| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
کذٰلک قالت ھھنا لسماعھا منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاعدوٰی فمن اعدی الاول والسبب فی ذٰلک مااشرنا الیہ من ان اخبار الاحاد لاتعارض ماعندھا من القطعی فما وقع من العلامۃ ابی الفرج ابن الجوزی حیث ذکرفی حدیث الشوم فی ثلث، ان عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قد غلظت علی من روی ھذا الحدیث وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الطیرۃ فی المرأۃ والداروالدابۃ ثم قال وھذا رد لصریح خبررواتہ ثقات الخ کما نقلہ الامام العینی فی عمدۃ القاری۱؎ منشؤۃ الغفلۃ عن النکتۃ التی ذکرتھا ثم قولہ وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الخ اقول: ماقالتہ بل رواتہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما ھو صریح نص روایۃ الطحاوی ومن ذکرنا جمیعا وای ثقۃ اوثق منھا رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
یہاں بھی اسی طرح مائی صاحبہ نے ارشاد فرمایا اس لئے کہ خود حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ سناتھا کسی مرض میں تعدیہ اور تجاوز نہیں ورنہ پہلے مریض کو کیسے اُڑ کرلگ گیا اور اس کا سبب وہی ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرآئے ہیں کہ اخباراحاد اس علم قطعی کاتعارض نہیں کرسکتیں جومائی صاحبہ کے پاس تھا علامہ ابوالفرج ابن جوزی سے (مائی صاحبہ کے متعلق) جو کچھ واقع ہوا اس کامنشاء اس نکتہ سے غفلت ہے جومائی صاحبہ نے ذکر فرمایا(اس کی تفصیل یہ ہے) چنانچہ علامہ ابن جوزی نے ذکرفرمایا کہ حدیث میں تین چیزوں کی نحوست کاذکرآیا ہے: عورت، گھر، چوپایہ۔ اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے اس پر شدّت اختیار کی جس نے یہ روایت حدیث بیان کی، اور فرمایا کہ اہل جاہلیت یہ کہاکرتے تھے کہ عورت، گھر اور چوپائے میں نحوست ہواکرتی ہے۔ پھرابن جوزی نے کہا لیکن یہ تو اس حدیث کا صراحتاً رَد ہے کہ جس کو ثقہ اور مستند راویوں نے روایت کیاہے، جیسا کہ امام عینی نے اس کو نقل فرمایاہے، پھرعلامہ ابن جوزی کایہ کہنا کہ مائی صاحبہ نے فرمایا اہل جاہلیت کہاکرتے تھے الخ اقول: (میں کہتاہوں) مائی صاحبہ نے خود تو یہ نہیں فرمایا خود حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت فرمائی جیسا کہ وہ روایت طحاوی اور ہمارے ذکرکردہ ان سب لوگوں کی صریح نص ہے۔ اور کون سا ثقہ مائی صاحبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے زیادہ ثقاہت رکھتاہے۔(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری بحوالہ ابن الجوزی کتاب الطب باب الطیرۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۷۳)
دوم مجذوم وغیرہ سے بھاگنے کی حدیثیں منسوخ ہیں،احادیث نفی عدوٰی نے انہیں نسخ کردیا، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول:
ذھب عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وجماعۃ من السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ وممن قال بذٰلک عیسٰی بن دینار من المالکیۃ۱؎ اھ وردہ الامام النووی بوجہین احدھما ان النسخ یشترط فیہ تعذر الجمع بین الحدیثین ولم یتعذر بل قدجمعنا بینھما والثانی انہ یشترط فیہ معرفۃ التاریخ و لیس ذٰلک موجودا ھٰھنا ۲؎ اقول: نص القاضی ان امیرالمومنین کان یراہ منسوخا فانکان ھذا عن روایۃ کما ھو ظاھر اللفظ لم یرد علیہ شیئ من الوجہین لان الامیرالمومنین لایقول بہ الاعن علم وبعدہ لامساغ للجمع وان امکن باسھل وجہ نعم ان ذکرہ القاضی ظنا منہ فالوجہان وجیھان اقول: وثالثھما ماروینا فی الحدیث الثانی والثلثین حیث جمع صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم کلا الکلامین فی نسق واحد فاین النسخ لاسیما وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاعدوی مقدم فیہ علی وفرمن الجذوم وماکان لصدر الکلام ان ینسخ اٰخرہ۔
حضرت عمرفاروق اور سلف کاایک گروہ اس طرف گئے ہیں کہ جذامی شخص کے ساتھ کھاناجائزہے اور اس سے بچنے کاحکم منسوخ ہے۔ او رجن لوگوں نے یہ کہا ان میں عیسٰی ابن دینار مالکی ہیں اھ لیکن امام نووی نے اسے دووجہوں سے رَ دکیاہے، ایک وجہ یہ ہے کہ نسخ کے لئے شرط یہ ہے کہ دوحدیثیں جمع نہ ہوسکیں اور یہاں جمع میں کوئی دشواری نہیں بلکہ ہم نے دونوں حدیثوں کو جمع کردیاہے، دوسری وجہ یہ کہ نسخ میں شرط ہے کہ تاریخ معلوم ہو (تاکہ پہلی کو منسوخ اور دوسری کوناسخ قراردیں) اور یہاں یہ موجودنہیں اقول: (میں کہتاہوں) امام قاضی عیاض نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ امیرالمومنین حدیث مذکور کو منسوخ سمجھتے تھے۔ اگریہ بات روایت ہے جیسا کہ الفاظ سے ظاہرہوتاہے توپھردونوں وجہیں اس پر واردنہیں ہوسکتیں اس لئے کہ امیرالمومنین بغیرعلم کے ایسانہیں فرماسکتے۔ اور نسخ کے بعد جمع کی گنجائش نہیں اگرچہ کسی زیادہ آسان وجہ سے ممکن ہو۔ ہاں اگرقاضی عیاض نے یہ (دعوی نسخ) اپنے گمان سے ذکرکیاہوتو پھردونوں وجہیں وجیہہ ہیں، اور ان دونوں کے علاوہ تیسری وجہ وہ جس کوہم نے بتیسویں حدیث میں روایت کیاہے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دونوں کلاموں کو ایک ترتیب (نسق واحد) میں جمع فرمایا پھرنسخ کہاں ہے، چنانچہ خصوصاً حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاارشاد ''لاعدوٰی'' ''وفرمن الجذوم''سے مقدم ہے اور صدرکلام کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ آخر کلام کو منسوخ کردے۔(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری بحوالہ ابن الجوزی کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷) (۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰)
سوم بھاگنے کاحکم اس لئے ہے کہ وہاں ٹھہریں گے تو ان پرنظر پڑے گی اور اس سے وہ مفاسد عُجب وتحقیر وایذا پیداہوں گے جن کاذکرگزرا۔ عمدۃ القاری میں ہے:
قال بعضھم الخبر صحیح وامرہ بالفرار منہ لنہیہ عن النظر الیہ ۱؎اھ مافی العینی اقول: ولایحتملہ الحدیث الخامس ونظراؤہ ممافیہ الامران یکونوافیھم بفصل رمح اورمحین۔
بعض اہل علم نے فرمایا حدیث صحیح ہے اور جذامی آدمی سے دوربھاگنے کاحکم اس لئے دیاگیا کہ اس کی طرف دیکھنے کی ممانعت ہے۔ جو کچھ عینی میں ہے وہ پوراہوگیاہے اقول: (میں کہتاہوں) پانچویں حدیث اور اس کی امثال اس کا احتمال نہیں رکھتیں اس لئے کہ ان میں یہ امرہے کہ ان جذامیوں سے ایک یا دونیزے دوررہیں۔(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃالمنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷)
چہارم امرفرار اس لئے ہے کہ اس کی بدبو وغیرہ سے ایذانہ پائیں۔ شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے:
قیل النھی لیس للعدوٰی بل للتاذی بالرائحۃ الکریھۃ ونحوھا۲؎ اھ اقول: وھذا ظاھر البعدفافھم۔
کہاگیاکہ نہی تعدیہ مرض کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کی بدبو وغیرہ سے ایذا نہ ہو اھ اقول: (میں کہتاہوں کہ) یہ بظاہر بعید ہے لہٰذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیناچاہئے۔(ت)
(۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰)
پنجم قول مشہور ومذہب جمہورومشرب منصورکہ دوری وفرار کاحکم اس لئے ہے کہ اگر قرب واختلاط رہا اور معاذاﷲ قضاوقدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہوگیا تو ابلیس لعین اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اُڑ کر لگ گئی۔ یہ اول تو ایک امر باطل کااعتقاد ہوگا اسی قدرفساد کے لئے کیاکم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سن کرکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صاف فرمایاہے بیماری اُڑ کرنہیں لگتی، یہ وسوسہ دل میں جمنا سخت خطرناک وہائل ہوگا، لہٰذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنادین بچانے کے لئے دوری بہترہے، ہاں کامل الایمان وہ کرے جوصدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے کیا اور کس قدرمبالغہ کے ساتھ کیا اگرعیاذاً باﷲ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتاکہ یہ عدوائے باطلہ سے پیداہوا ان کے دلوں میں کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقرتھا کہ
لن یصیبنا الا ماکتب اﷲ لنا۱؎
(ہمیں ہرگزکچھ پہنچتا (یاپہنچ سکتا) سوائے اس کے جو اﷲ تعالٰی نے ہمارے مقدرمیں لکھ دیاہے۔ت) بے تقدیرالٰہی کچھ نہ ہوسکے گا، اسی طرف اس قول وفعل حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور کل ثقہ باﷲ وتوکلا علیہ (ایک جذامی سے آپ نے فرمایا) اﷲ تعالٰی پراعتماد اور بھروسا کرتے ہوئے (ہمارے ساتھ) کھائیے۔ت) فرمایا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۵۱)
امام اجل امین، امام الفقہاء وامام المحدثین، وامام اہل الجرح والتعدیل، وامام اہل التصحیح والتعلیل، حدیث وفقہ دونوں کے حاوی سیدنا امام ابوجعفر طحاوی شرح معانی الآثار شریف میں دربارہ نفی عدوٰی احادیث سعدبن مالک وعلی مرتضٰی وعبداﷲ بن عباس وابی ہریرہ وعبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عمر وجابر بن عبداﷲ وانس بن مالک وسائب بن یزید وابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہم روایت کرکے فرماتے ہیں: فقد نفی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم العدوٰی وفی ھذہ الاثار وقد قال فمن اعدی الاول ای لما کان مااصاب الاول انما کان بقدراﷲ عزوجل کان ما اصاب الثانی کذٰلک، فان قال قائل فنجعل ھذا مضادا لما روی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایورد ممرض علی مصح کما جعلہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قلت لاولکن یجعل قولہ لاعدوی کماقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نفی العدوی ان یکون ابدا ویجعل قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایورد ممرض علی مصح علی الخوف منہ ان یورد علیہ فیصیبہ بقدر اﷲ تعالٰی مااصاب الاول فیقول الناس اعداہ الاول فکرہ ایراد المصح علی الممرض خوف ھذا القول، وقد روینا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ھذہ الاٰثار ایضا وضعہ یدالمجذوم فی القصعۃ فدل فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایضا علی نفی الاعداء لانہ لوکان الاعداء مما یجوزان یکون اذا لما فعل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مایخاف ذٰلک منہ لان فی ذٰلک جرالتلف الیہ وقد نھی اﷲ عزوجل عن ذٰلک فقال ولاتقتلوا انفسکم ومررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بھدف مائل فاسرع فاذا کان یسرع من الھدف المائل مخافۃ الموت فکیف یجوز علیہ ان یفعل مایخاف منہ الاعداء، فھذا معنی ھذہ الاٰثار عندنا واﷲ تعالٰی اعلم۱؎ ملتقطا۔
بیشک حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان آثار میں (احادیث) تعدیہ مرض کی نفی فرمائی، چنانچہ آپ کاارشاد ہے کہ پہلے مریض کو کیسے تعدیہ مرض ہوا بلکہ اﷲ تعالٰی عزوجل کی تقدیر سے لاحق ہوا۔ اس لئے دوسرے کوبھی جو کچھ پہنچا اسی طرح پہنچا، اگرکوئی قائل یوں کہے کہ ہم اس کو اس حدیث کے متضاد قراردیتے ہیں جو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہی کہا ہے۔ قلت (میں کہتاہوں کہ) ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے ارشاد لاعدوٰی کو لیتے ہیں جیسا کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا توتعدیہ مرض کی ہمیشہ نفی ہوگی اور ہم حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد ''کوئی مریض کسی تندرست پرنہ وارد ہو'' کی بنیاد اس اندیشہ پررکھتے ہیں کہ مریض کبھی کبھار صحت مند اور تندرست کے پاس جائے اور پھرتندرست کوتقدیرالٰہی سے وہی مرض لاحق ہوجائے جس میں مریض مبتلا ہوچکاہو تو لوگ کہیں گے کہ پہلے کامرض (بطورتجاوز) اس میں سرایت کرگیاہے تو پھر اس کہنے کے اندیشہ سے کسی تندرست کامریض کے پاس جانا یا اس کاالٹ ناپسندکیاگیا اور ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے ان آثار میں روایت کی کہ آپ نے خود جذامی کاہاتھ پکڑ کر کھانے کے پیالے میں رکھا، اس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کااپنا مبارک عمل بھی تعدیہ مرض کی نفی کی دلیل ہے۔ اگرتعدیہ مرض کسی طرح امکان رکھتا تونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کبھی ایساخطرناک کام (جذامی کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے والا) نہ کرتے کیونکہ اس میں ایذا کو اپنی طرف کھینچ کرلاناہے حالانکہ اﷲ تعالٰی بزرگ وبرتر نے اس سے منع فرمایاہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے: (لوگو!) اپنے آپ کو قتل نہ کرو، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایک جھکے ہوئے (گرنے والے) ٹیلے کے پاس سے گزرے تو گزرنے میں جلدی سے کام لیا، جب آپ نے گرنے والے ٹیلے سے گزرتے ہوئے اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں اس کے گِرپڑنے سے ہلاکت نہ ہوجائے آپ نے جلدی فرمائی، تو پھر آپ کے لئے کیسے رواہے کہ آپ وہ کام کریں کہ جس سے تعدیہ مرض کااندیشہ اور خطرہ رہے۔ پھر ہمارے نزدیک ان آثار کایہ مفہوم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم ملتقطا۔(ت)
(۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷)