Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
39 - 160
بارہویں حدیث: میں ہے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے دسترخوان پرشام کو کھانا رکھاگیا لوگ حاضرتھے امیرالمومنین برآمدہوئے کہ ان کے ساتھ کھاناتناول فرمائیں، معیقیب بن ابی فاطمہ دوسی صحابی مہاجر حبشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
ادن فاجلس وایم اﷲ لوکان غیرک بہ الذی بک لما جلس منی ادنی من قید رمح۳؎۔ رویاہ عنہ ذلک فی الغداء وھذا فی العشاء۔
قریب آئیے بیٹھئے خدا کی قسم دوسراہوتا تو ایک نیزے سے کم فاصلے پرمیرے پاس نہ بیٹھتا۔ (ابن سعد اور ابن جریر نے اسے فقیہ مدینہ خارجہ بن زید سے صبح کے کھانے کے بارے میں روایت کیاہے۔ جبکہ یہ حدیث رات کے کھانے کے بارے میں مروی ہے۔ت)
 (۳؎الطبقات الکبرٰی     ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی         دارصادر بیروت   ۴/ ۱۱۸)

(کنزالعمال         بحوالہ ابن سعدوابن جریر    حدیث ۲۸۵۰۲    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۹۶)
تیرہویں حدیث: میں ہے محمود بن لبید انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بعض ساکنان موضع جرش نے بیان کیا کہ عبداﷲ بن جعفرطیاررضی اﷲ تعالٰی عنہما نے حدیث بیان کی کہ حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''جذامی سے بچو جیسا درندے سے بچتے ہیں وہ ایک نالے میں اُترے تو تم دوسرے میں اترو''۔ میں نے کہا واﷲ! اگرعبداﷲ بن جعفر نے یہ حدیث بیان کی تو غلط نہ کہا جب میں مدینہ طیبہ آیا ان سے ملا اور اس حدیث کا حال پوچھا کہ اہل جرش آپ سے یوں ناقل تھے، فرمایا:
کذبوا واﷲ ماحدثتھم ھذا ولقد رأیت عمربن الخطاب یؤتی بالاناء فیہ الماء فیعطیہ معیقیبا فیشرب منہ ثم یتناولہ عمر من یدہ فیضع فمہ موضع فمہ حتی یشرب منہ فعرفت انما یصنع عمرذٰلک فرارا من ان یدخلہ شیئ من العدوی۔ رویاہ عن محمود۱؎ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
واﷲ انہوں نے غلط نقل کی میں نے یہ حدیث ان سے نہ بیان کی میں نے تو امیرالمومنین عمر کو یہ دیکھا ہے کہ پانی اُن کے پاس لایاجاتا وہ معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو دیتے معیقیب پی کر اپنے ہاتھ سے امیرالمومنین کو دیتے امیرالمومنین ان کے منہ رکھنے کی جگہ اپنا منہ رکھ کر پانی پیتے میں سمجھتا کہ امیرالمومنین یہ اس لئے کرتے ہیں کہ بیماری اُڑ کرلگنے کاخطرہ ان کے دل میں نہ آنے پائے (ابن سعد اور ابن جریر دونوں نے محمود بن لبید انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ الطبقات الکبرٰی    ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی             دارصادر بیروت     ۴/ ۱۱۷)

(کنزالعمال         بحوالہ ابن سعد وابن جریر         حدیث ۲۸۵۰۰    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۹۴)
ابن سعد کی روایت میں ایک مفیدبات زائد ہے کہ عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا امیرالمومنین فاروق اعظم جسے طبیب سنتے معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے اس سے علاج چاہتے، دوحکیم یمن سے آئے ان سے بھی فرمایا، وہ بولے جاتا رہے یہ تو ہم سے ہو نہیں سکتا ہاں ایسی دوا کردیں گے کہ بیماری ٹھہر جائے بڑھنے نہ پائے۔ امیرالمومنین نے فرمایا: عافیۃ عظیمۃ ان یقف فلایزید بڑی تندرستی ہے کہ مرض ٹھہرجائے بڑھنے نہ پائے۔ انہوں نے دوبڑی زنبیلیں بھرواکر اندرائن کے تازہ پھل منگوائے جو خربوزے کی شکل اور نہایت تلخ ہوتے ہیں، پھر ہرپھل کے دودوٹکڑے اور معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو لٹاکر دونوں طبیبوں نے ایک ایک تلوے پرایک ایک ٹکڑا ملناشروع کیا، جب وہ ختم ہوگیا، دوسرا ٹکڑا لیا، یہاں تک کہ معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے منہ اور ناک سے سبزرنگ کی کڑوی رطوبت نکلنے لگی، اس وقت چھوڑ کر دونوں حکیموں نے کہا اب یہ بیماری کبھی ترقی نہ کرے گی۔
عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
فواﷲ مازال معیقیب متماسکا لایزید وجعہ حتی مات۱؎۔
واﷲ! معیقیب اس کے بعد ہمیشہ ایک ٹھہری حالت میں رہے تادمِ مرگ مرض کی زیادتی نہ ہوئی۔
 (۱؎ الطبقات الکبرٰی     ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی             دارصادر بیروت     ۴/ ۱۸۔۱۱۷)
چودھویں حدیث: میں ہے امیرالمومنین صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کے دربار میں قوم ثقیف کی سفیرحاضر ہوئے، کھانا حاضرلایا گیا، وہ نزدیک آئے مگر ایک صاحب کہ اس مرض میں مبتلا تھے الگ ہوگئے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: قریب آؤ، قریب آئے۔ فرمایا: کھاناکھاؤ۔ حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:
وجعل ابوبکر یضع یدہ موضع یدہ فیاکل ممایاکل منہ المجذوم۔رواہ ۲؎ ابوبکر بن ابی شیبۃ وابن جریر  عن القاسم۔
صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہ شروع کیا کہ جہاں سے وہ مجذوم نوالہ لیتے، وہیں سے صدیق نوالہ لے کر نوش فرماتے رضی اﷲ تعالٰی عنہ (ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن جریر نے حضرت قاسم بن محمد سے اسے روایت کیا۔ت)

غالباً یہ وہی مریض ہیں جن سے زبانی بیعت پراکتفافرمائی گئی تھی۔
 (۲؎ المصنّف لابن ابی شیبہ     کتاب العقیقہ     حدیث ۴۵۸۷        ادارۃ القرآن کراچی     ۸/ ۱۲۹)

(کنزالعمال بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن جریر         حدیث ۲۸۴۹۸        مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۹۴)
پندرہویں حدیث: جلیل میں ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخذ بیدرجل مجذوم فادخلہا معہ فی القصعۃ ثم قال کل ثقۃ باﷲ وتوکلا علی اﷲ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی ۳؎ وابن ماجۃ وعبد بن حمید وابن خزیمۃ وابن ابی عاصم وابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ وابویعلٰی وابن حبان والحاکم فی المستدرک والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ وابن جریر والامام الطحاوی کلھم من جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما کذا ذکر الامام الجلیل الجلال السیوطی فی اول قسمی جامعہ الکبیر و زدت انا ابن جریر والطحاوی قلت وبہ علم ان قصرالمشکوٰۃ علی ابن ماجۃ لیس فی موضعہ ثم الحدیث سکت علیہ وصححہ ابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والضیاء وقال المناوی فی التیسیر باسناد حسن وتصحیح ابن حبان والحاکم، قال ابن حجر فیہ نظر۱؎اھ،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک جذامی صاحب کاہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالے میں رکھا اور فرمایا اﷲ پرتکیہ ہے اور اﷲ پربھروسا۔ (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، عبدبن حمید، ابن خزیمہ، ابن ابی عاصم اور ابن السنی نے عمل اللیل والیوم میں ابویعلٰی، ابن حبان اور حاکم نے المستدرک میں، امام بیہقی نے السنن میں، ضیاء نے المختارہ میں ابن جریر اور امام طحاوی ان سب نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا ہے چنانچہ جلیل القدر امام جلال الدین سیوطی نے اپنی جامع کبیر کی پہلی قسم میں اسے ذکرفرمایا اور ابن جریر اور امام طحاوی کا میں نے اضافہ کیاہے قلت (میں کہتاہوں کہ) اس سے معلوم ہوا کہ صاحب مشکوٰۃ کاصرف ابن ماجہ پر اکتفاء کرنا بے محل ہے پھر حدیث مذکورپرسکوت کیاگیالیکن ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم اورضیاء نے اس کو صحیح قراردیاہے۔ علامہ مناوی نے التیسیر میں اسناد حسن اور ابن حبان اور حاکم کی تصحیح کا قول ذکرکیاہے۔ علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ اس پراعتراض ہےاھ،
 (۳؎ جامع الترمذی     ابواب الاطعمہ     باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم     امین کمپنی دہلی         ۲/ ۴)

(سنن ابن ماجہ         کتاب الطب     باب الجذام             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۶۱)

(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث کل معی بسم اﷲ ثقہ باﷲ     مکتبہ امام شافعی الریاض     ۲/ ۲۲۰)
Flag Counter