Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
44 - 160
اقول: طریقتھا رضی اﷲ تعالٰی عنھا معروفۃ فی امثال الاحادیث التی ترد علی خلاف ماعندھا من العلم القطعی المستند الی القراٰن العظیم اوالسماع الشفاھی من حبیب الکریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان تنسب راویھا الی السہو والوھم فی السماع والفھم کما قالت فی حدیث امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان المیت لیعذب ببعض بکاء اھلہ علیہ، یرحم اﷲ عمر لاواﷲ ماحدث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ یعذب المومن ببکاء اھلہ ولکن اﷲ تعالی یزید الکافر عذابا ببکاء اھلہ علیہ وقالت حسبکم القراٰن ولاتزر وازرۃ وزراخرٰی رواہ الشیخان۱؎ وقالت یغفر اﷲ لابی عبدالرحمٰن ترید ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم فانہ ایضا روی الحدیث کابیہ اما انہ لم یکذب ولکنہ نسی انما مررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی یھودیۃ یبکی علیھا فقال انھم لیبکون علیھا وانھا لتعذب فی قبرھا۲؎ رویاہ ایضا ۔
اقول: (میں کہتاہوں) سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کاطریقہ کار اس قسم کی حدیثوں کے رَد میں جو اس علم قطعی کی بناء پرجوان کے نزدیک ثابت شدہ ہے یہ ہے کہ جس کی سندقرآن عظیم یا حضورکریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے بالمشافہ سماع پرہے مشہورومعروف ہے کہ سماع وفہم میں راوی کی طرف سہوووہم کی نسبت کرتی ہیں جیسا کہ امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ روایت فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا بعض دفعہ میت پرگھروالوں کے رونے سے اسے عذاب دیاجاتاہے۔ مائی صاحبہ نے فرمایا اﷲ تعالٰی عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہ) پررحم فرمائے خدا کی قسم ایساہرگز نہیں یہ ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانہیں کہ گھروالوں کے رونے کی وجہ سے میت کوعذاب ہوتاہے بلکہ حدیث یوں ہے کہ اﷲ تعالٰی کافر کے عذاب میں اضافہ فرمادیتا ہے جبکہ اس کے گھروالے اس پرروئیں۔ چنانچہ مائی صاحبہ نے فرمایا اس بارے میں تمہیں قرآن مجید کافی ہے(چنانچہ ارشاد ربانی ہے) کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی۔ بخاری ومسلم نے اسے روایت کیاہے، اور ام المومنین نے ارشاد فرمایا اﷲتعالٰی ابوعبدالرحمن یعنی عبداﷲ ابن عمر کو معاف کرے کہ انہوں نے بھی اپنے والدگرامی کی طرح حدیث روایت کردی۔ سن لو انہوں نے جھوٹ نہیں کیا البتہ وہ بھول گئے(اصل واقعہ) یہ تھا کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایک مردہ یہودیہ کے پاس سے گزرے کہ جس پر رویا جارہاتھا آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اس پرگریہ وبکا کررہے ہیں مگر اس کو قبرمیں عذاب دیاجارہاہے۔ بخاری ومسلم دونوں نے اس کو روایت کیا ہے۔

(۱؎ صحیح البخاری  کتاب الجنائز  باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یعذب المیت الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۷۲)

(صحیح مسلم         کتاب الجنائز            قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۳۰۳)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الجنائز ۱/ ۱۷۲  و صحیح مسلم     کتاب الجنائز ۱/ ۳۰۳)
وفی لفظ اَمَ واﷲ ماتحدّثون ھذا الحدیث عن الکاذبین ولکن السمع یخطی وان لکم فی القراٰن مایشفیکم ان لاتزر وازرۃ وزراخرٰی ولکن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان اﷲ عزوجل لیزیدالکافر عذابا ببعض بکاء اھلہ علیہ رواہ الامام الطحاوی۱؎ وقالت فی حدیثھما ایضاً اعنی امیر المؤمنین وابنہ عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھم ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فی نتنی بدر والذی نفسی بیدہ ماانتم باسمع لما  اقول  منھم۲؎، رویاہ ایضا انما قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھم لیعلمون الان ماکنت  اقول لھم حق وقدقال اﷲ تعالٰی انک لاتسمع الموتی رواہ البخاری۳؎

ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: سنو لو، خدا کی قسم یہ حدیث تم جھوٹوں سے نہیں روایت کرتے لیکن سننے میں بھی غلطی لگ جاتی ہے اور تمہارے لئے قرآن مجید میں تمہاری شفاء کے اسباب موجود ہیں کہ کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی لیکن حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالٰی (مرنے والے) کافرکے عذاب کو اس کے بعض گھروالوں کے رونے کی وجہ سے بڑھادیتاہے۔ امام طحاوی نے اسے روایت کیاہے، ام المومنین نے ان دونوں کی حدیث کے متعلق ارشاد فرمایا(ان دونوں سے مراد امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں) حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بدبودار کفارمقتولین بدر کے متعلق ارشاد فرمایا اس پروردگار کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو کچھ میں ان سے فرمارہاہوں تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، نیزدونوں نے اس کو روایت فرمایا(یہاں بھی ام المومنین نے یہ ارشاد فرمایا) نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایاتھا۔ اب وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ حق ہے جو میں ان سے کہتاتھا۔ حالانکہ بلاشبہہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا یقینا آپ مُردوں کو نہیں سناسکتے۔ امام بخاری نے اس کو روایت کیاہے۔
 (۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراہۃ     باب البکاء علی المیت الخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲/ ۴۰۶)

(۲؎ صحیح البخاری         کتاب المغازی     باب قتل ابی جہل     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۵۶۶)

(۳؎ صحیح البخاری         کتاب الجنائز     باب ماجاء فی عذاب القبر     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۸۳)
ولما بلغھا حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ان الطیرۃ فی المرأۃ والدار والفرس فغضبت غضبا شدیدا وقالت والذی نزل القراٰن علٰی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماقالھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما قال اھل الجاھلیۃ کانوایتطیرون من ذٰلک رواہ الطحاوی۱؎ وابن جریر عن قتادۃ عن ابی حسان ورواہ ایضا الحاکم والبیہقی وماذٰلک الا لان العلم عندھا من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی خلاف ذٰلک فقد قالت کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یبغض الطیرۃ ویکرھھا رواہ الامام الطحاوی۲؎
 (یونہی) جب ام المومنین کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی یہ حدیث پہنچی کہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت، گھر اور گھوڑے میں نحوست ہے۔ تو آپ بہت زیادہ غضبناک ہوئیں اور فرمایا: اس خدابزرگ وبرتر کی قسم جس نے محمد کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرمقدس قرآن نازل فرمایا کہ حضورپاک نے اس طرح نہیں ارشاد فرمایا بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ دورجاہلیت والے ان چیزوں سے نحوست اور بدشگونی لیتے تھے۔ امام طحاوی وابن جریر نے بواسطہ قتادہ بواسطہ ابوحسان اسے روایت کیاہے نیز حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیاہے۔ رہایہ کہ ام المومنین ایساکیوں کرتی تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے انہیں جو یقینی علم حاصل تھا وہ مذکورہ روایتی الفاظ کے خلاف تھا۔ بلاشبہہ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم بدشگونی اور نحوست کے تصور کو مبغوض خیال فرماتے اور ناپسند کرتے تھے۔ امام طحاوی نے اسے روایت فرمایا

(۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراھۃ     باب الاجتناب من ذی داء الطاعون     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲/ ۴۱۹)

(۲؎شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراھۃ  باب الاجتناب من ذی داء الطاعون    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۲/ ۴۱۸)
وروی ایضا انہ قیل لعائشۃ ان اباھریرۃ یقول لان یمتلی جوف احدکم قیحا خیرلہ من ان یمتلیئ شعرا فقالت یرحم اﷲ اباھریرہ حفظ اول الحدیث ولم یحفظ اٰخرہ ان المشرکین کانوایھاجون رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال لان یمتلیئ جوف احدکم قیحا خیرلہ من ان یمتلیئ شعرا من مھاجاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎اھ ذٰلک لانھا سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول ان من الشعر لحکمۃ۲؎ وسمعتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتمثل بشعر ابن رواحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وربما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھذا البیت ویأتیک بالاخبار من لم تزود روی الکل الطحاوی۳؎
اور یہ بھی روایت فرمایا کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ سے کہاگیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھرجانا بنسبت اشعار سے بھرجانے کے بہترہے،تو ام المومنین نے یہاں بھی فرمایا اﷲ تعالٰی ابوہریرہ پررحم فرمائے کہ انہیں حدیث کاپہلاحصہ یادرہا اور آخری حصہ محفوظ نہ رہا(اصل واقعہ یہ تھا) مشرکین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مذمت کیاکرتے اور آپ کے خلاف بدگوئی سے کام لیتے تھے تو اس بارے میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم میں سے کسی کاپیٹ پیپ سے بھرجاتا تو اس کے لئے بہترتھا بنسبت حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی ہجواور مذمت والے اشعار سے بھرنے کے اھ، اور یہ اس لئے فرمایا کہ ام المومنین نے حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے خود سناتھا کہ آپ نے فرمایا بعض اشعار حکمت پرمبنی ہوتے ہیں یاحکمت والے ہوتے ہیں، اور یہ بھی سناتھا کہ آپ ابن رواحہ کے اشعارپڑھاکرتے تھے (اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو) اور کبھی آپ نے یہ شعر بھی پڑھا ویأتیک بالاخبار من لم تزود یعنی تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا جس کو تونے توشہ نہ دیا، سب کو امام طحاوی نے روایت کیاہے،
 (۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراھۃ     باب روایۃ الشعرالخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲/ ۴۰۸)

(۲؎شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراھۃ     باب روایۃ الشعرالخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی  ۲/ ۴۰۹)

(۳؎شرح معانی الآثار للطحاوی     کتاب الکراھۃ     باب روایۃ الشعرالخ     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی  ۲/ ۴۰۹)
Flag Counter