| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
زرقانی علی المؤطا میں زیرحدیث انہ اذی (بیشک وہ ایذا ہے۔ت) فرمایا: قال یحٰیی بن یحٰیی سمعت ان تفسیرہ فی رجل یکون بہ الجذام فلاینبغی لہ ان ینزل علی الصحیح یؤذیہ لانہ وان کان لایعدی فالانفس تکرھہ وقدقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذی یعنی لاللعدوٰی۱؎۔
یحیٰی بن یحیٰی نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ اس کی تفسیر اس شخص کے بارے میں ہے جس کو مرض جذام ہوجائے تو اسے مناسب نہیں کہ کسی تندرست آدمی کے پاس آئے کہ اسے ایذا ہوگی اس لئے کہ اگرچہ تعدیہ مرض کااعتقاد نہ ہوتے ہوئے بھی نفوس پرایسی تکلیف دہ حالت کودیکھنا گراں گزرتا ہے اور بیشک حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایذا ہے یعنی اس کاسبب تعدیہ مرض نہیں۔(ت)
(۱؎ شرح الزرقانی علی المؤطا لامام مالک باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۳۴)
غرض مذہب یہ ہے اور وہ وجوہ تاویل میں اصح واجمع وجہ پنجم،
وھٰھنا ثلثۃ وجوہ اٰخر لبعض العلماء فالسادس ان الجذام مستثنی من قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاعدوی ان لایعدی شیئ شیئا الاھذا وعزاہ فی اشعۃ اللمعات الی الکرمانی الشافعی صاحب الکوکب الدراری فی شرح صحیح البخاری اقول: لم یقلہ بل نقلہ ومارضیہ بل مرضہ فانما حکاہ بقیل کما نقل عنہ فی محمع البحار بل والشیخ نفسہ فی ماثبت بالسنۃ فما ھٰھنا سبق قلم ثم ھذا القیل لم یعرف لہ قائل ولم یمل الیہ مائل ولایؤیدہ شیئ من الدلائل
بعض علماء کے نزدیک یہاں تین اور وجوہ ہیں چھٹی وجہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد عالی لاعدوٰی سے مرض جذام مستثنٰی ہے یعنی اس مرض کے ماسوا کوئی شے کسی دوسری شَے کی طرف تجاوز نہیں کرتی، چنانچہ اشعۃ اللمعات میں شیخ محقق نے علامہ کرمانی شافعی مصنف الکوکب الدراری شرح صحیح بخاری کی طرف اس کو منسوب کیا ہے اقول: (میں کہتاہوں) اس نے یہ نہیں کہا بلکہ اس کو نقل کیا ہے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوا بلکہ اس نے تو صیغہ تمریض یعنی صیغہ ضُعف سے اسے ذکرکیااور لفظ قیل سے اس کی حکایت کی ہے جیسا کہ اس سے مجمع البحار میں نقل کیاگیاہے بلکہ خود شیخ محقق نے ماثبت بالسنۃ میں اسے نقل کیاہے لیکن یہاں ان سے سبقت قلم (بھول) ہوگئی پھر اس قیل کا قائل معلوم نہ ہوسکا اور کوئی میلان رکھنے والا اس کی طرف مائل نہ ہوا اور نہ کسی دلیل سے اس کی تائید کی۔
والسابع قال البغوی قیل ان الجذام ذورائحۃ تسقم من اطال صحبتہ ومؤاکلتہ اومضاجعتہ ولیس من العدوٰی بل من باب الطب کما یتضرر باکل مایعاف وشم مایکرہ والمقام فی مقام لایوافق ھواہ وکلہ باذن اﷲ وماھم بضارین بہ من احد الا باذن اﷲ نقلہ فی المجمع۱؎ و عزاہ فی الاشعۃ للامام النووی اقول: لعل ھذا ایضا لذاک فان الذی رأیت فی منھاجہ تصویب الوجہ الثامن الاٰتی ولم یعر ج علی ذکرھذا فاﷲ تعالٰی اعلم وظنی ان الذی فی نسختی الاشعۃ تصحیف من البغوی فان الذی نقلہ ترجمۃ کلام البغوی سواء بسواء غیران البغوی ایضا لم یقل بہ وانما نقلہ بقیل ممرضا
ساتویں وجہ امام بغوی نے کہا: کہاگیاہے کہ جذام بدبودار بیماری ہے جوکوئی ایسے بیمار سے طویل صحبت رکھے اس کے ساتھ کھائے پئے اور لیٹے تو یہ بیماری اس کو بھی لاحق ہوجاتی ہے اور یہ عدوٰی میں سے نہیں بلکہ باب طب سے ہے جیسے گھِن والی ناپسندیدہ چیز کھانے سے نقصان اور ضررہوتاہے اور اسی طرح ناگوار چیزسونگھنے سے اور ناموافق ہوا والی جگہ (یعنی آلودگی والی فضا) میں ٹھہرنے سے ضررہوتاہے (بس یہاں بھی یہی مرادہے) اور درحقیقت یہ سب کچھ باذن الٰہی ہوتا ہے (چنانچہ) وہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اﷲ تعالٰی کے اذن ومشیّت سے۔ چنانچہ مجمع البحار میں اس کو نقل کیاہے اور شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں اس کو امام نووی کی طرف منسوب کیاہے اقول: (میں کہتاہوں) شاید یہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ میں نے جو کچھ امام نووی کی منہاج میں دیکھاہے وہ آنے والی آٹھویں وجہ کی تصویب ہے اور اس کے ذکر پر اس نے عروج یعنی موافقت نہیں کی اور حقیقت حال کو اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ اشعۃ اللمعات کا جو نسخہ میرے پاس ہے میراخیال ہے کہ اس میں بغوی کی عبارت میں تبدیلی ہوگئی ہے کیونکہ شیخ نے بغوی کے کلام کا ہو بہو ترجمہ نقل کیاہے، اس کے باوجود بغوی نے بھی یہ نہیں کہا بلکہ اس نے کلمہ تمریض کے ساتھ اسے نقل کیاہے ۔
(۱؎ مجمع بحارالانوار تحت لفظ عدا مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۵۴۴)
ثم اقول: لاادری ماالتنافی بین بابی العدوٰی والطب فالطب قائل فی ھذا المرض بالعدوی کما نقل التورپشتی والطیبی والقاری والزرقانی والشیخ المحقق وغیرھم ان العدوی بزعم الطب فی سبع کما تقدم عن الشیخ ویستوی فی ذٰلک کونہا الکیفیۃ فیہ اوالخاصیۃ فان کلا الفصلین من مسائل الطب ولیس ان العدوی انما تکون اذا کانت لابسبب یعقل والقائلون بھا انما یعتقدون الاعداء ولانظرلھم الی انہ بالکیفیۃ اوبالخاصیۃ فمن قال بالاعداء ولولرائحۃ فقد قال بالعدوی ثم اقول:
(پھرمیں کہتاہوں) میں یہ نہیں جانتا کہ عدوٰی اور طب کے باب میں کیامنافات اور تضاد ہے کیونکہ طب اس مرض میں تعدیہ کی قائل ہے جیسا کہ تورپشتی، طیبی، ملاعلی قاری، زرقانی اور شیخ محقق اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہاہے کہ اطبا کے خیال میں تعدیہ مرض سات قسم کی امراض میں ہوتاہے جیسا کہ شیخ کے حوالہ سے پہلے مذکورہوا۔ تعدیہ مرض خواہ کسی کیفیت سے ہو یاکسی خاصیت سے، اس میں دونوں برابر اور مساوی ہیں کیونکہ دونوں فصلیں طب کے مسائل میں سے ہیں، اور یوں نہیں کہ عدوٰی بغیر کسی معقول سبب کے ہوجائے اس لئے کہ جولوگ تعدیہ امراض کے قائل ہیں وہ تعدیہ پراعتقاد رکھتے ہیں باوجودیکہ وہ اس پرنگاہ نہیں رکھتے کہ وہ کس کیفیت سے ہوا ہے یاکس خاصیت سے، لہٰذا جو شخص تجاوزمرض کاقائل ہو خواہ بدبوہی کے سبب سے کیوں نہ ہو وہ درحقیقت تعدیہ مرض کا قائل ہے۔
والثامن ان النفی اعداء المرض من دون اذن اﷲ تعالٰی کمازعمہ اھل الجاھلیۃ اما الاعداء عادۃ باذن اﷲ تعالٰی فثابت ولذا امر بالفرار ونھی عن ایراد الممرض ولااعلمہ اعنی اثبات العدوی العادیۃ ثابتا عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم الامایفیدہ کلام الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی فیما تقدم من انکار ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث لاعدوی واقامتہ علی روایۃ لایوردن ان ذٰلک کان ظنہ التضاد بینھما،
آٹھویں وجہ تعدیہ مرض کی نفی اس صورت میں ہے کہ اسے اﷲ تعالٰی کے اذن اور ارادہ کے بغیرتسلیم کیاجائے جیسا کہ دورجاہلیت والوں کاخیال اور زعم تھا، لیکن اگر اﷲ تعالٰی کے اذن اور ارادہ سے عادتاً ماناجائے (توپھر خلاف شریعت نہ ہونے کی وجہ سے) ثابت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے بھاگنے کاحکم دیاگیا اور اس مرض کے مریض کو تندرست آدمی کے پاس جانے سے منع کیاگیاہے۔ اور میں نہیں جانتا کہ عدوٰی عادیہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ہے۔ ہاں مگر امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ کا گزشتہ کلام اس بات کو تقویت پہنچاتاہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس حدیث لاعدوی کاانکارکیاتھا اور لایوردن والی حدیث کو اس کے مقابل پیش کیاتھا درحقیقت وہ اپنے گمان کے مطابق ان دونوں کے درمیان تضاد سمجھتے تھے،
اقول: لیس لمثلی الکلام مع مثل الامام رحمہ اﷲ لکن الذی یعرفہ قاصر مثلی ان انکار الروایۃ لاینحصر فی ظن التضاد بل نسی عنہ سمعہ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما وسعہ الا انکارہ حتی لوفرض مودی الحدیثین واحدا من کل جھۃ وانما الالفاظ غیر الالفاظ ونسی سماع احدھما وقیل لہ رویت ھذا الحدیث ھٰکذا لم یسعہ الا الاباء، نعم ھو مذھب الامام المطلبی محمد بن ادریس الشافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال المناوی فی فیض القدیر (اتقوا المجذوم) ای اجتنبوا مخالطتہ فانہ یعدی المعاشر کما جزم بہ الشافعی فی موضع وحکاہ عن الاطباء والمجربین فی اخرونقلہ غیرہ من افاضل الاطباء ۱؎ اھ،
اقول: (میں کہتاہوں کہ) مجھ جیسے ناقص شخص کے لئے امام رحمہ اﷲ تعالٰی جیسی بلند پایہ شخصیت کے ساتھ ہمکلام ہونازیب نہیں دیتا سوائے اس کے جو اسے پہچانتاہے، مجھ جیسے تو اس کی معرفت سے قاصر ہیں البتہ کسی روایت سے انکار کرناتضاد کے گمان پرمنحصر نہیں بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اس حدیث کا سماع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بھول گئے، اس لئے ان کے لئے سوائے انکار کے کوئی گنجائش نہ رہی لیکن اگر یہ فرض کرلیاجاتا کہ ہرجہت سے دونوں کامفہوم (مودّی) ایک ہے البتہ دونوں کے الفاظ مغایر اور الگ الگ ہیں اور جبکہ وہ ایک کا سماع بھول گئے، چنانچہ ان سے کہاگیا آپ نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیاہے تو انہیں سوائے انکار کے کوئی اور گنجائش نہ رہی۔ ہاں وہ امام مطلبی محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کامذہب ہے، چنانچہ علامہ مناوی نے فیض القدیر (شرح جامع صغیر) میں فرمایا حدیث ''جذامی سے بچو اور پرہیزکرو'' یعنی اس کے میل جول اور اختلاط سے اجتناب کرو، اس لئے میل ملاپ کرنے والے میں مرض سرایت کرتاہے، جیسا کہ امام شافعی نے ایک جگہ اس پر اظہار یقین کیا اور ایک دوسری جگہ اطباء اور تجربہ کارلوگوں سے اس کی حکایت بیان فرمائی، اور دیگر اہل علم نے طب کے فاضلوں سے اسے نقل کیاہے اھ۔
(۱؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۷)