مسئلہ ۸۳: (پوراسوال دستیاب نہیں ہوسکا)
۔۔۔۔۔۔کہ جو طاعون سے مرتاہے وہ کافرہے اور دلیل میں زمانہ موسٰی علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتاہے اس قول سے بکر مخالف حدیث صحیح ہوکر کافر ہوایانہیں اور اس کی زوجہ نکاح سے باہر ہوئی یانہیں؟ اور بصورت توبہ تجدیدِ نکاح لازم ہے یانہیں؟
الجواب : متواترحدیثوں سے ثابت ہے کہ طاعون مسلمان کے لئے شہادت ورحمت ہے اور جو مسلمان طاعون میں مرے شہیدہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد بن حنبل میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الطاعون شہادۃ لکل مسلم۱؎۔
طاعون ہرمسلمان کے لئے شہادت ہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الشہادۃ سبع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۹۷)
حدیث ۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مات فی الطاعون فہو شہید۲؎۔
طاعون میں مرنے والا شہیدہے۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب بیان الشہداء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۳)
حدیث ۳: مسندامام احمدومعجم کبیر طبرانی وصحیح مختارہ میں صفوان بن امیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے۳؎۔
حدیث ۴: طبرانی نے معجم اوسط اور ابونعیم نے فوائد ابوبکر بن خلاد میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: