ایک طبیب جس نے علم طب باقاعدہ حاصل کیاہے اور نظری وعملی طریقہ مروجہ سے پوری تکمیل کرچکاہے مگر ان وجوہات سے اپنے پیشے سے ہمیشہ دل برداشتہ اورمتفکر اور وبال اُخروی سے خائف رہتاہے کہ دقائق وجزئیات فن کا ہمیشہ بالکلیہ مستحضر فی الذہن رہنا مشکل بلکہ غیرممکن ہے اور جب یہ نہیں تو تشخیص کاصحیح نہ ہونا معلوم۔ نیز چونکہ یہ فن ظنی ہے اور ظن غالب وگمان راجح پرعلاج ہوتاہے اگرچہ بتائید حکیم مطلق جل وعلا اکثر تشخیص مطابق واقع ہوتی ہے تاہم غلطی کااندیشہ لگارہتاہے کیونکہ مجربین کامقولہ ہے
العلاج رمی السھم فی الظلمات
(علاج اندھیروں میں تیراندازی ہے۔ت)
نیزعقل، حافظہ، استحضار ذہانت طباعی بلکہ جو آلات تشخیص مرض ہیں حسب قوائے دماغی مختلف ہیں اسی وجہ سے مریض واحد کی تشخیص میں اطبائے متعدد متحدالرائے بہت کم دیکھے جاتے ہیں اگرچہ سب اپنی تشخیص کو صحیح سمجھے ہوئے ہیں مگر فی الواقع کسی ایک ہی کی رائے صحیح ہوگی اور کبھی طبیب علاج کے غیرمفیدپڑنے سے اپنی خطا فی التشخیص سے واقف ہوکر سنبھل جاتاہے اور علاج میں فوراً ترمیم کردیتاہے مگرکبھی اتنے پربھی اس کو یہ معالجہ اسی علاج پربرقرار رکھتاہے کہ تیری تشخیص اور علاج دونوں صحیح ہیں مگرخدا کی طرف سے ابھی صحت کا وقت نہیں آیاہے، اس کے علاوہ بھی اور بہت سے وجوہات ہیں جن کے سبب سے وہ اپنے پیشہ طبابت سے تنگ ہے، اس صورت میں یہ پیشہ اگرکیاجائے تو ازروئے شرع شریف اس کے ذمے کیا وبال ہے اور وہ اس کا اہل ہے یانہیں اور اگراہل ہے بھی اورپھر ترک کردے تو کوئی شرعی قباحت تولازم نہیں آتی؟ بلادلیل صرف حکم تحریر فرمادیاجائے۔
الجواب : اہل کو اس کا ترک بلامضائقہ جائزہے جبکہ وہاں اور طبیب اہل موجود ہو اور نااہل کو اس میں ہاتھ ڈالنا حرام ہے اور اس کا ترک فرض۔ جس نے اس فن کے باقاعدہ نظریات وعملیات حاصل کئے او ر ایک کافی مدت تک کسی طبیب حاذق کے مطب میں رہ کر کام کیا اور تجربہ حاصل ہوا اکثرمرضٰی اس کے ہاتھ پر شفاپاتے ہوں کم حصہ ناکامیاب رہتاہو فاحش غلطیاں جیسے بے علم ناتجربہ کارکیاکرتے ہیں تشخیص وعلاج میں نہ کیاکرتا ہو وہ اہل ہے او راسے بنظرنفع رسانی خلائق ومسلمین اس سے دست کش ہونا نہ چاہئے خصوصاً جبکہ دوسرا ایسا وہاں نہ ہو۔ بعض اوقات تشخیص یاعلاج میں غلطی واقع ہونا منافی اہلیت نہیں کہ غلطی سے انبیاء علیہم الصّلوٰۃ والسلام معصوم ہیں وبس۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۷: ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اﷲ صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیرنگر مدرس مدرسہ قومیہ۔
بانجھ وہ ہوتی ہے جس کے کبھی بچہ نہ ہواہو بعضوں کے ایک یادو بچہ ہوکر بند ہوجاتے ہیں ان کاعلاج بانجھ کا سا ہی کیاجائے یااور طرح۔
الجواب : ہاں وہی اعمال کافی ہیں کہ جو اقوٰی کی مدافعت کریں اضعف کی بدرجہ اولٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۸ : ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اﷲ صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیرنگر مدرس مدرسہ قومیہ
رجعت عمل کیاچیزہے، کیاعمل کالوٹ جاناکسی بے احتیاطی وغیرہ سے ممکن ہے؟
الجواب : ہاں ممکن ہے اور بارہا واقع ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۹: ازلکھنؤ کارلٹن ہوٹل بتوسط عبدالمجید خانصاحب مرسلہ ننھے موٹرڈریور ۱۵صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر علماء یامولوی صاحب کسی حاجتمند کو خالصاً ﷲ کوئی تعویذ یانقش دے دیتے ہیں اور اس سے بفضلہ تعالٰی نفع ہوجاتاہے تو اس پر اعتقاد واجب ہے یانہیں؟ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ تعویذات وغیرہ کاثبوت کہیں قرآن شریف یاحدیث شریف سے نہیں ہے واﷲ تعالٰی اعلم یہ کہاں تک صحیح ہے؟ اس لئے حضور کو تکلیف دی گئی کہ حضورتحریر فرمائیں کہ آیا اُس شخص کے مطابق عمل کیاجائے یانہیں؟
الجواب : تعویذات بیشک احادیث اور ائمہ قدیم وحدیث سے ثابت، اور اس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی افریقہ میں ہے، تعویذات اسماء الٰہی وکلام الٰہی وذکرالٰہی سے ہوتے ہیں ان میں اثر نہ ماننے کاجواب وہی بہترہے جو حضرت شیخ ابوسعید الخیر قدس سرہ العزیز نے ایک ملحد کو دیا جس نے تعویذات کے اثر میں کلام کیا حضرت قدس سرہ نے فرمایا: تو عجیب گدھاہے۔ وہ دنیوی بڑامغرور تھا یہ لفظ سنتے ہی اس کا چہرہ سُرخ ہوگیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں اور بدن غلیظ سے کانپنے لگا اور حضرت سے اس فرمانے کاشاکی ہوا، فرمایا میں نے تمہارے سوال کا جواب دیاہے گدھے کے نام کا اثر تم نے مشاہدہ کرلیاکہ تمہارے اتنے بڑے جسم کی کیاحالت کردی لیکن مولٰی عزوجل کے نام پاک میں اثر سے منکر ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۰: ازموضع ہری پور مرسلہ شوکت علی خاں بتاریخ ۱۹رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدغیرتعلیم یافتہ کسی قریہ میں اپنے آپ کو حکیم مشہور کرے اور وہ اس قسم کی ادویات جانتاہے کہ اسقاط حمل ہوجائے اور وہ کسی عورت حاملہ کو عورت کی خواہش پر یا غیرخواہش پرذریعہ ادویات اسقاط حمل کرائے اور اسقاط عمل میں آئے تو کیا وہ شخص قاتل ہے اور اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : جاہل کو طبیب بنناحرام ہے، جان پڑجانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے، اور ایساکرنے والا گویاقاتل ہے، اور جان پڑنے سے پہلے اگرکوئی ضرورت ہے تو حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۱ : ازنیوریا ضلع پیلی بھیت مسئولہ اکبرحسین ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کو بانجھ کرنا کس قدرگناہ ہے اور اس گناہ کی معافی ہے یانہیں؟ حکم شرع بیان فرمائیے۔ فقط والسلام
الجواب : بانجھ کرنا نہ کرنا اﷲ عزوجل کے اختیارمیں ہے بشر کی طاقت نہیں
یجعل من یشاء عقیما۱؎
(اﷲ تعالٰی جس کو چاہے بانجھ کردے۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۲ / ۵۰)
ہاں ایسی دوا کا استعمال جس سے حمل نہ ہونے پائے اگر کسی ضرورت شدیدہ قابل قبول شرع کے سبب ہے حرج نہیں ورنہ سخت شنیع ومعیوب ہے اور شرعاً ایساقصد ناجائزوحرام۔
وقد نھی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الخصاء وعن التبتل والرھبانیۃ وھذا بمعناھا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خصی کرنے اور الگ تھلگ کٹ کر رہنے اور رہبانیت اختیارکرنے سے منع فرمایا، اور مانع حمل دوا کا استعمال انہی کے معنٰی میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۲: ازشہر محلہ ملوکپور مسئولہ سراج علی خاں صاحب رضوی ۱۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سرطان یا کسی قسم کی شراب کوئی مریض کسی حالت میں استعمال کرسکتاہے یانہیں؟ اگر کوئی شخص اس کو پوشیدہ طور پر کھلائے یاپلائے تو ایسے شخص کے لئے کیاحکم ہے؟ اور مریض اس سے بری الذمہ ہے یانہیں؟ اگر ایسی ادویات سے جن میں مذکورہ بالا اشیاء کامیل ہو، جان بچنے کا خیال ہو تو اس کا استعمال کسی طرح جائزہے یانہیں؟
الجواب : سرطان کھاناحرام ہے اور شراب بدن پرلگانا بھی حرام ہے۔ جان حلال دواؤں سے بھی بچ سکتی ہے اگر اسے بچانامنظور ہے ورنہ حرام دوائیں سوائے گناہ کچھ اضافہ نہ کریں گی جو پوشیدہ طور پر مسلمان کو حرام چیز کھلائے یا پلائے سخت حرام کامرتکب اور شدید سزاکامستوجب ہے مریض پر الزام نہیں اگر اسے خبر نہ تھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔