Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
36 - 160
حدیث ۱۸: صحیح بخاری ومسند احمدوابوداؤد طیالسی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے

 رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالٰی علی من یشاء وان اﷲ تعالٰی جعلہ رحمۃ للمؤمنین۲؎۔
طاعون ایک عذاب تھا کہ اﷲ عزوجل جن پر چاہتابھیجتا اور بیشک اﷲ تعالٰی نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت کردیا۔
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب الطب     باب اجرالصابر فی الطاعون     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۸۵۳)

(کنزالعمال بحوالہ ط، حم، خ عن عائشہ رضی اﷲ عنہا     حدیث ۲۸۴۳۴    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/ ۷۷)
حدیث ۱۹: امام احمد وحاکم کُنٰے میں اور بغوی اور حاکم مستدرک اورطبرانی کبیرمیں ابوبردہ اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا کی:
اللھم اجعل فناء امّتی قتلا فی سبیلک بالطعن والطاعون۳؎۔
الٰہی میری اُمت کو اپنی راہ میں شہادت نصیب کر دشمنوں کے نیزوں اور طاعون سے۔
 (۳؎ مسند احمدبن حنبل             حدیث ابی بردہ الاشعری     المکتب الاسلامی بیروت     ۴/ ۲۳۸)

(المستدرک للحاکم     کتاب الجہاد                دارالفکر بیروت     ۲/ ۹۳)

(کنزالعمال         بحوالہ حم والحاکم فی الکُنٰی     حدیث ۲۸۴۴۹    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/ ۸۰)
حدیث ۲۰: باوردی ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا کی:
اللھم اجعل فناء امتی بالطعن والطاعون۴؎۔
الٰہی میری امت کو دشمن کے نیزوں اور طاعون سے وفات نصیب کر۔
 (۴؎کنزالعمال        بحوالہ الباوردی عن ابی موسٰی الاشعری حدیث ۲۸۴۴۸   موسسۃ الرسالہ بیروت  ۱۰/ ۸۰)
حدیث ۲۱: طبرانی اوسط میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتفنی امتی الابالطعن والطاعون غدۃ کغدۃ الابل، المقیم فیھا کالشھید والفار منھا کالفار من الزحف۱؎۔
میری اُمت کاخاتمہ دشمن کے نیزوں اورطاعون سے ہی ہوگا اونٹ کی سی گِلٹی ہے جو اس میں ٹھہرارہے وہ شہید کے مانند ہے اور جو اس سے بھاگ جائے وہ ایساہو جیسا کفار کوپیٹھ دے کرجہاد سے بھاگنے والا۔
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ طس عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا     حدیث ۲۸۴۵۰    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۸۰)
حدیث ۲۲: صحیح مستدرک میں ابوموسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون وخز اعدائکم من الجن وھو لکم شھادۃ۲؎۔
طاعون تمہارے دشمن جِنوں کاچوکا ہے اور وہ تمہارے لئے شہادت ہے۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب الایمان الطاعون شہادۃ             دارالفکر بیروت     ۱/ ۵۰)
حدیث ۲۳: مسنداحمدومعجم کبیر میں ا بوموسٰی اور اوسط میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فناء امتی بالطعن والطاعون وخز اعد انکم من الجن وفی کل شہادۃ۳؎۔
میری امت کا خاتمہ جہاد وطاعون سے ہے کہ تمہارے دشمن جنوں کا چوکا ہے اور دونوں میں شہادت ہے۔
(۳؎ مسندامام احمدبن حنبل     حدیث ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ             المکتب اسلامی بیروت     ۲/ ۳۹۵)

(معجم الاوسط للطبرانی     حدیث ۸۵۰۷                مکتبہ المعارف ریاض     ۹/ ۲۳۳)
حدیث ۲۴: ابن خزیمہ وابن عساکر شرحبیل حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے۴؎۔
(۴؎ تہذیب تاریخ دمشق ابن عساکر ترجمہ شرحبیل بن عبداﷲ  حدیث فی طاعون عمواس  داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۳۰۳)
حدیث ۲۵: ابن عساکر معاذرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ۵؎ دونوں وقفاً۔
 (۵؎تہذیب تاریخ دمشق ابن عساکر     ترجمہ شرحبیل بن عبداﷲ     حدیث فی طاعون عمواس     داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۳۰۳)
حدیث ۲۶: شیرازی القاب میں معاذ سے رفعاً راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الطاعون رحمۃ ربّکم ودعوۃ نبیکم وموت الصالحین قبلکم وھو شہادۃ۶؎۔
بیشک طاعون تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا اور اگلے نیکوں کی موت ہے اور وہ شہادت ہے۔
 (۶؎ کنزالعمال     بحوالہ الشیرازی فی الالقاب     حدیث ۲۸۴۴۵     موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۷۹)
حدیث ۲۷: احمدوطبرانی وابن عساکر انہیں سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یشھداﷲ بہ انفسکم وذراریکم ویزکی بہ اعمالکم۱؎۔
اﷲ تعالٰی طاعون سے تمہیں اور تمہارے بچوں کو شہادت دے گا اور اس کے سبب تمہارے اعمال ستھرے کرے گا۔
 (۱؎ مسند امام احمدبن حنبل     عن معاذ بن جبل     المکتب اسلامی بیروت     ۵/ ۲۴۱)

(تہذیب تاریخ دمشق کبیر     باب تبشیر المصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۹۰،  ۶/ ۳۰۳)
حدیث ۲۸: امام مالک ودارقطنی ابوہریرہ سے ۲؎۔
 (۲؎ کنزالعمال     بحوالہ مالک، قط     حدیث ۱۱۱۸۴    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۴/ ۴۱۷)
حدیث ۲۹: نسائی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرماتے ہیں:
الشھداء خمسۃ المطعون والمبطون والغریق وصاحب الھدم والشھید فی سبیل اﷲ۳؎۔
شہید پانچ ہیں طاعون زدہ اور جو پیٹ کی بیماری سے مراہو اور جو ڈوبے اور جس پر مکان یا دیوار گرے اور وہ کہ جہاد میں شہیدہو۔
 (۳؎ سنن نسائی     کتاب الجہاد         باب مسئلۃ الشہادۃ     نورمحمدکارخانہ کراچی     ۲/ ۶۲)
حدیث ۳۰: ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ میں غار میں حضوراقدس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ تھا حضور نے دعا کی:
اللھم طعنا وطاعونا۴؎
الٰہی دشمنوں کے نیزے اور طاعون۔ میں نے جانا کہ حضور ان سے اپنی امت کی موت مانگتے ہیں۔
 (۴؎ کنزالعمال     عن ابی بکرالصدیق  حدیث ۱۱۷۴۶  موسسۃ الرسالہ بیروت  ۴/ ۵۹۸)
حدیث ۳۱: احمدوطبرانی عتبہ بن عبدسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت میں شہید اور طاعون زدہ حاضرآئیں گے طاعون والے کہیں گے ہم شہید ہیں، حکم ہوگا:
انظروافان کانت جراحتھم کجراحۃ الشھداء تسیل دماکریح المسک فھم شھداء۔ فیجدونھم کذٰلک۱؎
دیکھو اگر ان کا زخم شہیدوں کی مثل ہے خون رواں اور مشک کی خوشبو تویہ بھی شہیدہیں۔ تو انہیں ایساہی پائیں گے۔
 (۱؎ مسند احمدبن حنبل     عن عتبہ بن عبد     ۴/ ۱۸۵ والمعجم الکبیر     عن عتبہ     حدیث  ۲۹۲    ۷/ ۱۱۹)
حدیث ۳۲: احمدونسائی عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: روزقیامت شہداء اور وہ جو بچھونے پرمرے طاعون والوں کے بارے میں جھگڑیں گے شہداء کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح مقتول ہوئے، بچھونے والے کہیں گے ہمارے بھائی ہیں۔ رب عزوجل فیصلہ کے لئے فرمائے گا:
انظروا الٰی جراحھم فان اشبہ جراحھم جراح المقتولین فانھم منھم ومعھم۔
ان کے زخم دیکھو اگر شہیدوں کے سے ہیں تو وہ انہیں میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔

 دیکھیں گے تو اُن کے زخم انہیں کے سے ہوں گے فیلحقون بھم۲؎ یہ شہیدوں میں ملادئیے جائیں گے، متواتر ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رَد کفرہے، اور دانستہ ہو تو صریح کفر، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو ان کو شہید فرمائیں اور یہ شخص کافر کہے، اس سے بڑھ کر اور کیا رَد ہوگا، اس شخص پرلازم ہے کہ تائب ہو کلمہ پڑھے اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ سنن النسائی     کتاب الجہاد         باب مسألۃ الشہادۃ     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۲/ ۶۲)

(مسند احمد بن حنبل     عن العرباض بن ساریۃ             المکتب الاسلامی بیروت     ۴/ ۲۹۔۱۲۸)
Flag Counter