Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
48 - 160
اقول:  وطریقتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی امثال المقام معروفۃ من الاعتماد علی التجارب حتی قال بالقیافۃ وجعلھا حجۃ فی الاحکام الشرعیۃ وحکایاتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیھا مشھورۃ فی مقاصد السخاوی وغیرھا ماثورۃ وتبعہ علیہ احد شیخی مذھبہ الامام ابوزکریا النووی ومن قبلہ الامام ابوعمرو بن الصلاح ومن بعدھما الکرمانی والطیبی وکذا ابن الاثیر فیما ذکر القاری وکذا السخاوی علی شبھتہ فی عبارۃ الموجودۃ فی نسختی المقاصد ووافقھم من علمائنا التورپشتی والقاری کما وافقنا من ائمتھم العسقلانی ،
اقول:  (میں کہتاہوں) امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاطریقہ کار اور دستور اس نوع کے مقامات میں مشہور ومعروف ہے کہ مختلف تجربوں پراعتماد ہے یہاں تک کہ موصوف نے قیافہ شناسی اور اسے احکام شریعت میں حجت قراردینے کاقول پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں موصوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے واقعات وحکایات مشہورہیں چنانچہ مقاصد حسنہ میں امام سخاوی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی کتابوں میں منقول ہیں ان کے مذہب والوں میں سے ایک شیخ ابوزکریا نووی نے اس سلسلے میں ان کا اتباع کیاہے اور ان سے پہلے امام ابوعمروبن صلاح اور ان دونوں کے بعد کرمانی، طیبی اور اسی طرح ابن اثیر جیسا کہ ملاعلی قاری نے ذکرفرمایاہے اور اسی طرح امام سخاوی نے ذکرکیامگر میرے پاس مقاصد حسنہ کاجو نسخہ ہے اس کی موجودہ عبارت میں کچھ اشتباہ پایاجاتاہے اور ہمارے علماء میں سے ان کی موافقت تورپشتی اور ملاعلی قاری نے کی جیسا کہ ان کے ائمہ میں سے ہماری موافقت علامہ ابن حجرعسقلانی نے فرمائی،
واضطرب ظاھرا کلام المناوی فقال تحت حدیث اتقوا المجذوم ماقال قال ولایناقضہ خبر لاعدوی لانہ نفی لاعتقاد الجاھلیۃ نسبۃ الفعل لغیراﷲ تعالٰی۱؎ الخ وقال تحت حدیث کلم المجذوم، لئلا یعرض لک جذام فتظن انہ اعداک مع ان ذٰلک لایکون الا بتقدیراﷲ تعالٰی وھذا خطاب لمن ضعف یقینہ ووقف نظرہ عندالاسباب ۲؎ اھ ففی ھٰذا نوع میل الی ماعلیہ الجمہور ووقع نحوہ لعلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا فی موضع واحد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل الممرض علی المصح، فربما یصاب بذٰلک فیقول لوانی مااحللتہ لم یصبہ والواقع انہ لو لم یحلہ لاصابہ لان اﷲ تعالٰی قدرہ فنھی عنہ لھذہ العلۃ التی لایؤمن غالبا من وقوعھا فی طبع الانسان وھو قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارک من الاسد، وان کنا نعتقد وان الجذام لایعدی لکنا نجد فی انفسنا نفرۃ وکراھیۃ لمخالطتہ۱؎ اھ فھٰذا صریح فی وفاق الجمہور،
بظاہر علامہ مناوی کاکلام مضطرب (ناقابل اعتماد) ہے چنانچہ اس حدیث ''جذامی سے بچو'' کے ذیل میں کہاجوکچھ کہا، پھرفرمایا کہ یہ حدیث لاعدوٰی کے مناقض نہیں اس لئے کہ اس میں اعتقاد جاہلیت کی نفی ہے کیونکہ اس میں غیراﷲ کی طرف فعل کی نسبت ہے الخ اور حدیث ''کلّم المجذوم یعنی مجذوم کے ساتھ دورسے کلام کرو'' کے ذیل میں فرمایا ایسا نہ ہو کہ کہیں تجھے مرض جذام لگ جائے اور تو یہ سمجھنے لگے کہ مریض کی بیماری اُڑ کر تمہیں لگ گئی حالانکہ تقدیرالٰہی کے بغیر اس طرح نہیں ہوسکتا۔ اور یہ اس کو خطاب ہے جو یقین میں کمزورہو، اور اس کی نظرصرف ظاہری اسباب پر ہی ٹھہرتی ہو اھ، اس میں جمہور کے مذہب کی طرف ایک طرح میلان پایاجاتا ہے، اور اسی نوع کاوقوع علامہ زرقانی سے شرح مؤطا میں ایک جگہ ہواہے چنانچہ علامہ موصوف نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اس ارشاد ''کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے'' اس لئے کہ اگر اسے مرض لگ جاتاہے توپھر وہ مریض یوں کہنے لگتاہے کہ کاش میں اس کے ہاں نہ جاتا یا اس سے نہ ملتا تو مجھے یہ مرض نہ لگتا، حالانکہ فی الواقع اگر یہ مریض کے پاس نہ جاتا تب بھی اس کو یہ مرض لگ جاتا کیونکہ اﷲ تعالٰی نے اس کے مقدرمیں ایسالکھ دیاتھا پس اس علت کی وجہ سے اسے روک دیاگیا کیونکہ طبیعت انسانی غالباً اس کے وقوع سے لاپروا اور بے فکرنہیں ہوسکتی۔ او رحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد ''جذامی سے تم اس طرح بھاگو جیسے بوقت خوف شیر سے بھاگتے ہو'' کایہی مفہوم ہے، اگرچہ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مرض جذام متعدی نہیں ہوتا لیکن اپنے دلوں میں جذامی سے میل جول رکھنے سے نفرت اور کراہت پاتے ہیں اھ، اور یہ صراحۃً مذہب جمہور سے اتفاق ہے۔
 (۱؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث ۱۴۱    دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۱۳۷)

(۲؎فیض القدیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث   ۶۳۸۰     دارالمعرفۃ بیروت    ۵/ ۴۱)

(۱؎ شرح الزرقانی علی موطا امام مالک     باب عیادۃ المریض والطیرۃ         دارالمعرفۃ بیروت     ۴/ ۳۳۳)
ثم قال اما النھی عن ایراد الممرض فی باب اجتناب الاسباب التی خلقھا اﷲ وجعلھا اسبابا للھلاک اوالاذی والعبد مامور اتقاء اسباب البلاء اذا کان فی عافیۃ منھا وفی حدیث مرسل عند ابی داؤد انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مر بحائط مائل فقال اخاف موت الفوات ۲؎ اھ ففیہ میل ما الی القول الاٰخر بل کان جزما بہ لولا قولہ ''او الاذی'' ثم عاد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذی ای یتاذی بہ لاانہ یعدی ۳؎ ثم نقل عن یحٰیی بن یحٰیی ماقدمناہ وقد اٰذناک ان المائلین الی ھذا القول کالتور پشتی والطیبی والقاری قداعترفوا جمیعا کنص الشیخ المحقق و الزرقانی ان ابطال العدوٰی راسا ھوالذی علیہ الاکثرون ،
پھرفرمایا لیکن مریض کے پاس جانے سے ممانعت کرنا ان اسباب سے بچنے کے باب سے ہے جنہیں اﷲ تعالٰی نے پیدافرمایا اورانہیں ہلاکت اور تباہی کے اسباب بنایا یاممانعت ایذارسانی کے باعث ہے اور بندہ کواسباب بلا سے بچنے کاحکم دیاگیاہے جبکہ وہ ان سے بچ سکے، چنانچہ ابوداؤد کی ایک مرسل (بلاسند) روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایک مائل بانہدام (جھکی ہوئی) دیوار کے قریب سے گزرے تو ارشاد فرمایا میں موت فوات سے ڈرتاہوں اھ پس اس میں دوسرے قول کی طرف تھوڑا سامیلان ہے بلکہ اس پراظہاریقین ہے بشرطیکہ اوالاذٰی کا قول متصل نہ ہوتا، پھر سابق کلام کی طرف رجوع کرتے ہوئے حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد انہ اذی (وہ ایذاہے) کےـ ذیل میں فرمایا یعنی اذیت ہوگی (مریض اور تندرست کے لئے) نہ کہ مرض میں تجاوز ہے۔ پھرانہوں نے یحیٰی بن یحیٰی سے وہی نقل کیاجو ہم پہلے بیان کرآئے ہیں اور بلاشبہہ ہم نے تمہیں آگاہ کردیا ہے کہ جولوگ اس قول کی طرف مائل ہیں جیسے تورپشتی، طیبی اور ملاعلی قاری شیخ محقق اور زرقانی کی تصریح کی طرح وہ سب اس بات کے معترف ہیں کہ بالکلیہ تعدیہ مرض کے ابطال کا موقف زیادہ تر اہل علم رکھتے ہیں۔
(۲؎شرح الزرقانی علی موطا امام مالک     باب عیادۃ المریض والطیرۃ         دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۳۴۔۳۳۳)

(۳؎شرح الزرقانی علی موطا امام مالک     باب عیادۃ المریض والطیرۃ         دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۳۳۴)
اقول:  وارجوان لاینکر علیہ بما قال الامام النووی فی شرح مسلم قال جمہورالعلماء یجب الجمع بین ھٰذین الحدیثین وھما صحیحان قالوا وطریق الجمع ان حدیث لاعدوٰی المراد بہ نفی ماکانت علیہ الجاھلیۃ تزعمہ وتعتقدہ ان المرض والعاھۃ تعدی بطبعھا لایفعل اﷲ تعالٰی واما حدیث لایورد ممرض علی مصح، فارشد فیہ الی مجانبۃ مایحصل الضرر عندہ فی العادۃ بفعل اﷲ تعالٰی وقدرہ قال فھذا الذی ذکرناہ من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ھو الصواب الذی علیہ جمہور العلماء ویتعین المصیر الیہ ۱؎ اھ
اقول:  (میں کہتاہوں) میں اُمیدرکھتاہوں کہ جو کچھ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا اس کا انکار نہیں کیاجائے گا (اور وہ یہ ہے) جمہورعلماء نے فرمایا ان دوحدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے اور وہ دونوں صحیح ہیں، جمہور فرماتے ہیں دونوں کو جمع کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ حدیث ''لاعدوٰی'' سے اس چیز کی نفی مراد ہے کہ جس پر اہل جاہلیت قائم تھے چنانچہ وہ گمان اور اعتقاد رکھتے تھے کہ مرض اور آفت اپنی طبعی حالت سے تجاوز کرتے ہیں نہ کہ اﷲتعالٰی کی کارکردگی سے۔ (رہی حدیث کہ) ''مریض تندرست کے پاس نہ جائے'' اس میں اس چیز سے بچنے کی راہنمائی فرمائی ہے کہ جس سے بطور عادت اﷲ تعالٰی کے فضل اور قضاء وقدر سے ضرر حاصل ہوتاہے۔ امام نووی نے فرمایا یہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کیاہے (یعنی) دوحدیثوں کی تصحیح اور ان دونوں کو جمع کرنا یہی وہ راہ صواب ہے کہ جس پر جمہور علماء قائم ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنامتعین ہے اھ
 (۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی     کتاب السلام     باب لاعدوٰی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۳۰)
Flag Counter