حدیث ۱۸: صحیح بخاری ومسند احمدوابوداؤد طیالسی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالٰی علی من یشاء وان اﷲ تعالٰی جعلہ رحمۃ للمؤمنین۲؎۔
طاعون ایک عذاب تھا کہ اﷲ عزوجل جن پر چاہتابھیجتا اور بیشک اﷲ تعالٰی نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت کردیا۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب اجرالصابر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۳)
(کنزالعمال بحوالہ ط، حم، خ عن عائشہ رضی اﷲ عنہا حدیث ۲۸۴۳۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۷۷)
حدیث ۱۹: امام احمد وحاکم کُنٰے میں اور بغوی اور حاکم مستدرک اورطبرانی کبیرمیں ابوبردہ اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا کی:
میری اُمت کاخاتمہ دشمن کے نیزوں اورطاعون سے ہی ہوگا اونٹ کی سی گِلٹی ہے جو اس میں ٹھہرارہے وہ شہید کے مانند ہے اور جو اس سے بھاگ جائے وہ ایساہو جیسا کفار کوپیٹھ دے کرجہاد سے بھاگنے والا۔
حدیث ۲۷: احمدوطبرانی وابن عساکر انہیں سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یشھداﷲ بہ انفسکم وذراریکم ویزکی بہ اعمالکم۱؎۔
اﷲ تعالٰی طاعون سے تمہیں اور تمہارے بچوں کو شہادت دے گا اور اس کے سبب تمہارے اعمال ستھرے کرے گا۔
(۱؎ مسند امام احمدبن حنبل عن معاذ بن جبل المکتب اسلامی بیروت ۵/ ۲۴۱)
(تہذیب تاریخ دمشق کبیر باب تبشیر المصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۰، ۶/ ۳۰۳)
حدیث ۳۱: احمدوطبرانی عتبہ بن عبدسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت میں شہید اور طاعون زدہ حاضرآئیں گے طاعون والے کہیں گے ہم شہید ہیں، حکم ہوگا:
دیکھو اگر ان کا زخم شہیدوں کی مثل ہے خون رواں اور مشک کی خوشبو تویہ بھی شہیدہیں۔ تو انہیں ایساہی پائیں گے۔
(۱؎ مسند احمدبن حنبل عن عتبہ بن عبد ۴/ ۱۸۵ والمعجم الکبیر عن عتبہ حدیث ۲۹۲ ۷/ ۱۱۹)
حدیث ۳۲: احمدونسائی عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: روزقیامت شہداء اور وہ جو بچھونے پرمرے طاعون والوں کے بارے میں جھگڑیں گے شہداء کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح مقتول ہوئے، بچھونے والے کہیں گے ہمارے بھائی ہیں۔ رب عزوجل فیصلہ کے لئے فرمائے گا:
ان کے زخم دیکھو اگر شہیدوں کے سے ہیں تو وہ انہیں میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔
دیکھیں گے تو اُن کے زخم انہیں کے سے ہوں گے فیلحقون بھم۲؎ یہ شہیدوں میں ملادئیے جائیں گے، متواتر ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رَد کفرہے، اور دانستہ ہو تو صریح کفر، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو ان کو شہید فرمائیں اور یہ شخص کافر کہے، اس سے بڑھ کر اور کیا رَد ہوگا، اس شخص پرلازم ہے کہ تائب ہو کلمہ پڑھے اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۲؎ سنن النسائی کتاب الجہاد باب مسألۃ الشہادۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۶۲)
(مسند احمد بن حنبل عن العرباض بن ساریۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۹۔۱۲۸)