Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
27 - 160
مسئلہ ۵۷: ازکلکتہ بتوسط قاضی عبدالوحید صاحب عظیم آبادی منتظم تحفہ حنفیہ ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ

کیافرماتے ہیں حضرات علماء دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا شہرکلکتہ میں 

چنددنوں سے یہ امرمروج ہواہے کہ برائے دفع وبا اکثر محلوں چندچندلوگ ایک ایک فرقہ ہوکر راتوں کو مع علم ونشان وروشنی وغیرہ نکلتے ہیں اور ہرگلی کوچہ وشارع عام میں آوازیں ملاملاکر بآواز بلندشعر ؎
لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ         المصطفٰی والمرتضٰی وابناھما والفاطمہ
 (میرے لئے پانچ (ہستیاں) ہیں ان کے ذریعے توڑ کر رکھ دینے والی وباکی گرمی بجھاتاہوں اور وہ پانچ (ہستیاں) یہ ہیں (۱) حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (۲) حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ(۳و۴) ان کے دونوں صاحبزادے (۵) سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ت)

کو پڑھتے پھرتے ہیں اس فعل کو قطع نظراہل تشیّع کے حضرات علماء اہلسنت وجماعت سے بھی بعض صاحب جائزبتاتے اوراکثر حضرات ناجائز بتاتے ہیں پس شعر مذکور کودافع وبا اعتقاد کرکے بہ ہیئت مذکورہ پڑھتے پھرنا ازروئے شریعت غراعنداہل السنۃ والجماعۃ کیساہے؟
الجواب: مضمون شعرفی نفسہٖ حسن ہے اور محبوبان خدا سے توسّل محمود اور ذکرخمسہ پر شبہہ مردود کہ بعدحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چار میں حصرغیرمقصود، عددنافی زیادت نہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لی خمسۃ اسماء، رواہ البخاری۱؎
عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ میرے پانچ نام ہیں۔ جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے بخاری سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب التفسیر     سورۃ الصف         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۷۲۷)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم: اعطیت خمسالم یعطھا احد من الانبیاء قبلی رواہ الشیخان۲؎ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
مجھے پانچ اوصاف عطاہوئے جومجھ سے پہلے کسی نبی کوعطانہیں ہوئے۔ بخاری ومسلم نے اس کو جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاہے۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب التیمم                 قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۴۸)

(صحیح مسلم         کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ        قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۹۹)
مگر علم ونشان مہمل اور ان سے توسل باطل اورہیأت مذکورہ لہو اشبہ، توسّل دعاء ہے اور دعاکاطریقہ اخفاء۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۸ : ازضلع نواکھالی ڈاکخانہ دلال بازار موضع لکھی پورہ مرسلہ عبدالودود صاحب ۱۵شوال ۱۳۱۷ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی گاؤں میں مرض ہیضہ جاری ہوتو برائے دفع مرض ہیضہ آج اس میدان، کل دوسرے میدان میں سات باراذان کہہ کر ہرروز اس طورپرنماز پڑھنا بہ نیت دفع البلا بہت لوگ جمع ہوکر کے اور شیرینی یاکھیر پکاکرکے اﷲ کے واسطے میدان میں لے جاکر کھاتے ہیں اور بکری کے کان میں سورہ ٰیسین اور سورۃ تبارک الذی پڑھ کر دم کرکے مکان کے چاروں طرف چکّر دلاتے ہیں پھر اس بکری کو ذبح کرکے سب کو کھلاتے ہیں، آیا یہ باتیں جائزہیں یانہیں؟
الجواب: اذان ذکرالٰہی ہے اور ذکرالٰہی کے برابرغضب وعذاب الٰہی سے نجات دینے والی بلاء غم وپریشانی کی دفع کرنے والی کوئی چیزنہیں۔

 اﷲ تعالٰی فرماتاہے:
الا بذکراﷲ تطمئن القلوب۱؎۔ سن لو اﷲ تعالٰی کی یادہی سے دلوں کو چین ملتاہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۳/ ۲۸)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماعمل اٰدمی عملا انجالہ من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قیل ولاالجہاد فی سبیل اﷲ، قال ولاالجہاد فی سبیل اﷲ الا ان یضرب بسیفہ حتی ینقطع۔ رواہ الطبرانی۲؎ فی الاوسط والصغیر بسند صحیح عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ولابن ابی الدنیا والبیھقی عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لکل شیئ صقالۃ وان صقالۃ القلوب ذکراﷲ وما من شیئ انجا من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قال ولاالجہاد فی سبیل اﷲ قال ولو ان یضرب بسیفہ حتی ینقطع۱؎
کسی شخص کاکوئی عمل ایسانہیں جو اﷲ تعالٰی کے ذکر سے زیادہ مفیداور عذاب الٰہی سے زیادہ نجات دلانے والاہو۔ عرض کی گئی کہ کیاخدا کی راہ میں جہاد بھی نہیں۔ فرمایا: اﷲ تعالٰی کی راہ میں جہاد بھی بمقابلہ ذکر کے زیادہ مفید اور نجات کا باعث نہیں مگر یہ کہ اپنی تلوار سے (خدا کے دشمنوں پر) اس قدر وار کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔ اس کو امام طبرانی نے ''الاوسط'' میں اور معجم صغیر میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے حوالہ سے روایت کیاہے اور ابن ابی الدنیا اور امام بیہقی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند کے ساتھ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی: ہر شَے کی صفائی کے لئے کوئی نہ کوئی چیزہے اور دلوں کی صفائی اﷲ تعالٰی کے ذکر سے ہوتی ہے کوئی چیز خدا کے عذاب سے نجات کے سلسلے میں ذکرالٰہی سے بڑھ کر مفید نہیں، حتی کہ فرمایا اﷲ تعالٰی کی راہ میں جہاد بھی نہیں اگرچہ وہ اپنی تلوار سے اس کے ٹوٹنے تک وارکرتا رہے۔
 (۲؎ المعجم الاوسط     حدیث ۲۳۱۷     مکتبۃ المعارف ریاض     ۳/ ۱۵۶)

(الترغیب والترہیب     بحولہ المعجم الاوسط والزہد    کتاب الذکر والدعاء     حدیث ۱۳     مصطفی البابی مصر     ۲/۳۹۶)

(۱؎ الترغیب والترہیب     بحوالہ ابن ابی الدنیا والبیہقی      کتاب الذکروالدعاء    حدیث ۱۰    مصطفی البابی مصر     ۲/ ۳۹۶)

(شعب الایمان     حدیث ۵۲۲                    دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۳۹۶)
ولاحمد وابی بکر بن ابی شیبۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماعمل آدمی عملا انجی لہ من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قالوا ولاالجہاد فی سبیل اﷲ قال ولاالجہاد الا ان تضرب بسیفک حتی ینقطع ثم تضرب بہ حتی ینقطع ثم تضرب بہ حتی ینقطع۲؎۔
اور مسنداحمد، ابوبکر ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے معجم کبیر میں بسند صحیح حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی کہ انسان کا کوئی عمل خدا کے عذاب سے چھڑانے اور نجات دلانے کے سلسلے میں اس کے ذکر سے بڑھ کر مفیداور نافع نہیں، لوگوں نے عرض کی کیاجہاد فی سبیل اﷲ بھی نہیں، فرمایا جہاد بھی ذکر سے بڑھ کر نہیں اِلاّ یہ کہ تو اپنی تلوار سے کافروں پر اس حد تک وارکرے کہ تلوارٹوٹ جائے پھروار کرے اور وہ ٹوٹ جائے  پھروار کرے اور وہ ٹوٹ جائے۔(ت)
 (۲؎ المعجم الکبیر         حدیث   ۳۵۲                المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۲۰/ ۱۶۷)
اور نظروطلب دفع بلاوذکرخدا کے لئے جنگل کوجانے کی اصل نماز استسقاء ہے، اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوتعلمون ما اعلم الٰی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لخرجتم الی الصعدات تجأرون الی اﷲ۱؎، رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم والبیھقی فی الشعب بسند صحیح عن ابی الدرداء والحاکم بسند صحیح عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
کاش تم بھی وہ کچھ جانتے جوکچھ میں جانتا ہوں، حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کہ تم لوگ بلندیوں کی طرف نکل جاتے اﷲ تعالٰی کی طرف چیختے چلّاتے ہوئے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور حاکم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔(ت)
 (۱؎ مجمع الزوائد         بحوالہ الطبرانی عن ابی الدرداء     کتاب الزہد         دارالکتب بیروت     ۱۰/ ۲۳۰)

(المستدرک للحاکم     کتاب الرقاق                         ۴/ ۳۲۰)

(شعب الایمان     حدیث ۷۹۳                    دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۴۸۷)
اور سات کے عدد کو دفع ضرر وآفت میں ایک تاثیرخاص ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے مرض وصال شریف میں فرمایا مجھ پر سات مشکوں پرسربستہ کاپانی ڈالو۔ صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمادخل بیتی واشتد وجعہ قال اھریقواعلیّ من سبع قرب لم تحلل اوکیتھن لعلی اعھد الی الناس۲؎۔
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب میرے گھرتشریف لائے تو آپ کے مرض میں اضافہ ہوگیا۔ فرمایا مجھ پر ایسے سات مشکیزوں کاپانی بہاؤ کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں (سربستہ مشکیزے ہوں) شاید میں لوگوں سے کوئی عہد لوں۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     کتاب المغازی     باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۶۳۹)
Flag Counter