| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اقول: وابوقلابۃ ھذا ھو عبداﷲ بن زید الجرمی من ثقات التابعین وعلمائھم کثیرالارسال وکان الاولی ان ینبہ علیہ ثم ان العلامۃ الشمس السخاوی قال فی حدیث اتقوا ذوی العاھات المعنی فرمن المجذوم فرارک من الاسد کما ورد فی بعض الفاظ الحدیث وھو متفق علیہ عن ابی ھریرۃ مرفوعا بمعناہ۱؎ اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول: لم ارہ لمسلم انما فیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمجذوم انا قد بایعناک فارجع۲؎ نعم ھو فی حدیث البخاری بلفظ فر من المجذوم کما تفرمن الاسد۳؎ والیہ وحدہ عزاہ فی المشکٰوۃ۴؎ و کذا الامام النووی فی شرح مسلم تحت حدیثہ المذکور۵؎ وکذا الامام السیوطی فی اول جامعہ الکبیر۶؎، فاﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہتاہوں کہ) یہ ابوقلابہ عبداﷲ ابن زیدجرمی ہے جو ثقات تابعین او ر ان کے علماء میں سے ہے یہ کثیرالارسال ہے، بہترتو یہ تھا کہ وہ اس پر آگاہ (تنبیہ) کرتا۔ علامہ شمس الدین سخاوی نے فرمایا کہ حدیث اتقوا ذوی العاھات کا معنی فرمن المجذوم فرارک من الاسد(یعنی جذامی آدمی سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو) جیسا کہ حدیث کے بعض الفاظ میں وارد ہواہے اور وہ بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ متفق علیہ مرفوع بالمعنٰی روایت ہےاھ مجھے یادہے میں نے اسی پر حاشیہ لکھاہے عبارت یہ ہے اقول: (میں کہتاہوں)میں نے اسے صحیح مسلم میں نہیں دیکھا، اس میں حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاجذامی شخص کے بارے میں صرف یہی ارشاد مذکورہے کہ ہم نے تمہیں (زبانی) بیعت کرلیالہٰذا واپس چلے جاؤ، ہاں البتہ بخاری شریف کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں ''جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح تو شیرسے بھاگتاہے'' صرف اکیلے بخاری ہی کی طرف مشکوٰۃ میں اس کی نسبت کی گئی ہے۔ اسی طرح امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کے ذیل میں لکھاہے اور اسی طرح اپنی جامع کبیر میں ابتداءً امام سیوطی نے فرمایا: درحقیقت اﷲ تعالٰی ہی سب کچھ جانتاہے۔(ت)
(۱؎ المقاصد الحسنہ حرف الہمزہ حدیث ۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۸) (۲؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳) (۳؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۰) (۴؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مجتبائی دہلی بھارت ص۳۹۱) (۵؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳) (۶؎ جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۶۸ دارالفکر بیروت ۸/ ۲۹۷)
اب بتوفیق اﷲ تعالٰی تحقیق حکم سنئے اقول: وباﷲ التوفیق (میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) احادیث قسم ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہیں کہ بیماری اُڑ کر نہیں لگتی، کوئی مرض ایک سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتا، کوئی تندرست بیمار کے قریب واختلاط سے بیمارنہیں ہوجاتا، جسے پہلے شروع ہوئی اسے کس کی اُڑ کرلگی۔ ان متواتر وروشن وظاہرارشادات عالیہ کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتاکہ واقع میں تو بیماری اُڑ کر لگتی ہے مگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کاوسوسہ اٹھانے کے لئے مطلقاً اس کی نفی فرمائی، پھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی عملی کارروائی مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلانا، ان کا جھوٹا پانی پینا، ان کاہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھنا، خاص ان کے کھانے کی جگہ سے نوالہ اُٹھاکرکھانا جہاں منہ لگا کر انھوں نے پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر خود نوش کرنا یہ اور بھی واضح کررہی ہے کہ عدوٰی یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا محض خیال باطل ہے ورنہ اپنے آپ کوبلاکے لئے پیش کرنا شرع ہرگزروانہیں رکھتی،
قال اﷲ تعالٰی ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۱؎۔
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا) آپ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۹۵)
رہیں قسم اول کی حدیثیں، وہ اس درجہ عالیہ صحت پرنہیں جس پراحادیث نفی ہیں ان میں اکثرضعیف ہیں جیسا کہ ہم بیان واشارہ کرآئے اور بعض غایت درجہ حسن ہیں، صرف حدیث اول کی تصحیح ہوسکتی ہے مگروہی حدیث اس سے اعلٰی وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطال عدوٰی موجود کہ مجذوم سے بھاگو اوربیماری اُڑ کر نہیں لگتی، تویہ حدیث خود واضح فرمارہی ہے کہ بھاگنے کاحکم اس وسوسہ واندیشہ کی بناء پرنہیں، معہٰذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگراحادیث نفی سے گراہواہے کہ اسے امام بخاری نے مسنداً روایت نہ کیا بلکہ بطورتعلیق،
حیث قال قال عفان وعفان ھذا وان کان من شیوخ البخاری فکثیرامایروی عنہ بالواسطۃ کما فی فتح الباری۱؎ وعدولہ عن حدثنا المعتادلہ فی جمیع کتابہ الٰی قال لایکون الا لوجہ وھذا وان کان وصلا علٰی طریق ابن الصلاح فلیس المختلف فیہ کالمتفق علیہ وقدجزم المحقق علی الاطلاق فی باب العنین من فتح القدیر ان البخاری رواہ معلقا۲؎ ثم لعلک تقول مالک حصرت الصحۃ فی الحدیث الاوّل الیس فیما ذکرت حدیث اناقدبایعناک فارجع۳؎
چنانچہ امام بخاری نے فرمایا عفان نے کہا یہ عفان اگرچہ شیوخ بخاری (اساتذہ بخاری) میں سے ہے تاہم اس سے بسااوقات بالواسطہ روایت کرتے ہیں جیسا کہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے، امام بخاری کاحدثنا (جوتمام کتب میں حسب معمول وحسب عادت ہے) چھوڑ کر لفظ قال اختیار کرنابغیر کسی وجہ کے نہیں ہوسکتا، اگرچہ علامہ ابن الصلاح کے طریقے پر یہ صورت وصل ہے تاہم مختلف فیہ، متفق علیہ کی طرح نہیں۔ محقق علی الاطلاق (ابن ہمام) نے فتح القدیر باب عنین میں اس پر یقین اور وثوق کیاکہ امام بخاری نے اسے معلق روایت کیاہے پھر شاید آپ کہیں کہ تمہیں کیاہوگیا ہے کہ تم نے پہلی حدیث میں صحت کو منحصر(بند) کردیا حالانکہ جو کچھ آپ نے ذکرکیا اس میں یہ حدیث ہے انا قدبایعناک فارجع واپس ہوجاؤ ہم نے تمہیں زبانی بیعت کرلیا۔
(۱؎ فتح الباری شرح البخاری کتاب الطب باب الجذام مصطفی البابی مصر ۱۲ /۲۶۴) (۲؎ فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۱۳۳) (۳؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳)
اقول: انما یرویہ مسلم، ھٰکذا حدثنا یحٰیی بن یحٰیی اناھشیم ح قال وثنا ابوبکر بن ابی شیبہ قال ناشریک بن عبداﷲ وھشیم بن بشیر عن یعلی بن عطاء عن عمروبن الشرید عن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۴؎ وقال ابن ماجۃ حدثنا عمروبن رافع ثناھشیم عن یعلی بن عطاء۱؎ الخ وھشیم بن شریک کلاھما مدلس وقدعنعنا قال فی التقریب ھشیم بن بشیر ثقۃ ثبت کثیر التدلیس والارسال الخفی۲؎ وقال فی شریک صدوق یخطی کثیرا تغیر حفظہ منذ ولی القضاء بالکوفۃ۳؎ وقال فی تھذیب التھذیب قال عبدالحق الاشبیلی کان یدلس و قال ابن القطان کان مشہورابالتدلیس۴؎ اھ قال و یروی لہ مسلم فی المتابعات۵؎اھ کماھٰھنا اخرج لہ بمتابعۃ ھشیم اما قول من قال ان عنعنۃ المدلسین فی الصحیحین محمول علی السماع فاقول: تقلید جامد ولاننکرتحسین الظن فلیس التخمین کالتبیین اصلا۔
اقول: (میں کہتاہوں) امام مسلم اسے اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں ہم سے یحیٰی بن یحیٰی نے بیان کیا اسے ہشیم نے بتایا، "ح" ہم سے ابوبکر بن شیبہ نے بیان کیااس نے کہا ہم سے شریک بن عبداﷲ اور ہشیم بن بشیر نے بیان کیا اس نے یعلٰی بن عطاء اس نے عمروبن شرید اس نے اپنے باپ سے روایت کیا رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ محدّث ابن ماجہ نے فرمایا ہم سے عمروبن رافع نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے ہشیم نے بواسطہ یعلٰی بن عطاء بیان کیا الخ ہشیم اور شریک دونوں مُدلِس ہیں اور دونوں نے عن عن کے الفاظ سے روایت کی ہے، چنانچہ التقریب میں فرمایا: ہشیم بن بشیر ثقہ، ثبت ہے مگربہت زیادہ تدلیس اور ارسال خفی کرنے والاہے۔ اور شریک کے متعلق فرمایا: سچا ہے لیکن کثیرالخطا ہے اس کے حافظہ میں تبدیلی آگئی تھی جب سے وہ کوفہ میں قاضی مقررہوا۔ تہذیب التہذیب میں کہا کہ عبدالحق اشبیلی نے فرمایا: وہ تدلیس کیاکرتا تھا۔ اور ابن القطان نے فرمایا: وہ تدلیس میں مشہورتھا اھ۔ فرمایا: امام مسلم اس سے متابعات میں روایت کرتے تھےاھ۔ جیسا کہ یہاں ہشیم کی متابعت میں اس سے تخریج فرمائی۔ لیکن جس نے یہ کہا کہ تدلیس کرنے والوں کا بخاری ومسلم میں عن عن کہناسماع پرمحمول ہے فاقول: (تومیں کہتاہوں کہ) یہ محض اندھی تقلیدہے اگرچہ ہم حسن ظن کے منکرنہیں تاہم تخمین (اٹکل پچّو سے کچھ کہنا) بالکل صاف بیان کرنے کی طرح نہیں ہوسکتا۔(ت)
(۴؎صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳) (۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب الجذام ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۱) (۲؎ تقریب التہذیب لابن حجرعسقلانی تحت حرف الہاء ترجمہ ۷۳۳۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۹) (۳؎تقریب التہذیب لابن حجرعسقلانی تحت حرف الشین المعجمہ ترجمہ ۲۷۹۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۴۱۷) (۴؎ تہذیب التہذیب من اسمہ شریک ترجمہ شریک بن عبداﷲ ۵۷۷ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن بھارت ۴/ ۳۳۷) (۵؎تہذیب التہذیب من اسمہ شریک ترجمہ شریک بن عبداﷲ ۵۷۷ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن بھارت ۴/ ۳۳۷)
کوئی حدیث ثبوت عدوٰی میں نص نہیں، یہ تومتواتر حدیثوں میں فرمایا کہ بیماری اُڑ کرنہیں لگتی، اور یہ ایک حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اُڑ کرلگ جاتی ہے۔ حدیث چہارم کہ ''جذامیوں کو نظرجماکر نہ دیکھو ان کی طرف تیزنگاہ نہ کرو'' صاف یہ محمل رکھتی ہے کہ ادھر زیادہ دیکھنے سے تمہیں گھِن آئے گی نفرت پیدا ہوگی ان مصیبت زدوں کو حقیرسمجھوگے، ایک تو یہ خود حضرت عزّت کو پسندنہیں پھر اس سے ان گرفتاران بلا کو ناحق ایذا پہنچے گی، اور یہ روانہیں۔