Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
28 - 160
مواہب شریف میں ہے:
وقدقیل فی الحکمۃ فی ھذا العدد ان لہ خاصیۃ فی دفع ضرر السم والسحر۳؎۔
کہاگیا کہ اس سات کے عدد میں حکمت اور راز یہ ہے کہ اس کو زہر اور جادو کانقصان زائل کرنے میں خاص تاثیرہے۔(ت)
 (۳؎ المواہب اللدنیہ    المقصد العاشر     الفصل الاول             المکتب الاسلامی بیروت     ۴/ ۵۲۰)
شرح زرقانی میں فتح الباری سے ہے:
وقد ثبت حدیث من تصبح بسبع تمرات عجوۃ لم یضرہ ذٰلک الیوم سمّ ولاسحر وللنسائی فی قرأۃ الفاتحۃ علی المصاب سبع مرات وسندہ صحیح ولمسلم القول لمن بہ وجع اعوذ بعزۃ اﷲ وقدرتہ من شرما اجدواحاذر سبع مرات وفی النسائی من قال عند مریض لم یحضر اجلہ اسأل اﷲ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک سبع مرات۱؎۔
حدیث پاک سے ثابت ہے کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اسے اس دن زہر اور جادو سے نقصان نہیں پہنچے گا۔ نسائی شریف میں ہے کہ مصیبت زدہ پرسات مرتبہ فاتحہ پڑھی جائے، اس کی سند صحیح ہے۔ مسلم شریف میں ہے کہ جس کو درد کاعارضہ ہو اس پریہ کلمات سات مرتبہ پڑھے جائیں: اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اﷲِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ یعنی اﷲ تعالٰی کی عزت اور اس کی قدرت سے پناہ لیتاہوں اس کے شر سے جس کو میں پاتاہوں اور اس سے ڈرتاہوں (چوکنّارہتاہوں) سنن نسائی شریف میں ہے کہ جو کوئی ایسے مریض کے پاس، جس کی موت مقدرنہ ہو، ان الفاظ سے سات دفعہ دعاکرے تو وہ صحت یاب ہوجائے گا، کلمات یہ ہیں: اسأل اﷲ العظیم ربّ العرش العظیم ان یشفیک یعنی میں اﷲ عظمت والے سے سوال کرتاہوں جو بڑے عرش کامالک ہے کہ وہ تجھے شفا عطافرمائے(ت)
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ     المقصد العاشر     الفصل الاول         دارالمعرفۃ بیروت     ۸/ ۲۵۸)
جماعت میں برکت ہے اور دعائے مجمع مسلمین اقرب بقبول، علما فرماتے ہیں جہاں چالیس مسلمان صالح جمع ہوتے ہیں ان میں ایک ولی اﷲ ضرورہوتاہے۔
حدیث میں ہے:
اذا شھدت امۃ من الامم وھم اربعون فصاعدا اجازاﷲ تعالٰی شھادتھم رواہ الطبرانی فی الکبیر۲؎ والضیاء المقدسی عن والد ابی الملیح۔
جب کوئی جماعت حاضر ہو اور چالیس افراد یا اس سے زیادہ ہوں تو اﷲ تعالٰی ان کی شہادت کو جائز قراردیتا ہے۔ امام طبرانی نے معجم کبیرمیں اور ضیاء مقدسی نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔(ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر             حدیث ۵۰۳                المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۱/ ۱۹۰)
تیسیر شرح جامع صغیر میں فرمایا:
قیل وحکمۃ الاربعین انہ لم یجتمع ھذا العدد الا وفیھم ولی۱؎۔
کہاگیاہے کہ چالیس کے عدد میں حکمت یہ ہے کہ یہ تعداد کبھی پوری نہیں ہوتی بجز اس کے کہ ان میں کوئی نہ کوئی ولی ضرورہوتاہے(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر      حرف الہمزہ         مکتبۃ الامام الشافعی الریاض         ۱/ ۱۱۰)
مگریہ نمازفرض ہوناچاہئے، نفل پڑھیں تو الگ الگ، ورنہ نفل جماعت کثیرہ کے ساتھ مکروہ ہے، چارمقتدی ہوں تو بالاتفاق اور تین ہوں تو علی المرجوع۔
درمختارمیں ہے:
التطوع بجماعۃ یکرہ لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدرر۲؎۔
نوافل باجماعت پڑھنامکروہ ہے بشرطیکہ بطور تداعی ہوبایں طریقہ کہ چارآدمی ایک کی اقتداء کریں، جیسا کہ درر میں ہے(ت)
 (۲؎ درمختار         کتاب الصلوٰۃ     باب الوتر والنوافل     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۹)
ردالمحتار میں ہے:
اما اقتداء واحد بواحد اواثنین بواحد فلایکرہ وثلثۃ بواحد فیہ خلاف بحر۳؎ عن الکافی۔
لیکن ایک کا ایک کی اقتداء کرنا یادو کا ایک کی اقتداء کرنا مکروہ نہیں اور تین کے ایک کی اقتداء کرنے میں اختلاف ہے۔ البحرالرائق نے الکافی سے نقل کیا(ت)
(۳؎ ردالمحتار       کتاب الصلوٰۃ     باب الوتر والنوافل   داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۷۶)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں زیرقول شارح لواقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ (اگر تین شخص ایک کی اقتداء کریں تو اس میں اختلاف کیاگیاہے۔ت) فرمایا:
والاصح عدم الکراھۃ۴؎
 (زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں بھی کراہت نہیں۔ت)
(۴؎ مراقی الفلاح مع شرح الطحطاوی علی مراقی الفلاح     فصل بیان النوافل     نورمحمد کتب خانہ کراچی     ص۲۱۱)
شیرینی یاکھانا فقراء کوکھلائیں تو صدقہ ہے اور اقارب کو تو صلہ رحم اور احباب کو تو ضیافت، اور یہ تینوں باتیں موجب نزول رحمت ودفع بلاومصیبت ہیں۔
ابویعلٰی انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الصدقۃ وصلۃ الرحم یزیداﷲ بھما فی العمر ویدفع بھما میتۃ السوء ویدفع بھما المکروہ والمحذور۱؎۔
بیشک صدقہ اور صلہ رحم ان دونوں سے اﷲ تعالٰی عمربڑھاتاہے اور بری موت کو دفع فرماتا ہے اور مکروہ واندیشہ کو دورکرتاہے۔
 (۱؎ مسند ابی یعلٰی         حدیث ۴۰۹۰    مؤسسۃ علوم القرآن     ۴/ ۴۷۔۱۴۶)
ابوالشیخ ابوالدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الضیف یاتی برزقہ ویرتحل بذنوب القوم یمحص عنھم ذنوبھم۲؎۔
مہمان اپنا رزق لے کرآتاہے اور کھلانے والے کے گناہ لے کرجاتاہے اور ان کے گناہ مٹادیتاہے۔
(۲؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن ابی شیبہ      حدیث ۱۶۴۱        دارالکتب العلمیہ بیروت     ۲/ ۳۳)
نیزامیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے راوی کہ وہ فرماتے ہیں:
لان اجمع نفرا من اخوانی علی صاع اوصاعین من طعام احب الی من ان ادخل سوقکم فاشتری رقبۃ فاعتقہا۳؎۔
بیشک یہ بات کہ میں اپنے بھائی سے ایک گروہ کو جمع کرکے دو ایک صاع کھانا کھلاؤں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارے بازار میں جاؤں اورایک غلام خرید کر آزاد کردوں۔
 (۳؎ الادب المفرد     باب ۲۵۵     حدیث ۵۶۶        المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل     ص۱۴۸)
یہی حال بکری ذبح کرکے کھلانے کاہے مگرتجربہ سے ثابت ہواہے کہ جان کا صدقہ دینازیادہ نفع رکھتاہے اور قرأت قرآن کا موجب شفا وبرکت ودافع بلاونقمت ہونا خود قرآن مجید سے ثابت خصوصاً یسین شریف کہ قضاء حاجات واجابت دعوات کے لئے تریاق مجرب ہے، رہا بکری کے کان میں پھونکنا اور اسے مکان کے گرد پھرانا اگر کسی صالح معتمد کے قول سے ثابت ہو تو ازقبیل اعمال مشائخ ہوگا ورنہ عبث ہے۔ دفع وبا کے لئے اذان کی تحقیق ہمارے رسالہ نسیم الصبا ان فی الاذان یحول الوبا (صبح کی ہوا اس بارے میں کہ اذان وبا کو ٹال دیتی ہے۔ت) اور اسی غرض سے مسلمانوں کو جمع کرکے کھانا کھلانے اور صدقہ وصلہ وضیافت کے فوائد کابیان ساٹھ حدیثوں سے ہمارے رسالہ مراد
القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء
(ہمسایوں کی دعوت اور فقراء سے اظہار ہمدردی قحط اور وباء کو پھیردینے والے اعمال ہیں۔ت) اور اعمال مشائخ کے جواز کے ساتھ تفصیل ہمارے رسالہ
منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین
(انگوٹھے چومنا آنکھوں کی روشنی کاروحانی علاج ہے۔ت) وغیرہا میں ہے۔سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۹ : ۲۰شوال ۱۳۱۹ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ چوں درمحلہ ازمحلات دہ مرض وبا واقع شود مرد مان محلہائے دیگرگوسپندی سیاہ گرفتہ سورہ یسین وتبارک خواندہ درہردوگوش آں بزدم کردہ باطراف ایں موضعہا برگردانیدہ باجائے اول آوردہ ذبح کنند واستخوان وپوست رادراں زمین دفن کردہ گوشتہارا پزانیدہ پارہ پارہ ازاں بہریک مردم آں وہ تقسیم کنند وایں نظم ؎

لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ

المصطفٰی والمرتضٰی وابناھما والفاطمہ

رابر پرچہ نوشتہ برہرچہار گوشہ آں محلہ آویزند وہمچنیں بخوف مرض چیچک انگریزاں قطرہ ریم بربازوے مردماں زخم کردہ آں نجس رادخل کنند پس ایں ہمہ موافق شرع جائزاست یانہ؟ بیّنوا بالکتاب وتوجروا عندالحساب۔
علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیافرماتے ہیں کہ جب گاؤں کے کسی محلہ میں مرض بصورت وباپھوٹ پڑے تو دوسرے محلوں والے لوگ ایک سیاہ رنگ کابکراخرید کر لاتے ہیں اور سورہ یسین وسورہ ملک پڑھ کر اس کے دونوں کانوں میں پھونکتے ہیں ازاں بعد اسے گاؤں کے گردگھماتے پھراتے ہیں اور پھرپہلے مقام پر لاکرذبح کردیتے ہیں، اس کی کھال اور ہڈیاں وہیں دفن کردیتے ہیں اور گوشت پکاکر گاؤں کے مردوں میں تھوڑا تھوڑا تقسیم کیاجاتاہے اور یہ شعر چار الگ الگ کاغذوں پر لکھ کر گاؤں کے چاروں کونوں میں ایک ایک کاغذ لٹکادیتے ہیں ؎
لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ

المصطفٰی والمرتضٰی وابناھما والفاطمہ
 (میرے لئے پانچ نفوس قدسیہ وسیلہ اور سہارا ہیں میں ان کے توسل سے کمرتوڑ وبا کی حرارت اور گرمی کوبجھاتا اور ٹھنڈا کرتاہوں وہ پانچ ہستیاں یہ ہیں: حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ان دونوں کے صاحبزادے حضرت حسن اور حضرت حسین علیہما السلام، حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اﷲ تعالٰی عنہا) اسی طرح مرض چیچک کے ازالہ کے لئے بطور علاج انگریز لوگوں کے بازوؤں کو زخمی کرکے ناپاک پیپ کے قطرات ان کے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ ازروئے شرع جائزاوردرست ہے؟ کتاب اﷲ کی روشنی میں وضاحت فرماکر مہربانی فرمائیں تاکہ بوقت حساب عنداﷲ اجروثواب پائیں۔(ت)
Flag Counter