| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۷۴: ازچھپرہ محلہ دھیانوان مرسلہ محمد نبی جان دوافروش ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ زید کے پاس ایک نسخہ مردانگی کا ایک ہندوفقیر کادیاہواہے زید اسے بناکر دینے سے بھی عذر کرتاہے نسخہ بتانے سے بھی خیال اس کا ایساہے کہ لوگ حرام کرنے پرتیار ہوجاتے ہیں اس وجہ سے کسی کو نہیں دیتا ہوں کہ اگروہ حرام کریں گے تو میرے نامہ اعمال میں درج ہوں گے اور عمرو نے یہ سوال کیاکہ مجھے نسخہ بتادو اور جو قسم شرعی لیناچاہو لے لو کیونکہ میں بسبب مرض بواسیر کے سخت پریشان ہوں کہ نامردی کے درجہ پرپہنچاہوں میری شادی عنقریب ہونے والی ہے اگرآپ نسخہ نہیں دیتے ہیں تو مجھے بناکر دے دو اگر نہ دوگے تو میں اپنا دلی راز کہہ کر تمہاری آنکھ میں ذلیل ہوا ڈوب مرنے کے سوا اور مجھے کچھ بن نہیں آتا ہے تو یہ خیال زید کا موجب شرع شریف غلط یاصحیح ہے اور عمرو ایک مرد مسلمان نمازی بھی ہے۔
الجواب: اگر وہ نسخہ نہ بتائے اسے دوابناکر دے جبکہ اس میں کوئی ناجائزچیزنہ ہو، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ۱؎۔ جو کوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتاہو تو اسے نفع پہنچانا چاہئے۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیہ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴)
اور اس کا یہ خیال کہ لوگ حرام کریں گے اور اس پروبال محض غلط ہے مسلمان پربدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴۹ /۱۲)
اور جب اس کی نیت نفع رسانی مسلم ہے تو دوسراگناہ کرے بھی تو اس کامواخذہ اس پر نہیں ہوسکتا۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
لاتزروازرۃ وزر اخرٰی۳؎
(کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۳؎القرآن الکریم ۶/ ۱۶۴)
مسئلہ ۷۵: ازاردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خانصاحب ۲۵شوال ۱۳۳۶ھ جس محلہ یا جس شہر میں طاعون ہو وہاں کے باشندے کسی دوسرے مقام پر نفرمن قضأاﷲ الٰی قضاء اﷲ کے خیال سے جاسکتے ہیں یانہیں، طاعون وغیرہ میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا کیاارشاد ہے؟ جو لوگ اس خیال سے اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں وہ اہل بدعت ہیں یانہیں؟ اور ان کے ساتھ بدعتیوں کا سابرتاؤ کرناچاہئے یانہیں؟
الجواب: طاعون کے خوف سے شہر یامحلہ یاگھر چھوڑ کر بھاگنا حرام وگناہ کبیرہ ہے، اس کا کافی بیان ہمارے رسالہ تیسیرالماعون للسکن فی الطاعون میں ہے۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفار من الزحف۱؎۔
طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسا کفار کو پیٹھ دے کربھاگنے والا۔
(۱؎ مسندامام احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۸۲، ۱۴۵،۲۵۵) (الزواجر الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۸۸۔۲۸۷)
جس کے لئے قرآن عظیم میں فرمایا کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے، ایسا نفرمن قدراﷲ الی قدراﷲ جہاد سے بھاگنے والابھی کہہ سکتاہے وہ بھی بھاگ کر تقدیر ہی میں جائے گا مگر اس بھاگنے کامنتہی جہنم ہے، طاعون عمواس شام میں تھا امیرالمومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وہاں کے عزم سے روانہ ہوچکے تھے جب سرحد شام وحجاز موضع سرغ پرپہنچے ہیں خبرپائی کہ شام میں بشدّت طاعون ہے امیرالمومنین نے مہاجرین کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مشورہ کیا بعض نے کہا حضرت کام کے لئے چلے ہیں رجوع نہ چاہئے بعض نے کہا حضرت کے ساتھ بقیہ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں ہماری رائے نہیں کہ انہیں وبا پرپیش کریں، پھرانصارِ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو بلایا وہ بھی یوہیں مختلف ہوئے پھر اکابر مومنین فتح کو بلایا انہوں نے بالاتفاق نہ جانے کی رائے دی امیرالمومنین نے واپسی کی نداکردی، اس پر حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا: أفرار من قدراﷲ کیا تقدیرالٰہی سے بھاگنا، امیرالمومنین نے فرمایا: کاش کوئی اور ایسا کہتا نعم نفرمن قدراﷲ الٰی قدراﷲ ہاں ہم تقدیرالٰہی سے تقدیرالٰہی کی طرف بھاگتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے جب واپس آئے انہوں نے کہا مجھے اس مسئلہ کے حکم کا علم ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوفرماتے سنا:
اذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرارامنہ۔
جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو وہاں طاعون کے سامنے نہ جاؤ اور جب تمہاری جگہ واقع ہو تو اس سے بھاگنے کو نہ نکلو۔ اس پر امیرالمومنین حمدالٰہی بجالائے کہ ان کا اجتہاد موافق ارشاد واقع ہوا اور واپس ہوگئے۱؎۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۳)
ایسی جگہ نفرمن قدراﷲ الٰی قدراﷲ کہناٹھیک ہے کہ موافق حکم ہے، طاعون سے بھاگنا فسق ہے بھاگنے والوں سے فاسقوں کاسابرتاؤ چاہئے، بدعت بمعنی بدمذہبی نہیں، ہاں اگر احادیث صحیحہ مشہورہ میں ارشاد اقدس حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معلوم ہے اور انہیں رَدکرتااور اپنی نامرادی وبزدلی کے حکم کو اُن پر ترجیح دیتاہے تو ضروربدمذہب ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم