Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
31 - 160
مسئلہ ۶۶ : ازقصبہ بشارت گنج ضلع بریلی متصل بڑی مسجد مرسلہ نجو خاں فوجدار یعنی باتی والہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عملیات یعنی تعویذ وغیرہ کتابوں سے کرنا حق ہے یا باطل؟ کس طور سے جواز اور کس طریق سے ناجائز؟ رقم فرمائیں۔
الجواب: عملیات وتعویذ اسمائے الٰہی وکلام الٰہی سے ضرورجائزہیں جبکہ ان میں کوئی طریقہ خلاف شرع نہ ہو مثلاً کوئی لفظ غیرمعلوم المعنی جیسے حفیظی، رمضان، کعسلہون اور اور دعائے طاعون میں طاسوسا، عاسوسا، ماسوسا، ایسے الفاظ کی اجازت نہیں جب تک حدیث یا آثار یااقوال مشائخ معتمدین سے ثابت نہ ہو، یونہی دفع صرع وغیرہ کے تعویذ کہ مرغ کے خون سے لکھتے ہیں یہ بھی ناجائزہے اس کے عوض مشک سے لکھیں کہ وہ بھی اصل میں خون ہے، یونہی حب وتسخیر کے لئے بعض تعویذات دروازہ کی چوکھٹ میں دفن کرتے ہیں کہ آتے جاتے ا س پرپاؤں پڑیں یہ بھی ممنوع وخلاف ادب ہے، اسی طرح وہ مقصود جس کے لئے وہ تعویذ یاعمل کیاجائے اگر خلاف شرع ہو ناجائز ہوجائے گا جیسے عورتیں تسخیر شوہر کے لئے تعویذ کراتی ہیں، یہ حکم شرع کا عکس ہے۔ اﷲ عزّوجل نے شوہر کوحاکم بنایاہے اسے محکوم بنانا عورت پرحرام ہے۔ یونہی تفریق وعداوت کے عمل وتعویذ کہ محارم میں کئے جائیں مثلاً بھائی کو بھائی سے جداکرنا یہ قطع رحم ہے اور قطع رحم حرام، یونہی زن وشو میں نفاق ڈلوانا ۔
حدیث میں فرمایا:
لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا۱؎۔
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
(۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الطلاق     باب فی من خبب امرأۃ الخ         آفتاب عالم پریس لاہور     ۱/ ۲۹۶)
بلکہ مطلقاً دومسلمانوں میں تفریق بلاضرورت شرعی ناجائزہے۔ حدیث میں فرمایا:
لاتباغضوا ولاتدابروا الٰی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکونوا عباداﷲ اخوانا۱؎۔
(لوگو) ایک دوسرے سے عداوت نہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد گرامی تک ''اے اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہوجاؤ''۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الادب     باب ماینہٰی عن التحاسد والتدابرالخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶)
غرض نفس عمل یاتعویذ میں کوئی امرخلاف شرع ہو یامقصود میں توناجائزہے ورنہ جائزبلکہ نفع رسانی مسلم کی غرض سے محمود وموجب اجر۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ۔ رواہ مسلم۲؎ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تم میں جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو پہنچائے۔ (امام مسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب السلام     باب استحباب الرقیۃ من العین الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۲۲۴)
مسئلہ ۶۷:  مسئولہ مسلمانان جام جودھپور کاٹھیاواڑ معرفت شیخ عبدالستار صاحب پوربند کاٹھیاوار متصل قندیل ۱۵جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ

ہندو کو شفاء بیماری کے واسطے تعویذ دیناجائزہے یانہیں؟ اگرجائزہے تو اس کاطریقہ کیاہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب

کافر کو اگرتعویذ دیاجائے تومضمر جس میں ہندسے ہوتے ہیں نہ کہ مظہر جس میں کلام الٰہی واسمائے الٰہی کے حروف ہوتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۸: مرسلہ عبدالستار بن اسمٰعیل صاحب ازگونڈل کاٹھیاواڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں، شراب افیون یا ہروہ چیز جو شرعاً حرام یاناپاک ہو اس کا کسی مرض میں خارجاً ضماداً استعمال کرناکیساہے؟

(۲) اسی طرح بچوں کو نیند لانے یارونے سے روکنے کی غرض سے دوا میں قدرے افیون کا کھلانا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: 

(۱) شراب بھی حرام ہے اور نجس بھی، اس کا خارج بدن پر بھی لگاناجائزنہیں۔ اور افیون حرام ہے نجس نہیں، خارج بدن پر اس کا استعمال جائزہے۔

(۲) بچے کو سلانا یارونے سے بازرکھنے کے لئے افیون دیناحرام ہے اور اس کا گناہ اس دینے والے پرہے بچے پرنہیں،
ماحرام اخذہ حرام اعطاؤہ۱؎
 (جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ الاشباہ والنظائر         الفن الاول  القاعدۃ الرابعۃ عشر   ادارۃ القرآن  کراچی ۱/ ۱۸۹)
مسئلہ ۷۰ : مرسلہ سیّد ولی اﷲ از موضع لوڑ سرا ڈاکخانہ بھدورا ضلع غازیپور ۲۵ربیع الآخر۱۳۳۵ھ 

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ جن مواضعات میں کہ عارضہ طاعون کی شکایت ہو قبل اس کے کہ لوگ مرنے لگیں یعنی معاً ابتداء علامات وبا مثل مرنا حشرات الارض وغیرہ کا وگندگی وتعفن کا ہونا کہ مقدمہ اس عارضہ مکروہہ کا ہے، خدا کی پناہ یا بوقت ابتدا تعداد اموات صاحبان دیہہ اپنے اپنے مکانوں سے باہرہوجائیں یانہ ہوجائیں، شرع شریف اس امر میں کیا اجازت دیتی ہے اگرا جازت ہے تو کس وقت اور کس شرط کے ساتھ باہر ہوناچاہئے اور اگر شریعت اجازت نہیں دیتی تو باہر کے نکلنے والے لوگ کس گناہ کے مرتکب ہوں گے مع ثبوت حدیث ونص قرآنی کے مطلع کیاجائے۔ 

(۲) حکمائے اہل فرنگ جو عام طور سے اعلام دربارہ چھوڑنے مکانوں کے کرتے ہیں اور خود باہر نکل جاتے ہیں اور نیز اہل اسلام کا بہت سا حصہ ان کے تبعیت کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جس طرح دوا کرنا بحالت مرض سنت ہے اسی طرح بحالت خرابی آب وہوا جگہ کا نقل کرنا بھی ایک گونہ علاج ہے تبدیل آب وہوا بھی داخل سنت ہے تو ان لوگوں کی رائے کی تابعداری کرنا ہم سب کو مناسب ہے یانہیں، اور بعضے اشخاص کا یہ خیال ہے کہ اس میں بلاموت بھی لوگ مرجاتے ہیں چونکہ کثرت سے لوگ مرتے ہیں اور بیمارپڑتے ہیں تو یہ اعتراض ہوتاہے کہ کیا ایکبارگی اتنے لوگوں کی موت ایک ہی بار تھی خیر ہرایک سوال کی طرف سے معقول تسلی بخش جواب سے اطلاع دیں ۔ 

(۳) کتنے میت تک کا جنازہ اکٹھاہوسکتاہے اور نابالغ لڑکی اور لڑکے کا جنازہ بالغ کے ساتھ ہوسکتاہے یانہیں؟ اگرہوسکتاہے تو دعا پہلے بالغ کی پڑھی جائے یانابالغ کی؟ یامحض بالغ کی دعا نابالغ کے لئے کافی ہوسکتی ہے؟ جواب شافی سے ممنون ومشکور کیاجاؤں، مع حوالہ حدیث۔ 

(۴) لڑکا اور لڑکی نابالغ ہے اس کی شادی ہوگئی ہے بعد شادی کے لڑکی بیوہ ہوگئی تو عقدثانی کے بارہ میں عدّت لیاجائے گا کہ نہیں؟ اگر عدّت لیاجائے تو کب تک؟ 

(۵) اپنی بیوی میت کا جنازہ شوہرلیجاسکتا ہے کہ نہیں؟ جواب شافی سے ممنون فرمایاجائے۔ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
Flag Counter