Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
29 - 160
الجواب: ذبح جانورلوجہ اﷲ تعالٰی وتقسیم لحم اوبہ مسلمین وقرأت تبارک ویسین ہمہ امرخوب ومحبوب ست ودردفع بلاباذن اﷲ جل وعلا اثرے تمام دارد ودرگوش بُز دمیدن وبہ اطراف موضع گردانیدن ازقبیل خصوصیات اعمال مشائخ ست بسیارے ازامثال اینہا شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی درقول الجمیل آوردہ اند فاما دفن پوست درزمین تضیع مال است واو روانیست لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ کرہ لکم اضاعۃ المال وکثرۃ السوال وقیل وقال۱؎، رواہ آنست کہ پوست بمساکین بخشند وتعلیق آں شعر بز وائے محلہ نیزجائز و روا وازباب توسل بمحبوبان خداست جل وعلا وعمل ٹیکا دردفع چیچک باذن اﷲ تعالٰی نفع میدہدوہمچوں تداوی اگرچہ مشتمل برچیزے ازالم بود ممنوع نیست مثل داغ نہادن آری متوکلان رانباید الذین لایسترقون ولایکتوون ولایتطیرون وعلٰی ربھم یتوکلون جعلنا اﷲ منھم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کسی جانور کو اﷲ تعالٰی کی رضاوخوشنودی کے لئے ذبح کرکے اس کا گوشت مسلمانوں میں تقسیم کرنا اور اسی طرح سورۃ یسین اور سورۃ ملک کی تلاوت کرنا بہترین اور مستحسن اعمال ہیں اﷲ تعالٰی کے اذن سے بلاومصیبت کوٹالنے کامؤثر ذریعہ ہیں، جہاں تک بکرے کے کانوں میں سورتیں پڑھ کر پھونکنے گاؤں کے گردگھمانے والے عمل کاتعلق ہے تو یہ ازقبیل خصوصیات اعمال بزرگان دین ہے، چنانچہ اس نوع کی بہت سی مثالیں حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی نے اپنی کتاب ''القول الجمیل'' میں بیان کی ہیں۔ رہاکھال کو دفن کردینے کامعاملہ، تویہ مال کو ضائع کردینے کے مترادف ہے جوجائزنہیں۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ ''بیشک اﷲ تعالٰی نے تمہارے لئے ان تین کاموں کوناپسند فرمایا (۱) مال ضائع کرنا(۲) زیادہ سوال کرنا(۳) اِدھراُدھر کی بیہودہ اور لغوباتیں کرنا۔ لہٰذامناسب یہ ہے کہ بکرے کی کھال محتاجوں، ناداروں کو بطوراعانت وامداد دے دی جائے اور شعرمذکور کاگاؤں کے چاروں اطراف میں لٹکانا روا اور درست ہے اور محبوبان خدا کو وسیلہ بنانے کے باب سے ہے (ان سب پراﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو) نیز مرض چیچک کے دفاع اور ازالہ کے لئے انجکشن لگوانا باذن اﷲ تعالٰی نفع بخش ہے، اسی طرح ایسی دوا استعمال کرنا یاطریقہ اپنانا جوبظاہر تکلیف دہ بھی ہو شرعاً منع نہیں جیسا کہ جسم پرگل یعنی داغ لگوانا وغیرہ، ہاں البتہ اصحاب توکل کے لئے ایساکرنا مناسب نہیں، چنانچہ حدیث پاک میں کچھ محبوب بندوں کے بارے میں آیاہے کہ وہ ایسے مقربان بارگاہ ہیں کہ دم او رجھاڑ پھونک نہیں کرواتے نہ داغ لگواتے ہیں اور نہ بدشگونی لیتے ہیں بلکہ اپنے پروردگار پرمکمل بھروسا رکھتے ہیں، اﷲ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے ہمیں ان پاک لوگوں میں شامل فرمائے۔ اﷲ تعالٰی پاک برتر اور سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
(۱؎ مسند امام احمدبن حنبل     عن مغیرہ بن شعبہ         دارالفکر بیروت     ۴/ ۲۹۴)

(صحیح البخاری         کتاب الرقاق    باب مایکرہ من قیل وقال     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۹۵۸)
مسئلہ ۶۰ : مسئولہ حافظ امیراﷲ صاحب ۲۰شوال ۱۳۲۲ھ

یہ خط ایک شخص صادق تخلص سیتاپوری کامیرے نام آیاہے اس کی آخری عبارت ملاحظہ فرمائیں، عبارت یہ ہے:
اگرآں جاراترک کردہ مابقی راازیں بلا(یعنی طاعون) حفاظت کنند بعقل نزدیک وازمحاظرہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۱؎ دورست۔
اگر ا س جگہ کو چھوڑ دے اورباقیماندہ جگہ کی طاعون کی مصیبت سے حفاظت کی جائے تو یہ عقل کے قریب، اور آیہ مذکورہ کی ممانعت سے بعید ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے: لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۹۵)
زیراکہ حدیثے کہ درعدم فرار وارد شدہ مصنف ''سکن الشجون فی حکم الفرار عن وباء الطاعون'' بدلائل وبراہین ثابت کردہ کہ اوّلاً طرق روایان حدیث بسیار مخدوش ست یعنی دونفرازانہا مجہول وغیرثقہ است وثانیاً نفس حدیث مقامی ست زیراکہ دروقتے کہ عسکر اسلامی ازبرائے حفاظت ثغور مقرر بودند طاعون آمدوآنہامی گریختند حضرت فرمودند کہ نگریزند۔ خلاصہ بخیال من بااینحالت آنجا سکونت جاہلانہ خودراببلاانداختن ست فقط۔
اس لئے کہ جو حدیث طاعون سے نہ بھاگنے کے بارے میں وارد ہوئی ہے مصنف ''سکن الشجون فی حکم الفرار عن وباء الطاعون'' نے عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اوّلاً توحدیث مذکور کی سندبلحاظ رواۃِ حدیث بہت مخدوش ہے یعنی دوآدمی اس میں مجہول اور غیرثقہ ہیں، ثانیاً حدیث مذکور اس مقام سے تعلق رکھتی ہے کہ اس وقت اسلامی فوج اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے مقرر کی گئی پھر وہاں اچانک طاعون پھیل گیا اور لوگ اِدھراُدھر بھاگنے لگے توحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ بھاگیں۔(خلاصہ کلام) میرے خیال میں اس حالت میں اس جگہ ٹھہرنا جہالت او راپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔فقط۔(ت)
الجواب: حدیث فرار عن الطاعون کو مخدوش ومجروح او ر اس کے دو روایوں کو مجہول وغیرثقہ نہ کہے گا مگرجاہل یاگمراہ۔ حدیث صحیح نقی منقی صفی مصفی، صحیحین بخاری ومسلم وموطاء مالک ومسندامام احمد وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وغیرہا میں بطریق عدیدہ واسانیدجیّدہ صحیحہ حدِ شہرت واستفاضہ پر مروی ہوئی اور اسے مقامی بمعنے مذکور بھی نہ کہے گا مگروہ کہ ارشاداتِ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو پردہ تاویل باطل وعلیل میں رَد کرناچاہتاہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تویوں ارشاد فرمائیں:
اذاسمعتم بالطاعون بارض فلاتدخلوا علیہ واذا وقع وانتم بارض فلاتخرجوا منھا فرارامنہ، رواہ الشیخان۱؎ وابوداؤد النسائی ومالک واحمد عن عبدالرحمٰن بن عوف والبخاری ومسلم عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو اس پر داخل نہ ہو اور جب وہاں طاعون آئے جہاں تم ہو تو طاعون سے بھاگنے کے لئے وہاں سے نہ نکلو(بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، امام مالک اور امام احمد نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے اسے روایت کیاہے او ربخاری ومسلم نے اسے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی سند کے ساتھ بھی روایت کیاہے۔ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب     ۱/ ۴۹۴،     وکتاب الطب     ۲/ ۸۵۲        قدیمی کتب خانہ کراچی )

(صحیح مسلم         کتاب السلام     باب الطاعون والطیرۃ             قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۲۸)

(سنن ابی داؤد         کتاب الجنائز    باب الخروج من الطاعون     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۸۶)

(موطاالامام مالک     باب ماجاء فی الطاعون             میرمحمد کتب خانہ کراچی     ص۷۰۰)

(مسندامام احمد         عن عبدالرحمن بن عوف             المکتب الاسلامی بیروت    ۱/ ۱۸۲ و ۱۹۳ و ۱۹۴)
اور اس کے معنی یہ قراردئیے جائیں کہ کسی جہاد کے وقت طاعون ہوا تھا تو اس جہاد سے بھاگنے کی مخالفت میں فرمائی گئی انا ﷲ وانّا الیہ راجعون (یقینا ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں۔ت) یہ تاویل نہیں صریح تحریف وتبدیل ہے اور نہ صرف تبدیل بلکہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پرافتراکہ حضورنے اس غرض سے فرمایا، حالانکہ کسی روایت ضعیفہ میں بھی یہ سبب وغرض ارشاد مذکور نہیں محض اختراع وافتراء ہے۔
وقدقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من کذب علیّ متعمدا فلیتبوّأ مقعدہ من النّار۱؎۔
بیشک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں سمجھ لیناچاہئے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب العلم     باب اثم من کذب علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۱)
سکن الشجون کیاچیزہے اس کا مصنف کون ہے، کشف الظنون تک تو اس کا پتا نہیں کوئی حال کاجاہل مجہول ہوتو ہواکرے، القاء بالایدی الی التھلکۃ (ہاتھوں کوہلاکت میں ڈالنا۔ت) کیاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے احکام کو نہ ماننا، ورنہ یہ آیت تحریم جہاد کے لئے عمدہ دستاویز ہوجائے گی، جو تہلکہ چمکتی تلواروں اور برستے تیروں او رتوپ کے متواتر گولوں کے سامنے ہے طاعون میں اس کا عشرعشیر بھی نہیں توجہاداکبر سے زائد حرام ہوگا اور جہاد سے بھاگنا فرض حالانکہ قرآن نے اس کا عکس فرمایا ہے قرآن عظیم ترک جہاد وفرارعن الجہاد ہی کوتہلکہ فرماتا ہے جسے یہ عبدۃ الہوی ہلاک سمجھیں وہ نجات ہے اور جسے نجات سمجھ رہے ہیں وہ ہلاک ہے۔
ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
''کریمہ لاتلقوا"
  ہم انصار میں اتری کہ جب دین متین کو اﷲ عزوجل نے عزت بخشی اور اسلام پھیل گیا ہم نے کہا اب جہاد کی کیاضرورت ہے اب خانگی امور جو اتنے روزوں سے خراب پڑے ہیں بنالیں اس پرارشاد ہوا:
وانفقوا فی سبیل اﷲ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۲؎
'' اپنی جان اور مال جہاد میں خرچ کرو اور ترک جہاد کرکے اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(ت)
 (۲؎ معالم التنزیل علی ہامش الخازن     تحت آیہ ۲/ ۱۹۵        مصطفی البابی مصر     ۱/ ۱۷۱ و ۱۷۲)
معالم شریف میں ہے:
فالتھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترک الجھاد۳؎۔
''التہلکہ'' اہل ومال سے وابستہ رہنا اور جہاد کے لئے نہ نکلنا ہے۔(ت)
(۳؎ معالم التنزیل علی ہامش الخازن     تحت آیۃ ولاتلقوا بایدیکم الی التہلکۃ     مصطفی البابی مصر     ۱/ ۱۷۲)
امام اجل احمدبن حنبل مسندمیں جابررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفارمن الزحف ومن صبرفیہ کان لہ اجر شھید۱؎۔
طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسے جہاد میں کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنے والا، اور جو اس میں صبر کئے بیٹھارہے اس کے لئے شہیدکاثواب ہے۔
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل     مرویات عبدا ﷲبن جابر انصاری رضی اﷲ عنہ     دارالفکر بیروت     ۲/ ۳۶۰)

(کنزالعمال         حدیث ۲۸۴۴۳            موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰/ ۷۹)
اور جہاد سے بھاگنے والے کو اﷲ عزوجل فرماتاہے:
فقد باء بغضب من اﷲ ومأوٰہ جھنم وبئس المصیر۲؎۔
وہ بیشک اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا بری بازگشت ہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۸/ ۱۶)
توثابت ہوا کہ طاعون سے بھاگنے والا اﷲ کے غضب میں جاتاہے اورجہنم اس کا ٹھکاناہے اسی کوفرمایا کہ:
لاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۳؎۔
اپنے ہاتھوں ہلاکت وغضب خدا اور استحقاق جہنم میں نہ پڑو۔
 (۳؎القرآن الکریم        ۲/ ۱۹۵)
اب بتائیے کہ طاعون سے بھاگنا ''تہلکہ'' ہے یااپنے رب عزوجل پرتوکل کرکے صابرومقیم رہنا۔ اﷲ تعالٰی توفیق دے کہ احکام محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے ہوائے نفس سے رد نہ کیاجائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہ سے بچنے او رنیکی کی قوت وطاقت کسی میں نہیں بجزاﷲ تعالٰی بلندمرتبہ اور عظیم الشان کی توفیق کے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter