التوفیق بین الحدیثین بماقالہ ابن بطال و ھو ان لاعدوی اعلام بانھا لاحقیقۃ لھاواما النھی فلئلایتوھم المصح ان مرضھا من اجل ورود المرضی علیھا فیکون داخلا بتوھمہ ذٰلک فی تصحیح ماابطلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من العدوٰی۱؎۔
دونوں حدیثوں میں موافقت ابن بطال کے قول کے مطابق یہ ہے کہ لاعدوٰی کسی مرض میں تجاوز کے لئے نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ تعدیہ مرض کی کوئی حقیقت نہیں، رہا یہ کہ پھر ایسے مریضوں کے ساتھ میل جول سے کیوں روکاگیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تندرست آدمی کو اگرمریض کے پاس آمدورفت کے دوران وہی مرض لگ گیا تو اس کے دل میں وہم پیداہوجائے گا کہ اسے یہ مرض مریض ہی سے لگا ہے اور پھر وہ اس وہم سے تعدیہ مرض کی صحت کا قائل ہوجائے گا کہ جس کا خود حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ابطال فرمایا(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الطب باب لاھامۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۸۸)
ماثبت بالسنۃ میں جامع الاصول سے ہے: یقال اعدی المرض اذا اصابہ مثلہ لمقارنتہ ومجاورتہ اومؤاکلتہ ومباشرتہ وقدابطلہ الاسلام ۲؎
کہاجاتاہے اعدی المرض یعنی مرض تجاوز کرگیا جبکہ کسی مریض کے ساتھ میل جول اور اس کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت سے کسی تندرست آدمی کو اسی جیسا مرض لگ جائے (تو اس وقت یہ کہاجاتا ہے کہ مریض کامرض اُڑ کر فلاں تندرست آدمی کو لاحق ہوگیاہے) حالانکہ اسلام نے تعدیہ مرض کاابطال کیاہے۔(ت)
العدوی ماکانت تعتقدہ الجاھلیۃ من تعدی داء ذی الداء الی من یجاورہ ویلاصقہ ممن لیس بہ داء فنفاہ الشرع وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاعدوی یحتمل النھی عن قول ذٰلک واعتقادہ و النفی لحقیقۃ ذٰلک کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول وکلاھما مفھوم من الشرع۱؎۔
تعدیہ مرض جس کااعتقاد اہل جاہلیت رکھتے تھے کہ کسی مریض کامرض اس شخص تک تجاوز کرجاتا اور پہنچ جاتا ہے جو اس مریض سے قرب اور اتصال رکھے باوجودیکہ اس میں پہلے کوئی مرض نہ تھا پس شریعت نے اس اعتقاد کی نفی فرمائی ہے، حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد لاعدوٰی یہ احتمال رکھتاہے کہ اس کہنے اور اعتقاد رکھنے سے نہی ہو اور اس کی حقیقت کی نفی ہو۔ جیسا کہ حضورانورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاارشاد ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتی، اور آپ کا ارشاد گرامی ہے پھر پہلے مریض میں کیسے تعدیہ مرض پیداہوا۔ اور یہ دونوں باتیں شریعت سے سمجھی گئیں۔(ت)
الاولی فی الجمع ان یقال ان نفیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قدصح قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول یعنی ان اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی ابتدأ ذالک فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول واما الامر بالفرار من المجذوم فمن باب سدالذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شیئ من ذٰلک بقدراﷲ تعالٰی ابتداء لابالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذٰلک بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فامر بتجنبہ حسما للمادۃ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں بہتریہ ہے کہ یوں کہاجائے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا تعدیہ مرض کی نفی کرنا اپنے عموم پرباقی ہے اور بلاشبہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی صحیح ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتی، اور آپ کا یہ ارشاد مبارک کہ پہلے میں کیسے مرض ہوا۔ اﷲ تعالٰی پاک وبرتر نے ہی دوسرے مریض کو بھی مرض لاحق کیا جس طرح اس نے پہلے مریض کو لاحق کیاتھا۔ جہاں تک جذامی سے دوربھاگنے او ردوررہنے کے حکم کاتعلق ہے تو یہ ذرائع اور وسائل کو بند کرنے کے باب سے ہے، یعنی جو شخص تندرست حالت میں جذامی آدمی کے ساتھ اختلاط اور میل جول رکھے اور اتفاقاً اسے اﷲ تعالٰی کی قضأ وقدر سے وہی مرض لاحق ہوجائے تو وہ یہ کہنے لگے گا کہ یہ مرض اس مریض سے میل جول اور اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوگیاہے پھروہ صحت تعدیہ کااعتقاد رکھنے لگے گا اور حرج میں پڑجائے گا بایں وجہ اسے جذامی آدمی سے دور رہنے اور بچنے کاحکم دیاگیاتاکہ شکوک وشبہات پیداہی نہ ہونے پائیں او ر مادہ ہی کٹ جائے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
اکثراہل علم اس نظریہ پرقائم ہیں کہ نفی تعدیہ سے اس کا مطلقاً ابطال مرادہے جیسا کہ ظاہر احادیث اس پردال ہیں(ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ باب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۶۲۲)
اسی میں ہے:
اعتقاد جاہلیت آں بود کہ بیمارے کہ درپہلوئے بیمارے نشیند یاہمراہ وے بخورد سرایت کند بیماری اوبوے گفتہ اند کہ بزعم اطبا ایں سرایت درہفت مرض است جذام وجرب وجدری وحصبہ وبخرو رمد وامراض وبائیہ پس شارع آنرا نفی کرد وابطال نمود یعنی سرایت نمی باشد بلکہ قادر مطلق ہمچناں کہ اورا بیمار کردایں را نیزکرد۱؎۔
اہل جاہلیت کا اعتقاد یہ تھا کہ اگرکوئی تندرست آدمی کسی بیمار کے پہلو میں بیٹھے یا ا س کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہو تو اس مریض کا مرض تندرست آدمی میں سرایت کرجاتاہے۔ کہتے ہیں کہ اطبّاء کے خیال میں متعدی امراض سات ہیں اور وہ یہ ہیں: (۱) کوڑھ (۲) خارش (۳) چیچک (۴) خسرہ (۵) گندہ دہن ہونا (۶) آنکھوں کی بیماری (۷) وبائی امراض (یعنی ہیضہ، طاعون وغیرہ) شارع نے ان سب کے تعدیہ کی نفی فرمائی اور اس کاابطال کیا، پس شارع کی مراد یہ ہے کہ کسی مرض میں سرایت اور تجاوز نہیں (کہ ایک کا مرض بوجہ اختلاط دوسرے کو لگ جائے) بلکہ قادر مطلق نے جس طرح ایک کو بیمار کیا اسی طرح دوسرے کو بھی بیماری لاحق کردی۔(ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۶۲۰)
بالجملہ ان پانچوں اقوال پرعدوٰی باطل محض ہے یہی مذہب ہے حضرت افضل الاولیاء الاولین والآخرین سیدناصدیق اکبروحضرت سیدنافاروق اعظم وحضرت سلمان فارسی وحضرت ام المومنین صدیقہ وحضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہم اجلہ صحابہ کرام کا، اور اسی کو اختیارفرمایا امام اجل طحاوی سیدالحنفیہ وامام یحیٰی بن یحیٰی مالکی وامام عیسٰی بن دینار مالکی وامام ابن بطال ابوالحسن علی بن خلف مغربی مالکی وامام ابن حجرعسقلانی شافعی وعلامہ طاہرحنفی وشیخ محقق عبدالحق محدث حنفی وغیرہم جمہورعلمائے کرام رحمہم اﷲ تعالٰی نے عمدۃ القاری میں طبری سے ہے: کان ابن عمر وسلمان رضی اﷲ تعالٰی عنھم یصنعان الطعام للمجذومین ویاکلان معھم وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت کان مولی لنا اصحابہ ذٰلک الداء فکان یاکل فی صحانی ویشرب فی اقداحی وینام علٰی فراشی۲؎۔
یعنی عبداﷲ بن عمر و سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم مجذومین کے لئے کھاناتیارفرماتے اور ان کے ساتھ کھاتے اور ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مروی ہوا کہ ہمارے ایک غلام آزاد شدہ کویہ مرض ہوگیاتھا وہ میرے برتنوں میں کھاتا میرے پیالوں میں پیتا بچھونوں پرسوتا۔
(۲؎ عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷)