| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۶۱: ۱۷محرم الحرام ۱۳۲۳ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رہنے والا بدایوں کا ہے اور بریلی میں انگریزی ملازم ہے، بدایوں سے اپنے عیال واطفال کولانے کامصمم ارادہ کرلیا تھا کہ اس عرصہ میں بدایوں میں طاعون شروع ہوگیا، اس وجہ سے نہ لاسکا، اگرشریعت اجازت دے تو زید اپنے متعلقین کو لاکر دنیوی تفکّرات اور دوہرے خرچ سے نجات پائے۔
الجواب: اﷲ عزوجل دل کے خطروں کو جانتاہے اگرواقعی بخوف طاعون وہاں سے ان کا منتقل کرنا مقصود نہیں بلکہ محض اپنے آرام ویکجائی کے لئے بلاشبہہ اجازت ہے بشرطیکہ زوجہ اور بالغ بچوں کو خوب سمجھادے کہ یہ انتقال طاعون سے بچنے کے لئے نہیں نہ تم کہیں بھاگ کرموت سے بچ سکتے ہو میراارادہ قطعی پہلے سے تمہیں بلانے کا تھا بلکہ طاعون کی وجہ سے اتنی دیر کی شاید تمہارا لے جانا ناجائزہو اب کے معلوم ہوا کہ خالص نیت سے لےجانے میں شرعاً حرج نہیں تمہیں اسی طرح لے جاتاہوں جیسا کہ طاعون نہ ہونے کی حالت میں لیجانا، تم پربھی فرض ہے کہ اپنی نیت صحیح کرو طاعون کا خیال دل میں ہرگز نہ لاؤ جس سے یہ ظاہرہوگا کہ بوجہ خوف طاعون اس منتقل ہونے کو غنیمت جانے گا میں اسے یہیں چھوڑدوں گا یہاں تک کہ اﷲ عزوجل جس کا ہرجگہ حکم نافذ ہے اپناجوحکم چاہے نافذ فرمائے، جب یہ تعلیم وتلقین کرے اور ظاہر ہوکہ یہ سچا عقیدہ ان کے دلوں میں جم گیا اور شیطانی خیال نہ رہا اس وقت بے تکلف وہاں سے آئے، اس تعلیم میں سمجھ والے بچوں کو بھی شریک کرے اگرچہ بالغ نہ ہوں کہ تعلیم حق کے وہ بھی محتاج ہیں، حق سبحٰنہ ہرجگہ مسلمانوں کو عافیت بخشے اور اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین۔واﷲ تعالٰی علم۔
مسئلہ ۶۲ : ازامروہہ ضلع مرادآباد مرسلہ حکیم ظہوراحمد صاحب کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ڈاکٹری دواسیال جس میں شرا ب کاجُز ہو حکیم مریض کو استعمال کرائے جائزہے یاناجائز؟ حکیم پرگناہ ہے یانہیں؟ یاایسی ڈاکٹری دوا کہ جس میں شراب کا جُز تو نہیں مگر وہ ایسی تیارکی گئی ہے کہ جیسے عطربغیر روغن صندل کے تیارنہیں ہوتا۔ برانڈی کا استعمال مریض کو جائز یاناجائز؟ خشک دواشیشی یامحذر کااستعمال مریض کوجائزہے یانہیں؟ علمائے دیوبند ادویہ ڈاکٹری کااستعمال ممنوع فرماتے ہیں۔ اگرجوابی کارڈ کافی نہ ہو براہ عنایت بیرنگ لفافہ پرجواب عنایت فرمائیے اﷲ تعالٰی آپ کو اس کا اجرخیرعطافرمائے گا
بیّنواتوجروا۔
الجواب: شراب کسی قسم کی ہو مطلقاً حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی۔ برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلا، جس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو اس کاکھانا پینا بھی حرام، اس کا لگانا بھی حرام، اس کا بیچنا خریدنا بھی حرام، طبیب کہ اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام۔ یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح ومعتمد ہے۔ ہاں افیون بھنگ وغیرہ خشک چیزیں کہ نشہ لاتی یاتحذیر وتفتیر کرتی ہیں اُن کا نشہ حرام ہے اور وہ خود ناپاک نہیں تو اُن کا لگانا مطلقاً جائز اور اگر کسی دوا میں ان کا اتنا جُز ہوکہ نشہ یاتحذیر نہ لائے تو اس کے کھانے میں بھی حرج نہیں ڈاکٹری ٹنچر وغیرہ رقیق دوائیں عموماً اسپرٹ کی آمیزش سے خالی نہیں ہوتیں وہ سب حرام ونجس ہیں، ہاں کونین وغیرہ کی طرح خشک دوامضائقہ نہیں رکھتی جبکہ اس میں کسی حرام کاخلط نہ ہو، ان مسائل کی تحقیق درمختار وردالمحتار وفتاوٰی فقیر میں بروجہ کافی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۳: ازبنارس مرسلہ مولوی ممنون حسن خاں صاحب ڈپٹی کلکٹر ۱۶شعبان معظم ۱۳۳۰ھ ہادی راہ شریعت جناب مولوی احمدرضاخاں صاحب دامت برکاتکم بعد سلام علیک وآداب عرض ہے کہ عرصہ سے خیریت جناب مقدس کی دریافت نہیں، اس وقت ضرورت التماس یہ ہے کہ ایک مسئلہ دریافت طلب ہے جس کو کئی شق میں کرکے گزارش کرتاہوں امید کہ جواب سے جلد سرفراز فرمایاجائے۔ مصنوعی دانت کااستعمال جائزہے یانہیں؟ یہ مصنوعی دانت اس طرح بنتے ہیں کہ دانت دیگرممالک غیراسلام سے بن کر آتے ہیں مگر اُن کی ترکیب کہ کن کن اجزأ سے بنتے ہیں مجھ کو معلوم نہیں ہے مگرتاہم اب تک میرے علم میں کوئی ایسی چیزان کی ترکیب میں نہیں آئی ہے جس کے داخل ترکیب ہونے کی وجہ سے ان کو میں حرام یاناجائز خیال کروں۔ ان دانتوں کو ہندوستانی کاریگر ہرشخص کے منہ اور تالو کی صورت کے مشابہ تالو بناکر اس میں لگادیتے ہیں جو منہ میں لگالیاجاتاہے اور یہ حقیقت مصنوعی دانتوں کی ہے۔ دریافت طلب یہ امرہے کہ مندرجہ بالا تالُو اگر سونے کایعنی زرکاہو یاکسی اور معدنیات کامثل ایلومینیم کے تومردوں کے لگانے کے واسطے کہاں تک جائزہے، ایلومینیم وہ معدنیات میں سے ہے جس کے زمانہ حال میں ہلکی ہلکی دیگچیاں اور ظروف وغیرہ بنتے ہیں۔ مردوں ا ورعورتوں کے واسطے اور زر اور ایلومینیم کے واسطے اگر شریعت کاحکم جداجداہے تو مفصل جواب سے مطلع فرمائیے چونکہ ضرورت اشد ہے اس لئے جواب سے جلد مطلع فرمایاجائے۔
الجواب: بوالاملاحظہ جناب گرامی القاب فضائل نصاب جناب مولوی محمدممنون حسن خاں صاحب بہادر بالقابہ دام مجدہ السامی، بعد اہدائے ہدیہ سنۃ سنیہ ملتمس، بنے ہوئے دانت لگانے میں حرج نہیں۔ طاہرقدوس عزّجلالہ نے ہرچیز اصل میں پاک بنائی ہے جب تک کسی شے میں کسی نجاست کاخلط ثابت نہ ہوپاک ہی مانی جائے گی۔
ردالمحتار میں ہے:
لایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتھا۱؎۔
کسی چیز کی نجاست کاحکم نہیں دیاجاسکتا جب تک کہ اس کی حقیقت معلوم نہ ہو۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارت باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۰)
سونے کا تالو عورتوں کو مطلقاً جائزہے اور مردوں کو بضرورت یعنی جبکہ سونے میں کوئی خصوصیت محتاج الیہا ایسی ہوکہ چاندی وغیرہ سے حاصل نہ ہوسکتی ہو ورنہ دوسری دھات اختیارکریں چاندی کی حاجت ہوتو وہ ورنہ ایلومینیم یاجومناسب ہو۔
درمختارمیں ہے:
لایشد سنہ المتحرک بذھب بل بفضۃ ویتخذ انفا منہ لان الفضۃ تنتنہ۲؎۔
ہلنے والے دانت کو سونے کے تاروں سے مضبوط نہ کیاجائے بلکہ چاندی استعمال کی جائے، ہاں البتہ سونے کی مصنوعی ناک بناکر لگائی جاسکتی ہے کیونکہ چاندی میں بدبو پیداہوجاتی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰)
ہدایہ میں ہے:
الاصل فیہ التحریم والاباحۃ للضرورۃ وقد اندفعت بالفضۃ وھی الادنی فبقی الذھب علی التحریم والضرورۃ لم تندفع فی الانف دونہ حیث انتن۳؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے اور اس کا مباح ہوناضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ چاندی سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور اس کا استعمال بنسبت سونے کے قریب ہے، لہٰذا سونا اپنی حرمت پرباقی رہے گا، اور یہ ضرورت ناک لگانے میں بغیر سونے کے پوری نہیں ہوسکتی(لہٰذا سونے کی مصنوعی ناک لگاناجائزہے) کیونکہ سونے کے علاوہ باقی دھاتوں میں بدبو پیداہوجاتی ہےاھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ الہدایۃ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۵)
مسئلہ ۶۴ : ازسرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۴رجب ۱۳۳۱ھ شفاخانہ کی دوا استعمال کرنے کاکیاحکم ہے؟
الجواب: انگریزی دوا جس میں شراب پڑتی ہے جیسے ٹنکچر، وہ مطلقاً ناجائزہے، اور جس دوا میں کوئی ناپاک یاحرام چیزمعلوم نہ ہو اس سے بچنا بہترہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۵ : اہل ہنود سے بیماری کی دواکرانا کیساہے؟
الجواب: طبیب اگر کوئی ناجائز چیز دوامیں بتائے جب تو جائزنہیں اگرچہ طبیب مسلمان ہو اور جائز چیزمیں حرج نہیں اگرچہ کافرہو مگرہندؤوں کی طلب عقلی اصول کے خلاف اور اکثر مضرہوتی ہے لہٰذا بچناچاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم