Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
37 - 160
الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی(۱۳۲۴ھ)

(بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
مسئلہ ۸۴: ازگونڈا ملک اودھ مرسلہ مسلمانان گونڈا عموماً وحافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ انجمن اسلامیہ گونڈا ذوالحجہ ۱۳۲۴ھ

زید کا خون جوش کھارہاہے بلکہ ایک دو اعضاء جسم کے بگڑگئے اور احتمال ہوتا ہے کہ آئندہ بھی بگڑجائیں گے، ایسے شخص کی نسبت اطبّا حکم دیتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھاناپینا اور نشست وبرخاست بھی قطعی منع ہے بلکہ اطباء شرع شریف کابھی ایساہی حوالہ دیتے ہیں، دریافت طلب یہ امر ہے کہ شرع شریف کا کیا حکم ہے اور ایسے شخص سے اجتناب لازم ہے یا کیا؟ مدلّل ومفصّل زیب قلم ہو۔
الجواب : بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

الحمدﷲ علی دین الاسلام والصلٰوۃ والسلام علٰی افضل ھاد الی سبیل السلام وعلٰی اٰلہ وصحبہ الٰی یوم القیام بہ نسأل السلام والسلامۃ عن سیئ الاسقام۔
دین اسلام (کی عطاء وبخشش) پر اﷲ تعالٰی کی تعریف کرتے ہیں اور درودوسلام بھیجتے ہیں اس ہستی پر جو سب سے بہتر اور راہ سلامتی دکھانے والی ہے اور درودوسلام ہو قیامت تک ان کی آل اور ان کے صحابہ پر، اور ہم بری بیماریوں سے سلامتی اور حفاظت کے لئے اسی سے درخواست کرتے ہیں۔(ت)

احادیث اس باب میں بظاہر مختلف آئیں، ہم اولا انہیں ذکر کریں پھر ان کے شرعی معنٰی کی طرف متوجہ ہوں کہ بتوفیقہ تعالٰی اس مسئلہ میں حق تحقیق اداہو۔
حدیث اول: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتقوا المجذوم کمایتقی الاسد۔ رواہ البخاری فی التاریخ۱؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جذامی سے بچو جیساشیر سے بچتے ہیں (امام بخاری نے تاریخ میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
روایت ابن جریر کے لفظ یہ ہیں:
فرمن المجذوم کفرارک من الاسد۲؎۔ رمزالامام الجلیل السیوطی حسنہ علی ما فی التیسیر۳؎ اوصحتہ علی ما فی فیض القدیر۴؎ وذکرہ باللفظ الاول فی الجامع الصغیر وباللفظ الاخیر فی الکبیر
جذامی سے بھاگ جیسا شیر سے بھاگتاہے۔ جلیل القدر امام سیوطی (رحمۃ اﷲ علیہ) نے جیسا کہ تیسیرمیں ہے اس کی تحسین فرمائی اور فیض القدیر میں اس کی صحت بیان فرمائی۔ پہلے لفظ سے جامع صغیرمیں اس کا ذکر کیا جبکہ آخری لفظ سے جامع کبیر میں اسے ذکر کیا۔
 (۱؎ الجامع الصغیر     بحوالہ تاریخ بخاری عن ابی ہریرہ     حدیث ۱۴۱     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۱۵)

(التاریخ الکبیر         حدیث ۴۶۰                دارالبازمکۃ المکرمہ     ۱/ ۱۵۵)

(۲؎ الجامع الکبیر للسیوطی     بحوالہ ابن جریر     حدیث ۱۴۷۵۶    دارالفکر بیروت     ۶/ ۲۶۵)

(۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حرف الہمزہ     تحت حدیث المذکور     مکتبۃ الامام الشافعی الریاض     ۱/ ۳۰)

(۴؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر           تحت حدیث ۱۴۱    دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۱۳۸)
اقول: وفی کلیھما ظاھرا ابوھریرۃ فالحدیث عنہ فی صحیح البخاری بلفظ فرمن المجزوم کما تفرمن الاسد۵؎ وسیأتی والجواب ان العزویتبع اللفظ لاسیما وھو فی البخاری مع زیادات معنی۔
اقول: (میں کہتاہوں کہ) بظاہر دونوں میں ابوہریرہ ہے، صحیح بخاری میں اس کی حدیث (روایت) فرمن المجذوم کما تفرمن الاسد کے الفاظ سے ہے(یعنی جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو) عنقریب آئے گی اور جواب یہ ہے کہ نسبت کرنا لفظ کے تابع ہوتاہے خصوصاً جبکہ وہ بخاری میں معنوی اضافہ کے ساتھ مروی ہے۔(ت)
(۵؎ صحیح البخاری     کتاب الطب     باب الجذام         ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲/ ۸۵۰)
دوسری حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتقوا صاحب الجذام کما یتقی السبع اذا ھبط وادیا فاھبطوا غیرہ۔ رواہ ابن سعد فی الطبقات۱؎ عن عبداﷲ بن جعفر الطیار رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند ضعیف۔
جذامی سے بچو جیسا درندے سے بچتے ہیں، وہ ایک نالے میں اُترے تو تم دوسرے میں اترو۔ (ابن سعد نے ''طبقات'' میں حضرت عبداﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندضعیف کے ساتھ اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ الطبقات الکبری     ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ         دارصادر بیروت     ۴/ ۱۱۷)

(کنزالعمال بحوالہ ابن سعد     عن عبداﷲ بن جعفر     حدیث ۲۸۳۳۲    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/ ۵۴)
تیسری حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کَلِّمِ المجزوم وبینک وبینہ قدر رمح او رمحین۔ رواہ ابن السنی۲؎ وابونعیم فی الطب عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند واہ قلت لکن لہ شاھد یاتی۔
مجذوم سے اس طور پر بات کرکہ تجھ میں اس میں ایک دو نیزے کافاصلہ ہو (ابن سنی اور ابونعیم نے باب طب میں حضرت عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے کمزورسند کے ساتھ روایت کیاہے۔ میں کہتاہوں کہ اس کے لئے شاہد (تائیدکنندہ) آگے آئے گا۔ت)
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ ابن السنی وابونعیم فی الطب     حدیث ۲۸۳۲۹    موسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۰/ ۵۴)
چوتھی حدیث: میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظر الی المجذومین۔ رواہ ابن ماجۃ۳؎ وابن جریر قلت وسندہ حسن صالح۔
مجذوموں کی طرف نگاہ جماکرنہ دیکھو (ابن ماجہ اور ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے۔ میں کہتاہوں کہ اس کی سند صالح ہے۔ت)
(۳؎ سنن ابن ماجہ     کتاب الطب     باب الجذام         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۶۱)
دوسری روایت میں ہے:
لاتحدوا النظر الی المجذومین۔ رواہ ابوداؤد الطیالسی والبیھقی۱؎ فی السنن بسند حسن ایضا کلھم عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جذامیوں کی طرف پوری نگاہ نہ کرو (ابوداؤدطیالسی اور بیہقی نے السنن میں سندحسن کے ساتھ اسے روایت کیاہے اور ان سب نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی     کتاب النکاح     باب لایورد ممرض علی مصح الخ         دارالمعرفۃ بیروت     ۷/ ۲۱۸)

(مسند ابی داؤد الطیالسی     حدیث ۲۶۰۱        دارالمعرفۃ بیروت    ص۳۳۹)
Flag Counter