Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
26 - 160
مسئلہ ۵۲: جبلپور متصل کوتوالی بساطی بازار مرسلہ عبدالسبحان سوداگر مورخہ ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرہندو لوگ مساجد کے سامنے سے باجابجاتے ہوئے گزرے تو ان کو روکناچاہئے یانہیں؟ اور اگر روکنے میں سرکاری جرم ہو تو ایسی حالت میں مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے؟ سرکاری طور سے ہندؤوں کو یہ حکم دیاگیاہے کہ صرف جماعت کے وقتوں میں مساجد کے سامنے باجانہ بجے اور دیگراوقات میں برابر بج سکتاہے اور دیگر اوقات میں اگرکوئی ان کو روکے توسزاکامستحق ہوگا، چنانچہ چندآدمیوں کو چھ چھ ماہ کہ سزائے قید بھی ہوچکی ہے۔ یہ تو گورنمنٹی حکم ہوگیا اور اب ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مصالحت ہوجاناچاہئے اس شرط پرکہ ہم سال بھر میں صرف پانچ یاسات دن کے لئے یعنی جو ہمارے تہوار ہیں اس میں باجا بجائیں گے مگراوقات نمازچھوڑ کر اور سال بھر تک کسی وقت باجا نہ بجائیں گے، اب ایسی حالت میں ہم مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : ایسی حالت میں فوراً اس مصالحت کو قبول کرناواجب ہے کہ اس میں اسلام کا نفع کثیرہے وہ پانچ سات دن کے استثناء سے تمام سال کے لئے احتراز تام کاوعدہ کرتے ہیں یہ گورنمنٹی فیصلہ سے صدہادرجہ اسلام کے لئے نافع ترہے۔ فیصلہ میں مسلمانوں کی طرف سے یہ الفاظ ہوں کہ اوقات جماعت میں ہندو کبھی باجا نہ بجائیں گے اور غیراوقات جماعت میں بھی پانچ سات دن معین کے سوا مساجد کے قریب باجابجانے سے ہمیشہ احتراز رکھیں گے، یہ الفاظ نہ ہوں کہ ان معین دنوں میں غیراوقات جماعت میں بجانے پرہم راضی ہیں یااجازت دیتے ہیں اگرچہ حاصل ایک ہی ہے مگر اس عبارت میں معصیت کی اجازت ہے اور معصیت کی اجازت معصیت سے بڑھ کر معصیت ہے اور اس عبارت میں بوجہ استثناء مستثنٰی حکم سکوت میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۳ : ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ 

اگرمسلمان ہو، پابندصوم وصلوٰۃ کاہو، کسی پیرمولوی کے یہاں نالشی ہو کہ ہمارا معاملہ طے کردو جو ان کے امکان میں ہے اور وہ طے نہ کریں اور نہ سنیں جس کی وجہ سے برباد ہورہاہو۔
الجواب: یہ بھی محتاج تفصیل ہے کیامعاملہ، اور پیرمولوی پرکتنا اختیار، اور کیوں نہ کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۵۴: ازموضع خوردمئو ڈاکخانہ زیدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ سیدصفدرعلی صاحب ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین ہندہ کے دولڑکے زیدوعمروہیں زید نے اپنی ماں کوبحکم شرع شریف بجائے کُرتی پہننے کے جس کی آستین صرف شانے تک ہوتی ہے پوراہاتھ بغل تک کھلارہتا ہے اور لمبائی بالائے یا زیرناف برائے نام ہوتی ہے کرتا پوری آستین کااور نیچا نصف ران تک پہننے کی ترغیب دی اور افہام وتفہیم کے ساتھ کچھ زبانی سختی بھی کی جس پر ہندہ راغب ہوچکی تھی کہ عمرو نے ہندہ کو صراحۃً، کنایۃً شہہ دی کہ تم اس کے کہنے کی کچھ پرواہ نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ہندہ اپنی رغبت سے منحرف ہوگئی۔ زید کاقول کیساتھا اور عمرو کی شہہ اور جنبہ داری کیسے ہوئی ہندہ کاعمل کیسا ہے اور آخرت میں اس کی پاداش کیاہے اور ایسی کرتی سے جس کی صراحت کی گئی نماز ہوسکتی ہے یانہیں؟
الجواب: عورت اگر صرف محارم کے سامنے ہوتی اور ایسی کرتی پہنے جس میں ہاتھ سب کھلے رہتے ہیں مگر پیٹ ڈھکا ہو خواہ اس کرتی یادوسرے کپڑے سے، اور نماز کے وقت بازوکلائیاں وغیرہ سترپورا چھپارہتاہو تو ایسی عورت کو وہ کرتی پہنناجائزہے اور اسے ترغیب تبدیل کی حاجت نہ تھی اور ماں پرسختی کرناحرام تھا اور دوسرے بھائی کا  اس رغبت سے پھیردینا اور عورت کا پھرجانا کچھ گناہ نہ ہوا، اور اگرعورت کسی نامحرم کے سامنے بھی ہوتی ہے اور وہی کرتی پہنتی ہے اور بدن اور کپڑے سے نہیں چھپاتی یامحارم کے سامنے پیٹ کاکچھ حصہ کھلارہتا ہے یانماز میں بازو یاکلائی کاکوئی حصہ توبلاشبہہ عورت سخت گنہگارہے اور جس نے اسے تبدیل کی ترغیب دی تھی بہت اچھاکیاتھا مگرماں پر سختی جب بھی جائزنہ تھی، اور دوسرے بھائی کا اس ترغیب سے پھیردینا اور عورت کاپھرجانا سخت گناہ ہوا اُن پر توبہ واجب ہے، واﷲ تعالٰی اعلم
بیماری او رعلاج معالجہ 

 بیمارپرسی، تیمارداری، دوا، علاج، جھاڑ پھونک، طبابت، اسقاط حمل، مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۵۵ : ازکانپور محلہ بوچڑ خانہ مسجد رنگیان مرسلہ مولوی عبدالرحمن حبشانی طالب علم مدرسہ فیض عام ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۴ھ
ماجوابکم ایھا العلماء رحمکم اﷲ تعالٰی
(اے علمائے کرام! اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے، آپ کاکیا جواب ہے کہ) مریض نے دوانہ کی اور مرگیا گنہگار ہوگایانہ؟
الجواب: وفی الباب عن الصدیق الاکبر وغیرہ من الائمۃ المتوکلین رضی اﷲ تعالٰی عنھم، فی ردّ المحتار یاثم بترک الاکل مع القدرۃ علیہ حتی یموت بخلاف التداوی ولو بغیر محرم فانہ لوترکہ حتی مات لایاثم کما نصوا علیہ لانہ مظنون۱؎اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اس بات میں صدیق اکبر اور دیگرائمہ متوکلین رضی اﷲ تعالٰی عنہم کاطرزعمل (دلیل) ہے۔ فتاوٰی شامی میں ہے: کھاناکھانے پرقدرت رکھنے کے باوجود کوئی شخص اگرکھانا نہ کھائے اور بوجہ بھوک ہلاک ہوجائے تو گنہگارہوگا۔ جیسا کہ ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کیونکہ علاج سے حیات یقینی نہیں بلکہ ایک ظنّی چیزہے اھ اﷲ تعالٰی پاک و برترخوب جانتاہے اور اس عظمت وشان والے کا علم مکمل اور پائدار ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الحظروالاباحۃ      فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۲۴۹)
مسئلہ ۵۶: ازاٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ۲ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی جواب ھذا السوال
 (اﷲ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے، اس سوال کے بارے میں آپ کا کیاجواب ہے۔ت) طوائف مریضہ اگرمطب میں آئے تو اس کا علاج کرنامعصیت ہے یانہیں؟ دوسری صورت میں اعانت برمعصیت ہونے میں کوئی شبہہ ہے؟ بیّنواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب: اگرمعالجہ زن فاحشہ سے طبیب خود یہی نیت کرے کہ یہ ارتکاب معاصی کے قابل ہوجائے ناسازی طبیعت کہ مانع گناہ ہے زائل ہوجائے جب تو اس کے عاصی ہونے میں کلام نہیں،
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی۲؎۔
  کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی(ت)
(۲؎ صحیح البخاری     باب کیف بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم     قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱/ ۲)
اور اگر اس کی یہ نیت نہیں بلکہ عام معالجے جس نیت محمودہ یا مباحہ سے کرتاہے وہی غرض یہاں بھی ہے تو اگرمرض ایذادہندہ ہے جیسے کہ اکثر امراض یونہی ہوتے ہیں جب تو اصلاً حرج نہیں، نہ اسے اعانت معصیت سے علاقہ بلکہ نفع رسانی مسلمہ، یادفع ایذائے انسان کی نیت ہے تو اجر پائے گا۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل کبد حرّاء اجر۔ رواہ الشیخان۳؎  عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
(حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ہرجگہ گرم یعنی ہرجاندار کی نفع رسانی میں ثواب ہے (بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب المساقات     ۱/۳۱۸ وکتاب المظالم     ۱/۳۳۳ وکتاب الادب     ۲/ ۸۸۹)

(صحیح مسلم         کتاب السلام     باب فضل سقی البہائم     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۳۷)

(مسندامام احمدبن حنبل     عن ابن عمرو         المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۲۲۲)
اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایک زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلاً عارضہ رتق یاشدّت وسعت (نہ بوجہ سیلان رطوبت) کہ فی نفسہٖ موذی نہیں مگر اس کا اشتہاء  باعث سردی بازار زنان زناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاک نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا،
فی الخانیۃ لوآجر نفسہ یعمل فی الکنیسۃ ویعمر ھالاباس بہ لانہ لامعصیۃ فی عین العمل۱؎۔
فتاوٰی قاضیخان میں ہے کہ اگرکوئی مزدورگرجے کی تعمیر اور آبادی کے لئے کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نفس عمل میں کوئی گناہ نہیں۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی التسبیح         نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۹۴)
ہدایہ میں ہے:
من آجربیتالیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلاباس بہ وھذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگرکوئی شخص کرائے پرمکان دے اور وہاں آتشکدہ، گرجایا کلیسا بنادیاجائے یاوہاں سے عام لوگوں پر شراب فروخت ہونے لگے تو حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک اس میں کرائے پرمکان دینے والے کے لئے کوئی حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ الہدایۃ         کتاب الکراہیۃ     فصل فی الاستبراء     مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰)
Flag Counter