پانچویں حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظر الی المجذومین اذا کلمتموھم فلیکن بینکم وبینھم قدر رمح۔ رواہ احمد وابویعلٰی ۲؎ والطبرانی فی الکبیر وابن جریر عن فاطمۃ الصغرٰی عن ابیھا السید الشہید الریحانۃ الاصغر وابن عساکر عنھا عنہ وعن ابن عباس معاًرضی اﷲ تعالٰی عنھم جمیعا۔
جذامیوں کی طرف نظر نہ جماؤ ان سے بات کرو تو تم میں ان میں ایک ایک نیزے کا فاصلہ ہو۔ (امام احمد، ابویعلٰی اور طبرانی نے ''الکبیر'' میں اور ابن جریر نے سیدہ فاطمہ صغری سے، انہوں نے اپنے والدبزرگوار سیدشہید ریحانہ اصغر سے اسے روایت کیاہے، اور ابن عساکر نے ان سے انہوں نے اپنے والد اور ابن عباس سے بھی اسے روایت کیاہے۔ اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔ت)
(۲؎ مسندامام احمدبن حنبل عن علی کرم اﷲ وجہہ دارالفکر بیروت ۱/ ۷۸)
(المعجم الکبیر حدیث ۲۸۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۳۲۔۱۳۱)
(کنزالعمال بحوالہ حم ع طب وابن جریر عن فاطمہ الخ حدیث ۲۸۳۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵۶۔۵۵)
چھٹی حدیث: میں ہے جب وفد ثقیف حاضربارگاہ اقدس ہوئے اور دست انور پر بیعتیں کیں اُن میں ایک صاحب کو یہ عارضہ تھا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمابھیجا: ارجع فقد بایعناک۔ رواہ ابن ماجۃ۳؎
واپس جاؤ تمہاری بیعت ہوگئی یعنی زبانی کافی ہے مصافحہ نہ ہونا مانع بیعت نہیں۔(محدّث ابن ماجہ نے اسے روایت کیاہے۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ کتاب الطب باب الجذام ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۱)
قلت بسند حسن عن رجل من اٰل الشرید یقال لہ عمروعن ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ورواہ ابن جریر فسمی اباہ الشرید وھو الشرید بن سوید الثقفی ذکر الامام الجلیل السیوطی بالتخریج الاول فی اول الجامع الکبیر وبالاٰخر فی مسانید جمع الجوامع اقول: بل الحدیث فی صحیح مسلم بلفظ انا قد بایعناک فارجع۱؎ کما ھو لفظ ابن جریر سواء بسواء وقد جربت مثلہ کثیرا علی ھذا الامام فی کثیر من تصانیفہ الشریفۃ کالجوامع الثلثہ والخصائص الکبرٰی وغیرھا وکان مقصودہ رحمہ اﷲ تعالٰی ان یجمع لامثالنا القاصرین ماقلما تصل الیہ ایدینا فان اقتصرنا علی ماافادوذھلنا عن المتداولات فالقصور منا لامنہ رحمہ اﷲ تعالٰی۔
میں کہتاہوں کہ سندحسن کے ساتھ آل شرید کے ایک شخص سے اسے روایت کیاہے اور اس کو عمروکہاجاتا ہے اس نے اپنے باپ سے روایت کی(اﷲ تعالٰی اس سے راضی ہو) اور ابن جریر نے اسے روایت کیااور شرید کے باپ کانام بھی ذکر کیا یعنی شرید بن سوید ثقفی، جلیل الشان امام، امام سیوطی نے پہلی تخریج میں جامع کبیر کی ابتداء میں اور دوسری تخریج میں جمع الجوامع کے مسانید میں اس کو ذکرفرمایاہے۔ میں کہتاہوں بلکہ صحیح مسلم کی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ واپس ہوجاؤ بیشک ہم نے تمہیں بیعت کرلیا، جیسا کہ ابن جریر کے الفاظ ہیں، دونوں کے الفاظ یکساں ہیں (کوئی خاص فرق نہیں پایاجاتا) ہم نے اس امام پر ان کی بہت سی تصانیف شریفہ میں اس طرح کی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں اور تجربہ کیاہے جیسا کہ ان کی تینوں جوامع، خصائص کبرٰی اور ان کے علاوہ دوسری تصانیف، پس اس سے امام موصوف رحمہ اﷲ تعالٰی کامقصد ان سب چیزوں کوجمع کردینا ہے(یکجاکرنا) کہ جن تک ہم جیسے کوتاہ نظرلوگوں کے ہاتھوں کی بہت کم رسائی ہوتی ہے۔ پھر اگر ہم نے ان کے افادہ پراکتفاء کیا، اور ہم متداولات کو بھول گئے تو یہ ہماراقصور ہوگا نہ کہ علامہ موصوف کا، اﷲ تعالٰی ان پررحم فرمائے۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳)
ساتویں حدیث: میں ہے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک مجذوم کو آتے دیکھا انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
یاانس اثن البساط لایطأ علیہ بقدمہ۔ رواہ الخطیب۱؎ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی القلب منہ شیئ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اے انس! بچھونا الٹ دو کہیں یہ اس پر اپنا پاؤں نہ رکھ دے (خطیب بغدادی نے ان سے یعنی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے اور اس سے بچھونا الٹ دینے کے متعلق کچھ بات ہے او ر اﷲ تعالٰی ہی (تمام معاملات کو) بہترجانتاہے۔(ت)
(۱؎ تاریخ بغداد للخطیب ترجمہ عبدالرحمن بن العباس ۵۴۳۲ دارالکتب العربی بیروت ۱۰/ ۲۹۶)
آٹھویں حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے درمیان وادی عسفان پرگزرے وہاں کچھ لوگ مجذوم پائے مرکب کو تیز چلاکروہاں سے تشریف لے گئے اور فرمایا:
ان کان شیئ من الداء یعدی فھو ھذا۔ رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما والمرفوع منہ عنہ ابن عدی فی الکامل۲؎ من دون ذکر القصۃ وھو ضعیف۔
اگر کوئی بیماری اڑ کر لگتی ہے تو وہ یہی ہے (ابن نجار نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیاہے اور ابن عدی کے نزدیک ''الکامل'' میں واقعہ ذکرکئے بغیر یہ مرفوع ہے اور وہ ضعیف ہے۔(ت)
نویں حدیث: میں ہے ایک جذامی عورت کعبہ معظمہ کاطواف کررہی تھی امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس سے فرمایا:
یااٰمۃ اﷲ لاتؤذی الناس لوجلست فی بیتک۔ رواہ مالک والخرائطی فی اعتلال۳؎ القلوب عن ابن ابی ملیکۃ۔
اے اﷲ کی لونڈی! لوگوں کو ایذا نہ دے اچھا ہو کہ تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو، پھر وہ گھر سے نہ نکلیں (امام مالک اور الخرائطی نے اعتلال القلوب میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
ان عمر بن الخطاب قال للمعیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنھما اجلس منی قید رمح وکان بہ ذلک الداء وکان بدریا۔ رواہ ابن جریر۱؎ عن الزھری قلت مرسل ولایصح۔
معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ اہل بدر (ومہاجرین سابقین اوّلین رضی اﷲ تعالٰی عنہم) سے ہیں انہیں یہ مرض تھا امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان سے فرمایا: مجھ سے ایک نیزے کے فاصلے پربیٹھئے (امام ابن جریر نے زہری سے اسے روایت کیاہے، میں کہتاہوں کہ یہ مرسل ہے اورصحیح نہیں۔ت)
آئندہ حدیثیں اس کے خلاف ہیں۔
گیارہویں حدیث: میں ہے امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے صبح کو کچھ لوگوں کی دعوت کی ان میں معیقیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بھی تھے وہ سب کے ساتھ کھانے میں شریک کئے گئے او رامیرالمومنین نے اُن سے فرمایا:
خذمما یلیک ومن شقک فلوکان غیرک مااٰکلنی فی صحفۃ ولکان بینی وبینہ قیدرمح۔ رواہ ابن سعد۲؎ وابن جریر عن فقیہ المدینۃ خارجۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اپنے قریب سے اپنی طرف سے لیجئے اگر آپ کے سوا کوئی اور اس مرض کاہوتا تو میرے ساتھ ایک رکابی میں نہ کھاتا اور مجھ میں اور اس میں ایک نیزے کا فاصلہ ہوتا(ابن سعد اور ابن جریر نے فقیہ مدینہ خارجہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیاہے۔ت)