کو لفظ قالوا سے نقل کرتے ہیں ہاں مگر اس کا مرجع جمہورعلماء ہیں تاکہ اکثر کی نقل اکثر کے مخالف نہ ہو، ان میں خود تورپشتی اور ملاعلی قاری شامل ہیں اور اﷲ تعالٰی ظاہروباطن کو خوب جانتاہے۔ پھر ہماری دلیل ان کے خلاف متعدد وجوہ سے ہے اوّل متواتر حدیثوں کے ظاہر کی دلالت، جیسا کہ خود مخالفین کو اس بات کا اعتراف ہے، اور ظاہر ہے بغیردلیل عدول نہیں ہوسکتا اور یہاں دلیل کہاں، دوم ہم امام طحاوی کے حوالہ سے پہلے نقل کرچکے ہیں اگر وہ ''اختلاط مرض'' ہلاکت عادیہ کے اسباب میں سے ہوتا تو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفاء راشدین ہرگزایسانہ کرتے(اقدام اختلاط) اور نہ ان کے ساتھ (یعنی مریضوں کے ساتھ) بربنائے تواضع اورایمان کھانے پینے کاحکم فرماتے کیونکہ پھرتو ان سے علیحدگی اور کنارہ کشی شرعاً ماموربہ ہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے ''اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو'' یا ''اپنے آپ کو مت قتل کرو'' او ریہ گرنے والی دیوار اور ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح ہوگا، اور اثبات تعدیہ کرنے والے حضرات بھی اس کے قائل اور معترف ہیں جیسا کہ عنقریب آپ آگاہ اور واقف ہوجائیں گے،
 (۲؎ القرآن الکریم     ۴/ ۲۹ )       (۳؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۹۵)
اقول:  ولیس من التوکل، المعارضۃ مع الاسباب والہجوم علی ماجرت العادۃ بافضائہ الی التباب ولایحل لاحد ان یلقی نفسہ من فوق جبل توکلا علی ربہ عزوجل وایقانا بانہ لایضرہ ان لم یشاء وقد حکی ان الشیطان سال ذٰلک سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیم فقال لااختبر ربی ونصوا بمما نعۃ رکوب البحر عندھیجانہ وبہ ظھر الجواب عن حمل مثبتی العدوی حدیث کل ثقۃ باﷲ وامثالہ علی التوکل ومتارکۃ الاسباب وقد ذکرمن فعل الصدیق الاکبر والفاروق الاعظم ومبالغتھما فی ذٰلک مایرشدک انہ نص فی ردما ذھبوا الیہ ،
اقول:  (میں کہتاہوں) یہ توکّل نہیں کہ اسباب کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کیاجائے۔ اور جو چیز تباہی وہلاکت تک لے جائے بے سوچے اس میں پڑجانا ہرگز جائزنہیں، نیزکسی کے لئے یہ جائزنہیں کہ اپنے آپ کو پہاڑ کے اُوپر سے گرائے، اﷲ تعالٰی پرتوکل کانام لیتے ہوئے اور اس یقین وبھروسے کے ساتھ کہ اگر اﷲ تعالٰی نہ چاہے تو کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی ایساکرناجائزنہیں۔ چنانچہ حکایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا حضرت عیسٰی کلمۃ اﷲ علیہ وعلٰی نبینا الصلوٰۃ والسلام سے یہی سوال شیطان نے کیاتھا تو آپ نے جواب میں فرمایاکہ میں اپنے پروردگار کاامتحان نہیں کرتا اور اسے نہیں آزماتا۔ اہل علم نے صراحت فرمائی کہ سمندرمیں جوش اورطوفان آنے کے وقت بحری سفرنہ کیاجائے، اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ قائلین بالتعدیہ حدیث کل ثقۃً باﷲ اور اس جیسی دوسری حدیثوں کوعمل توکل اور ترک اسباب پرمحمول کرتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے فعل سے یہ بیان کیاگیااور اس باب میں ان دونوں کے مبالغہ کرنے میں تمہارے لئے ایسی راہنمائی ہے جو ان لوگوں کے مذہب کے رَد کرنے کے لئے (واضح) نص ہے۔
ولنذکر ھٰھنا کلام العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فانہ جمع مااتی بہ المثبتون وزاد ونذکر فی خلالہ مافتح اﷲ تعالٰی علینا من وجوہ اختلالہ قال رحمہ اﷲ تعالٰی قد (عہ) اختلف العلماء فی التاویل فمنھم من یقول المراد منہ نفی ذٰلک وابطالہ علی مایدل علیہ ظاھرالحدیث وھم الاکثرون ومنھم من یری انہ لم یرد ابطالھا فقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارک من الاسد۱؎  اقول:  ارادۃ الابطال ھو الظاھر کما اقربہ وماذکر لایصلح صارفا لہ لما علمت من وجوہ التاویل،
ہمیں یہاں ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا کلام ذکرکرنا چاہئے کیونکہ اہل اثبات جوکچھ لائے ہیں اس سب کو بمع اضافہ انہوں نے یکجاکیاہے اور ان کی خلل پذیروجوہات کے بارے میں جو اﷲ تعالٰی نے ہم پرمنکشف فرمائیں اس دوران ہم ان کابھی ذکرکریں گے۔ چنانچہ ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے ارشاد فرمایا اہل علم کا اس مسئلہ کی تاویل میں اختلاف ہے ان میں بعض وہ ہیں جو فرماتے ہیں اس سے نفی اور اس کا ابطال مرادہے اس بناپرکہ ظاہرحدیث اس پردلالت کرتی ہے، اور وہ اہل علم اکثریعنی (کثیرتعداد میں ہیں اور کچھ دوسرے وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بطلان (تعدیہ) مراد نہیں کیونکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا''جذامی سے ایسے بھاگوجیسے شیرسے بھاگتے ہو''۔  اقول:  (میں کہتاہوں) ارادہ ا بطال ہی ظاہر ہے جیسا کہ خود موصوف نے اس کا اقرار کیا اور جوکچھ (اس کے خلاف) ذکرکیاگیا وہ اس کے لئے دافع نہیں جیسا کہ وجوہ تاویل سے تمہیں معلوم ہوگیا،
عہ: ھذا کلہ کلام التورپشتی سوی مازاد من شرح المنحۃ ۱۲منہ

یہ سب تورپشتی کاکلام ہے ماسوائے اس چیز کے جو شرح المنحہ سے زائد کیاہے ۱۲منہ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب الطب والرقی     باب الفال والطیرۃ     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۸/ ۳۴۳)
قال وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایوردن ذوعاھۃ علی مصح۱؎  اقول:  ھذا اضعف وابعد بعد ماروینا عن المؤطا انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما نفی العدوی ونھی عن ایراد الممرض قالوا وماذاک قال وانما اراد بذٰلک نفی ماکان یعتقدہ اصحاب الطبعیۃ فانھم کانوا یرون العلل المعدیۃ موثرۃ لامحالۃ، فاعلمھم ان لیس الامر علی مایتوھمون بل ھو معلق بالمشیۃ ان شاء کان وان لم یشاء لم یکن۲؎۔  اقول:  کل شیئ کذٰلک وجمیع الاسباب متساویۃ الاقدام فی ذٰلک ولم یات الشرع بنفی الاسباب بل اثبتھا وارشد الی نفی تاثیرھا واعتقاد اصحاب الطبعیۃ فی العین لیس بادون من اعتقادھم فی العدوی ثمّ لم یات الشرع بنفیھا بل قال العین حق ،
علامہ موصوف نے فرمایا حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آفت ومصیبت والے کسی تندرست کے پاس نہ جائیں۔  اقول:  (میں کہتاہوں) یہ زیادہ ضعف او ر زیادہ بعید ہے بعد اس کے کہ ہم نے مؤطا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جب تعدیہ مرض کی نفی فرمائی اور لوگوں کو مریض کے پاس جانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے استفسار کیاکہ یہ کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موصوف نے فرمایا کہ اس سے آپ کاارادہ نفی کرنے کاتھا جس کا ارباب طبعیت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ بلاشبہہ علل متعدیہ کومؤثر سمجھتے تھے اس لئے آپ نے ان لوگوں کو اس بات پرآگاہ فرمایا کہ وہ معاملہ جس کا انہیں وہم ہے وہ اﷲ تعالٰی کی مشیت سے معلق ہے اگروہ چاہے تو مرض لاحق ہوگا نہ چاہے تو نہیں ہوگا  اقول:  (میں کہتاہوں) ہرشے اسی طرح ہے او ر تمام اسباب اس میں متساوی اقدام ہیں اور شریعت نے اسباب کی نفی نہیں کی بلکہ انہیں ثابت کیاہے اور ان کی نفی تاثیر کی راہنمائی فرمائی ہے اور نظربد میں اصحاب طبعیت کااعتقاد اس سے کم نہیں جتنا تعدیہ مرض میں ہے۔ اور شریعت نے اس کی نفی بھی نہیں فرمائی بلکہ فرمایا: نظرحق ہے۔
 (۱؎ و ۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ     کتاب الطب والرقی     باب الفال والطیرۃ     الفصل الاول         مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۸/ ۳۴۳)
Flag Counter