علامہ فتنی مجمع بحارالانوار میں فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظرالی المجذومین لانہ اذا ادامہ حقرہ وتاذٰی بہ المجذوم۲؎۔
نگاہ جماکر جذامیوں کو نہ دیکھو اس لئے کہ یہ ایذا ہے جب کوئی نگاہ جماکرانہیں دیکھے تو انہیں حقیرسمجھے گا اور جذامیوں کو اس طرح تکلیف ہوگی۔(ت)
(۲؎ مجمع بحارالانوار تحت حرف الجیم تحت لفظ ''جذام'' مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۶)
حدیث ششم میں کہ ان ثقفی سے فرمایا: ''پلٹ جاؤتمہاری بیعت ہوگئی'' متعدد وجوہ ہیں:
(۱) انہیں مجلس اقدس میں نہ بلایا کہ حاضرین دیکھ کر حقیرنہ سمجھیں۔
(۲) حضار میں کسی کو دیکھ کریہ خیال نہ پیدا ہو کہ ہم ان سے بہترہیں، خودبینی اس مرض سے بھی سخت تربیماری ہے۔
(۳) مریض اہل مجمع کو دیکھ کر غمگین نہ ہوکہ یہ سب ایسے چین میں ہیں اور وہ بلامیں، تو اس کے قلب میں تقدیر کی شکایت پیداہوگی۔
(۴) حاضرین کالحاظ خاطرفرمایا کہ عرب بلکہ عرب وعجم جمہوربنی آدم بالطبع ایسے مریض کی قربت سے بُرا مانتے ہیں نفرت لاتے ہیں۔
(۵) اقول: (میں کہتا ہوں۔ت) ممکن کہ خاطر مریض کالحاظ فرمایا کہ ایسامریض خصوصاً نومبتلا خصوصاً ذی وجاہت مجمع میں آتے ہوئے شرماتاہے۔
(۶) اقول: ممکن کہ مریض رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاتھوں سے رطوبت نکلتی تھی تو نہ چاہا کہ مصافحہ فرمائیں، غرض واقعہ حال محل صدگونہ احتمال ہوتاہے حجت عام نہیں ہوسکتا۔
ارجع فقد بایعناک انما ردہ لئلا ینظر الیہ اصحابہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیزدرونہ ویرون لانفسھم علیہ فضلا فیدخلھم العجب اولئلا یحزن المجذوم برؤیۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ ومافضلوا بہ فیقل شکرہ علی بلاء اﷲ تعالٰی۱؎۔
واپس چلے جاؤ بے شک میں نے تمہیں (زبانی) بیعت کرلیاہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جذامی شخص کو لوٹادیا تاکہ حضورعلیہ السلام کے صحابہ کرام اسے دیکھ کرکہیں حقیر اور گھٹیانہ سمجھنے لگیں اور اپنے آپ کو اس پر ترجیح نہ دینے لگیں۔ اس طرح ان میں خودبینی پیداہوجائے گی۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے صحابہ ذی شان کو اور ان کے فضل وشرف کو دیکھنے سے کہیں جذامی غمگین نہ ہو، پھر اﷲ تعالٰی کی مصیبت اور بلاپر اس کے جذبات شکر میں کمی نہ آجائے۔(ت)
(۱؎ مجمع بحارالانوار حرف الجیم تحت لفظ ''جذام'' مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۶)
حدیث ہفتم کہ بچھونا لپیٹنے کو فرمایا اقول: (میں کہتاہوں۔ت) ممکن کہ اس لئے فرمایا ہوکہ مریض کے پاؤں سے رطوبت نہ ٹپکے۔
حدیث ہشتم کہ اگرکوئی بیماری اُڑ کر لگتی ہو تو جذام ہے۔ ''اگر'' کالفظ خودبتارہاہے کہ اُڑ کر لگناثابت نہیں۔ تیسیرمیں ہے:
قولہ ان کان، دلیل علی ان ھذا الامر غیر محقق عندہ ۲؎اھ اقول: حملہ علی الشک وماکان ینبغی وانّما حقہ ان نقول قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان کان فی شیئ من ادویتکم خیرففی شرطۃ محجم او شربۃ من عسل الحدیث رواہ احمد۳؎ والشیخان والنسائی عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولاشک ان فی العسل خیراکمانطق بہ القراٰن العزیز وفی الحجامۃ ایضا کما دل علیہ المستفیض من الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لوکان شیئ سابق القدر لسبقتہ العین رواہ احمد۱؎ ومسلم والترمذی عن ابن عباس واحمدوالترمذی وابن ماجۃ بسند صحیح عن اسماء بنت عمیس رضی اﷲ تعالٰی عنھم لاشک ان القدر لایسبقہ شیئ فاذا ثبت الوجھان فی امثال المقال جاء الاحتمال فبطل الاستدلال۔
گزشتہ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاارشاد حرف ''اِنْ'' اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر آپ کے نزدیک ثابت اور محقق نہیں اھ۔ اقول: (میں کہتاہوں۔ت) اس کو شک پرمحمول کرناہرگز مناسب نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ ہم یوں کہیں کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) اگرتمہاری کسی دوا اور علاج میں خیرہو توپچھنے لگوانے اور شہد پینے میں ہے(الحدیث) امام احمد، بخاری، مسلم اور نسائی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ بلاشبہہ شہد کے استعمال کرنے میں خیر ہے جیسا کہ قرآن عزیز اس پرناطق ہے اور پچھنے لگانے میں بھی خیرہے جیسا کہ مشہور قولی اور فعلی حدیثیں اس پردلالت کرتی ہیں اور حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرکوئی چیز قضاوقدر سے آگے بڑھ جاتی تو نظربد آگے بڑھ جاتی۔ امام احمد، مسلم، ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے اس کو روایت کیا، نیزامام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بسندصحیح اسماء دخترعمیس، سے اسے روایت کیاہے(اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں کہ تقدیر سے کوئی چیز آگے نہیں ہوسکتی، پھر جب وہ وجوہات اس قسم کی گفتگو میں ثابت ہوگئیں تو کلام میں احتمال پیداہوگیا(لہٰذا احتمال کے ہوتے ہوئے) استدلال باطل ہوگیا۔(ت)
(۲؎ تیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ان کان شیئ من الداء الخ مکتبہ امام شافعی ریاض ۱/ ۳۷۳)
(۳؎ صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بالعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۴۸)
(صحیح مسلم کتاب السلام باب لکل داء دواء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۵)
(۱؎ مسندامام احمد بن حنبل عن اسماء بنت عمیس المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۳۸)
(صحیح مسلم کتاب السلام باب الطب والمرض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۰)
(سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب من استرقی الھین ص۲۵۹)
رہا اس وادی سے جلد گزرجانا اقول: (میں کہتاہوں۔ت) اس میں وہ پانچ وجوہ پیشین جاگزیں جوحدیث ششم کے بارہ میں گزریں فافھم (لہٰذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ت) حدیث نہم کہ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اُن بی بی کو منع فرمایا اقول: وہاں بھی چاروجہ اولیں جاری کمالایخفی بادنٰی تأمل(جیسا کہ معمولی غوروفکر کرنے سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہتی۔ت) حدیث یازدہم ودوازدہم کافقرہ کہ امیرالمومنین نے معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے فرمایا دوسراہوتا تو مجھ سے ایک نیزے کے فاصلہ پربیٹھتا اقول: انہیں حدیثوں میں ہے کہ اُن کو اپنے ساتھ کھلایا، اگریہ امرعدوٰی کاسبب عادی ہوتا تواہل فضل کی خاطر سے اپنے آپ کو معرض بلا میں ڈالنا روانہ ہوتا۔ اور تیرہویں حدیث نے توخوب ظاہرکردیاکہ امیرالمومنین خیال عدوٰی کی بیخ کنی فرماتے تھے، نری خاطرمنظورتھی تو اس شدت مبالغہ کی کیاحاجت ہوتی کہ پانی انہیں پلاکر اُن کے ہاتھ سے لے کر خاص اُن کے منہ رکھنے کی جگہ پرمنہ لگاکر خود پیتے، معلوم ہوا کہ عدوٰی بے اصل ہے تو اس فرمانے کا منشاء مثلاً یہ ہوکہ ایسے مریض سے تنفر انسان کاایک طبعی امرہے آپ کافضل اس پرحامل ہے کہ وہ تنفرمضمحل وزائل ہوگیا دوسراہوتا توایسانہ ہوتا۔ حدیث سی ویکم کہ تندرست جانوروں کے پاس بیمار نہ لائے جائیں اقول: (میں کہتاہوں۔ت) اس کی وجہ خود حدیث مؤطائے امام مالک وسنن بیہقی نے ظاہرکردی کہ یہ صرف لوگوں کے بُرا ماننے کے لحاظ سے ہے ورنہ بیماری اُڑ کرنہیں لگتی، ولہٰذا ہم نے اس حدیث کو احادیث قسم اول میں شمار بھی نہ کیا۔ اب نہ رہیں مگر پانچ حدیثیں اول دوم سوم پنجم دہم اقول: قطع نظر اس سے کہ ان میں دوم کی سندواہی اور سوم کی خود حضرت عبداﷲ بن جعفررضی اﷲ تعالٰی عنہما نے جن کی طرف وہ نسبت کی جاتی تھی تکذیب فرمائی، اور دہم کہ امیرالمومنین سے ایک صحابی جلیل القدرمنجملہ اصحاب بدرومہاجرین سابقین اوّلین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کی نسبت اس کا صدورسخت مستبعد تھا، متعدد حدیثوں نے اس کا خلاف ثابت کردیا جیسا کہ امیرالمومنین سے مظنون تھا کماسبق ذٰلک کلہ فھذا منقطع باطنا ومعلول غیرمقبول(یہ سب کچھ پہلے گزرچکاہے لہٰذا یہ اندرونی طورپرمنقطع، معلول غیرمقبول ہے۔ت) اُن میں کسی کاحاصل حدیث اول کے حاصل سے کچھ زائد نہیں اور اُن میں وہی صحیح یاحسن ہے تو اسی کی طرف توجہ کافی۔
علماء کے لئے یہاں متعدد طریقے ہیں:
اوّل اس کے ثبوت میں کلام بہ طریقہ امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کاہے جیسا کہ حدیث ہفدہم میں گزرا۔