الجواب:
(۱) طاعون سے بھاگنا حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفارمن الطاعون کالفار من الزحف۱؎۔
طاعون سے بھاگنے والا ایساہی ہے جیسے کہ جہاد میں کافروں کوپیٹھ دے کربھاگنے والا۔
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۸۲، ۱۴۵، ۱۵۵)
جسے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
فقد باء بغضب من اﷲ ومأوٰہ جہنم وبئس المصیر۲؎۔
وہ بیشک اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کاٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری جگہ پھرنے کی۔
(۲؎ القرآن الکریم ۸/ ۱۶)
(۲) کیاایسی چیز دوا کے حکم میں آسکتی ہے نہ کہ معاذاﷲ سنت ہونا جس پر اﷲ کاغصب ہو اور جہنم ٹھکانا۔ جولوگ اس سے بھاگ کرکہیں بھی جاتے ہیں سب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں، اس کی تفصیل ہمارے رسالہ تیسیرالماعون میں ہے۔ جولوگ کہتے ہیں کہ لوگ اس میں بے موت مرجاتے ہیں وہ گمراہ ہیں، اس میں قرآن عظیم کاانکار ہے ان پرتوبہ فرض ہے اورتجدید اسلام وتجدید نکاح چاہئے،
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
وماکان لنفس ان تموت الا باذن اﷲ کتٰبا مؤجلا۳؎۔
کون جان بے حکمِ خدا نہیں مرسکتی لکھا ہو احکم ہے وقت باندھا ہوا۔
(۳؎القرآن الکریم ۳/ ۱۴۵)
پیڑ سے ایک آدھ پھل ٹپکتا رہتاہے اسی کا ٹپکنا لکھاتھا اور ایک آندھی آتی ہے کہ ہزاروں پھل ایک ساتھ جھڑ پڑتے ہین ان کا ساتھ ہونا ہی لکھاتھا۔
اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
وکل صغیر وکبیر مستطر۴؎۔
ہرچھوٹی بڑی بات سب لکھی ہوئی ہے۔
(۴؎القرآن الکریم ۵۴/ ۵۳)
(۳) سو ودوسو جتنے جنازے جمع ہوں سب پر ایک ساتھ ایک نماز ہوسکتی ہے۔
(۴) بالغوں کے ساتھ نابالغوں کی نماز بھی ہوسکتی ہے۔
دونوں دعائیں پڑھی جائیں، پہلے بالغوں کی پھرنابالغوں کی۔ اور بہرحال اگر دقّت نہ ہو تو ہرجنازے پرجدا نمازبہترہے۔
درمختارمیں ہے:
اذا اجتمعت الجنائز فافراد الصلٰوۃ علی کل واحدۃ اولٰی وان جمع جاز وراعی الترتیب المعھود خلفہ الرجل مما یلیہ فالصبی فالبالغۃ فالمراھقۃ۱؎ ملتقطا ۔
جب متعدد جنازے (میّت) جمع ہوجائیں یعنی وہ لائے جائیں تو ہرایک پرالگ الگ نماز پڑھنی بہترہے۔ اور اگر سب پراکٹھی نماز پڑھ لے تو یہ بھی جائزہے۔ لیکن صفوف کی ترتیب میں مقرر متعارف کی رعایت کرے (اور وہ یہ ہے کہ) امام کے متصل اس کے پیچھے بالغ مرد ہوں پھر نابالغ بچے پھر بالغہ عورتیں اور ازیں بعد قریب البلوغ لڑکیاں ہو ں بیوہ پر موت شوہر کی عدت ضروری ہے اگرچہ وہ خود ایک دن کی بچی اور اس کا شوہربھی کہ مرگیا ایک دن کا بچہ ہو۔
(۱؎ درمختار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۶/ ۱۲۲)
درمختار میں ہے:
العدۃ للموت اربعۃ اشھر وعشر مطلقا وطئت اولا ولو صغیرۃ وفی حق الحامل مطلقا وضع حملھا ولوکان زوجھا المیت صغیرا۲؎۔
عدّتِ وفات چارمہینے اور دس دن علی الاطلاق بغیر کسی قید کے، خواہ ہمبستری ہوئی ہو یا نہ، اگرچہ چھوٹی بچی ہو۔ حاملہ کی عدت علی الاطلاق وضع حمل ہے اگرچہ مرنے والا اس کا زوج چھوٹا ہو(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الطلاق باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۵۶)
چارمہینے دس دن عدت کرے گی۔
(۵) مرد اپنی زوجہ کا جنازہ اٹھاسکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۷۱ :ازگونڈل کاٹھیاواڑ۔ مرسلہ عبدالستار بن اسمٰعیل سنّی حنفی قادری ۲۲شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنّت خصوصاً امام اہلسنّت مجدّد مأتہ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ محی الاسلام والمسلمین مولانا مفتی قاری شاہ محمداحمد رضاخان صاحب مدظلہ، اس مسئلہ میں ایک شخص مسلمان یا غیرمسلمان ایک حکیم یاغیرحکیم کے پاس اس لئے آیا کہ اس کے کسی رشتہ دار عورت کے کسی طور سے حمل رہ گیا حمل کے ظاہرہونے سے اس عورت نیزخویش واقارب کی سخت بے عزتی ہونے والی ہے اس لئے خواستگار ہے ایسی دعا کا جس سے حمل ساقط ہوجائے نیز شخص مذکور اس دوا کے عوض میں کچھ رقم بھی پیش کرناچاہتاہے، اب عرض یہ ہے کہ اس قسم کا دوادینا اور اس کامعاوضہ لینا اہل سنت وجماعت کے لئے جائزہے یانہیں خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ کسی سنی مسلمان کی بے عزتی ہونے والی ہے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب: اگرا بھی بچہ نہیں بناجائزہے ورنہ ناجائز کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چارمہینے میں بچہ بن جاتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: ازموضع چوپرا ڈاکخانہ بالسی ضلع پورنیہ مرسلہ کلیم الدین صاحب ۱۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کھانے پرفاتحہ شریف یا کوئی آیت قرآن کی پڑھ کر دم کرنا درست ہے یانہیں؟ اگردرست ہے تو کس طرح سے پڑھناچاہئے؟
الجواب: بہ نیت شفاء سورہ فاتحہ یا اور کوئی آیت پڑھ کر دم کی جائے تو حرج نہیں مگر اس کھانے کی احتیاط اور دوچند ہوجائے گی کہ اس کا کوئی دانہ یاقطرہ گِرنے نہ پائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
نوشیدن دوائے انگریزی کہ دراں اسپرٹ می ماندوحقیقت ایں اسپرٹ نمی دانم رواست یانہ ودریں دیارماہمہ بایں مبتلا ایذا الاماشاء اﷲ کہ رواج طب یونانی ازبس قلیل قیمتش نیزگراں ست کہ ہرکس برآں قادرنمی شود۔
انگریزی دوائی پینا کہ اس میں اسپرٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے، اور میں اسپرٹ کی حقیقت سے واقف نہیں۔ کیا اس کا استعمال کرناجائز ہے یانہیں؟ لیکن ہمارے ان شہروں میں سب اس مرض میں مبتلا ہیں الاماشاء اﷲ، اس لئے کہ طب یونانی کارواج بہت کم ہے اور وہ زیادہ قیمتی بھی ہے کہ ہرایک اس علاج کی طاقت نہیں رکھتا۔(ت)
الجواب: اسپرٹ قسمے ازشراب ست بغایت تند کہ بہ تیزی خودتنہائی قابل نوشیدن نماندہ است شرابہا کہ ازانگلستان آرندہمہ رابآمیزش قطرات او تیزمی کنند کہ درفلاں شراب در نودہ قطرہ یک قطرہ اسپرٹ است ودرفلاں در صدقطرہ یک قطرہ، ہمہ شرابہا بآشامیدن نشہ آرد وایں بمجرد شمیدن کہ بوئے اومسکرست لاجرم ہمچو جملہ خمورہم حرام ست وہم نجس ہردوائیکہ دروآمیزش اوباشد بریدن طلائے او کردن یک حرام ست ونوشیدن دوحرام بلکہ اوسہ حرام فراہم کردن حرام خرید نش حرام برداشتنش حرام وبدن باو آلودنش حرام واینجا حرام چہارم خوردن، سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم درشراب، دہ کس رالعنت فرمودہ است از انان فروشندہ وخریدہ وبردہ اندہ وآنکہ بہ سوئے اوبرداشتہ شود بالجملہ ہرکہ بہیچ گونہ باوتلبس دارد بحرام وخبیث تلوث دہ وہرکہ مسلمان را ازمن بلاباز داردبرائے اواجرصدشہیدست قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر مائۃ شھید۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
''اسپرٹ'' شراب کی ایک قسم ہے جوانتہائی تیزہونے کی وجہ سے تنہا پینے کے قابل نہیں۔ پس جو شرابیں برطانیہ سے منگوائی جاتی ہیں اُن سب میں اس کے قطروں کی ملاوٹ انہیں تیز کرنے کے لئے کی جاتی ہے کہ فلاں شراب کے نودس قطروں میں ایک قطرہ اسپرٹ ہے، اور فلاں شراب کے سو قطروں میں ایک قطرہ اسپرٹ کی ملاوٹ ہے۔ اور سب شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں، اور یہ صرف سونگھنے سے نشہ لاتی ہے اس لئے کہ اس کی ''بُو'' نشہ آور ہے۔ بلاشبہہ تمام شرابوں کی طرح یہ حرام ہونے کے علاوہ ناپاک بھی ہے لہٰذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملناپہلا حرام ہے اور پینادوسراحرام بلکہ تیسراحرام ہے۔ اس کاحاصل کرنا حرام۔ اس کا خریدنا، اٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں۔ اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے۔ سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱) فروخت کرنے والا (۲)خریدنے والا (۳)اٹھانے والا (۴)وہ جس تک اٹھاکر لے جائے۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی طرح بھی اس سے وابستہ ہو وہ ایک حرام اور ناپاک چیز سے آلودگی رکھتاہے۔ اور جوکوئی کسی مسلمان کو اس مصیبت سے چھڑائے اور اسے روکے اسے سو شہیدوں کا اجروثواب ہے۔ چنانچہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس خوش نصیب نے میری سنت کو اس وقت تھاما کہ جب میری امت میں فساد پھیل گیا تو اسے سوشہیدوں کاثواب عطاہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰)
(الترغیب والترہیب الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ حدیث ۵ مصطفی البابی مصر ۱/ ۸۰)