| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
اسی حدیث کے متعدد طرق میں وہ جواب قاطع ہرشک وارتیاب ارشاد ہوا جسے ام المومنین نے اپنے استدلال میں روایت فرمایا صحیحین وسنن ابی داؤد وشرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہا میں حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ بیماری اُڑ کر نہیں لگتی، ایک بادیہ نشین نے عرض کی: یارسول اﷲ! پھراونٹوں کایہ کیاحال ہے کہ وہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ایک اُونٹ خارش والاآکر اُن میں داخل ہوتاہے جس سے خارش ہوجاتی ہے۔ حضور پرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: فمن اعدی الاول۱؎ اس پہلے کو کس کی اُڑ کرلگی، احمدومسلم وابوداؤد، وابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے ارشاد فرمایا: ذٰلکم القدر فمن اجرب الاول۲؎ یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کو کس نے کھجلی لگادی، یہی ارشاد احادیث مذکورہ عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲبن عباس وابوامامہ وعمیربن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں مروی ہوا، حدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:
الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح وفی کرکرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب لم تکن قبل ذٰلک فمن اعدی الاول۳؎۔
کیادیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیں صبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کے نرم جگہ میں کھجلی کادانہ موجود ہے بھلا اس پہلے کو کس کی اُڑکرلگ گئی۔
(۱؎ صحیح البخاری باب لاعدوی ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰) (سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ ۲/ ۱۹۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶) (۲؎ کنزالعمال بحوالہ حم وابن ماجہ حدیث ۲۸۵۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۱۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱) (۳؎ کنزالعمال بحوالہ طب، حل، ک عن عمیر بن سعد حدیث ۲۸۶۱۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۱)
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) حاصل ارشاد یہ ہے کہ قطع تسلسل کے لئے ابتداءً بغیردوسرے سے منتقل ہوئے خود اس میں بیماری پیداہونے کاماننالازم ہے توحجت قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بیماری خودبخود بھی حادث ہوجاتی ہے اور جب یہ مسلم ہے تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیداہونا محض وہم علیل وادعائے بے دلیل رہا، جب ایک میں خود پیدا ہوسکتی ہے تو یوہیں ہزار میں:
فلایوسوسن العدوالرجیم فی قلب مریض ان القائلین بالاعداء لایحصرون المرض فیہ حتی یلزمھم اعداء الاول فافھم وتثبت۔
مردوددشمن (شیطان) کہیں مریض کے دل میں یہ وسوسہ نہ ڈال دے کہ تجاوزِ مرض کے قائل مرض کو اس تعدیہ میں بند تونہیں کرتے کہ ان پر یہ الزام ہوکہ پہلے مریض کو مرض کیسے لگ گیا، پس سمجھ لیجئے اور ثابت رہئے۔(ت)
اکتیسویں حدیث: کہ امام احمدوبخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسی قدرروایت کی کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: لایوردن ممرض علی مصح۱؎۔ ہرگزبیمارجانور تندرست جانوروں کے پاس پانی پلانے کونہ لائے جائیں۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰) (سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ باب فی الطیرۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹۰) (سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب الجذام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۱) (صحیح البخاری کتاب الطب قدیمی کتب خانہ ۲/ ۸۵۹) (مسنداحمد بن حنبل عن ابی ہریرہ دارالفکر بیروت ۲/ ۴۰۶ و ۴۳۴)
بیہقی نے سنن میں یوں مطولاً تخریج کی کہ ارشاد فرمایا:
لاعدوی ولایحل الممرض علی المصح ولیحل المصح حیث شاء فقیل یارسول اﷲ ولم ذٰلک قال لانہ اذی۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بیماری اڑ کرنہیں لگتی اور تندرست جانوروں کے پاس بیمار جانورنہ لائیں اورتندرست جانور والا جہاں چاہے لے جائے، عرض کی گئی یہ کس لئے ؟ فرمایا: اس لئے کہ اس میں اذیت ہے یعنی لوگ بُرامانیں گے انہیں ایذاہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب لایوردممرض علی مصح دارصادربیروت ۷/ ۲۱۷)
قلت وقدرواہ مالک فی مؤطاہ انہ بلغہ عن بکیر بن عبداﷲ بن الاشج عن ابن عطیۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم قال لاعدوی ولاھام ولاصفر ولایحل الممرض علی المصح ولیحلل المصح حیث شاء فقالوا یارسول اﷲ وماذاک فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذی۱؎، ھکذا رواہ یحیی مرسلا وتابعہ جماعۃ من رواۃ المؤطا وخالفھم القعنبی وعبداﷲ بن یوسف وابومصعب ویحیی بن بکیر فجعلوہ عن ابی عطیۃ عن ابی ھریرۃ موصولا غیران ابن بکیر قال عن ابی عطیۃ ولاخلف فھو عبداﷲ بن عطیۃ الاشجعی ویکنی اباعطیۃ ووھم بعض رواۃ المؤطا فی جعلہ عن ابی عطیۃ عن ابی برزۃ وانما ھو عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما افادہ الزرقانی۲؎۔
قلت (میں کہتاہوں) امام مالک نے اپنی مؤطا میں اسے یوں روایت کیاکہ حدیث مذکور انہیں بکیربن عبداﷲ بن اشج سے بواسطہ ابن عطیہ اس طرح پہنچی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مرض میں تعدیہ نہیں (کہ مرض اُڑ کر دوسرے تندرست آدمی کو لگ جائے) اور اُلّو وغیرہ میں نحوست نہیں، ماہ صفر کی آمد میں نحوست نہیں۔ بیمار جانور کو تندرست جانور کے پاس نہ لائیں بلکہ تندرست جانور کو جہاں چاہیں لے جائیں۔ لوگوں نے عرض کیا یہ کیوں یارسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس میں اذیت ہے یعنی لوگوں کو ایذاہوگی۔ یحیٰی نے بطورارسال (ذکرسند کے بغیر) اس کو روایت کیا اور مؤطا کے راویوں کی جماعت نے اس کی متابعت کی۔ قعنبی، عبداﷲ بن یوسف، ابومصعب اور یحیٰی بن بکیر نے ان کی مخالت کی۔ لہٰذا بواسطہ ابن عطیہ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے اسے موصول قراردیا مگریہ کہ ابن بکیر نے ابن عطیہ سے کہا اوراس میں کوئی خلاف نہیں اس لئے کہ وہ عبداﷲ بن عطیہ اشجعی ہے البتہ اس کی کنیت ابوعطیہ ہے، بعض رواۃ مؤطا کو یہ وہم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو عن ابی عطیہ عن ابی برزہ کی سند سے ذکرکیا حالانکہ یہ حضرت ابوہریرہ کی سند سے مروی ہے(اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو) علامہ زرقانی نے اس کا افادہ کیا۔(ت)
(۱؎ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب عیادۃ المریض والطیرۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ص ۷۲۱) (۲؎ شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالک کتاب الجامع باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۳۳)
یہ حدیث دونوں مضمون کی جامع ہے۔ بتیسویں حدیث: صحیح جلیل کہ ایسا ہی رنگ جامعیت رکھتی ہے صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاعدوی وفرمن الجذوم کما تفر من الاسد۳؎، اوردہ الامام الجلیل الجلال السیوطی فی جامعہ الکبیر بھٰذا اللفظ عازیا لابن جریر عن ابی قلابۃ۱؎ وفی قسمہ الاوّل بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولاصفر واتقوا المجذوم کما تتقوا الاسد عازیا۲؎ لسنن البیھقی عن ابی ھریرۃ، و اوردہ فی اول الجامع ایضا بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولاصفروفرمن المجذوم کما تفرمن الاسد عازیا لاحمد۳؎ والبخاری عن ابی ھریرۃ، وھو کذٰلک فی الجامع الصحیح وبہ ظھر ماقدمنا ان العزو یتبع اللفظ فبالنظر الی حدیث ابی قلابۃ عددناہ بحیالہ ولذا اوردناہ بلفظہ وھو بعینہ لفظ البخاری وان اشتمل علی زیادات لاتوقف لھذا المعنی علیھا،
بیماری اُڑ کر نہیں لگتی اور جذامی سے بھاگ جیسا شیر سے بھاگتاہے۔ جلیل القدر امام جلال الدین سیوطی اپنی جامع کبیرمیں ابوقلابہ کے حوالہ سے امام ابن جریر کی طرف سے نسبت کرتے ہوئے اس لفظ سے لائے ہیں اور اس کی پہلی قسم میں ان الفاظ سے لائے ہیں ''لاعدوی'' یعنی کوئی مرض اُڑ کرنہیں لگتا، ''ولاھامۃ'' نہ اُلّو میں نحوست ہے، ''ولاصفر'' نہ ماہ صفر کی آمدمیں کوئی نحوست ہے۔ جذامی سے اس طرح بچوجس طرح شیروں سے بچتے ہو(یعنی بھاگتے ہو) بواسطہ ابوہریرہ سنن بیہقی کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ نیزجامع کی ابتداء میں امام سیوطی ان الفاظ سے لائے ہیں کسی مرض میں تجاوز نہیں نہ الّو میں نحوست ہے نہ ماہ صفرمیں، جذامی سے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ مسنداحمداوربخاری کی طرف نسبت کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے۔ اور وہ جامع صحیح میں اسی طرح ہے۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ جو کچھ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ نسبت کرنی لفظ کے تابع ہوتی ہے پھرابوقلابہ کی حدیث کے پیش نظر ہم نے اس کے مقابل سے اس کا شمار کیاہے اس لئے ہم اسے اسی لفظ سے لائے ہیں اور وہ بعینہٖ بخاری کے الفاظ ہیں اگرچہ وہ کچھ اضافوں پرشامل ہے پس اس معنی کاان پر توقف نہیں(یہ معنی ان پرموقوف نہیں)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۰) (۱؎ جامع الاحادیث للسیوطی مسند ابی قلابہ حدیث ۱۰۱۴۶ دارالفکر بیروت ۱۷/ ۳۱۴) (۲؎جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۹۱ دارالفکر بیروت ۸/ ۳۰۰) (۳؎جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۶۸ دارالفکر بیروت ۸/ ۲۹۷)