اقول: لکن فیہ مفضل بن فضالۃ البصری بالباء اخومبارک قال فی التقریب ضعیف۲؎ وقال الترمذی ھذا حدیث غریب لانعرفہ الامن حدیث یونس بن محمد عن المفضّل بن فضالۃ والمفضّل بن فضالۃ ھذا شیخ بصری والمفضّل بن فضالۃ شیح آخر مصری اوثق من ھذا واشھر وروی شعبۃ ھذا الحدیث عن حبیب بن الشھید عن ابن بریدۃ قال ابن عمر اخذ بید مجذوم'' وحدیث شعبۃ اشبہ عندی واصح۱؎اھ
اقول: (میں کہتاہوں) لیکن اس میں مفضل بن فضالہ بصری (حرف باء کے ساتھ) مبارک کابھائی ہےچنانچہ التقریب میں کہا کہ وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے کہایہ حدیث غریب ہے ہم اس کوصرف یونس بن محمد بواسطہ مفضل بن فضالہ پہچانتے ہیں اور یہ مفضل بن فضالہ شیخ بصری ہے جبکہ اسی نام کا ایک دوسرا مفضل بن فضالہ شیخ مصری ہے جو اس پہلے سے زیادہ ثقہ اور زیادہ مشہورہے۔ محدّث شعبہ نے اس حدیث کو حبیب بن شہید بواسطہ ابن بریدہ روایت کیاہے اور کہاہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ایک جذامی کاہاتھ پکڑا، میرے نزدیک محدّث شعبہ کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہےاھ
(۲؎ تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی ترجمہ ۶۸۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۰۹)
(۱؎ جامع الترمذی کتاب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴)
واخرج ابن عدی ۲؎ فی الکامل ھٰذا الحدیث للمفضل المذکور وقال لم ارفی حدیثہ انکر من الحدیث قال ورواہ شعبۃ عن حبیب عن ابن بریدۃ ان عمر اخذ بید مجذوم الحدیث۳؎ اھ ولم یذکر الذھبی فی المیزان فی المفضل ھذا جرحا مفسرا بل ولاغیر مفسرمما یبلغ درجۃ التضعیف البتۃ انما نقل عن یحٰیی۴؎ انہ قال لیس ھو بذاک وعن الترمذی ۵؎ ماقدمنا ان المصری اوثق منہ وعن النسائی ۶؎ انہ قال لیس بالقوی۔
محدّث ابن عدی نے الکامل میں اس حدیث کو مفضل مذکور کے حوالہ سے اس کی تخریج کی اور کہا ہے کہ میں نے اس سے زیادہ منکر کوئی حدیث نہیں دیکھی، پھر اس نے کہا شعبہ نے حبیب سے بواسطہ ابن بریدہ اس حدیث کو روایت کیاہے کہ حضرت عمرفاروق نے ایک جذامی کاہاتھ پکڑا(الحدیث)اھ، علامہ ذہبی نے المیزان میں اس مفضل کے بارے میں کوئی مفصل یاغیرمفصل جرح ذکرنہیں کی بلاشبہہ جودرجہ تضعیف تک پہنچتی ہے، اور یحیٰی سے نقل کیاگیاکہ اس نے کہا کہ یہ اس درجہ کی حدیث نہیں، امام ترمذی کے حوالے سے ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ شیخ مصری، شیخ بصری سے زیادہ ثقہ (مستندومعتبر) ہے۔ امام نسائی سے مروی ہے کہ وہ قوی نہیں۔
اقول: ولایخفی علیک البون البین بین لیس بالقوی ولیس بقوی وقد روی عنہ ذاک المؤدب الثقۃ الثبت وعبدالرحمٰن بن مھدی ذاک الجبل الشامخ الامام الحافظ قال البخاری فی علی بن عبداﷲ المعروف بابن المدینی مااستصغرت نفسی الاعندہ وقال ابن المدینی فی عبدالرحمٰن ھذا مارأیت اعلم منہ وکذٰلک موسٰی بن اسمٰعیل ذاک الثقۃ الثبت وجماعۃ لاجرم حسنہ الحافظ واطلاق الصحیح علی الحسن غیرمستنکر وقدصححہ امام الائمۃ ابن خزیمۃ ومن تبعہ وقد وجدت لہ متابعا فان الامام الاجل اباجعفر الطحاوی اخرجہ اولابالطریق المذکور فقال حدثنا فھد (یعنی ابن سلیمٰن بن یحٰیی) ثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثنا یونس بن محمد الحدیث ثم قال حدثنا ابن مرزوق ثنا محمد بن عبداﷲ الانصاری ثنا اسمٰعیل بن مسلم عن ابی الزبیر عن جابر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مثلہ۱؎اھ قلت وبہ یعلم مافی کلام الامام الترمذی واﷲ تعالٰی اعلم ،
اقول: (میں کہتاہوں کہ) تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ لیس بالقوی اور لیس بقوی دونوں میں واضح اور کھلافرق ہے بلاشبہہ اس مؤدب ثقہ مثبت نے اس سے روایت کی ہے۔ عبدالرحمن ابن مہدی جو فن حدیث میں کوہ گراں ہے امام اور حافظ ہے امام بخاری نے علی بن عبداﷲ جو ابن المدینی کے نام سے مشہور ہے کے متعلق فرمایا کہ میں نے صرف اس کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹاسمجھا۔ چنانچہ ابن المدینی نے عبدالرحمن کے بارے میں فرمایا میں نے اس سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا اور اسی طرح موسٰی بن اسمٰعیل ثقہ، ثبت ہے۔ اور ایک جماعت بلاشبہہ حافظ نے اس کی تحسین فرمائی اور حسن پر صحیح کا اطلاق غیر معروف نہیں ۔امام الائمہ ابن خزیمہ اوران کے ہمنوا ائمہ نے اس کی تصحیح فرمائی اور بلاشبہہ میں نے اس کا متابع پایاہے کیونکہ جلیل الشان امام ابوجعفرطحاوی نے اوّلاً طریق مذکور سے اس کی تخریج فرمائی چنانچہ فرمایا ہم سے فہدیعنی ابن سلیمان بن یحیٰی نے بیان کیا، اس نے کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا اس نے کہاہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، الحدیث۔ پھر فرمایا ہم سے ابن مرزوق نے بیان کیا اس سے محمد بن عبداﷲ انصاری نے اس سے اسمٰعیل بن مسلم نے بیان کیا، اس نے ابوالزبیر سے اس نے جابر سے، انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اسی حدیث مذکور کی مثل روایت فرمائی اھ قلت (میں کہتاہوں کہ) اس سے امام ترمذی کے کلام کاحال معلوم کیاجاسکتاہے اور درحقیقت اﷲ تعالٰی ہی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے،
(۱؎ شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون وغیرہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷)
ثم اعلم انہ وقع فی الجامع الصغیر لھذا الحدیث رمز حب، ک اقول: ولم ارہ فی المجتبی بل لیس فیہ لان مدارہ علی ماذکر الترمذی علی المفضل کما علمت والمفضل ھذا لیس من رواۃ النسائی اصلا وقد سقط الحدیث من نسخۃ سیدی علی المتقی قدس سرہ ولذا اوردہ من القسم الاوّل للجامع الکبیر وقد رمزلہ فیہ د، ت، ہ الخ وھوالصحیح الا ان یکون النسائی رواہ فی الکبری فبالنظر الیہ یقال ع وھو بعید ثم الواقع فی المشکٰوۃ۱؎ معزیا لابن ماجۃ ماذکرنا اعنی کل ثقۃ باﷲ وفی جامع الترمذی ثم قال کل بسم اﷲ ثقۃ باﷲ وتوکلا علیہ۲؎، قال العلامۃ علی القاری اما ترک المؤلف البسملۃ مع وجودھا فی الاصول فاما محمولۃ علی روایۃ منفردۃ غریبۃ لابن ماجۃ اوعلی غفلۃ من صاحب المشکٰوۃ او المصابیح۱؎ اھ
پھرجان لیجئے کہ جامع الصغیر میں اس حدیث کے لئے یہ رمز (حب،ک) ہے اقول: (میں کہتاہوں کہ) میں نے اس کومجتبٰی میں نہیں دیکھا بلکہ اس میں موجود ہی نہیں اس لئے کہ حدیث مذکور کامدارجیسا کہ امام ترمذی نے ذکرکیا مفضل پرہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور یہ مفضّل بالکل رواۃ نسائی میں سے نہیں۔ میرے آقا علی متقی قدس سرہ کے نسخہ سے حدیث مذکور ساقط ہوگئی ہے اس لئے امام سیوطی جامع کبیر کی پہلی قسم میں اسے لائے ہیں اور اس کے لئے یہ رمز (د،ت،ہ) پیش فرمائی الخ۔ او ر وہ صحیح ہے ہاں البتہ امام نسائی نے الکبرٰی میں اسے روایت فرمایا تو پھر اس کے پیش نظر (ع) کہاجائے گا لیکن وہ بعیدہے پھر مشکوٰۃ میں ابن ماجہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہی الفاظ واقع ہوئے جو ہم نے ذکر کئے ہیں، میری مراد ''کل ثقۃ باﷲ'' کے الفاظ سے ہے۔ اور جامع ترمذی کے الفاظ یہ ہیں، پھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کل بسم اﷲ ثقۃً باﷲ توکلا علیہ (اﷲ کا نام لے کر کھائیں اﷲ تعالٰی پر اعتمادوبھروسا کرتے ہوئے)۔ علامہ علی قاری نے فرمایا مصنف علیہ الرحمۃ کابسم اﷲ چھوڑدینا باوجودیکہ وہ اصول میں مذکورہے یاتو اس لئے ہے کہ یہ ابن ماجہ کی منفرد غریب روایت پرمحمول ہے یاصاحب مشکوٰۃ یاصاحب مصابیح کی غفلت کانتیجہ ہےاھ
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب باب الفال والطیرۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۹۲)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴)
(۱؎ مرقات المفاتیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۵۱)
اقول: سبحٰن اﷲ ھو انما نقلہ عن ابن ماجۃ فلوزاد البسملۃ نسب الی الفضلۃ ثم لم یتفرد ابن ماجۃ بترک البسملۃ بل ھو کذٰلک عند ابی داؤد ایضا رواہ عن عثمٰن بن ابی شیبۃ عن یونس بن محمد وابن ماجۃ عن ابی بکر بن ابی شیبہ ومجاھد ابن موسٰی ومحمد بن خلف العسقلانی کلھم عن یونس بترک البسملۃ والترمذی عن احمد بن سعید الاشقروابراھیم بن یعقوب کلاھما عن یونس مع البسملۃ فافھم۔
اقول: (میں کہتاہوں) اﷲتعالٰی (عیوب ونقائص سے) پاک ہے(یعنی بڑاتعجب ہے) اس لئے کہ صاحب مشکوٰۃ نے اسے ابن ماجہ سے نقل فرمایاہے اگربسم اﷲ شریف کااضافہ کرتے تو زیادتی کی طرف منسوب ہوتے اور ترک بسم اﷲ کے معاملہ میں ابن ماجہ ہی منفرد نہیں بلکہ ابوداؤد کے نسخہ میں بھی یونہی بسم اﷲ متروک ہے چنانچہ امام ابوداؤد نے عثمان ابن ابی شیبہ سے بواسطہ یونس بن محمد اس کو روایت کیاہے اور ابن ماجہ نے ابوبکر بن ابی شیبہ، مجاہدبن موسٰی اور محمدبن خلف عسقلانی کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے، سب نے بواسطہ یونس بسم اﷲ کے بغیر روایت کی اور امام ترمذی نے بواسطہ احمدبن سعید اشقراور ابراہیم بن یعقوب بحوالہ یونس ''بسم اﷲ'' سمیت اس کو روایت کیاہے۔ اس مقام کو سمجھ لیجئے۔(ت)
سولہویں حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل مع صاحب البلاء تواضعا لربک وایمانا۔ رواہ الامام الاجل الطحاوی۲؎ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قلت ھکذا اوردہ فی الجامع کل باللام والذی رایتہ الامام الطحاوی کن بالنون، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بلاء والے کے ساتھ کھاناکھا اپنے رب کے لئے تواضع اور اس پر سچے یقین کی راہ سے۔ (جلیل القدر امام طحاوی نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ میں کہتاہوں اسی طرح الجامع میں لفظ کل (حرف لام کے ساتھ) ہے لیکن میں نے امام طحاوی کے نسخہ میں کن (حرف نون کے ساتھ) دیکھاہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے بہترجانتاہے۔(ت)
(۲؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷)
سترہویں حدیث: میں ہے کہ ایک بی بی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے پوچھا: کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مجذوموں کے حق میں فرماتے:
فروامنھم کفرارکم من الاسد۔
ان سے ایسابھاگو جیساشیرسے بھاگتے ہو۔
ام المومنین (رضی اﷲ عنہا) نے فرمایا:
کلاولکنہ لاعدوی فمن عادی الاول۔ رواہ ابن جریر۱؎ عن نافع بن القاسم عن جدتہ فطیمۃ۔
ہرگز نہیں، بلکہ یہ فرماتے تھے کہ بیماری اُڑ کرنہیں لگتی جسے پہلے ہوئی اسے کس کی اُڑ کرلگی۔ (ابن جریر نے حضرت نافع بن قاسم سے بحوالہ اس کی دادی فطیمہ کے اسے روایت کیاہے۔ت)
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) ام المومنین کایہ انکار اپنے علم کی بناء پرہے یعنی میرے سامنے ایسانہ فرمایا بلکہ یوں فرمایا اور ہے یہ کہ دونوں ارشاد حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بصحت کافیہ ثابت ہیں۔
اٹھارہویں سے تیس: تک حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر جس سے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے استدلال کیاکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاعدوی۔ رواہ الائمۃ احمدوالشیخان۲؎ وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ(عہ)،
اٹھارہویں سے تیس: تک حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر جس سے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے استدلال کیاکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: لاعدوی۔ رواہ الائمۃ احمدوالشیخان۲؎ وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ(عہ)،
بیماری اُڑ کرنہیں لگتی (ائمہ کرام مثلاً امام احمد، بخاری ومسلم، ابوداؤداور ابن ماجہ اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا،
عہ: رواہ عنہ بطریق کثیرۃ شتی ھم والامام الطحاوی والدارقطنی فی المتفق والخطیب والبیھقی وابن جریر واٰخرون وان نسیہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ من بعد کما رواہ البخاری والطحاوی وابن جریر وغیرھم۱۲منہ۔متعددومختلف طریقوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے حدیث مذکور کو ان ائمہ مذکورین امام طحاوی اور امام دارقطنی نے متفق میں، خطیب، بیہقی،ابن جریر اور کچھ دوسروں نے اسے روایت کیاہے اگرچہ بعد میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اسے بھول گئے تھے جیسا کہ بخاری، طحاوی اور ابن جریر وغیرہ نے اسے روایت کیاہے ۱۲منہ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰)
(سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ والتطیر ۲/ ۱۹۰ و مسند احمدبن حنبل عن ابی ہریرہ ۲/ ۲۶۷ و ۳۲۷)
واحمد والستۃ الاالنسائی۱؎ عن انس واحمد والشیخان وابن ماجۃ ۲؎ والطحاوی عن ابن عمر واحمد ومسلم والطحاوی عن السائب ۳؎ بن یزید وھم وابن جریر جمیعا عن جابر۴؎ واحمد والترمذی والطحاوی۵؎ عن ابن مسعود واحمد وابن ماجۃ والطحاوی والطبرانی و ابن جریر عن ابن عباس۶؎ والثلٰثۃ الاخیرۃ عن ابی امامۃ۱؎ وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان وابن جریر عن سعد۲؎ بن ابی وقاص والامام الطحاوی۳؎ عن ابی سعید الخدری والشیرازی فی الالقاب والطبرانی فی الکبیر والحاکم وابونعیم فی الحلیۃ عن عمیر۴؎ بن سعد الانصاری والطبرانی وابن عساکر عن عبدالرحمٰن۵؎ بن ابی عمیرۃ المزنی و ابن جریر عن ام المومنین ۶؎ وایضا صححہ والقاضی محمد ابن عبدالباقی الانصاری فی جزنہ الحدیثی عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم بلفظ لایعدی سقیم صحیحا۷؎ لخصناہ عن الجامع الکبیر مع جمع وزیادات۔
نیز امام احمد اور دیگر چھ ائمہ نے سوائے امام نسائی کے سب نے اس کو روایت کیاہے اور ان پانچ ائمہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے۔ امام احمد، بخاری، مسلم، ابن ماجہ اور امام طحاوی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت فرمائی نیزامام احمد، مسلم اور طحاوی نے حضرت سائب بن یزید سے روایت کی۔ ابن جریر اور ان سب نے حضرت جابر سے روایت کی۔ امام احمد، ترمذی اور طحاوی نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی۔ امام احمد، ابن ماجہ، طحاوی، طبرانی اور ابن جریر نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کی اور آخری تین ائمہ نے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی نیزابن خزیمہ، طحاوی، ابن حبان اور ابن جریر نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کی۔ اور امام طحاوی نے حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، نیز شیرازی نے القاب میں طبرانی نے الکبیر میں حاکم اور ابونعیم نے الحلیہ میں حضرت عمیربن سعدرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ طبرانی اور ابن عساکر نے حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ مزنی سے روایت کی، ابن جریر نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کرکے اس کی تصحیح فرمائی اور قاضی محمدابن عبدالباقی انصاری نے اپنے جزء الحدیثی میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے ان الفاظ سے روایت فرمائی کسی بیمار سے بیماری اُڑ کر کسی تندرست کو نہیں لگتی، یہ ہم نے جامع کبیر سے جمع کیا اور اضافوں کے ساتھ اس کا ملخص پیش کیاہے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب لاعدوٰی ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم باب الطیرۃ والفال ۲/ ۲۳۱)
(سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ والتطیر ۲/ ۱۹۰ و سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۳/ ۱۳۰ و ۱۵۴)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الطب ۲/ ۸۵۹ و کنزالعمال بحوالہ حم وابن ماجہ ۱۰/ ۱۱۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطب ۲۶۱)
(۳؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰ و مسند احمدبن حنبل عن السائب بن یزید ۳/ ۴۵۰ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶)
(۴؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۱ و مسنداحمدبن حنبل عن جابر ۳/ ۲۹۳ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۷)
(۵؎ جامع الترمذی ابواب القدر ۲/ ۳۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن مسعود ۱/ ۴۴۰ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶)
(۶؎ مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۲۶۹ و سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶)
(۱؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ ۲/ ۴۱۷ و المعجم الکبیر حدیث ۷۷۶۱، ۷۷۶۲ ۸/ ۲۱۶)
(۲؎ الجامع الکبیر بحوالہ ابن خزیمہ والطحاوی وابن حبان عن سعد بن ابی وقاص حدیث ۲۶۱۸۴ بیروت ۸/ ۲۹۹)
(۳؎ الجامع الکبیر بحوالہ ابن جریر والطحاوی والشیرازی فی الالقاب عن ابی سعد حدیث ۲۶۱۸۵ بیروت ۸/ ۲۹۹)
(۴؎ الجامع الکبیر بحوالہ الشیرازی فی الالقاب (طب، حل، کر) عن عمیر بن سعد حدیث ۲۶۱۸۶ بیروت ۸/ ۲۹۹)
(۵؎ کنزالعمال بحوالہ کرعن عبدالرحمن حدیث ۲۸۶۰۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۰)
(۶؎ )
(۷؎ کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن علی حدیث ۲۸۶۳۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۶)
(سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ ۲/ ۱۹۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶)